وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ { اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ .
Jabir b. Samura reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to recite in the noon prayer:" By the night when it envelopes" (xcii.), and in the afternoon like this, but he prolonged the morning prayer as compared to that (noon and afternoon prayers)
عبد الرحمن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں ﴿واليل اذا يغشى﴾ ( اور رات کی قسم جب چھا جائے ) پڑھتے ، عصر میں بھی ایسی ہی کوئی سورت پڑھتے اور فجر کی نماز میں اس سے لمبی ( سورت پڑھتے ۔)
قَالَ مُسْلِمٌ وَحُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، وَيُونُسَ الْمُؤَدِّبِ، و غَيْرِهِمَا قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ اسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ بِـ { الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} وَلَمْ يَسْكُتْ .
Abu Huraira reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) stood up for the second rak'ah he opened it with the recitation of the praise of Allah, the Lord of universe (al-Fatiha), and he did not observe silence (before the recitation of al-Fatiha)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو ( الحمد اللہ رب العٰلمین ) سے قراءت کا آغاز کر دیتے ( کچھ دیر ) خاموشی اختیار نہ فرماتے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ . بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ . وَفِيهِ فَقَالَ بَهْ بَهْ إِنَّكَ لَضَخْمٌ .
Anas b. Sirin reported:I asked Ibn 'Umar like this (as recorded in the previous hadith) and he made this addition:" And he (the Holy Prophet) made the end of the night prayer as odd number by one rak'ah." And there is also (this addition):" Stop, stop, you are bulky
شعبہ نے انس بن سیرین سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ۔ ۔ ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا : رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر پڑھتے ۔ اس میں ہے ( اور میرے دوبارہ سوا ل پر ) کہا : بس ، بس ، تم ایک بوجھل آدمی ہو ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ زَيْدُ الْخَيْرِ وَالأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلاَثَةَ أَوْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ . وَقَالَ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ . كَرِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ . وَقَالَ إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ وَلَمْ يَذْكُرْ " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ " .
This hadith has been narrated through another chain of transmitters, but no mention has been made of:" If I find them, I would kill them as the Thamud were killed
عمارہ بن قعقاع کے ایک دوسرے شاگرد ابن فضیل نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا : ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خام سونا ) چار افراد : زید الخیل ، اقرع بن حابس ، عینیہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل میں ( تقسیم کیا ۔ ) اور عبدالواحدکی روایت کی طرح " ابھری ہوئی پیشانی والا " کہا اور انھوں نے " اس کی اصل سے ( جس سے اس کا تعلق ہے ) ایک قوم نکلے گی " کے الفاظ بیان کیے اورلئن ادركت لاقتلنهم قتل ثمود ( اگر میں نے ان کو پالیاتو ان کو اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے ) کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ . حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا .
Salama b. Akwa' (Allah be pleased with him) reported that when this verse was revealed:"And as for those who can fast (but do not) expiation is the feeding of a needy person" (ii. 183), (he who liked to observe fast did observe it) and he who felt reluctant to observe it ate and expiated till the verse was revealed which abrogated it
۔ قتیبہ بن سعید ، بکر یعنی ابن مضر ، عمرو بن حارث ، بکیر ، یزید مولی سلمہ ، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ ( وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ) اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھاناکھلادیں جس آدمی کا روزہ چھوڑنے کا اردہ ہوتا تو وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کردیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " . هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى وَأَمَّا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالاَ " وَشَقَّ وَدَعَا " بِغَيْرِ أَلِفٍ .
It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud that the Prophet observed:He is not one of us (one among the Ummah of Islam) who beat the cheeks or tore the front opening of the shirt or uttered the slogans of (the days of) Jahiliya (ignorance). Ibn Numair and Abu Bakr said (instead of the word" au" (or) it is" wa" [and] the words are) and tore and uttered (the slogans) of Jahiliya without" alif
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو معاویہ اور وکیع نے حدیث بیان کی ، نیز ( محمد بن عبد اللہ ) ابن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، ان سب ( ابو معاویہ ، وکیع اور ابن نمیر ) نے اعمش سے ، انہوں نے عبد اللہ بن مرہ سے ، انہو ں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کیا یا اہل جاہلیت کی طرح پکارا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘ یہ یحییٰ کی حدیث ہے ( جو انہوں نے ابو معاویہ کے واسطے سے بیان کی ۔ ) البتہ ( محمد ) ابن نمیر اور ابو بکر بن ابی شیبہ ( جنہوں نے ابو معاویہ او روکیع دونوں سے روایت کی ) نے ’’او ‘ ‘ کے بجائے الف کے بغیر ’و ‘ ( ’’یا ‘ ‘ کےبجاےئ’’اور ‘ ‘ ) کہا ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي تَمَتُّعِهِ بِالْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha. The wife of Allah's Messenger (ﷺ), concerning his Tamattu' of Hajj and 'Umra and performing of Tamattu' by people in his company
ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں ( عروہ کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے حج کے ساتھ عمرے کے تمتع کے متعلق اور جو آپ کے ساتھ تھے ۔ ان کے تمتع کے متعلق اسی طرح خبر دی ۔ جس طرح سالم بن عبد اللہ نے مجھے عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَجْتَمِعُ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger Allah (ﷺ) said:A disbeliever and a believer who killed him will never be gathered together in Hell
علاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کافر اور اس کو قتل کرنے والا ( مسلمان ) جہنم میں کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ طَعَامًا - قَالَ - فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ النَّاسِ فَنَظَرَ إِلَىَّ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقُلْتُ أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ . فَقَالَ لِلنَّاسِ " قُومُوا " . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا صَنَعْتُ لَكَ شَيْئًا - قَالَ - فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ " أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً " . وَقَالَ " كُلُوا " . وَأَخْرَجَ لَهُمْ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَخَرَجُوا فَقَالَ " أَدْخِلْ عَشَرَةً " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا . فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلاَّ دَخَلَ فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ثُمَّ هَيَّأَهَا فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا .
Anas b. Malik reported:Abu Talha sent me to Allah's Messenger (ﷺ) in order to invite him (for meal). She had prepared a meal. So I came and found Allah's Messenger (ﷺ) along with some people. He looked at me, and I felt shy and said: Accept the invitation of Abu Talha. He (the Holy Prophet) asked the people to get up. Thereupon Abu Talha said: Allah's Messenger, I have prepared something for you. Allah's Messenger (ﷺ) touched (the food) and invoked blessings upon it, and then said: Let ten persons from my Companions enter (the house). He then said: Eat, and (in the meanwhile) brought out something from between his fingers for them. They then began to eat until they had their fill and then went out. He then asked ten more men (to have the meal) and they ate to their fill, and the ten persons went on getting in (and eating the food) and then getting out until none was left amongst them who had not got in and eaten to his fill. He then collected (the remaining part of the food) and it (the quantity of the food) was the same (as it had been prior to the serving of guests)
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لئے آپ کے پاس بھیجا ، انھوں نے کھانا تیار کیاتھا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے شرم آئی ، میں نے کہا : " حضرت ابو طلحۃ کی دعوت قبول فرمائیے ۔ " اس پر آپ نے لوگوں سےکہا؛ " اٹھو ۔ " حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو آپ کے لئے ( کھانے کی ) کچھ تھوڑی سی چیز تیار کی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا کی ، پھرفرمایا : " میرے ساتھیوں میں سے دس کو اندرلاؤ " اور ( ان سے ) فرمایا : " کھاؤ " اور آپ نے ان کے لئے اپنی انگلیوں کے درمیان سے کچھ نکالا تھا ( برکت شامل کی تھی ) ، سو انھوں نے کھایا ، سیر ہوگئے ، اور باہر چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دس آدمیوں کو اندر لاؤ ۔ " پھر انھوں نے کھایا ، سیر ہوگئے اور چلے گئے ، وہ دس دس کو اندر لاتے اور دس دس کو باہر بھیجتے رہے ، یہاں تک کہ ان میں سےکوئی باقی نہ بچا مگر سب نے کھا لیا اور سیر ہوگئے ، پھر اس کو سمیٹا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا ان کے کھانے ( کے آغاز ) کے وقت تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ إِنَّ زَوْجِي أَعْطَانِي مَا لَمْ يُعْطِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَىْ زُورٍ " .
A'isha reported that a woman said:Allah's Messenger, may I say to my (co-wife) that my husband has given me (such and such) a thing but which he has not in fact gives me? 'Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: The one who makes a false statement of that which one has not been given is like one who wears a garment of falsehood
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( اگر ) میں یہ کہوں : مجھے ( یہ سب ) میرےخاوند نے دیا ہے جو اس نے نہیں دیا؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو ( کھانا ) نہیں ملا ، خود کو اس سے سیر ظاہر کرنے والا ، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ - وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ - قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ، سَرِيرِهِ حَرَكَةً فَنَظَرْنَا فَإِذَا حَيَّةٌ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ صَيْفِيٍّ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلاَثًا فَإِنْ ذَهَبَ وَإِلاَّ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ " . وَقَالَ لَهُمُ " اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ " .
Asma' b. 'Ubaid reported about a person who was called as-Sa'ib having said:We visited Abu Sa'id Khudri. When we had been sitting (with him) we heard a stir under his bed. When we looked we found a big snake, the rest of the hadith is the same. And in this Allah's Messenger (ﷺ) is reported to have said: Verily in these houses there live aged (snakes), so when you see one of them, make life hard for it for three days, and if it goes away (well and good), otherwise kill it for (in that case) it would be a nonbeliever. And he (the Holy Prophet) said (to his Companions): Go and bury your companion (who had died by the snake bite)
جریر بن حا زم نے کہا : میں نے اسماء بن عبید کو ایک آدمی سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، جسے سائب کہا جا تا تھا ۔ وہ ہمارے نزدیک ابو سائب ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہو ئے ، ہم بیٹھے ہو ئے تھے جب ہم نے ان کی چار پا ئی کے نیچے ( کسی چیز کی ) حرکت کی آواز سنی ۔ ہم نے دیکھا تو وہ ایک سانپ تھا ، پھر انھوں نے پو رے واقعے سمیت صیفی سے امام مالک کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، اور اس میں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ان گھروں میں کچھ مخلوق آباد ہے ۔ جب تم ان میں سے کو ئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی کرو ( تا کہ وہ خود وہاں سے کہیں اور چلے جا ئیں ) اگر وہ پہلے جا ئیں ( تو ٹھیک ) ورنہ ان کو مار دوکیونکہ پھر وہ ( نہ جا نے والا ) کا فر ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " جاؤاور اپنے ساتھی کو دفن کردو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلاَّ نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ إِلاَّ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ " . ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ { وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ}
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No child is born but he is pricked by the satan and he begins to weep because of the pricking of the satan except the son of Mary and his mother. Abu Huraira then said: You may recite if you so like (the verse):" I seek Thy protection for her and her offspring against satan the accursed" (iii)
معمر نے زہری سے ، انھوں نے سعید سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پیدا ہونے والا جو بھی بچہ پیدا ہو تا ہے شیطان اس کو کچوکالگاتا ہے ۔ ماسوائے حضرت ابن مریم علیہ السلام اور ان کی والدہ کے ۔ " پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ( حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ نے کہا : ) " میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا ابْنَ أَخِي صَلَّيْتُ سَنَتَيْنِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ كُنْتَ تَوَجَّهُ قَالَ حَيْثُ وَجَّهَنِيَ اللَّهُ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَتَنَافَرَا إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْكُهَّانِ . قَالَ فَلَمْ يَزَلْ أَخِي أُنَيْسٌ يَمْدَحُهُ حَتَّى غَلَبَهُ - قَالَ - فَأَخَذْنَا صِرْمَتَهُ فَضَمَمْنَاهَا إِلَى صِرْمَتِنَا . وَقَالَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ - قَالَ - فَأَتَيْتُهُ فَإِنِّي لأَوَّلُ النَّاسِ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ - قَالَ - قُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ مَنْ أَنْتَ " . وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَقَالَ " مُنْذُ كَمْ أَنْتَ هَا هُنَا " . قَالَ قُلْتُ مُنْذُ خَمْسَ عَشْرَةَ . وَفِيهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتْحِفْنِي بِضِيَافَتِهِ اللَّيْلَةَ .
Abdullah b. Samit reported that Abu Dharr said:Son of my brother, I used to observe prayer two years before the advent of Allah's Apostle (ﷺ). I said: To which direction did you turn your face? He said: To which Allah directed me to turn my face. The rest of the hadith is the same but with this addition that they went to a Kahin and his brother Unais began to praise him until he (in verses declared) him (Unais) as winner (in the contest of poetry), and so we got his camels, mixed them with our camels, and there is in this hadith also these words that Allah's Apostle (ﷺ) came there and he circumambulated the House and observed two Rak'ahs of prayer behind the Station (of Ibrahim). I came to him and I was the first amongst persons to greet him with Assalam-o-'Alaikum, and I said to Allah's Messenger Let there be peace upon you. And he said: Let there be peace upon you too; who are you? And in the hadith (these words are) also found: Since how long have you been here? And Abu Bakr said: Let him be my guest tonight
ابن عون نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے عبداللہ بن صامت سے روایت کی ، کہا : حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : بھتیجے!میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دو سال پہلے نماز پڑھی ہے ، کہا : میں نے پوچھا : آپ کس طرف رخ کیاکرتے تھے؟انھوں نے کہا : جس طرح اللہ تعالیٰ میرا رخ کردیتاتھا؟پھر ( ابن عون نے ) سلیمان بن مغیرہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ کہا : " ان دونوں کا آپس میں مقابلہ کاہنوں میں سے ایک آدمی کے سامنے ہوا اور میرا بھائی انیس ( اشعار میں مسلسل ) اس ( کاہن ) کی مدح کرتا رہا یہاں تک کہ اس شخص پر غالب آگیا تو ہم نے اس کا گلہ بھی لے لیا اور اسے اپنے گلے میں شامل کرلیا ۔ انھوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا : ( ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، بیت اللہ کاطواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیں ۔ کہا : تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں پہلا شخص ہوں جس نے آپ کو اسلامی طریقے سے سلام کیا ۔ تو کہا : میں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ پر سلامتی ہو!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اورتم پر بھی سلامتی ہو!تم کون ہو؟اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے : آپ نے پوچھا : " تم کتنے دنوں سے یہاں ہو؟ " کہا : میں نے عرض کی : پندرہ دن سے ، اور اس میں یہ ( بھی ) ہے کہ کہا : ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس کی آج رات کی میزبانی بطور تحفہ مجھے عطا کردیجئے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، أَنَّ زِيَادَ، بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ جَاءَتْنِي مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا فَأَطْعَمْتُهَا ثَلاَثَ تَمَرَاتٍ فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً وَرَفَعَتْ إِلَى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا فَذَكَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ " .
A'isha reported:A poor woman came to me along with her daughters. I gave her three dates. She gave a date to each of them and then she took up one date and brought that to her mouth in order to eat that, but her daughters expressed desire to eat it. She then divided the date that she intended to eat between them. This (kind) treatment of her impressed me and I mentioned that which she did to Allah's Messenger (ﷺ). Thereupon he said: Verily Allah has assured Paradise for her, because of (this act) of her, or He has rescued her from Hell-Fire
عراک بن مالک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بیٹیاں اٹھائی ہوئی تھیں ، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں ، اس نے کہا ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ، ( بچی ہوئی ) ایک کھجور کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی ، تو وہ بھی اس کی دو بیٹیوں نے کھانے کے لیے مانگ لی ، اس نے وہ کھجور بھی جو وہ کھانا چاہتی تھی ، دو حصے کر کے دونوں بیٹیوں کو دے دی ۔ مجھے اس کا یہ کام بہت اچھا لگا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا : " اللہ نے اس ( عمل ) کی وجہ سے اس کے لیے جنت پکی کر دی ہے یا ( فرمایا : ) اس وجہ سے اسے آگ سے آزاد کر دیا ہے ۔