حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ { وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ}
Adi reported:I heard al-Bara' narrating it from the Messenger of Allah (ﷺ) that while in a journey he said the night prayer and recited in one of the two rak'ahs:" By the Fig and the Olive" (Su'rah xcv)
۔ شعبہ نے عدی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرمﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپﷺ سفر میں تھے ، آپ نے عشاء کی پڑھائی تو اس کی ایک رکعت میں ﴿والتين والزيتون﴾ پڑھی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated by Shaiban with the same chain of transmitters
(معاویہ کے بجائے ) شبیان نے ( یحییٰ سے ) اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لاَ يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ " .
Jabir said he heard Allah's Messenger (ﷺ) say:There is an hour during the night in which no Muslim individual will ask Allah for good in this world and the next without His giving it to him; and that applies to every night
ابو سفیان سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " رات میں ایک گھڑی ایسی ہے ۔ جو مسلمان بندہ بھی اس کو پالیتا ہے ۔ اس میں وہ دنیا وآخرت کی کسی بھی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہےتو اللہ اسے وہ ( بھلائی ) ضرور عطا فرمادیتا ہے ۔ اور یہ گھڑی ہر رات میں ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الأَحْلاَمِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
Ali said:Whenever I narrate to you anything from the Messenger of Allah (ﷺ) believe it to be absolutely true as falling from the sky is dearer to me than that of attributing anything to him (the Holy Prophet) which he never said. When I talk to you of anything which is between me and you (there might creep some error in it) for battle is an outwitting. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: There would arise at the end of the age a people who would be young in age and immature in thought, but they would talk (in such a manner) as if their words are the best among the creatures. They would recite the Qur'an, but it would not go beyond their throats, and they would pass through the religion as an arrow goes through the prey. So when you meet them, kill them, for in their killing you would get a reward with Allah on the Day of Judgement
وکیع نے حدیث بیان کی کہا اعمش نے ہمیں خیثمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سوید بن غفلہ سے روا یت کی انھوں نے کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا جب میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنا ؤں تو یہ با ت کہ میں آسمان سے گرپڑوں مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں آپ کی طرف کو ئی ایسی با ت منسوب کروں جو آپ نے نہیں فر ما ئی ۔ اورجب میں تم سے اس معاملے میں با ت کروں جو میرے اور تمھا رے درمیان ہے ( تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے استشہاد کر سکتا ہوں کہ ) جنگ ایک چال ہے ( لیکن ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بصراحت یہ ) فر ما تے ہو ئے سنا : " عنقریب ( خلا فت راشدہ کے ) آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی وہ لو گ کم عمر اور کم عقل ہو ں گے ( بظاہر ) مخلوق کی سب سے بہترین با ت کہیں گے قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین کے اندر سے اس طرح تیزی سے نکل جا ئیں گے جس طرح تیرتیزی سے شکار کے اندر سے نکل جا تا ہے جب تمھا را ان سے سامنا ہو تو ان کو قتل کر دینا جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے یقیناً قیامت کے دن اللہ کے ہاں اجر ہے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ . فَقَالَ " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَاءِ " .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with both of them) reported:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: My mother has died, and fasts of a month are due from her. Thereupon he said: Don't you see that if debt was due from her, would you not pay it? She said: Yes (I would pay on her behalf). Thereupon he said: The debt of Allah deserves its payment more than (the payment of anyone else)
اسحاق بن ابراہیم ، عیسیٰ بن یونس ، اعمش ، مسلم ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینےکے روزے لازم ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے قرض کا زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ثَلاَثَةٌ لاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ " قَالَ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مِرَارٍ . قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ " .
It is narrated o the authority of Abu Dharr that the Messenger of Allah (may ace he upon him) observed:Three are the (persons) with whom Allah would neither speak on the Day of Resurrection, nor would look at them nor would absolve the and there is a painful chastisement for them. The Messenger of Allah (ﷺ) repeated it three times. Abu Dharr remarked: They failed and they lost; who are these persons, Messenger of Allah? Upon this he (the Holy) Prophet) observed: They are: the dragger of lower garment, the recounter of obligation the seller of goods by false oath
ابو زرعہ سے خرشہ بن حر سے انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ تین ( قسم کے لوگ ) ہیں اللہ ان سے گفتگو نہیں کرے گا ، نہ قیامت کے روز ان کی طرف سے دیکھے گا اور نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا ۔ ‘ ‘ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے اسے تین دفعہ پڑھا ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نےکہا : ناکام ہو گئے اور نقصان سے دو چار ہوئے ، اے اللہ کے رسول ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا : ’’ اپنا کپڑا ( ٹخنوں سے ) نیچے لٹکانےوالا ، احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنے سامان کی مانگ بڑھانے والا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَكَانَ يَقُولُ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا .
Nafi' reported that Ibn Umar intended to go to Hajj (during the year) when Hajjaj attacked Ibn Zubair, and he narrated the account as (narrated above), and he used to say at the end of the hadith:He who combines Hajj with Umra, for him one single circumambulation is sufficient, and he did not put off Ihram until he had completed both of them
ابن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں میرے والد ( عبداللہ ) نے عبیداللہ سے ، انھوں نے نافع سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اس موقع پر حجاج بن یوسف ، ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلے میں اترا ، حج کااردہ کیا ۔ ( ابن نمیر نے پوری ) حدیث ( یحییٰ قطان کے ) اس قصے کی طرح بیان کی ۔ البتہ حدیث کے آخر میں کہا کہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) یہ کہا کرتے تھے : جو شخص حج وعمرہ اکھٹا ( حج قران کی صورت میں ) ادا کرے تو اسے ایک ہی طواف کافی ہے ۔ اور وہ اس وقت ک احرام سے فارغ نہیں ہوگا جب تک دونوں سے فارغ نہ ہوجائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنَ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا " .
The above tradition has been narrated on the authority of Khalid al- Juhani who said:The Prophet of Allah (ﷺ) said: He who equips a warrior in the way of Allah (is like one who dctually fights) aud he who looks after the family of a warrior in the way of Allah in fact participated in the battle
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مجاہد کے لیے سامان مہیا کیا تو یقینا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے پیچھے اس کے گھر والوں کی دیکھ بھال کی اس نے بھی جہاد کیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ . قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ . قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَىِ الصَّحْفَةِ . قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مُنْذُ يَوْمَئِذٍ .
Anas b. Malik reported:A tailor invited Allah's Messenger (ﷺ) to a meal which he had prepared. Anas b. Malik said: I went along with Allah's Messenger (ﷺ) to that feast. He presented to Allah's Messenger (ﷺ) barley bread and soup containing pumpkin, and sliced pieces of meat. Anas said: I saw Allah's Messenger (ﷺ) going after the pumpkin round the dish, so I have always liked the pumpkin since that day
اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے : ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے تیار کیے ہوئے کھانے کی دعوت دی ، حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کھانے پر گیا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جوکی روٹی اور شوربہ رکھا ، اس میں کدو اور چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں محفوظ کیا ہوا گوشت تھا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیا لے کی چاروں طرف سے کدو تلا ش کررہےتھے ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں اسی دن سے کدو کو پسند کرتا ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سُهَيْلٍ، حَدَّثَتْنِي أُخْتِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying (that he who kills a gecko) with the first stroke there are seventy rewards for him
محمد بن صباح نے کہا : ہمیں اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : مجھے میری بہن ( سودہ بنت ابو صالح رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پہلی ضرب میں سترنیکیاں ہیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as having said that Ibrahim (as) circumcised himself with the help of an adze when he was eighty years old
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نبی علیہ السلام نے اَسی سا ل کی عمر میں قدوم ( مقام پر تیشے یا بسولے کے ذریعے ) سے ختنہ کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ، بْنِ زَيْدٍ - قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ وَلَيْسَ مَكَانٌ أُرِيدُ مِنَ الْجَنَّةِ إِلاَّ طَارَتْ إِلَيْهِ - قَالَ - فَقَصَصْتُهُ عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهُ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَرَى عَبْدَ اللَّهِ رَجُلاً صَالِحًا " .
Ibn 'Umar reported:I saw in a state of sleep as if I have in my hand a piece of silk cloth and there is no place in the Paradise where I intend to reach but that piece of cloth does not fly towards it. I made a mention of it to Hafsa (the sister of Ibn 'Umar) and Hafsa made a mention of it to Allah's Apostle (ﷺ), whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: I find 'Abdullah b 'Umar a pious person
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں باریک ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور جنت میں کو ئی بھی جگہ جہاں میں جا نا چاہ رہا ہوں ، وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جا تا ہے ۔ کہا : میں نے یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتا یا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں عبد اللہ ( ابن عمر ) کو ایک نیک آدمی دیکھتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ، بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّهِ، طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلاَثَةً قَالَ " دَفَنْتِ ثَلاَثَةً " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ " . قَالَ عُمَرُ مِنْ بَيْنِهِمْ عَنْ جَدِّهِ . وَقَالَ الْبَاقُونَ عَنْ طَلْقٍ . وَلَمْ يَذْكُرُوا الْجَدَّ .
Abu Huraira reported that a woman came to Allah's Apostle (ﷺ) with her child and said:Allah's Apostle, invoke Allah's blessing upon him for I have already buried three. He said: You have buried three! She said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You have, indeed, safeguarded yourself against the torment of Hell with a strong safeguard. 'Umar has made a mention of his father, whereas others have not made a mention of his father
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابوبکر کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں عمر بن حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ۔ انہوں نے کہا؛ ہمیں میرے والد نے اپنے دادا طلق بن معاویہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہا : اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیے ، میں تین بچے دفن کر چکی ہوں ۔ آپ نے فرمایا : "" تم نے تین ( بچوں ) کو دفن کیا ہے؟ "" اس نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : "" تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے ایک مضبوط باڑ لگا دی ہے ۔ "" عمر ( بن حفص ) نے کہا : انہوں نے اپنے دادا ( طلق ) سے روایت کی اور باقیوں نے کہا : طلق سے روایت ہے اور دادا کا ذکر نہیں کیا ۔