بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
1
50 hadith
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of 'Abdullah son of 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:(The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), testifying (the fact) that there is no god but Allah, that Muhammad is His bondsman and messenger, and the establishment of prayer, payment of Zakat, Pilgrimage to the House (Ka'ba) and the fast of Ramadan
عاصم بن محمد بن زید عبد اللہ بن عمر نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسلام کی بنیاد پانچ ( رکنوں ) پر رکھی گئی ہے : اس حقیقت کی ( دل ، زبان اور بعد میں ذکر کیے گئے بنیادی اعمال کے ذریعے سے ) گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کےسوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکاۃ ادا کرنا ، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ - فِيهَا تَصَاوِيرُ - لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أُولَئِكِ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ أُولَئِكِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:Umm Habiba and Umm Salama made a mention before the Messenger of Allah (ﷺ) of a church which they had seen in Abyssinia and which had pictures in it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: When a pious person amongst them (among the religious groups) dies they build a place of worship on his grave, and then decorate it with such pictures. They would be the worst of creatures on the Day of judgment in the sight of Allah
۔ یحییٰ بن سعید قطان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے میرے والد ( عروہ ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس گرجے کا تذکرہ ، جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس میں تصویریں آویزاں تھیں ، کہا : ’’بلاشبہ وہ لوگ ( قدیم سے ایسے ہی تھے کہ ) جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے ۔ یہ لوگ قیامت کے روز اللہ عزوجل کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى صَلاَةَ الْمُسَافِرِ بِمِنًى وَغَيْرِهِ رَكْعَتَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ خِلاَفَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا أَرْبَعًا ‏.‏
Salim b. 'Abdullah (b. 'Umar) reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) observed the prayer of a traveller, i. e. two rak'ahs in Mina, and other places; so did Abu Bakr and 'Umar, and 'Uthman too observed two rak'ahs at the beginning of his caliphate, but he then completed four
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ ( بن عمر ) سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور ا نھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ اور دوسری جگہوں ، یعنی اس کے نواح میں اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ) حضرت ابو بکر اورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسافر کی نماز ، یعنی دو رکعتیں پڑھیں ۔ اورعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں دو رکعتیں پڑھیں ، بعد میں پوری چار پڑھنے لگے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
A hadith like this has been narrated by Abu Huraira
ابن عون نے محمد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے ما نند ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى مَنْكِبِهِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهِمْ
A'isha reported that some Abyssinians came and gave a demonstration of armed fight on the 'Id day in the mosque. The Apostle of Allah (ﷺ) invited me (to see that fight). I placed my head on his shoulder and began to see their sport till it was I who turned away from watching them
جریر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حبشی آکر عید کے دن مسجد میں ہتھیاروں کے ساتھ اچھل کود رہے تھے ، ( ہتھیاروں کا مظاہرہ کررہے تھے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ، میں نے اپنا سر آپ کے کندھے پر رکھا اور ان کا کھیل ( کرتب ) دیکھنے لگی ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے ) یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کے کھیل کے نظارے سے واپسی اختیار کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى، - عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ‏.‏ قَالَ وَالأُخْرَى مِثْلُهَا ‏.‏
Ibn 'Abbas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) observed prayer while it was (solar) eclipse. He recited (the Qur'an in qiyam) and then bowed. He again recited and again bowed. He again recited and again bowed and again recited and again bowed, and then prostrated; and the second (rak'ah) was like this
یحییٰ نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حبیب نے طاوس سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے کسوف ( کے دوران ) میں نماز پڑھائی ، قراءت کی پھر رکوع کیا ، پھر قرءات کی ، پھر رکوع کیا ، پھر قراءت کی ۔ پھر رکوع کیا ۔ پھر قراءت کی ۔ پھر رکوع کیا ۔ پھر سجدے کئے ۔ کہا : دوسری ( رکعت ) بھی اسی طرح تھی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Umar reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The dead is punished in the grave because of wailing on it
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ کو سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت کی ، آپ نے فر ما یا : " میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے جا نے والے نو حے سے عذاب دیا جا تاہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ‏.‏
Sad b. Abu Sarh heard Abu Sa'id al-Khudri as saying:We used to take out as the Zakat of Fitr one sa' of grain, or one sa' of barley or one sa' of dates, or one sa' of cheese or one sa' of raisins
زید بن اسلم نے عیا ض بن عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ہم زکا ۃ الفطر طعام ( گندم ) کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع یا کھجوروں کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع یا منقے کا ایک صاع نکا لا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، - يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ، - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعَدَدَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Observe fast on sighting it (the new moon) and break (fast) on sighting it (the new moon), but if the sky is cloudy for you, then complete the number (of thirty)
۔ ربیع ، ابن مسلم ، عن محمد ، ابن زیاد ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہوتو تم روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ تَلْبِيَةَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported that the Talbiya of the Messenger of Allah (ﷺ) was this:Here I am at Thy service. O Allah, here I am at Thy service, here I am at Thy service. There is no associate with Thee; here I am at Thy service. Verily all praise and grace is due to Thee, and the sovereignty (too). There is no associate with Thee. He (the narrator) further said that 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) made this addition to it: Here I am at Thy service; here I am at Thy service; ready to obey Thee, and good is in Thy Hand; here I am at Thy service; unto Thee is the petition, and deed (is also for Thee)
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا میں نے مالک کے سامنے ( اس حدیث کی ) قراءت کی انھوں نے نافع سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ ہوا کرتا تھا ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَ میں بار بار حاضر ہوں اے اللہ ! تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضر ہوں یقیناً تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ۔ ( کسی بھی چیز میں ) تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ اور ( نافع نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ( مذکورہ تلبیہ ) میں یہ اضا فہ فر ما یا کرتے تھے ۔ "" لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" میں تیر ے سامنے حاجر ہوں حاضر ہوں تیری اطا عت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری ہی رضا کے لیے ہیں)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلاَثًا ثُمَّ نَهَى عَنْهَا ‏.‏
Iyas b. Salama reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) gave sanction for contracting temporary marriage for three nights in the year of Autas 1847 and then forbade it
ایاس بن سلمہ نے اپنے والد ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے سال تین دن متعے کی اجازت دی ، پھر اس سے منع فرما دیا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّحَدَّثَهُ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتُحِبِّينَ ذَلِكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَإِنَّ ذَلِكِ لاَ يَحِلُّ لِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ‏"‏ ‏.‏
Umm Habiba, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that she said to Allah's Messenger (ﷺ):Messenger of Allah, marry my sister 'Azza, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Do you like it? She said: Yes, Messenger of Allah, I am not the exclusive wife of yours, and I wish that the person who joins me in good should be my sister. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: That is not lawful for me. I said: Messenger of Allah, we discussed that You intend to marry Durrah bint Abu Salama. He (the Holy Prophet) said: You mean the daughter of Abu Salama? She said: Yes, whereupon Allah's Messenger (may. peace be upon him) said: Even if she were not the step-daughter of mine, brought up under my guardianship, she would not have been lawful for me, for she is the daughter of my foster-brother. Thuwaiba gave me suck and to Abu Salama (also), so do not offer to me your daughters and sisters
یزید بن ابوحبیب سے روایت ہے کہ محمد بن شہاب ( زہری ) نے ( ان کی طرف ) یہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ عروہ نے انہیں حدیث سنائی ، زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی ، اے اللہ کے رسول! میری بہن عزہ سے نکاح کر لیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کیا تم یہ پسند کرو گی؟ " انہوں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کے رسول! میں اکیلی آپ کی بیوی تو ہوں نہیں ، اور ( مجھے ) سب سے زیادہ محبوب ، جو خیر میں میرے ساتھ شریک ہو ، میری بہن ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ میرے لیے حلال نہیں ہے ۔ " انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم سے یہ بات کی جاتی ہے کہ آپ درہ بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ نے پوچھا : " کیا ابوسلمہ کی بیٹی سے؟ " انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر وہ میری گود کی پروردہ ( ربیبہ ) نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی ، وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ، مجھے اور اس کے والد ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا ، اس لیے تم مجھے اپنی بیٹیوں اور بہنوں ( کے ساتھ نکاح ) کی پیش کش نہ کیا کرو
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ، مَوْلَى عُرْوَةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَجَّاجٍ وَفِيهِ بَعْضُ الزِّيَادَةِ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ عُرْوَةَ إِنَّمَا هُوَ مَوْلَى عَزَّةَ ‏.‏
A hadith like this is reported on the same authority (but with this difference that the narrator) 'Abd al-Rahman b. Aiman (was mentioned) as the freed slave of 'Urwa (Imam Muslim said:He made a mistake who said that it was 'Urwa; it was in fact the freed slave of 'Azza)
عبدالرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عروہ کے مولیٰ عبدالرحمٰن بن ایمن سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے ، اور ابوزبیر بھی سن رہے تھے ۔ ۔ ۔ جس طرح حجاج کی حدیث ہے اور اس ( حدیث ) میں کچھ اضافہ بھی ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : انہوں نے جو "" مولیٰ عروہ "" کہاہے ، اس میں غلطی کی ، وہ مولیٰ عزہ تھے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلاً لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَلاَّ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ كُنْتُ لأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Sa'd b. Ubada (Allah be pleased with him) said:Messenger of Allah, if I were to find with my wife a man, should I not touch him before bringing four witnesses? Allah's Messenger (ﷺ) said: Yes. He said: By no means. By Him Who has sent you with the Truth, I would hasten with my sword to him before that. Allah's Messenger (ﷺ) said: Listen to what your chief says. He is jealous of his honour, I am more jealous than he (is) and God is more jealous than I
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے سعد بن عبادہؓ نے کہا یارسول اﷲﷺ! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھوں تو میں اس کو ہاتھ نہ لگاؤں جب تک چار گواہ نہ لاؤں؟ آپ نے فرمایا بے شک ۔ سعدؓ نے کہا ہرگز نہیں میں تو قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا جلدی اس کا علاج تلوار سے کردوں اس سے پہلے ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں وہ برے غیرت دار ہیں او رمیں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں اور اﷲ جل جلالہ مجھ سے زیادہ غیرت رکھتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كَتَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ ثُمَّ كَتَبَ ‏ "‏ أَنَّهُ لاَ يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَتَوَالَى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ‏.‏
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Apostle (ﷺ) made it obligatory for every tribe (the payment) of blood-wit; he then also made it explicit that it is not permissible for a Muslim to make himself the ally (of the slave emancipated by another) Muslim without his permission. He (the narrator further added):I was informed that he (the Holy Prophet) cursed the one who did that (and it was recorded) in his Sahifa (in a document)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میثاقِ مدینہ میں ) دیتوں ( عقول ) کی ادائیگی قبیلے کی ہر شاخ پر لازم ٹھہرائی ، پھر آپ نے لکھا : " کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی ( اور ) مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کے ( مولیٰ ) غلام کو اپنا مولیٰ ( حقِ ولاء رکھنے والا ) بنا لے ۔ " پھر مجھے خبر دی گئی کہ آپ نے ، اپنے صحیفے میں ، اس شخص پر جو یہ کام کرے ، لعنت بھیجی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي، عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ ‏.‏
Abdullah (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Do not meet the traders (in the way)
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راستے میں ) جا کر سامان تجارت لینے سے منع فرمایا
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Bukair b. al-Ashajj with the same chain of transmitters
عمرو بن حارث نے بکیر بن اشج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَادْعُونِي فَأَنَا وَلِيُّهُ وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالاً فَلْيُؤْثَرْ بِمَالِهِ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانَ ‏"‏ ‏.‏
Hammam b. Munabbih reported:This is what Abu Huraira (Allah be pleased with him) narrated to us from Allah's Messenger (may peace he upon him). And he narrated many ahadith, and one was this: Allah's Messenger (may peace be upon him said: I am, according to the Book of Allah, the Exalted and Majestic, nearest to the believers of all the human beings. So whoever amongst you dies in debt or leaves behind destitute children, you should call me (for help) ), for I am his guardian. And who amongst you leaves property, his inheritor is entitled to get it, whoever he is
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل کی کتاب کی رو سے میں مومنوں کے ، ( ان کی اپنی ذات سمیت ) سب لوگوں کی نسبت زیادہ قریب ہوں ، تم میں سے جو قرض یا اولاد چھوڑ جائے تو مجھے بلانا میں اس کا ولی ہوں اور جو مال چھوڑ جائے تو اس کے مال کے معاملے میں ( ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد ) اس کے عصبہ ( قریب ترین مرد رشتہ دار ) کو ترجیح دی جائے ، وہ جو بھی ہو
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلَكَ بَنُونَ سِوَاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ ‏"‏ ‏.‏
Nu'man b. Bashir, reported that Allah's Messenger (ﷺ) had said:Have you, besides him, other sons? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Have you given gifts to all of them like this (as you have given to Nu'man)? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: I cannot bear witness to an injustice
اسماعیل نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا اس کے سوا بھی تمہارے بیٹے ہیں؟ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کیا ان سب کو بھی تم نے اس جیسا عطیہ دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تو میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ قَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لاَ يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلاَ يُبْتَاعُ وَلاَ يُورَثُ وَلاَ يُوهَبُ ‏.‏ قَالَ فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ ‏.‏ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَكَانَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَنْبَأَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْكِتَابَ أَنَّ فِيهِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً ‏.‏
Ibn Umar reported:Umar acquired a land at Khaibar. He came to Allah's Apostle (ﷺ) and sought his advice in regard to it. He said: Allah's Messenger, I have acquired land in Khaibar. I have never acquired property more valuable for me than this, so what do you command me to do with it? Thereupon he (Allah's Apostle) said: If you like, you may keep the corpus intact and give its produce as Sadaqa. So 'Umar gave it as Sadaqa declaring that property must not be sold or inherited or given away as gift. And Umar devoted it to the poor, to the nearest kin, and to the emancipation of slaves, aired in the way of Allah and guests. There is no sin for one, who administers it if he eats something from it in a reasonable manner, or if he feeds his friends and does not hoard up goods (for himself). He (the narrator) said: I narrated this hadith to Muhammad, but as I reached the (words)" without hoarding (for himself) out of it." he (Muhammad' said:" without storing the property with a view to becoming rich." Ibn 'Aun said: He who read this book (pertaining to Waqf) informed me that in it (the words are)" without storing the property with a view to becoming rich
سُلیم بن اخضر نے ہمیں ابن عون سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی ، وہ اس کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے ، مجھے کبھی کوئی ایسا مال نہیں ملا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ عمدہ ہو ، تو آپ مجھے اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : "" اگر تم چاہو تو اس کی اصل وقف کر دو اور اس ( کی آمدنی ) سے صدقہ کرو ۔ "" کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ( اس شرط کے ساتھ ) صدقہ کیا کہ اس کی اصل نہ بیچی جائے ، نہ اسے خریدا جائے ، نہ ورثے میں حاصل کی جائے اور نہ ہبہ کی جائے ۔ کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس ( کی آمدنی ) کو فقراء ، اقرباء ، غلاموں ، فی سبیل اللہ ، مسافروں اور مہمانوں میں صدقہ کیا اور ( قرار دیا کہ ) اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو اس کا نگران ہے کہ وہ اس میں تمول حاصل کیے ( مالدار بنے ) بغیر معروف طریقے سے اس میں سے خود کھائے یا کسی دوست کو کھلائے ۔ ( ابن عون نے ) کہا : میں نے یہ حدیث محمد ( بن سیرین ) کو بیان کی ، جب میں اس جگہ "" اس میں تمول حاصل کیے بغیر "" پر پہنچا تو محمد نے ( ان الفاظ کے بجائے ) "" مال جمع کیے بغیر کے الفاظ کہے ۔ ابن عون نے کہا : مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے اس کتاب ( لکھے ہوئے وصیت نامے ) کو پڑھا تھا کہ اس میں "" مال جمع کیے بغیر "" کے الفاظ ہیں
وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ ‏ "‏ فَلْيُكَفِّرْ يَمِينَهُ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters (with these words):" He should expiate for (breaking) the vow and do that which is better
سلیمان بن بلال نے مجھے سہیل سے اسی سند کے ساتھ امام مالک کی حدیث کے ہم معنی حدیث ( ان الفاظ میں ) بیان کی : " اسے چاہئے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کرے جو بہتر ہے
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters and in the hadith narrated on the authority of Ibn Idris (the words are):" He (commanded) to crush his head between two stones
خالد بن حارث اور ابن ادریس دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور ابن ادریس کی حدیث میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلوا ڈالا ۔ ( اس طرح بھاری پتھر مارا گیا کہ اس کا سر کچلا گیا)
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ قَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَإِنَّ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوْ الاِعْتِرَافُ ‏.‏
Abdullah b. 'Abbas reported that 'Umar b. Khattab sat on the pulpit of Allah's Messenger (ﷺ) and said:Verily Allah sent Muhammad (ﷺ) with truth and He sent down the Book upon him, and the verse of stoning was included in what was sent down to him. We recited it, retained it in our memory and understood it. Allah's Messenger (ﷺ) awarded the punishment of stoning to death (to the married adulterer and adulteress) and, after him, we also awarded the punishment of stoning, I am afraid that with the lapse of time, the people (may forget it) and may say: We do not find the punishment of stoning in the Book of Allah, and thus go astray by abandoning this duty prescribed by Allah. Stoning is a duty laid down in Allah's Book for married men and women who commit adultery when proof is established, or it there is pregnancy, or a confession
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر تشریف فرما تھے : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی ، ہم نے اسے پڑھا ، یاد کیا اور سمجھا ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ نے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی ، مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر ایک لمبا زمانہ گزر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے گا : ہم اللہ کی کتاب میں رجم ( کا حکم ) نہیں پاتے ، تو وہ لوگ ایسے فرض کو چھوڑنے سے گمراہ ہو جائیں گے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللہ کی کتاب میں رجم ( کا حکم ) عورتوں اور مردوں میں سے ہر ایک پرجس نے زنا کیا ، جب وہ شادی شدہ ہو ، برحق ہے ۔ ( یہ سزا اس وقت دی جائے گی ، ) جب شہادت قائم ہو جائے یا حمل ٹھہر جائے یا ( زانی کی طرف سے ) اعتراف ہو
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ‏.‏ قَالَ كَتَبَ أَبِي - وَكَتَبْتُ لَهُ - إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضٍ بِسِجِسْتَانَ أَنْ لاَ، تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ ‏"‏ ‏.‏
Abd al-Rahman b. Abu Bakra reported:My father dictated (and I wrote for him) to Ubaidullah b. Abu Bakra while he was the judge of Sijistan: Do not judge between two persons when you are angry, for I have heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: None of you should judge between two persons when he is angry
ابوعوانہ نے ہمیں عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کو خط لکھوایا ۔ ۔ اور میں نے لکھا ۔ ۔ کہ جب تم غصے کی حالت میں ہو ، تو دو آدمیوں کے مابین فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کوئی شخص جب وہ غصے کی حالت میں ہو دو ( انسانوں/فریقوں ) کے مابین فیصلہ نہ کرے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏الْحَرْبُ خُدْعَةٌ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has also been narrated on the authority of Abu Huraira
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنگ ( دشمن کو ) دھوکے ( میں رکھنے ) کا نام ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'Abdullah b. 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Behold! the Dispensers of justice will be seated on the pulpits of light beside God, on the right side of the Merciful, Exalted and GlorioUS. Either side of the Being is the right side both being equally mrneritorious. (The Dispensers of justice are) those who do justice in their rules, in matters relating to their families and in all that they undertake to do
ابوبکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور ابن نمیر تینوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمرو بن اوس سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، ابن نمیر اور ابوبکر نے کہا : انہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، زہیر کی حدیث میں ہے ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ) کہا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عدل کرنے والے اللہ کے ہاں رحمٰن عزوجل کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، یہ وہی لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں ، اپنے اہل و عیال اور جن کے یہ ذمہ دار ہیں ان کے معاملے میں عدل کرتے ہیں
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ - عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The eating of all fanged beasts of prey is unlawful
عبدالرحمان بن مہدی نے مالک سے ، انھوں نے اسماعیل بن ابی حکیم سے ، انھوں نے عبیدہ بن سفیان سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا؛ " ہر کچلیوں والا درندہ اس کو کھانا حرام ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ ضَحِّ بِهِ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُتَيْبَةُ عَلَى صَحَابَتِهِ ‏.‏
Uqba b. 'Amir reported that Allah's Messenger (ﷺ) gave the gifts of goats to be distributed amongst his Companions. They sacrificed them, but a lamb of one year of age was left. (Someone) made a mention of that to the Messenger of Allah (ﷺ), whereupon he said:You sacrifice it
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے انھوں نے ابو خیر سے انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کچھ بکریاں عطا کیں کہ وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیں ۔ آخر میں بکری کا ایک سالہ بچہ رہ گیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرما یا : " اس کی قربانی تم کر لو ۔ قتیبہ نے ( اصحابه کے بجا ئے ) علي صحابته آپ کے صحابہ میں ( تقسیم کردیں ۔ ) " کے الفاظ کہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ، جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ لِي عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ وَبَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ نَبِيذًا ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not mix fresh dates and dry dates, and grapes and fresh dates for preparing Nabidh
ابن جریج نے کہا : عطاء نے مجھ سے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تازوہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو اور کشمش اور خشک کھجوروں کو نبیذ بنانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملاؤ ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ، حَفْصٍ عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَوِ اشْتَرَيْتَهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَىَّ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَىَّ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏
lbn 'Umar reported that 'Umar saw a person of the tribe of 'Utirid selling a garment made of brocade or silk and said to Allah's Messenger (ﷺ):Would that you buy it? Thereupon he (the Holy Prophet) said: He who wears it has no share for him in the Hereafter. Then Allah's Messenger (ﷺ) was presented with a striped silk garment and he sent it to him ('Umar). He (, Umar) said: You sent it to me whereas I heard from you about it what you had to say, whereupon he (Allah's Messenger) said: I sent it to you so that you may benefit by it
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو بکر بن حفص نے سالم سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطارد کے خاندان والوں میں سے ایک آدمی ( کےکندھوں ) پر دیباج یا ریشم کی ایک قبا دیکھی تو ا نھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : کتنا اچھا ہو اگر آپ اس کو خرید لیں! آپ نے فرمایا : " اس کو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ " پھر ( بعد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ، کہا : میں نے عرض کی : آپ نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ہے ۔ جبکہ میں اس کے متعلق آپ سے سن چکا ہوں ، آپ نے اس کے بارے میں جو فرمایا تھا سوفرمایا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اسے تمھارے پا س صرف اس لئے بھیجاہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، وَأَبِي، عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرِ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏
Uqba b. 'Amir al-Juhani reported:Verily the Messenger of Allah (ﷺ) said and then narrated (the hadith) like one (mentioned above) except (this) that he said: He who performed ablution and said: I testify that there is no god but Allah, the One, there is no associate with Him and I testify that Muhammad is His servant and His Messenger
زید بن حباب نے معاویہ بن صالح سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کے بعد پچھلی ورایت کے الفاظ ہیں ، البتہ انہوں نے ( اس طرح ) کہا : ’’ جس نےوضو کیا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ كُرَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‏.‏
Ibn Abbas reported that the name of Juwairiya (the wife of the Holy Prophet) was Barra (Pious). Allah's Messenger (ﷺ) changed her name to Juwairiya and said:I did not like that it should be said: He had come out from Barra (Pious). The hadith transmitted on the authority of Ibn Abi 'Umar is slightly different from it
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ۔ الفاظ عمرو کے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کریب سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ( پہلے ام المومنین حضرت ) جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام " برہ " تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا ۔ آپ کو پسند نہ تھا ۔ کہ اس طرح کہا جائے کہ آپ برہ ( نیکیوں و الی ) کے ہاں سے نکل گئے ۔ ابن ابی عمر کی حدیث میں ہے : کریب سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذْنُكَ عَلَىَّ أَنْ يُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Mas'ud reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: The sign that you have been permitted to come in is that the curtain is raised or that you hear me speaking quietly until I forbid you
عبد الوحد بن زیاد نے کہا : ہمیں حسن بن عبید اللہ نے حدیث بیان کی ۔ کہا : ہمیں ابرا ہیم بن سوید نے حدیث سنائی کہا : میں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " تمھا رے لیے میرے پاس آنے کی یہی اجازت ہے کہ حجاب اٹھا دیا جا ئے اور تم میرے راز کی بات سن لو ، ( یہ اجازت اس وقت تک ہے ) حتی کہ میں تمھیں روک دوں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَالْمُسْتَمِرِّ، قَالاَ سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ ‏.‏
Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) made a mention of a woman of Bana Isra'il who had filled her ring with musk and musk is the most fragrant of the scents
یزید بن ہارون نے شعبہ سے ، انھوں نے خلید بن جعفر اور مستمر سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم نے ابو نضر ہ کو سنا ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرا ئیل کی ایک عورت کا ذکر کیا ، اس نے اپنی انگوٹھی میں کستوری بھرلی تھی اور کستوری سب سے اچھی خوشبوہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of `Ubaidullah with the same chain of transmitters
یحییٰ نے عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying. My example and your example is that of a person who lit the fire and insects and moths began to fall in it and he would be making efforts to take them out, and I am going to hold you back from fire, but you are slipping from my hand
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " میری اور تمھاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکڑے اور پتنگے اس میں گرنے لگے ۔ وہ شخص ہے کہ ان کو اس سے روک رہا ہے ، میں تمھاری کمروں پر پکڑ کر تمھیں آگ سے ہٹا رہا ہوں اور تم ہو کہ م میرے ہاتھوں سے نکلے جارہے ہو ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ الْعِلْمَ ‏"‏ ‏.‏
Hamza b. Abdullah b. 'Umar b. Khattab reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) said:While I was asleep I saw (in a dream) a cup containing milk being presented to me. I took out of that until I perceived freshness being reflected through my nails. Then I presented the leftover to 'Umar b. Khattab. They said: Allah's Messenger: How do you interpret it? He said: This implies knowledge
یو نس نے کہا : کہ ابن شہاب نے انھیں بتا یا ، انھوں نےحمزہ بن عبد اللہ بن عمربن خطاب سے روایت کی ، انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیا لہ دیکھا جو میرے پاس لا یا گیا ۔ اس میں دودھ تھا ۔ میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے ۔ پھر اپنا بچا ہوا دودھ میں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا ۔ " ( حاضرین نے ) کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فر ما ئی ؟آپ نے فرما یا : " علم ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ ‏"‏ ‏.‏
Jubair b. Mutlim reported that his father narrated to him that Allah's Messenger (ﷺ) said:The severer of the tie of kinship would not get into Paradise
امام مالک نے زہری سے روایت کی ، محمد بن جبیر بن معطم نے خبر دی کہ ان کے والد نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَقَالَ لَهُ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ كُلِّ شَىْءٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There was argument between Adam and Moses, and Adam came the better of Moses. Moses said to him: You are the same Adam who misled people, and caused them to get out of Paradise. Adam said: You are the same (Moses) whom Allah endowed the knowledge of everything and selected him amongst the people as His Messenger. He said: Yes. Adam then again said: Even then you blame me for an affair which had been ordained for me before I was created
ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے ایک دوسرے کو دلائل دیے اور آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل دے ہرا دیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا : آپ وہی آدم ہیں جنہوں نے ( خود غلطی کر کے اپنی اولاد کے ) لوگوں کو غلطیاں کرنے کا راستہ دکھایا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا؟ تو آدم علیہ السلام نے فرمایا : تمہی ہو جسے اللہ نے ہر چیز کا علم دیا اور جسے لوگوں میں سے اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ( تو آدم علیہ السلام نے ) فرمایا : تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو مجھے پیدا کیے جانے سے بھی پہلے میرے مقدر کر دی گئی تھی؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، كُلُّهُمْ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَمْ يَذْكُرُوا ‏ "‏ وَيُلْقَى الشُّحُّ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira through other chains of narrators and there is no mention of:" Miserliness would be put (in the hearts of the people)
علاء کے والد عبدالرحمٰن ، سالم ، ہمام بن منبہ اور ابویونس سب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ، جس طرح زہری نے حمید سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی مگر انہوں نے یہ بیان نہیں کیا : " اور ( دلوں میں ) بخل اور حرص ڈال دیا جائے گا ۔
حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of A'isha through another chain of transmitters
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں زکریا نے عامر ( شعبی ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے شُریح بن بانی نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اسی ( گزشتہ روایت ) کے مانند ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ وَخَبَأَ عِنْدَهُ مِائَةً إِلاَّ وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah created one hundred (parts of mercy) and He distributed one amongst His creation and kept this one hundred excepting one with Himself (for the Day of Resurrection)
علاء کے والد ( عبدالرحمٰن ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں ، اس نے ایک رحمت اپنی مخلوق میں رکھی اور ایک کم سو رحمتیں ( آئندہ کے لیے ) اپنے پاس چھپا کر رکھ لیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ‏.‏
A'isha reported:Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) intended to sleep after having sexual intercourse, he performed ablution as for the prayer before going to sleep
ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ رسول اللہﷺ جب جنابت کی حالت میں سونا چاہتے توسونے سے پہلے نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے تھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ تَكِرُّ فِي هَذِهِ مَرَّةً وَفِي هَذِهِ مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar reported Allah's Apostle (ﷺ) saying like this but with this change of words:" She sometimes finds a way in one flock and then in another flock
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے کہا : " پلٹ کر ایک باراس ( ریوڑ ) میں آتی ہے اور دوسری بار اس میں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ وَاللاَّتِ وَالْعُزَّى لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ أَوْ لأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ - قَالَ - فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ - قَالَ - فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلاَّ وَهُوَ يَنْكِصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ - قَالَ - فَقِيلَ لَهُ مَا لَكَ فَقَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلاً وَأَجْنِحَةً ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ دَنَا مِنِّي لاَخْتَطَفَتْهُ الْمَلاَئِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لاَ نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَىْءٌ بَلَغَهُ ‏{‏ كَلاَّ إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى * أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى * إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى * أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى * عَبْدًا إِذَا صَلَّى * أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى * أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى * أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى‏}‏ - يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ - ‏{‏ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى * كَلاَّ لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ * نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ * فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ * سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ * كَلاَّ لاَ تُطِعْهُ‏}‏ زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ ‏.‏ وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ يَعْنِي قَوْمَهُ ‏.‏
Abu Huraira reported that Abu Jahl asked (people) whether Muhammad placed his face (on the ground) in their presence. It was said to him:Yes. He said: By Lat and `Uzza. If I were to see him do that, I would trample his neck, or I would smear his face with dust. He came to Allah's Messenger (ﷺ) as he was engaged in prayer and thought of trampling his neck (and the people say) that he came near him but turned upon his heels and tried to repulse something with his hands. It was said to him: What is the matter with you? He said: There is between me and him a ditch of fire and terror and wings. Thereupon Allah's Messenger (may peace he upon him) said: If he were to come near me the angels would have torn him to pieces. Then Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse- (the narrator) said: We do not know whether it is the hadith transmitted by Abu Huraira or something conveyed to him from another source: "Nay, man is surely inordinate, because he looks upon himself as self-sufficient. Surely to thy Lord is the return. Hast thou seen him who forbids a servant when he prays? Seest thou if he is on the right way, or enjoins observance of piety? Seest thou if he [Abu Jahl] denies and turns away? Knowest he not that Allah sees? Nay, if he desists not, We will seize him by the forelock-a lying, sinful forelock. Then let him summon his council. We will summon the guards of the Hell. Nay! Obey not thou him" (lcvi, 6-19). (Rather prostrate thyself.) Ubaidullah made this addition: It was after this that (prostration) was enjoined upon and Ibn Abd al-Ala made this addition that by "Nadiyah" he meant his people
عبید اللہ بن معاذ اور محمد بن عبد الاعلی قیسی نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے نعیم بن ابی ہندنےابوحازم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : ابوجہل نے کہا : کیا محمدتم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں؟ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو کہا گیا : ہاں چنانچہ اس نے کہا : لات اور عزیٰ کی قسم !اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو روندوں گا یا ان کے چہرےکو مٹی میں ملاؤں گا ( العیاذ باللہ! ) کہا : پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے وہ آپ کے پاس آیا اور یہ ارادہ کیا کہ آپ کی گردن مبارک کوروندے ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تووہ انھیں اچانک ایڑیوں کے بل پلٹتا ہوا اور اپنے دونوں ہاتھوں ( کو آگے کر کے ان ) سے اپنا بچاؤ کرتا ہوا نظر آیا ۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو اس سے کہا کیا : تمھیں کیا ہوا ؟تو اس نے کہا : میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق اور سخت ہول ( پیدا کرنے والی مخلوق ) اور بہت سے پر تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے ۔ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیاتنازل فرمائیں ۔ ( ابو حازم نے کہا ۔ ( ہمیں معلوم نہیں کہ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ) اپنی حدیث ہے یا انھیں ( کسی کی طرف سے ) پہنچی ہے ۔ ( وہ آیات یہ تھیں ) "" اس کے سواکوئی بات نہیں کہ انسان ہر صورت میں سر کشی کرتا ہے اس لیے کہ وہ خود کو دیکھتا ہے کہ وہ ہر ایک سے مستغنی ہے حقیقت یہ ہے کہ ( اسے ) آپ کے رب کی طرف واپس جانا ہے ۔ آپ نے اسے دیکھا جو روکتا ہے ۔ ( اللہ کے ) بندے کو جب وہ نماز اداکرتا ہے ۔ کیا تم نے دیکھا کہ اگر وہ ( اللہ کا بندہ ) ہدایت پر ہو اور تقوی کا حکم دیتا ہو ( تو روکنے والے کا کیا بنے گا؟ ) کیا آپ نے دیکھا کہ آکر اس یعنی ابو جہل نے جھٹلایا ہے اور ہدایت سے منہ پھیراہے ۔ ( تو ) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھتا ہے ۔ ہر گز نہیں !اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ( اسے ) پیشانی سے پکڑ کر کھینچیں کے ۔ ( اس کی ) جھوٹی گناہ کرنے والی پیشانی سے پھر وہ اپنی مجلس کو ( مددکے لیے ) پکارے ہم عذاب دینے والے فرشتوں کو بلائیں گے ۔ ہر گز نہیں!آپ اس کی ( کوئی بات بھی ) نہ مانیں ۔ "" عبید اللہ ( بن معاذ ) نے اپنی حدیث میں مزید کہا ۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَىٰ کی تفسیر کرتے ہوئے ) کہا : اور اس بات کا حکم دیتا ہو جس کا اس ( اللہ ) نے اسے حکم دیا ہے ۔ اور ( محمد ) بن عبد الاعلیٰ نے مزید یہ کہا : "" وہ اپنی مجلس کو پکارے "" یعنی اپنی قوم کو ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلاَ يَتْفُلُونَ وَلاَ يَبُولُونَ وَلاَ يَتَغَوَّطُونَ وَلاَ يَمْتَخِطُونَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا فَمَا بَالُ الطَّعَامِ قَالَ ‏"‏ جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying that the inmates of Paradise would eat and drink but would neither spit, nor pass water, nor void excrement, nor suffer catarrah. It was said: Then, what would happen with food? Thereupon he said: They would belch and sweat (and it would be over with their food), and their sweat would be that of musk and they would glorify and praise Allah as easily as you breathe
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، " اہل جنت وہاں کھائیں گے پئیں گے ۔ لیکن نہ اس میں تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے ، نہ رفع حاجت کریں گے اور نہ ناک سنکیں گے ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : پھر ان کے کھانے کا کیا بنے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک ذکاء ( آئےگی ) اور کستوری کے پسینے کی طرح پسینہ آئے گا ۔ ان کو تسبیح اور حمد ( کے نغمے ) اسی طرح ( فطرت کے اندر ) الہام کردیے جائیں گے ۔ جس طرح سانس کو الہام ( کر کے ان کی فطرت میں شامل ) کردیا جاتاہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلاَحَ فَهُمَا فِي جُرُفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلاَهَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Bakra reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When two Muslims (confront each other) and the one amongst them attacks his brother with a weapon, both of them are at the brink of Hell-Fire. And when one of them kills his companion, both of them get into Hell-Fire
ربعی بن حراش نے حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اورانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جب وہ مسلمانوں میں سے ایک نے اپنے بھائی پر اسلحہ کشی کی تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں پھر جب ان میں سے ایک نے ( موقع پاتے ) دوسرے کو قتل کردیا تو دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہوں گے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حُمَيْدِ، بْنِ هِلاَلٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ، يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا طَعَامُنَا إِلاَّ وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ‏.‏
Khalid b. Umair reported:I heard Uqba b. Ghazwan as saving: I found myself as the seventh amongst the seven who had been along with Allah's Messenger (ﷺ). We had nothing to eat but the leaves of hubla (a wild tree) until the corners of our mouths were injured
قرہ بن خالد نے حمید بلال سے اور انھوں نے خالد بن عمیر سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، میں نے دیکھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ایمان لانے والے ) سات لوگوں میں سے ساتواں شخص تھا خاردار درختوں کے پتوں کے سوا ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ، ‏{‏ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا‏}‏ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ يَنْسَخْهَا شَىْءٌ ‏.‏ وَعَنْ هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ‏}‏ قَالَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ ‏.‏
Sa'id b. Jubair reported:'Abd al Rahman b. Abzi commanded me that I should ask Ibn 'Abbas about these two verses:" He who slays a believer intentionally his requital shall be Hell where he would abide for ever" (iv. 92). So, I asked him and he said: Nothing has abrogated it. And as for this verse:" And they who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice" (xxv. 68), he (Ibn Abbas) said: This has been revealed in regard to the polytheists
منصور نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : مجھ سے عبد الرحمٰن بن ایزدی نے کہا : کہ میں ( ان کے لیے ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان دوآیتوں کے متعلق دریافت کروں : " اور جو شخص جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے ، اس کی سزا جہنم ہے ور اس میں ہمیشہ رہے گا ۔ " میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا : اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا ۔ اور اس آیت کے متعلق ( پوچھا ) اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے بغیر کسی شخص کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کواللہ نے حرام کیا ہے ۔ " تو انھوں نے کہا : مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي إِلَى بَنِي حَارِثَةَ - قَالَ - وَمَعِي غُلاَمٌ لَنَا - أَوْ صَاحِبٌ لَنَا - فَنَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ حَائِطٍ بِاسْمِهِ - قَالَ - وَأَشْرَفَ الَّذِي مَعِي عَلَى الْحَائِطِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي فَقَالَ لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ تَلْقَى هَذَا لَمْ أُرْسِلْكَ وَلَكِنْ إِذَا سَمِعْتَ صَوْتًا فَنَادِ بِالصَّلاَةِ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ ‏"‏ ‏.‏
Suhail reported that his father sent him to Banu Haritha along with a boy or a man. Someone called him by his name from an enclosure. He (thenarrator) said:The person with me looked towards the enclosure, but saw nothing. I made a mention of that to my father. He said: If I knew that you would meet such a situation I would have never sent you (there), but (bear in wind) whenever you hear such a call (from the evil spirits) pronounce the Adhan. for I have heard Abu Huraira say that the Messenger of Allah (may peace be upbn him) said: Whenever Adhan is proclaimed, Satan runs back vehemently
روح نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے والد نے مجھے بنو حارثہ کی طرف بھیجا ، کہا : میرے ساتھ ہمارا ایک لڑکا ( خادم یا ہمارا ایک ساتھی بھی تھا ) اس کو کسی آواز دینے والے نے باغ سے اس کا نام لے کر آواز دی ۔ کہا : جو ( لڑکا ) میرے ساتھ تھا اس نے باغ کے اندر جھانکا تو اسے کچھ نظر نہ آیا ، چنانچہ میں نے یہ ( واقعہ ) اپنے والد کو بتایا تو انہوں نے کہا : اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم اس واقعے سے دوچار ہو گے تو میں تمہیں نہ بھیجتا لیکن ( آئندہ ) تم اگر کوئی آواز سنو تو نماز کی اذان دو کیونکہ میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ رسول اللہﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’جب نماز کے لیے پکارا جاتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے ۔ ‘ ‘