وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَالْمَرِيضَ فَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ " .
Abu Huraira reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: When any one of you leads the people in prayer, he should be brief for among them are the young and the aged, the weak and the sick. But when one of you prays by himself, he may (prolong) as he likes
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی فرد لوگوں کی امامت کرائے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان ( نمازیوں ) میں بچے ، بوڑھے ، کمزور اور بیمار بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنِ الأَعْرَجِ، حَدَّثُوهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ "
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who finds one rak'ah at dawn before the rising of the sun, he in fact finds the dawn prayer. and he who finds one rak'ah of the afternoon prayer before sunset, he in fact finds the afternoon prayer
امام مالک نےزید بن اسلم سے روایت کی ، انھیں عطاء بن یسار ، بسربن سعید اور اعرج نے حدیث بیان کی ، ان سب نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے سورج نکلنے سے پہلے صبح کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے صبح ( کی نماز ) پالی اورجس نے سورج کے غروب ہونے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو یقینا اس نے عصر ( کی نماز ) پالی ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ كَانَ الأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ عَلَى ذَلِكَ .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to exhort (his Companions) to pray (at night) during Ramadan without commanding them to observe it as an obligatory act, and say: He who observed the night prayer in Ramadan because of faith and seeking his reward (from Allah), all his previous sins would be forgiven. When Allah's Messenger (ﷺ) died, this was the practice, and it continued thus during Abu Bakr's caliphate and the early part of 'Umar's caliphate
امام زہری نے ابو سلمہ ( بن عبدالرحمان ) سے اور انھوں نے ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لازم ٹھہرائے بغیر رمضان کے قیام کی ترغیب دیتے تھے ، آپ فرماتے : " جس نے رمضان کا قیام ایمان ( کی حالت میں ) اوراجر طلب کرتے ہوئے کیا ، اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک معاملہ یہی رہا ، پھر ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی طرح رہا ( ترغیب دی جاتی رہی ، اجتماعی طور پر اہتمام نہیں کیاگیا)
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ يَخْرُجُ مِنْهُ أَقْوَامٌ .
This hadith had been transmitted by Sulaiman Shaibani with the same chain of narrators (and the words are)," There would arise out of (this group) many a group
عبد الو حد نے کہا : ہمیں ( ابو اسحاق ) سلیما ن شیبانی نے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ ) حدیث بیان کی اور کہا " اس ( جا نب ) سے کچھ قومیں نکلیں گی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ رِوَايَةً وَقَالَ عَمْرٌو يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ زُهَيْرٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ ".
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:If any one of you is invited to a meal when he is fasting, he should say:" I am fasting
۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہوتو وہ کہہ دے : میں روزے سے ہوں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ، بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، جَمِيعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ، عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
This hadith is narrated by another chain of transmitters
حماد بن زید اور ابن جریج دونوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عینیہ کی ( گزشتہ ) حدیث کے مانند روایت بیان کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمِ بْنِ أَبِي سَلاَّمٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلاَبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلاَمِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِي شَىْءٍ لاَ يَمْلِكُهُ " .
Thabit b. Dahhak reported that he pledged allegiance to the Messenger of Allah (ﷺ) under the Tree, and verily the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who took an oath of a religion other than Islam, in the state of being a liar, would became so, as he professed. He who killed himself with a thing would be tormented on the Day of Resurrection with that very thing. One is not obliged to offer votive offering of a thing which is not in his possession
معاویہ بن سلام دمشقی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی کہ ابو قلابہ نے انہیں خبر دی کہ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے ( حدیبیہ کے مقام پر ) درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور یہ کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’ جس شخص نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر ہونے کی پختہ قسم کھائی اور ( جس بات پر اس نے قسم کھائی اس میں ) وہ جھوٹا تھا تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ( اس کاعمل ویسا ہی ہے ۔ ) او رجس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا قیامت کے دن اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا ۔ اور کسی شخص پر اس چیز کی نذر پوری کرنا لازم نہیں جس کا وہ مالک نہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ - أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ أَيْنَ أَنَا يَا، رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ قَالَ " فِي الْجَنَّةِ " . فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ . وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ .
It has been reported on the authority of Jabir that a man said:Messenger of Allah, where shall I be if I am killed? He replied: In Paradise. The man threw away the dates he had in his hand and fought until he was killed (i. e. he did not wait until he could finish the dates). In the version of the tradition narrated by Suwaid we have the words:" A man said to the Prophet (ﷺ). on the day of Uhud
سعید بن عمرو اشعثی اور سعید بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی : ۔ ۔ الفاظ سعید کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں سفیان نے عمرو سے خبر دی : انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول! اگر میں ( اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے ) شہید کر دیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ فرمایا : " جنت میں ۔ " اس شخص کے ہاتھ میں جو کھجوریں تھیں اس نے ان کو پھینکا ، پھر لڑا حتی کہ شہید ہو گیا ۔ اور سوید کی روایت میں یہ ہے : ایک شخص نے اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا قَوْلُ شُعْبَةَ وَلاَ قَوْلُهُ وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ .
This hadith has been reported on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but these words of his (are not found):" The people were hard pressed because of the famine during those days
عبید اللہ کے والد معاذ اور عبدالرحمٰن بن مہدی دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ان دونوں کی روایت میں شعبہ کا اور ان ( جبلہ بن سحیم ) کا یہ قول موجود نہیں ، ِ " ان دنوں لوگ قحط سالی کا شکار تھے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ .
Abu Huraira reported this hadith through another chain of transmitters
حمید بن عبد الرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہشام کی اس حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ .
This hadith has been transmitted on the authority of Ma'mar
محمد بن یحییٰ نے کہا : ہمیں عبد الرزاق نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معمر نے اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ،
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ - قَالَ - فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحَاجَةٍ . قَالَتْ مَا حَاجَتُهُ قُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ . قَالَتْ لاَ تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدًا . قَالَ أَنَسٌ وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ .
Anas reported:Allah's Messenger (ﷺ) came to me as I was playing with playmates. He greeted and sent me on an errand and I made delay in going to my mother. When I came to her she said: What detained you? I said: Allah's Messenger (ﷺ) sent me on an errand. She said: What was the purpose? I said: It is something secret. Therupon she said: Do not then divulge the secret of Allah's Messenger (ﷺ) to anyone. Anas said: By Allah, if I were to divulge it to anyone, then, O Thabit, I would have divulged it to you
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہا : آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والد ہ کے پاس تا خیر سے پہنچا ، جب میں آیا تو والدہ نے پو چھا : تمھیں دیر کیوں ہوئی ۔ ؟میں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا م سے بھیجا تھا ۔ انھوں نے پو چھا : آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا : وہ ایک راز ہے ۔ میری والدہ نے کہا : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی پر افشانہ کرنا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! ثابت !اگر میں وہ راز کسی کو بتاتاتو تمہیں ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طلبگار ہو ) ضرور بتا تا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ " وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ " . قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ أَنَسٌ فَمَا فَرِحْنَا بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَرَحًا أَشَدَّ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " . قَالَ أَنَسٌ فَأَنَا أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ وَإِنْ لَمْ أَعْمَلْ بِأَعْمَالِهِمْ .
Anas b. Malik reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said to Allah's Messenger:When would be the Last Hour? Thereupon he (the Holy Prophet) said: What preparation have you made for the Last Hour? He said: The love of Allah and of His Messenger (is my only preparation). Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love. Anas said: Nothing pleased us more after accepting Islam than the words of Allah's Apostle: You would be along with one whom you love. And Anas said. I love Allah and His Messenger and Abu Bakr and Umar, and I hope that I would be along with them although I have not acted like them
حماد بن زید نے کہا : ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ کے رسول! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا : "" تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ "" اس نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہو گی ۔ "" حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بڑھ کر اور کسی بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی : "" تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہو گی ۔ "" حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں ان کے ساتھ ہوں گا ، ہر چند کہ میں نے ان کی طرح عمل نہیں کیے ۔