بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
12 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي الْعِشَاءِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ‏.‏ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَوْتًا مِنْهُ ‏.‏
Al-Bara' b. 'Azib reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting in the night prayer:" By the Fig and the Olive," and I have never heard anyone with a sweeter voice than he
(شعبہ اور یحییٰ کے بجائے ) مسعر نے عدی بن ثابت سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو عشاء کی نماز میں ﴿والتين والزيتون﴾ کی قراءت کرتے ہوئے سنا ، میں نے کسی کو نہیں سنا جس کی آواز آپ سے زیادہ اچھی ہو ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَقُمْنَا فَعَدَّلْنَا الصُّفُوفَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلاَّهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ ذَكَرَ فَانْصَرَفَ وَقَالَ لَنَا ‏ "‏ مَكَانَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا وَقَدِ اغْتَسَلَ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً فَكَبَّرَ فَصَلَّى بِنَا ‏.‏
Abu Salama son of Abd al-Rahman b. Auf reported Abu Huraira as saying:Iqama was pronounced and we stood up and made rows straight till he (the Holy Prophet) stood at his place of worship (the place ahead of the rows where he stood to lead the prayer) before takbir tahrima. He reminded to (himself something) and went back saying that we should stand at our places and not leave them. We waited, till he came back to us and he had taken a bath and water trickled out of his head and then led us in prayer
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے ، ( رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ) اقامت کہی گئی ، ہم اپنی طرف رسول اللہ کے آنے سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے آپ نے اللہ اکبر نہیں کہا تھا کہ آپ کو ( کچھ ) یاد آگیا ، اس پر آپ واپس پلٹ گئے اور ہمیں فرمایا : ’’اپنی جگہ پر رہو ۔ ‘ ‘ ہم آپ کے انتظار میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آب تشریف لے آئے ، آب غسل کیے ہوئے تھے اور آب کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ہمیں نماز پڑھائی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Our Lord, the Blessed and the Exalted, descends every night to the lowest heaven when one-third of the latter part of the night is left, and says: Who supplicates Me so that I may answer him? Who asks Me so that I may give to him? Who asks Me forgiveness so that I may forgive him?
ابن شہاب نے ابو عبداللہ اغز اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : برکت اور رفعت کا مالک ہمارا رب ، ہر رات کو جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ، ( تو ) دنیا کے آ سمان پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کون مجھے پکارتا ہے کہ میں اس کی پکار کو سنوں؟کون مجھ سے مانگتا ہ ے کہ میں اس کو دوں ، اور کون مجھ سے بخشش طلب کرتاہے کہ میں اسے بخش دوں؟
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا ‏ "‏ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters, but (these words) are not there:" They pass through the religion clean as the arrow passes through the prey
اعمش سے جریر اور ابو معاویہ نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور ان دو نوں کی حدیث میں " دین میں سے تیز رفتاری کے ساتھ یوں نکلیں گے جس طرح تیر نشانہ لگے شکار سے تیزی سے نکل جاتا ہے کے الفا ظ نہیں ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ، بْنِ كُهَيْلٍ وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) from the Messenger of Allah (ﷺ)
ابو سعید اشج ، ابو خالد ، اعمش ، سلمہ بن کہیل ، حکم بن عتیبہ ، مسلم بن جبیر ، مجاہد ، وعطاء ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح روایت کیا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‏"‏ ‏.‏
Bishr b. Khalid has narrated this hadith on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters with this addition:Allah shall neither speak nor look at nor absolve then, and there is a tormenting punishment for them
(سفیان کے بجائے ) شعبہ نے سلیمان بن اعمش سے یہی روایت انہی کی سند سے بیان کی کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’ تین ( لوگوں ) سے اللہ گفتگو نہیں کرے گا ، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ، حَرْبٍ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏.‏ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ ‏.‏ قَالَ إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ كَمَا ذَكَرَهُ اللَّيْثُ ‏.‏
This hadith has been narrated from Ibn Umar through another chain of transmitters except with (this variation) that Allah's Apostle (ﷺ) was mentioned in the first part of the hadith,. i. e. when it was said to him:They would bar you (from going) to the House. He said: In that, case I would do what Allah's Messenger (ﷺ) had done. He did not mention at the end of this hadith (i. e. these words):" This is how the Messenger of Allah (ﷺ) had done," as it Is narrated by al-Laith
ایوب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی قصہ روایت کیا ہے ، البتہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر صرف حدیث کی ابتداء میں کیا کہ جب ان سے کہا گیا کہ وہ آپ کو بیت اللہ ( تک پہنچنے ) سے روک دیں گے ، انھوں نے کہا : میں اسی طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔ اورحدیث کے آخر میں یہ نہیں کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ لیث نے کہا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَزَادَ قَالَ ثَابِتٌ فَسَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ فَمَا صُنِعَ لِي طَعَامٌ بَعْدُ أَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُصْنَعَ فِيهِ دُبَّاءٌ إِلاَّ صُنِعَ ‏.‏
Anas b. Malik rdported that a tailor invited Allah's Messenger (ﷺ) to a feast. There has been an addition to this that Thabit said:I heard Anas saying that any meal that was prepared for me after that I tried that it should contain pumpkin
معمر نے ثابت بنا نی اور عاصم احول سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے جو درزی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اور یہ اضافہ کیا کہ ثابت نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : اس کے بعد جب بھی میرے لیے کھانا بنتا ہے اور میں ایسا کرسکتا ہوں کہ اس میں کدو ڈالا جا ئے تو ڈالا جا تا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلاَّ نَمْلَةً وَاحِدَةً ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:An Apostle from amongst the Apostles of Allah encamped under a tree, and an ant bit him, and he commanded his belongings to be removed from underneath the tree. He then commanded and it was burnt, and Allah revealed to bin):" Why one ant (which had bitten you) was not killed?
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( پہلے ) انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ( آرام ) کرنے کے لیے سواری سے ) اترے تو ایک چیونٹی نے ان کو کا ٹ لیا ۔ انھوں نے اس کے پورے بل کے بارے میں حکم دیا ، اسے نیچے سے نکل دیا گیا پھر حکم دیا ان کو جلا دیا گیا ۔ اللہ تعا لیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ آپ نے ایک ہی چیونٹی کو کیوں ( سزا ) نہ ( دی ؟)
وَحَدَّثَنَاهُ إِنْ، شَاءَ اللَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَأَبَا، عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri through another chain of transmitters
یو نس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھےجب انھوں نے کہا تھا : اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے ۔ اللہ نے ان سے پو چھا : کیا آپ کو یقین نہیں ؟تو انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! مگر صرف اس لیے ( دیکھنا چاہتا ہوں ) کہ میرے دل کو مزید اطمینان ہو جا ئے ۔ اور اللہ تعا لیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم کرے !وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لیتے تھے ۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنا لمبا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یو سف علیہ السلام رہے تو میں بلا نے والے کی بات مان لیتا ( بلاوا ملتے ہی جیل سے باہر آجا تا ۔)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، خَتَنُ الْفِرْيَابِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ وَلَمْ يَكُنْ لِي أَهْلٌ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّمَا انْطُلِقَ بِي إِلَى بِئْرٍ ‏.‏ فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
Ibn Umar reported:I used to spend nights in the mosque and by that time I had no wife and children. I saw in a dream as if I am being taken to a well. I made a mention of it to Allah's Messenger (may peacebe upon him). The rest of the hadith is the same
عبید اللہ بن عمر نے نافع سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں را ت کو مسجد میں سوتا تھا ( اس وقت ) میرے اہل وعیال نہ تھے میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے مجھے ایک کنویں کی طرف لے جا یا گیا ہے پھر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کےہم معنی بیان کیا جو زہری نے سالم سے اور انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے بیان کی ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ إِنِّي أُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبَّهُ - قَالَ - فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ ‏.‏ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ - قَالَ - ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الأَرْضِ ‏.‏ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ إِنِّي أُبْغِضُ فُلاَنًا فَأَبْغِضْهُ - قَالَ - فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلاَنًا فَأَبْغِضُوهُ - قَالَ - فَيُبْغِضُونَهُ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When Allah loves a servant, He calls Gabriel and says: Verily, I so and so; you should also love him, and then Gabriel begins to love him. Then he makes an announcement in the heaven saying: Allah loves so and so and you also love him, and then the inhabitants of the Heaven (the Angels) also begin to love him and then there is conferred honour upon him in the earth; and when Allah is angry with any servant He calls Gabriel and says: I am angry with such and such and you also become angry with him, and then Gabriel also becomes angry and then makes an announcement amongst the inhabitants of heaven: Verily Allah is angry with so-and so, so you also become angry with him, and thus they also become angry with him. Then he becomes the object of wrath on the earth also
جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے : میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو ، کہا : تو جبرئیل اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں ، کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتاہے ، تم بھی اس سے محبت کرو ، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں ، کہا : پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرئیل کو بُلا کر فرماتا ہے : میں فلاں شخص سے بغج رکھتا ہوں ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، تو جبرئیل اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ے ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، کہا : تو وہ ( سب ) اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر اس کے لیے زمین میں بھی بغض رکھ دیا جاتا ہے ۔