وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ عَنْ صَلاَةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ يُخَفِّفُ الصَّلاَةَ وَلاَ يُصَلِّي صَلاَةَ هَؤُلاَءِ . قَالَ وَأَنْبَأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بـ { ق وَالْقُرْآنِ} وَنَحْوِهَا .
Simak asked Jabir b. Samura about the prayer of the Apostle (ﷺ). He said:He (the Holy Prophet) shortened the prayer and he did not pray like these people then, and he informed me that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite" Qaf. By the (Glorious) Qur'an," and a passage of similar length
(زائدہ کے بجائے ) زہیر نے سماک سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرمﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا : آپ ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور ان لوگوں کی طرح نماز نہیں پڑھاتے تھے ۔ اور ( سماک نے ) کہا : مجھے انہوں ( جابر رضی اللہ عنہ ) نے بتایا کہ رسو ل اللہﷺ کی صبح کی نماز میں ﴿ق والقرآن﴾ اور ( طوالت میں ) اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ أَأُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ - قَالَ - قُلْتُ إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ . قَالَ إِنَّكَ لَضَخْمٌ أَلاَ تَدَعُنِي أَسْتَقْرِئُ لَكَ الْحَدِيثَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ كَأَنَّ الأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ . قَالَ خَلَفٌ أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ وَلَمْ يَذْكُرْ صَلاَةِ .
Anas b. Sirin reported:I asked Ibn 'Umar to tell me about the practice of the Prophet (ﷺ) in regard to two rak'ahs before the dawn prayer: Should I make lengthy recitation in them? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe, the night prayer in pairs and then made the number odd by observing one rak'ah. I said: I am not asking you about it. He said: You are a bulky man, will you not show me the patience to narrate to you the hadith completely? The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe the night prayer in pairs and then made the number odd by observing one rak'ah, and then he observed two rak'ahs before dawn quite close to the call for prayer (Khalaf said:" Did you see [yourself the Prophet observing] the two rak'ahs before the dawn?" and he made no mention of prayer
خلف بن ہشام اور ابوکامل نے کہا : ہمیں حماد بن زیدنے انس بن سیرن سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، کیا میں ان میں طویل قراءت کرسکتا ہوں؟انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک رکعت سے اس کو وتر بناتے ، میں نے کہا : میں آپ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ۔ انھوں نے کہا : تم ایک بوجھل آدمی ہو ( اپنی سوچ کو ترجیح دیتے ہو ) کیا مجھے موقع نہ دو گے کہ میں تمہارے لئے بات کو مکمل کروں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک وتر پڑھتے اور صبح ( کی نماز ) سے پہلے ( مختصر سی ) دو رکعتیں پڑھتے ، گویا کہ اذان ( اقامت ) آ پ کے کانوں میں ( سنائی دے رہی ) ہے ۔ خلف نے اپنی حدیث میں "" صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟کہا اور انھوں نے "" صلاۃ "" کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلاَثَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ وَقَالَ نَاتِئُ الْجَبْهَةِ وَلَمْ يَقُلْ نَاشِزُ . وَزَادَ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ " لاَ " . قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِدٌ سَيْفُ اللَّهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ " لاَ " . فَقَالَ " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ لَيِّنًا رَطْبًا - وَقَالَ قَالَ عُمَارَةُ حَسِبْتُهُ قَالَ " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ " .
This hadith has been narrated through another chain of transmitters and (the narrator) made a mention of elevated forehead, but he made no mention of tucked-up loin cloth and made this addition:" There stood up 'Umar b. Khattab (Allah be pleased with him), and said: Should I not strike his neck? Upon this he said: No. Then he turned away, and Khalid the Sword of Allah stood up against him, and said: Prophet of Allah. shall I not strike off his neck? He said, No, and then said: A people would rise from his progeny who would recite the Book of Allah glibly and fluently. 'Umar said: I think he (the Holy Prophet) also said this: If I find them I would certainly kill them like Thamud
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انھوں نے علقمہ بن علاثہ کاذکر کیا اور عامر بن طفیل کا ذکر نہیں کیا ۔ نیز ناتي الجبهة ( نکلی ہوئی پیشانی والا ) کہا اور ( عبدالواحد کی طرح ناشز ( ابھری ہوئی پیشانی والا ) نہیں کہا اور ان الفاظ کا اضافہ کیاکہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ۔ " کہا : پھر وہ پیٹھ پھیر کر چل پڑا تو خالد سیف اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اڑادوں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " نہیں ۔ " پھر فرمایا : " حقیقت یہ ہے کہ عنقریب اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب نرمی اور تراوٹ سے پڑھیں گے ۔ " ( جریر نے ) کہا : عمارہ نے کہا : میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں نے ان کو پالیا تو ان کو اسی طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، - يَعْنِي الْجُعْفِيَّ - عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلاَ تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الأَيَّامِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Do not single out the night (preceding) Friday among the nights for prayer and do not single out Friday among days for fasting but only when anyone among you is accustomed to fast (on dates) which coincide with this day (Friday)
ابو کریب ، حسین یعنی جعفی ، زائدہ ، ہشام ، ابن سیرین ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کےساتھ مخصوص نہ کرو اور نہ ہی دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کروسوائے اس کے کہ تم میں سے جو کوئی روزے رکھ رہا ہو ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، - قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلاً فَقَالَ " مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ " . قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " أَفَلاَ جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَىْ يَرَاهُ النَّاسُ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by a heap of eatables (corn). He thrust his hand in that (heap) and his fingers were moistened. He said to the owner of that heap of eatables (corn):What is this? He replied: Messenger of Allah, these have been drenched by rainfall. He (the Holy Prophet) remarked: Why did you not place this (the drenched part of the heap) over other eatables so that the people could see it? He who deceives is not of me (is not my follower)
علاء نےاپنے والد عبدالرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے توآپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا ، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا : ’’ غلے کے مالک! یہ کیا ہے ؟ ‘ ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس پر بارش پڑ گئی تھی ۔ آپ نے فرمایا : ’’ توتم نے اسے ( بھیگے ہوئے غلے ) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لو گ اسے دیکھ لیتے ؟ جس نے دھوکا کیا ، وہ مجھ سے نہیں ۔ ‘ ‘ ( ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " . وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ - حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ - رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ .
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported:Allah's Messenger (ﷺ) observed Tamattu' in Hajjat-ul-Wada'. He first put on Ihram for 'Umra and then for Hajj. and then offered animal sacrifice. So he drove the sacrificial animals with him from Dhu'l-Hulaifa. Allah's Messenger (ﷺ) commenced Ihram of Umra and thus pronounced Talbiya for 'Umra. and then (put on Ihram for Hajj) and pronounced Talbiya for Hajj. And the people performed Tamattu' in the company of Allah's Messenger (ﷺ). They put on Ihram for Umra (first) and then for Hajj. Some of them had sacrificial animals which they had brought with them, whereas some of them had none to sacrifice. So when Allah's Messenger (ﷺ) came to Mecca, he said to the people: He who amongst you has brought sacrificial animals along with him must not treat as lawful anything which has become unlawful for him till he has completed the Hajj; and he, who amongst you has not brought the sacrificial animals should circumambulate the House, and run between al-Safa' and al-Marwa and clip (his hair) and put off the Ihram, and then again put on the Ihram for Hajj and offer sacrifice of animals. But he who does not find the sacrificial animal, he should observe fast for three days during the Hajj and for seven days when he returns to his family. Allah's Messenger (ﷺ) circumambulated (the House) when he came to Mecca: he first kissed the corner (of the Ka'ba containing the Black Stone), then ran in three circuits out of seven and walked in four circuits. And then when he had finished the circumambulation of the House he observed two rak'ahs of prayer at the Station (of Ibrahim), and then pronounced Salaam (for concluding the rak'ahs), and departed and came to al-Safa' and ran seven times between al-Safa' and al-Marwa. After that he did not treat anything as lawful which had become unlawful till he had completed his Hajj and sacrificed his animal on the day of sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja). and then went back quickly (to Mecca) and performed circumambulation of the House (known as tawaf ifada) after which all that was unlawful for him became lawful; and those who had brought the sacrificial animals along with them did as Allah's Messenger (ﷺ) had done
سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تک عمرے سے تمتع فرمایا اور ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کے جا نور اپنے ساتھ چلا کر لا ئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آغا ز فرمایا تو ( پہلے ) عمرے کا تلبیہ پکا را پھر حج کا تلبیہ پکا را اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج تک عمرے سے تمتع کیا ۔ لوگوں میں کچھ ایسے تھے انھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا اور قربانی کے جانور چلا کر ساتھ لا ئے تھے اور کچھ ایسے تھے جو قربانیاں لے کر نہیں چلے تھے ۔ جب آپ مکہ تشریف لے آئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : "" تم میں سے جو قربانی لے چلا وہ ان چیزوں سے جنھیں اس نے ( احرا م بندھ کر ) حرام کیا اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک کہ حج پو را نہ کرے ۔ اور جو شخص قربا نی نہیں لا یا وہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرے اور بال کتروا کر حلال ہو جا ئے ( اور آٹھ ذوالحجہ کو ) پھر حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکا رے ( اور رمی کے بعد ) قر بانی کرے ۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن حج کے دورا ن میں اور سات دن گھر لو ٹ کر روزے رکھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف فر ما یا ۔ سب سے پہلے حجرا سود کا استلام کیا ۔ پھر تین چکروں میں تیز چلے اور چار چکر معمول کی رفتار سے چل کر لگا ئے ۔ جب آپ نے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا تو مقام ابرا ہیم کے پاس دو رکعتیں ادا فرمائیں ۔ پھر سلام پھیر ااور رخ بد لیا ۔ صفا پر تشریف لا ئے اور صفا مروہ کے ( درمیا ن ) ساتھ چکر لگا ئے ۔ پھر جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کیا آپ نے ایسی کسی چیز کو ( اپنے لیے ) حلال نہ کیا جسے آپ نے حرا م کیا تھا قربانی کے دن آپ نے اپنے قربانی کے اونٹ نحر کیے اور ( طواف ) افاضہ فر ما یا ۔ پھر آپ نے ہر وہ چیز ( اپنے لیے ) حلال کر لی جو احرام کی وجہ سے ) حرام ٹھہرائی تھی ۔ اور لوگوں میں سے جنھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا تھا اور لوگو ں کے ساتھ قربانی کے جا نور ہانک کر لے آئے تھے ۔ انھوں نے بھی ویسا ہی کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَضْحَكُ اللَّهُ لِرَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاَهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " يُقْتَلُ هَذَا فَيَلِجُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الآخَرِ فَيَهْدِيهِ إِلَى الإِسْلاَمِ ثُمَّ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ " .
It has been reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:God laughs at the two men one of whom kills the other; both of them will enter Paradise. They (the Companions) said: How, Messenger of Allah? He said: One is slain (in the way of Allah) and enters Paradise. Then God forgives the other and guides him to Islam; then he fights in the way of Allah and dies a martyr
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ان میں سے یہ ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ دو شخصوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے ، ان میں سے ایک شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ " صحابہ کرام نے پوچھا : اللہ کے رسول! کیسے؟ آپ نے فرمایا : " یہ شخص شہید کیا جاتا ہے اور جنت کے اندر چلا جاتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے ( قاتل ) پر نظر عنایت فرماتا ہے ، اسے اسلام کی ہدایت عطا کرتا ہے ، پھر وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ قَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ . فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ " . قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ " أَلِطَعَامٍ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ " قُومُوا " . قَالَ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ - قَالَ - فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ حَتَّى دَخَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " . فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلاً أَوْ ثَمَانُونَ .
Anas b. Malik reported that Abu Talha said to Umm Sulaim:I felt some feebleness in the voice of Allah's Messenger (ﷺ) and perceived that it was due to hunger; so have you anything with you? She said: Yes. She brought out barley loaves, then took out a head-covering of hers, in a part of which she wrapped those loaves and then put them beneath my mantle and covered me with a part of it. She then sent me to Allah's Messenger (ﷺ). I set forth and found Allah's Messenger (ﷺ) sitting in the mosque in the company of some persons. I stood near them, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Has Abu Talha sent you? I said, Yes. He said: Is it for a feast? I said. Yes. Thereupon Allah's messenger (ﷺ) said to'those who were with him to get up He went forth and so I did before them, until I came to Abu Talha and informed him. Abu Talba said: Umm Sulaim, here comes Allah's Messenger (ﷺ) along with people and we do not have enough (food) to feed them. She said: Allah and His Messenger know best. Abu Talha went out (to receive him) Until he met Allah's Messenger (ﷺ) and Allah's Apostle (ﷺ) came forward along with him until they both (Allah's Messenger, along with Abu Talha) came in. Then Allah's Messenger (ﷺ) said: Umm Sulaim. bring forth that which you have with you. She brought the bread. Allah's Messenger (ﷺ) commanded that the bread be broken into small pieces, and when Umm Sulaim had squeezed a small waterskin and put seasoning on it, Allah's Messenger (ﷺ) recited something regarding it what Allah wished him to say. He then said: Allow ten (guests to come in and have their meals). He permitted them; they ate until they had their fill. They then went out. He (the Holy Prophet) again said: Permit ten (more) and he (the host gave permission to them. They ate until they had enough. Then they went out. he again said: Permit ten (more) until all the people had eaten to their fill, and they were seventy or eighty persons
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا کہ انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ہے کمزورتھی ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک لگی ہے ۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟انھوں نے کہا : ہاں ، پھر انھوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں ، پھر اپنی اوڑھنی لی اس کے ایک حصے میں روٹیاں لپیٹیں ، پھر ان کو میرے کپڑوں کےنیچے چھپاد یا اور اس ( اوڑھنی ) کا بقیہ حصہ چادر کی طرح میرے اوپر ڈال دیا ، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ان روٹیوں کو لے کر گیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں بیٹھے پایا اور آپ کےساتھ دوسرے لوگ موجود تھے ، میں ان کے پا کھڑا ہوگیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھیں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھیجا ہے؟ "" میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا کھانے کے لئے؟ "" میں نے کہا : جی ہاں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے ساتھیوں سے کہا "" چلو "" حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور میں ا ن کے آگے آگے چل پڑا ، یہاں تک کہ میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان کو بتایا ۔ حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے : ام سلیم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( باقی ) لوگوں سمیت آگئے ہیں ، اور ہمارے پاس اتنا ( کھانا ) نہیں ہے کہ ان کو کھلا سکیں ۔ انھوں نے کہا : اللہ اور اسکا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور ( جاکر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کےساتھ آئے اور وہ دونوں گھر میں داخل ہوگئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ام سلیم!جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ ۔ "" وہ یہی روٹیاں لے آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا ، ان ( روٹیوں ) کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردیئے گئے ۔ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ا پنا گھی کا کپہ ( چمڑے کا گول برتن ) ان ( روٹیوں ) پر نچوڑ کر سالن شامل کردیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جو کچھ اللہ نے چاہا پڑھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" دس آدمیوں کو آنے کی اجازت دو ۔ "" انھوں ( ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے دس آدمیوں کو اجازت دی ، انھوں نے کھانا کھایا حتیٰ کہ سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : "" دس آدمیوں کو اجازت دو ۔ "" انھوں نے اجازت دی ، ان سب نے کھایا سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : "" دس آدمیوں کو اجازت دو "" یہاں تک کہ سب لوگوں نے کھا لیا اورسیر ہوگئے ۔ وہ ستر یا اسی لوگ تھے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلاَتٌ مَائِلاَتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لاَ يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلاَ يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا " .
AbU Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:Two are the types of the denizens of Hell whom I did not see: people having flogs like the tails of the ox with them and they would be beating people, and the women who would be dressed but appear to be naked, who would be inclined (to evil) and make their husbands incline towards it. Their heads would be like the humps of the bukht camel inclined to one side. They will not enter Paradise and they would not smell its odour whereas its odour would be smelt from such and such distance
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا ۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں ، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں دوسرے وہ عورتیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں ( یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں ) ، سیدھی راہ سے بہکانے والی ، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی ( اونٹ کی ایک قسم ہے ) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آ رہی ہو گی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ، - وَهُوَ عِنْدَنَا مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ - أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ قَالَ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاَتَهُ فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ إِلَىَّ أَنِ اجْلِسْ . فَجَلَسْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ . قَالَ كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ - قَالَ - فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْخَنْدَقِ فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَنْصَافِ النَّهَارِ فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُذْ عَلَيْكَ سِلاَحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ " . فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلاَحَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً فَأَهْوَى إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَهُ اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي . فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى قَالَ فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ وَقُلْنَا ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا . فَقَالَ " اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .
Abu as-Sa'ib, the freed slaved of Hisham b. Zuhra, said that he visited Abu Sa'id Khudri in his house, (and he further) said:I found him saying his prayer, so I sat down waiting for him to finish his prayer when I heard a stir in the bundles (of wood) lying in a comer of the house. I looked towards it and found a snake. I jumped up in order to kill it, but he (Abu Sa'id Khudri) made a gesture that I should sit down. So I sat down and as he finished (the prayer) he pointed to a room in the house and said: Do you see this room? I said: Yes. He said: There was a young man amongst us who had been newly wedded. We went with Allah's Messenger (ﷺ) (to participate in the Battle) of Trench when a young man in the midday used to seek permission from Allah's Messenger (ﷺ) to return to his family. One day he sought permission from him and Allah's Messenger (ﷺ) (after granting him the permission) said to him: Carry your weapons with you for I fear the tribe of Quraiza (may harm you). The man carried the weapons and then came back and found his wife standing between the two doors. He bent towards her smitten by jealousy and made a dash towards her with a spear in order to stab her. She said: Keep your spear away and enter the house until you see that which has made me come out. He entered and found a big snake coiled on the bedding. He darted with the spear and pierced it and then went out having fixed it in the house, but the snake quivered and attacked him and no one knew which of them died first, the snake or the young man. We came to Allah's Apostle (ﷺ) and made a mention to him and said: Supplicate to Allah that that (man) may be brought back to life. Thereupon he said: Ask forgiveness for your companion and then said: There are in Medina jinns who have accepted Islam, so when you see any one of them, pronounce a warning to it for three days, and if they appear before you after that, then kill it for that is a devil
امام مالک بن انس نے ، ابن افلح کے آزاد کردہ غلام صیفی سے روایت کی ، کہا : مجھے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو سائب نے بتایا کہ وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گئے ۔ ابوسائب نے کہا کہ میں نے ان کو نماز میں پایا تو بیٹھ گیا ۔ میں نماز پڑھ چکنے کا منتظر تھا کہ اتنے میں ان لکڑیوں میں کچھ حرکت کی آواز آئی جو گھر کے کونے میں رکھی تھیں ۔ میں نے ادھر دیکھا تو ایک سانپ تھا ۔ میں اس کے مارنے کو دوڑا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جا ۔ میں بیٹھ گیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے ایک کوٹھری دکھاتے ہوئے پوچھا کہ یہ کوٹھڑی دیکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں ، انہوں نے کہا کہ اس میں ہم لوگوں میں سے ایک جوان رہتا تھا ، جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف نکلے ۔ وہ جوان دوپہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر گھر آیا کرتا تھا ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریظہ کا ڈر ہے ( جنہوں نے دغابازی کی تھی اور موقع دیکھ کر مشرکوں کی طرف ہو گئے تھے ) ۔ اس شخص نے اپنے ہتھیار لے لئے ۔ جب اپنے گھر پر پہنچا تو اس نے اپنی بیوی کو دیکھا کہ دروازے کے دونوں پٹوں کے درمیان کھڑی ہے ۔ اس نے غیرت سے اپنا نیزہ اسے مارنے کو اٹھایا تو عورت نے کہا کہ اپنا نیزہ سنبھال اور اندر جا کر دیکھ تو معلوم ہو گا کہ میں کیوں نکلی ہوں ۔ وہ جوان اندر گیا تو دیکھا کہ ایک بڑا سانپ کنڈلی مارے ہوئے بچھونے پر بیٹھا ہے ۔ جوان نے اس پر نیزہ اٹھایا اور اسے نیزہ میں پرو لیا ، پھر نکلا اور نیزہ گھر میں گاڑ دیا ۔ وہ سانپ اس پر لوٹا اس کے بعد ہم نہیں جانتے کہ سانپ پہلے مرا یا جوان پہلے شہید ہوا ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا قصہ بیان کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس جوان کو پھر جلا دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھی کے لئے بخشش کی دعا کرو ۔ پھر فرمایا کہ مدینہ میں جن رہتے ہیں جو مسلمان ہو گئے ہیں ، پھر اگر تم سانپوں کو دیکھو تو تین دن تک ان کو خبردار کرو ، اگر تین دن کے بعد بھی نہ نکلیں تو ان کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہیں ( یعنی کافر جن ہیں یا شریر سانپ ہیں ) ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الأُولَى وَالآخِرَةِ " . قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلاَّتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ " .
Abu Huraira reported many ahadith from Allah's Messenger (ﷺ) and one is that Allah's Messenger (ﷺ) said:I am most close to Jesus, son of Mary, among the whole of mankind in this worldly life and the next life. They said: Allah's Messenger how is it? Thereupon he said: Prophets are brothers in faith, having different mothers. Their religion is, however, one and there is no Apostle between us (between I and Jesus Christ)
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں انھوں کئی احادیث بیان کیں ، ان میں ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں دنیا اور آخرت میں سب لوگوں کی نسب حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ قریب ہوں ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کس طرح ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انبیا ء علیہ السلام علا تی بھا ئی ہیں ، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے ، اور درمیان اور کو ئی نبی نہیں ہے ۔ ( نبوت سے نبوت جڑی ہوئی ہے ۔)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ قُلْتُ فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ . قَالَ نَعَمْ وَكُنْ عَلَى حَذَرٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا .
This hadlth has been narrated on the authority of Humaid b. Hilal with the same chain of transmitters but with this addition:" As I came to Mecca, Unais said: (Well), go but be on your guard against the Meccans for they are his enemies and are annoyed with him
ہمیں نضر بن شمیل نے خبر دی ، کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے اسی سند کے ساتھ روایت کی اورابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول : ۔ ۔ ۔ میں نے کہا : اب میری طرف سے تو ( سب کام ) سنبھال تاکہ میں جاؤں اور دیکھوں ۔ کے بعد مزید یہ کہا : اس نے کہا : ہاں اور اہل مکہ سے محتاط رہنا کیونکہہ وہ ان ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے نفرت کرنے لگے ہیں اور بُری طرح پیش آتے ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَىْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " .
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), said:A woman came to me along with her two daughters. She asked me for (charity) but she found nothing with me except one date, so I gave her that. She accepted it and then divided it between her two daughters and herself ate nothing out of that. She then got up and went out, and so did her two daughters. (In the meanwhile) Allah's Apostle (ﷺ) visited me and I narrated to him her story. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: He who is involved (in the responsibility) of (bringing up) daughters, and he accords benevolent treatment towards them, there would be protection for him against Hell-Fire
معمر اور شعیب نے ابن شہاب زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے حدیث بیان کی ، انہیں عروہ بن زبیر نے بتایا کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے پاس ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ، اس نے مجھ سے ( کھانا ) مانگا تو اسے میرے پاس ایک کھجور کے سوا اور کچھ نہ ملا ۔ میں نے وہی اس کو دے دی ، اس نے وہ کھجور لے کر اپنی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دی اور خود اس میں سے کچھ نہ کھانا ، پھر وہ کھڑی ہوئی ، اور وہ اس کی دونوں بیٹیاں چلی گئیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس عورت کی بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی پر بیٹیوں کی پرورش کا بار پڑ جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے ( بچانے والا ) پردہ ہوں گی ۔