بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
14 hadith
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ‏.‏
Abu Barza reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in the morning prayer from sixty to one hundred verses
(سلیمان ) تیمی نے ابو منہال سے اور انہوں نے حضرت ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھا کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَجِبْتُ لَهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ذَلِكَ ‏
Ibn 'Umar reported:While we said prayer with the Messenger of Allah (ﷺ), one among the people said: Allah is truly Great, praise be to Allah in abundance. Glory be to Allah in the morning and the evening. The Messenger of Allah (may peace be upon, him) said: Who uttered such and such a word? A person among the people said: It is I, Messenger of Allah (who have recited these words). He (the Holy Prophet) said: It (its utterance) surprised me, for the doors of heaven were opened for It. Ibn 'Umar said: I have not abandoned them (these words) since I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying this
حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انھون نے کہا : ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ اکبر کبیرا ، والحمد للہ کثیرا ، وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا ’’اللہ سب سے بڑا ہے بہت بڑا ، اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے بہت زیادہ اور تسبیح اللہ ہی کے لیے ہے ، صبح و شام ۔ ‘ ‘ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ’’فلاں فلاں کلمہ کہنے والا کون ہے ؟ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کےرسول ! میں ہوں آپ نے فرمایا ’’مجھے ان پر بہت حیرت ہوئی ، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ۔ ‘ ‘ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے جب سے آپ سے یہ بات سنی ، اس کےبعد سے ان کلمات کو کبھی ترک نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id (al Khudri) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Observe Witr prayer before it is morning. Abu Sa'id reported that they (the Prophet's Companions) asked the Messenger of Allah (ﷺ) about Witr (prayer). (In reply to their inquiry) he said: Observe Witr prayer before it is morning
معمرنے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ح . وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالضَّحَّاكُ الْهَمْدَانِيُّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ قَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاَتَهُ مَعَ صَلاَتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ - وَهُوَ الْقِدْحُ - ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلاَ يُوجَدُ فِيهِ شَىْءٌ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ ‏.‏ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَى عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْىِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ فَأَمَرَ بِذَلِكَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ فَوُجِدَ فَأُتِيَ بِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَى نَعْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِي نَعَتَ ‏.‏
Abu Sai'd al-Khudri reported:When we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) and he was distributing the spoils of war, there came to him Dhul-Khuwasira, one of Banu Tamim. He said: Messenger of Allah, do justice. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Woe be upon thee! Who would do justice, if I do not do justice? You would be unsuccessful and incurring a loss, if I do not do justice. Upon this Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) said: Messenger of Allah, permit me to strike off his neck. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Leave him, for he has friends (who would outwardly look to be so religious and pious) that everyone among you would consider his prayer insignificant as compared with their prayer, and his fast as compared with their fasts. They would recite the Qur'an but it would not go beyond their collar-bones. They would pass through (the teachings of Islam so hurriedly) just as the arrow passes through the prey. He would look at its Iron head, but would not find anything ticking) there. He would then see at the lowest end, but would not find anything sticking there. He would then see at its grip but would not find anything sticking to it. He would then see at its feathers and he would find nothing sticking to them (as the arrow would pass so quickly that nothing would stick to it) neither excrement nor blood. They would be recognised by the presence of a black man among them whose upper arms would be like a woman's breast, or like a piece of meat as it quivers, and they would come forth at the time when there is dissension among the people. Abu Sai'd said: I testify to the fact that I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ), and I testify to the fact that 'Ali b. Abu Talib fought against them and I was with him. He gave orders about that man who was sought for, and when he was brought in, and when I looked at him, he was exactly as the Messenger of Allah (ﷺ) had described him
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمان اورضحاک ہمدانی نے خبر دی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرتھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ مال تقسیم فرمارہے تھے کہ اسی اثناء میں آپ کے پاس ذوالخویصرہ جو بنو تمیم کا ایک فرد تھا ، آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !عدل کیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تیری ہلاکت ( کا سامان ہو ) !اگر میں عدل نہیں کرو گاتو کون عدل کرے گا؟ اگر میں عدل نہیں کررہا تو میں ناکام ہوگیا اور خسارے میں پڑ گیا ۔ "" ( یا اگر میں نے عدل نہ کیا تو تم ن اکام رہو گے اور خسارے میں ہوں گے ) اس پر حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کو قتل کردوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اے چھوڑ دو ، اس کے کچھ ساتھی ہوں گے ۔ تمھارا کوئی فرد اپنی نماز کو ان کی نماز اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے سامنے ہیچ سمجھے گا ، یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن ان کی ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا ۔ اسلام سے اس طرح نکلیں گے جیسے تیر نشانہ بنائے گئے شکار سے نکلتاہے ۔ اس کے پھل ( یا پیکان ) کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں پایا جاتا ، پھر اس کے سو فار کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں پایا جاتا ، پھر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں کچھ نہیں پایا جاتا ، وہ ( تیر ) گوبر اور خون سے آگے نکل گیا ( لیکن اس پر لگا کچھ بھی نہیں ) ، ان کی نشانی ایک سیاہ فام مرد ہے ، اس کے دونوں مونڈھوں میں سے ایک مونڈھا عورت کے پستان کی طرح یا گوشت کے ہلتے ہوئے ٹکڑے کی طرح ہوگا ۔ وہ لوگوں ( مسلمانوں ) کے باہمی اختلاف کے وقت ( نمودار ) ہوں گے ۔ "" ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کےخلاف جنگ کی ، میں ان کے ساتھ تھا ۔ انھوں نے اس آدمی ( کو تلاش کرنے ) کے بارے میں حکم دیا ، اسے تلاش کیا گیا تو وہ مل گیا ، اس ( کی لاش ) کو لایا گیا تو میں نے اس کو اسی طرح دیکھا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تعارف کرایاتھا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي، سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ كَانَ يَكُونُ عَلَىَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلاَّ فِي شَعْبَانَ الشُّغُلُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Salama reported:I heard 'A'isha (Allah be pleased with her) as saying: I had to complete some of the fasts of Ramadan, but I could not do it but during the month of Sha'ban due to my duties to the Messenger of Allah (ﷺ) or with the Messenger of Allah (ﷺ)
احمد بن عبداللہ بن یونس ، زہیر ، یحییٰ بن سعید ، حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ۔ کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رمضان کے روزے مجھ سے قضا ء ہوجاتے تھے تو میں ان روزوں کے سوائے شعبان کی قضا نہیں کرسکتی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت کی وجہ سے ۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى، قَالَ وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Burda b. Abu Musa that Abu Musa was afflicted with grave pain and he became unconscious and his head was in the lap of a lady of his household. One of the women of his household walled. He (Abu Musa) was unable (because of weakness) to say anything to her. But when he was a bit recovered he said:I have no concern with one with whom the Messenger of Allah (ﷺ) has no concern, Verily the Messenger of Allah (ﷺ) has no concern with that woman who wails loudly, shaves her hair and tears (her garment in grief)
قاسم بن مخیمرہ نے بیان کیا کہ مجھے ابو بردہ بن ابی موسیٰ ( اشعری ) نے بیان کیا ، انہوں نے فرمایا : ’’ حضرت ابو موسیٰ ( اشعری ) نے بیان کیا ، انہوں نے فرمایا : حضرت ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ایسے شدید بیمار ہوئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی ، ا ن کا سر ان کے اہل خانہ میں سے ایک عورت کی گود میں تھا ، ( اس موقع پر ) ان کے اہل میں سے ایک عورت چیخنے لگی ، حضرت ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ( شدید کمزوری کی وجہ سے ) اسے کوی جواب نہ دے سکے ۔ جب افاقہ ہوا تو کہنے لکے : میں اس بات سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا اظہار فرمایا ۔ رسول اللہ ﷺ نے چلا کر ماتم کرنےوالی ، سر منڈانے و الی اور گریبان چاک کرنے والی ( عورتون ) سے لا تعلقی کا اظہار فرمایا تھا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، - رضى الله عنهم - قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ بِنَحْوِهِ ‏.‏
Hafsa (Allah be pleased with her) reported:I said: Messenger of Allah what is the matter with you that you have not put off Ihram? The rest of the hadith is the same
خالد بن مخلد نے مالک سے ، انھوں نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے کہ آپ نے احرا م نہیں کھولا ؟ ( آگے ) مذکورہ بالا حدیث کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فَقَالَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُمِائَةِ نَاقِةٍ كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Mas'ud al-Ansari who said A man brought a muzzled she-camel and said:It is (offered) in the way of Allah. The Messenger of Allah (ﷺ) said: For this you will have seven hundred she-camels on the Day of Judgment all of which will be muzzled
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے ، انہوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے آیا اور کہنے لگا : یہ اللہ کی راہ ( جہاد ) میں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں اس کے بدلے میں قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ملیں گی اور سبھی نکیل سمیت ہوں گی ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَمَرَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ أَنْ تَصْنَعَ، لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا لِنَفْسِهِ خَاصَّةً ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَقَالَ ‏"‏ كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلُوا حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلاً ‏.‏ ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكُوا سُؤْرًا ‏.‏
Anas b. Malik reported:Abu Talha ordered Umm Sulaim to prepare a meal specially for Allah's Apostle (ﷺ). He then sent me to him (to the Holy Prophet) ; the rest of the hadith is the same (but there is a slight variation of wording):" Allah's Messenger (ﷺ) placed his hand and mentioned the name of Allah upon that, and then said: Admit ten men. He (Abu Talha) admitted them and they got in. He (the Holy Prophet) said: Eat while mentioning the name of Allah upon it (the meal). They ate until eighty persons had taken the food. Then Allah's Apostle (ﷺ) had his meal and so the members of the household, and still they left some food
عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ وہ خا ص طور پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھا نا تیار کردے پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا گیا اس کے بعد حدیث بیان کی اور اس میں یہ ( بھی ) کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کھانے پر ) اپنا ہاتھ رکھا اور اس پر بسم اللہ پڑھی پھر فرما یا : " دس آدمیوں کو اندر آنے کی ) اجازت دو " انھوں نے دس آدمیوں کو اجازت دی وہ اندر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا " بسم اللہ پڑھو اور کھا ؤ " تو ان لو گوں نے کھا یا حتی کہ اسی آدمیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ( دس دس کواندر بلا یا بسم اللہ پڑھ کر کھا نے کو کہا ۔ ) اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور گھر والوں نے کھا یا اور ( پھر بھی ) انھوں نے کھا نا بچا دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
ابو اسامہ اورابو معاویہ ، دونوں نے ہشام سے ، اس سند کے ساتھ روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ، بْنِ شَيْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَهَا بِقَتْلِ الأَوْزَاغِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَمَرَ ‏.‏
Umm Sharik reported that Allah's Messenger (ﷺ) commanded her to kill geckos. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Shaiba with a slight variation of wording
ابو بکر بن ابی شیبہ عمر وناقد اسحٰق بن ابرا ہیم اور ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، اسحٰق نے کہا : ہمیں خبر دی جبکہ دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ، سفیان بن عیینہ نے عبد الحمید بن جبیربن شیبہ سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے ام شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چھپکلیوں کو مارڈالنے کا حکم دیا ۔ ابن شعبہ کی روایت میں "" ( ان کا حکم دیا "" کے بجا ئے صرف ) "" حکم دیا "" ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، سُلَيْمًا مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ كُلُّ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلاَّ مَرْيَمَ وَابْنَهَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The satan touches every son of Adam on the day when his mother gives birth to him with the exception of Mary and her son
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سلیم نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " آدم کے ہر بیٹے کو جب اس کی ماں اسے جنم دیتی ہے ۔ شیطان کچوکا لگا تا ہے ، ماسوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) کے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي، حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي، حَازِمٍ يَقُولُ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ ضَحِكَ ‏.‏
Jarir b. 'Abdullah said:Allah's Messenger (ﷺ) never refused me permission to see him since I embraced Islam and never looked at me but with a smile
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور عبد الحمید بن بیان واسطی نے خالد بن عبد اللہ سے ، انھوں نے بیان سے روایت کی ، کہا : میں نے قیس بن ابی حازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے جب سے اسلام قبول کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اپنے حجرے سے باہر نہیں روکا اور آپ نے جب بھی مجھے دیکھا آپ ہنس دیے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Anyone amongst the Muslims, three of whose children die, and he resigns himself calmly to the will of God, Fire will not touch him but for the fulfilment of the oath
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس کسی مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے آگ صرف قسم پورا کرنے کے لیے چھوئے گی ۔