بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
1
52 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الأَحْمَرَ - عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسَةٍ عَلَى أَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَالْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ الْحَجِّ وَصِيَامِ رَمَضَانَ قَالَ لاَ ‏.‏ صِيَامِ رَمَضَانَ وَالْحَجِّ ‏.‏ هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It is narrated on the authority of ('Abdullah) son of Umar (may Allah be pleased with them) that the Prophet (may peace of Allah be upon him) said:(The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), i. e. the oneness of Allah, the establishment of prayer, payment of Zakat, the, fast of Ramadan, Pilgrimage (to Mecca). A person said (to 'Abdullah b. Umar the narrator): Which of the two precedes the other-Pilgrimage or the fasts of Rarnadan? Upon this he (the narrator) replied: No (it is not the Pilgrimage first) but the fasts of Ramadan precede the Pilgrimage
ابو خالد سلیمان بن حیان احمر نے ابومالک اشجعی سے ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے : اللہ کو یکتا قرار دینے ، نمازقائم کرنے ، زکاۃ ادا کرنے ، رمضان کے روزے رکھنے اور حج کرنے پر ۔ ‘ ‘ ایک شخص نے کہ : حج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے پر ؟ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : نہیں ! رمضان کے روزے رکھنے اور حج کرنے پر ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات اسی طرح ( اسی ترتیب سے ) سنی تھی ۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلاَةِ الْغَدَاةِ إِذْ جَاءَهُمْ رَجُلٌ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ‏.‏
Ibn 'Umar reported:As the people were engaged in the morning prayer a man came to them. The rest of the hadith is the same
حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے ، پھر یہ آیت : ’’ ہم آپ کا چہرہ آسمان کی طرف پھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، ہم ضرور آپ کا رخ اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں ، لہٰذا آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجئے ۔ ‘ ‘ بنو سلمہ کا ایک آدمی ( عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) گزرا ، ( اس وقت ) لوگ ( مسجد قباء میں ) صبح کی نماز میں رکوع کر رہے تھے اور ایک رکعت اس سے پہلے پڑھ چکے تھے ، اس نے آواز دی : سنو! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے ۔ چنانچہ وہ جس حالت میں تھے اسی میں ( رکوع ہی کے عالم میں ) قبلے کی طرف پھر گئے ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ خَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْحَجِّ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
Yahya b. Abu Ishaq reported:I heard Anas b. Malik say: We went out for Pilgrimage from Medina. The rest is the same
شعبہ نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث سنائی ، کہا : میں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم حج کے لئے مدینہ سے چلے ۔ ۔ ۔ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ ‏ "‏ فِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is a time on Friday at which no Muslim servant would pray and would ask Allah for a thing (that is good) but He would give it to him. Qutaiba pointed with the help of his hand that it (the time) is short
یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس انھوں نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعے کا ذکر کرتے ہو ئے فر ما یا : "" اس میں ایک گھڑی ہے اس ( گھڑی ) کی موافقت کرتے ہو ئے کو ئی مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہو ئے اللہ تعا لیٰ سے جو کچھ بھی مانگتا ہے اللہ تعا لیٰ اسے عطا کر دیتا ہے ۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارا فر ما کر اس گھڑی کے قلیل ہو نے کو واضح کیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي - وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَىْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ ‏.‏ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ حَرِيصَةً عَلَى اللَّهْوِ ‏.‏
A'isha reported:BY Allah, I remember the Messenger of Allah (ﷺ) standing on the door of my apartment screening me with his mantle enabling me to see the sport of the Abyssinians as they played with their daggers in the mosque of the Messenger of Allah (may peace be upom him). He (the Holy Prophet) kept standing for my sake till I was satiated and then I went back; and thus you can well imagine how long a girl tender of age who is fond of sports (could have watched it)
یونس نے ابن شہاب سے او انھوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہیں اور حبشی اپنے چھوٹے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں کھیل ( مشقین کر رہے ) رہے تھے ۔ اور آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے ہیں تاکہ میں ان کے کرتب دیکھ سکوں ، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہے حتیٰ کہ میں ہی ہوں جو واپس پلٹی ، اندازہ کرو ایک نو عمر لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین ہو ( کتنی دیر تک کھڑی رہی ہوگی ۔)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas through another chain of transmitters
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، - يَعْنِي ابْنَ عِيسَى - أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters except with this difference that he (the narrator said):" then we saw you keeping aloof (back)
امام مالک نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اس ( مذکورہ حدیث ) کے مانند روایت کی ، البتہ انھوں نے " ثم رايناك كففت کے بجائے ) ثم رايناك تكعكعت " ( پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ آگے بڑھنے سے باز رہے)
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بِقِصَّتِهِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ ‏.‏
A hadith like this is narrated with the same chain of transmitters but with the addition of these words:" The Apostle of Allah (ﷺ) happened to pass by a woman (who was sitting) by the side of a grave
خالد بن حارث ، عبدالملک بن عمرو ، اور عبدالصمد سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن عمر کے سنائے گئے واقعے کے مطابق اس کی حدیث کی طرح حدیث سنائی ۔ اورعبدالصمد کی حدیث میں ( یہ جملہ ) ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرکے پاس ( بیٹھی ہوئی ) ایک عورت کے پاس سے گزرے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ ‏.‏
Abdullah b. Umar reported that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered the (payment of) Zakat-ul-Fitr one sa' of dates, or one sa' of barley. Ibn 'Umar ('Abdullah b. 'Umar) further said:The people equalised it (then) with two mudds of fine wheat
لیث نے نا فع سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ فطر ( ادا ) کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو لو گو ں نے گندم کے دو ئد اس ( جو ) کے ایک صاع کے برابر قرار دے لیے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ، اللَّهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - رَجُلاً يَقُولُ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ النِّصْفِ فَقَالَ لَهُ مَا يُدْرِيكَ أَنَّ اللَّيْلَةَ النِّصْفُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْعَشْرِ مَرَّتَيْنِ ‏"‏ وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ فِي الثَّالِثَةِ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ كُلِّهَا وَحَبَسَ أَوْ خَنَسَ إِبْهَامَهُ ‏"‏ ‏.‏
Sa'd b. 'Ubaida reported that Ibn'Umar (Allah be pleased with both of them) heard a person saying:This night is the midnight (of the month). Upon this he said to him: How do you know that it is the midnight (of the month), for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The month is thus and thus (and he pointed with his ten fingers twice) and thus (i. e. at the third time he pointed with all his fingers but withdrew or folded his thumb)?
سعد بن عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ آج رات آدھا مہینہ ہوگیا توحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آدمی سے فرمایا کہ تجھے کس طرح معلوم ہوا کہ رات آدھا مہینہ ہوگیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مہینہ اس طرح اس طرح اور اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں سے دومرتبہ دس کا اشارہ فرمایا اور اپنی ساری انگلیوں سے اشارہ فرمایا ۔ اور ایسا تیسری دفعہ ا‎پنے انگوٹھے کو کھلنے سے روک یا موڑ لیا ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ سَمِعْتُ - ثُمَّ، انْتَهَى فَقَالَ أُرَاهُ يَعْنِي - النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Zubair reported that he heard Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) saying that as he was asked about (the places for entering upon the) state of ihram, he said:I heard (and he then carried the narration directly, I think to) the Messenger of Allah (ﷺ)
روح بن عبادہ نے کہا ہمیں ابن جریج نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے مقام تلبیہ کے بارے میں پو چھا جا رہا تھا تو انھوں نے کہا : میں نے سنا پھر رک گئے اور ( کچھ وقفے کے بعد ) کہا : ان ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ( کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے سنا)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ وَالدَّقِيقِ الأَيَّامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى نَهَى عَنْهُ عُمَرُ فِي شَأْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported:We contracted temporary marriage giving a handful of (tales or flour as a dower during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and durnig the time of Abu Bakr until 'Umar forbade it in the case of 'Amr b. Huraith
مجھے ابوزبیر نے خبر دی ، کہا : میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک مٹھی کھجور اور آٹے کے عوض چند دنوں کے لئے متعہ کرتے تھے ، حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حُریث کے واقعے ( کے دوران ) میں اس سے منع کر دیا
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ لَهُ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ ‏"‏ أَفْعَلُ مَاذَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ تَنْكِحُهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِي ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ‏"‏ ‏.‏
Umm Habiba, the daughter of AbuSufyan, reported:The Messenger of Allah (ﷺ) came to me and I said to him: Have you any inclination towards my the daughter of Abu Sufyan? He (the Holy Prophet) said: Then what should I do? I said: Marry her. He said: Do you like that? I said: I am not the exclusive (wife) of yours; I, therefore, wish to join my sister in good. He, said: She is not lawful for me. I said: I have been informed that you have given the proposal of marriage to Durrah daughter of Abu Salama He raid: You mean the daughter of Umm Salama? I said: Yes. He said: Even if she had not been my step-daughter brought up under my guardianship, she would not have been lawful for me, for she is the daughter of my foster-brother (Hamza), for Thuwaiba had suckled me and her father. So do not give me the proposal of the marriage of your daughters and sisters
ابواسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام نے خبر دی ، کہا : مجھے میرے والد ( عروہ بن زبیر ) نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے ام حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے آپ سے عرض کی : کیا آپ میری بہن ( عَزہ ) بنت ابوسفیان کے بارے میں کوئی سوچ رکھتے ہیں؟ آپ نے پوچھا : " میں کیا کروں؟ " میں نے عرض کی : آپ اس سے نکاح کر لیں ، آپ نے فرمایا : " کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟ " میں نے عرض کی : میں اکیلی ہی آپ کی بیوی نہیں ہوں اور اپنے ساتھ خیر میں شریک ہونے ( کے معاملے ) میں ( میرے لیے ) سب سے زیادہ محبوب میری بہن ہے ۔ آپ نے فرمایا : " وہ میرے لیے حلال نہیں ہے ۔ " میں نے عرض کی : مجھے خبر دی گئی ہے کہ آپ دُرہ بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکاح کا پیغام بھیج رہے ہیں ۔ آپ نے پوچھا : " ام سلمہ کی بیٹی کے لئے؟ " میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : " اگر وہ میری گود میں پروردہ ( ربیبہ ) نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی ، وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ، مجھے اور اس کے والد کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا ، اس لیے تم خواتین میرے سامنے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے بارے میں پیش کش نہ کیا کرو
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ، مَوْلَى عَزَّةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ ذَلِكَ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لِيُرَاجِعْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَرَدَّهَا وَقَالَ ‏"‏ إِذَا طَهَرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَقَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ ‏.‏
Abu Zubair reported that he heard 'Abd al-Rahman b. Aiman (the freed slave of 'Azza) say that he asked Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) and Abu Zubair heard:What is your opinion about the person who divorced his wife in the state of menses? Thereupon he said: Ibn Umar (Allah be pleased with them) divorced his wife during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) while she was in the state of menses. Upon this Allah's Messenger (ﷺ) told him to take her back and so he took her back and he (further) said: When she is pure, then either divorce her or retain her. Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) said that Allah's Apostle (ﷺ) then recited this verse:" O Apostle, when you divorce women, divorce them at the commencement of their prescribed period" (Ixv)
حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عَزہ کے مولیٰ عبدالرحمٰن بن ایمن سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے اور ابوزبیر بھی یہ بات سن رہے تھے کہ آپ کی اس آدمی کے بارے میں کیا رائے ہے جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی؟ انہوں نے جواب دیا : ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور بتایا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" وہ اس سے رجوع کرے ۔ "" چنانچہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ، اور آپ نے فرمایا : "" جب وہ پاک ہو جائے تو اسے طلاق دے یا ( اپنے ہاں بسائے ) رکھے ۔ "" حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) تلاوت فرمائی : "" اے نبی! جب آپ لوگ عورتوں کو طلاق دیں تو انہیں ان کی عدت ( شروع کرنے ) کے وقت طلاق دے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَعْدٌ بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ‏"‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that Sa'd b. 'Ubada al-Ansari said:Messenger of Allah, tell me if a man finds his wife with another person, should he kill him? Allah's Messenger (ﷺ) said: No. Sa'd said: Why not? I swear by Him Who has honored you with the Truth. There upon Allah's Messenger (ﷺ) said: Listen to what your chief says
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے سعد بن عبادہ انصاریؓ ( انصار کے رئیس ) نے کہا یا رسول اﷲ ﷺ! اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ( زنا کرتے ہوئے ) کیا اس کو مارڈالے؟ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ سعد نے کہا نہیں مار ڈالے قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ عزت دی ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ( اور صحابہ سے ) سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں ( یعنی تعجب ہے ان سے کہ ایسی بات کہتے ہیں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے سامنے طبیعت اور غصہ کو دخل نہ دینا چاہیے ) ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلاَءِ وَعَنْ هِبَتِهِ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ النَّاسُ كُلُّهُمْ عِيَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (may peace he upon him) forbade the selling and making a gift of the right of inheritance of a slave. Imam Muslim said:All the persons depend upon Abdullah b. Dinar in regard to this hadith
سلیمان بن بلال نے ہمیں عبداللہ بن دینار سے خبر دی ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ۔ ابراہیم نے کہا : میں نے مسلم بن حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا : اس حدیث میں تمام لوگ عبداللہ بن دینار ہی پر انحصار کرنے والے ہیں ۔ ( سب سندیں انہیں پر آ کر مل جاتی ہیں)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَبْلُغَ الأَسْوَاقَ ‏.‏ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ نُمَيْرٍ ‏.‏ وَقَالَ الآخَرَانِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ التَّلَقِّي ‏.‏
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not go out to meet merchandise in the way, (wait) until it is brought into the market. This hadith has been reported on the authority of Ibn Numair but with a slight change of words
ابن ابی زائدہ ، یحییٰ بن سعید اور ( عبداللہ ) ابن نمیر ، ان سب نے عبیداللہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ بازار میں پہنچنے سے پہلے سامان حاصل کیا جائے ۔ یہ ابن نمیر کے الفاظ ہیں اور دوسرے دونوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سامانِ تجارت لانے والوں کو ) راستے میں جا کر ملنے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، - وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّوسلم أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ ‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ - وَهْوَ صَاحِبُ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا ‏.‏
Jabir (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle (ﷺ) commanded to make deductions in the payment of that stricken with a Calamity
بشر بن حکم ، ابراہیم بن دینار اور عبدالجبار بن علاء سے روایت ہے ، الفاظ بشر کے ہیں ، سب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات سے پہنچنے والے نقصان کی صورت میں ( قیمت ) ساقط کر دینے کا حکم دیا ہے ۔ ابواسحاق ابراہیم نے ، وہ امام مسلم کے شاگرد ہیں ، کہا : مجھے عبدالرحمٰن بن بشر نے بھی سفیان سے یہی حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of al-Zuhri through another chain of transmitters
عقیل ، ابن شہاب ( زہری ) کے بھتیجے اور ابن ابی ذئب سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ تَصَدَّقَ عَلَىَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لاَ أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلاَدِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَرَجَعَ أَبِي فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ ‏.‏
Nu'man b. Bashir reported:My father donated to me some of his property. My mother Amra bint Rawaha said: I shall not be pleased (with this act) until you make Allah's Messenger (ﷺ) a witness to it. My father went to Allah's Apostle (ﷺ) in order to make him the witness of the donation given to me. Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Have you done the same with every son of yours? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Fear Allah, and observe equity in case of your children. My father returned and got back the gift
حصین نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے اپنے مال میں سے مجھے ہبہ کیا ( یہاں صدقہ ہبہ کے معنی میں ہے ) تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو مجھ پر کیے گئے صدقہ ( ہبہ ) پر گواہ بنائیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " کیا تم نے یہ ( سلوک ) اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سب اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کرو ۔ " چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ ( ہبہ ) واپس لے لیا
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ، بْنُ إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ وَرَوْحٌ فَفِي حَدِيثِهِمَا فَهَلْ لِي أَجْرٌ كَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ‏.‏ وَأَمَّا شُعَيْبٌ وَجَعْفَرٌ فَفِي حَدِيثِهِمَا أَفَلَهَا أَجْرٌ كَرِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hisham b. 'Urwa with the same chain of transmitters
ابواسامہ ، شعیب بن اسحاق ، روح بن قاسم اور جعفر بن عون ، سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابواسامہ اور روح کی حدیث میں ہے : کیا میرے لیے اجر ہے؟ جس طرح یحییٰ بن سعید نے کہا ۔ اور شعیب اور جعفر کی حدیث میں ہے : کیا ان کے لیے اجر ہے؟ جس طرح ابن بشیر کی روایت ہے
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who took an oath and then found another thing better than (this) should expiate for the oath (broken) by him and do (the better thing)
امام مالک نے سہیل بن ابی صالح سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر اس کے بجائے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کیا تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کر لے
وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الأَعْرَجُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْيُنَ أُولَئِكَ لأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرِّعَاءِ ‏.‏
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) pierced their eyes because they had pierced the eyes of the shepherds
سلیمان تیمی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوہے کی سلاخوں سے ) ان لوگوں کی آنکھیں پھوڑنے کا حکم دیا کیونکہ انہوں نے بھی چرواہوں کی آنکھیں پھوڑی تھیں ۔ ( یہ اقدام ، انتقام کے قانون کے مطابق تھا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كُرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ - قَالَ - فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلُقِيَ كَذَلِكَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ ‏ "‏ خُذُوا عَنِّي فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْىُ سَنَةٍ ‏"‏ ‏.‏
Ubada b. as-Samit reported that whenever Allah's Apostle (ﷺ) received revelation, he felt its rigour and the complexion of his face changed. One day revelation descended upon him, he felt the same rigour. When it was over and he felt relief, he said:Take from me. Verily Allah has ordained a way for them (the women who commit fornication),: (When) a married man (commits adultery) with a married woman, and an unmarried male with an unmarried woman, then in case of married (persons) there is (a punishment) of one hundred lashes and then stoning (to death). And in case of unmarried persons, (the punishment) is one hundred lashes and exile for one year
سعید نے قتادہ سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حِطان بن عبداللہ رقاشی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ پر اس کی وجہ سے تکلیف ( کی کیفیت ) طاری ہو جاتی تھی اور آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا تھا ، کہا : ایک دن آپ پر وحی نازل کی گئی تو آپ اسی کیفیت سے دوچار ہوئے ، جب آپ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھ سے سیکھ لو ، اللہ نے ان ( عورتوں ) کے لیے راہ نکال دی ہے ، شادی شدہ ، شادی شدہ سے ( زنا کرے ) اور کنوارا ، کنواری سے ( یا کنوارا شادی شدہ سے تو ) شادی شدہ کے لیے ( سزا ) سو کوڑے ، پھر پتھروں سے رجم کرنا ہے اور کنوارے کے لیے سو کوڑے پھر ایک سال کی جلا وطنی ہے
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ، مُحَمَّدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي عَقِبِ الْحَدِيثِ قَالَ يَزِيدُ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira with another chain of transmitters
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن ابی عمر دونوں نے عبدالعزیز بن محمد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا : " یزید نے کہا : میں نے یہ حدیث ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کو سنائی تو انہوں نے کہا : مجھے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی تھی
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ لَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِينًا وَشِمَالاً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لاَ ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لاَ زَادَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لاَ حَقَّ لأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported:While we were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, a person came upon his mount and began to stare on the right and on the left, (it was at this moment) that Allah's Messenger (ﷺ) said: He who has an extra mount should give that to one who has no mount for him, and he who has surplus of provisions should give them to him who has no provisions, and he made mention of so many kinds of wealth until we were of the opinion that none of us has any right over the surplus
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، اس اثنا میں ایک آدمی اپنی سواری پر آپ کے پاس آیا ، کہا : پھر وہ اپنی نگاہ دائیں بائیں دوڑانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس ضرورت سے زائد سواری ہو ، وہ اس کے ذریعے سے ایسے شخص کے ساتھ نیکی کرے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد از ضرورت زادِ راہ ہے وہ اس کے ذریعے سے ایسے شخص کی خیرخواہی کرے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے ۔ کہا : آپ نے مال کی بہت سی اقسام کا ذکر کیا جس طرح کیا ، حتی کہ ہم نے خیال کیا کہ زائد مال پر ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ أَلاَ وَلاَ غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Sa'id that the Messenger of Allah (ﷺ) said:On the Day of Judgment there will be a flag for every person guilty of the breach of faith. It will be raised in proportion to the extent of his guilt; and there is no guilt of treachery more serious than the one committed by the ruler of men
مستمر بن ریان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عہد شکنی کرنے والے ہر شخص کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جو اس کی بدعہدی کے بقدر بلند کیا جائے گا ، سنو! عہد شکنی میں کوئی عوام کے ( عہد شکن ) امیر سے بڑا نہیں ہو گا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الأَكْبَرِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ تَسْتَعْمِلُنِي قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْىٌ وَنَدَامَةٌ إِلاَّ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Dharr who said:I said to the Prophet (ﷺ): Messenger of Allah, will you not appoint me to a public office? He stroked my shoulder with his hand and said: Abu Dharr, thou art weak and authority is a trust. and on the Day of judgment it is a cause of humiliation and repentance except for one who fulfils its obligations and (properly) discharges the duties attendant thereon
ابن حجیرہ اکبر نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا : " ابوذر! تم کمزور ہو ، اور یہ ( امارت ) امانت ہے اور قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہو گی ، مگر وہ شخص جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس میں جو ذمہ داری اس پر عائد ہوئی تھی اسے ( اچھی طرح ) ادا کیا ۔ ( وہ شرمندگی اور رسوائی سے مستثنیٰ ہو گا)
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّالله عليه وسلم نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ‏.‏
Abu Tha'laba al-Khushani reported Allah's Messenger (ﷺ) having prohibited the eating of all fanged beasts of prey
عمرو بن حارث نے کہا کہ ابن شہاب نے انھیں اب ادریس خولانی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَذْبَحُوا إِلاَّ مُسِنَّةً إِلاَّ أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Sacrifice only a grown-up animal, unless it is difficult for you, in which case sacrifice a ram (of even less than a year, but more than six months' age)
حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : صرف مسنہ ( دودانتا ) جا نور کی قربانی کرو ہاں ! اگر تم کو دشوار ہو تو ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کر دو ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُخْلَطَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَالتَّمْرُ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah al-Ansari reported that Allah's Messenger (may peace upon him) prohibited the mixing of grapes and fresh dates, and dry dates and fresh dates
جریر بن حازم نے کہا : میں نے عطاء ابن ابی رباح سے سنا ، کہا : ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں اور کشمش اور کچی کھجوروں اورپختہ کھجوروں کو ملا کر مشروب بنانے سے منع فرمایا ۔ ( کیونکہ تھوڑی ہی دیر میں اس کا خمیر اٹھ جاتاہے اور یہ شراب میں تبدیل ہوجاتاہے ۔)
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ .‏ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ ‏"‏ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَىَّ بِهَذِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Umar reported:'Umar b. at-Khattab found a silk garment being sold in the market; he purchased it and brought it to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger, get it and adorn yourself (by wearing it) on the 'Id (days) and for the delegation. Thereupon, Allah's Messenger (ﷺ) said: That is the dress of one who has no share (in the Hereafter). 'Umar stayed there so long as Allah wished. Then Allah's Messenger (ﷺ) sent him a silk cloak. 'Umar came back with that to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger. you said that it is the dress of one who has no share in the Hereafter, but then you sent it to me. Thereupon, Allah's Messenger (ﷺ) said: You sell it and meet your need (with its proceeds)
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ استبرق ( موٹے ریشم ) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہو تا ہوا دیکھا انھوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " کہا : پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا ( لفظی ترجمہ : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی حالت میں رہے ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرما یا تھا : " یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ یاآپ نے ( اس طرح ) فرما یا تھا : " اس کووہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( اس لیے کہ ) تم اس کو فروخت کر دواوراس ( کی قیمت ) سے اپنی ضرورت پو ری کرلو ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاقَ، مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏ "‏ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:Verily the Messenger of Allah (ﷺ) said: The five (daily) prayers and from one Friday prayer to the (next) Friday prayer, and from Ramadhan to Ramadhan are expiations for the (sins) committed in between (their intervals) provided one shuns the major sins
عمر بن اسحاق کےوالد اسحاق ( بن عبد اللہ ) نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے : ’’جب ( انسان ) کبیرہ گناہوں سے اجتناب کر رہا ہو تو پانچ نمازیں ، ایک جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیان کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ ‏ "‏ أَنْتِ جَمِيلَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ مَكَانَ أَخْبَرَنِي عَنْ ‏.‏
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) changed the name of 'Asiya (Disobedient) and said:You are Jamila (i. e. good and handsome). Ahmad (one of the narrators) narrated it with a slight variation of wording
احمد بن حنبل ، زہیر بن حرب ، محمد بن مثنیٰ ، عبیداللہ بن سعید اور محمد بن بشار نے ( ان سب نے ) کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ ( نافرمانی کرنے والی ) کانام تبدیل کردیا اور فرمایا : "" تم جمیلہ ( خوبصورت ) ہو ۔ "" احمد نے "" مجھے خبر دی "" کی جگہ "" سے روایت ہے ۔ "" کہا ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Sayyar with the same chain of transmitters
اسماعیل بن سالم نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی کہا : ہمیں سیار نے اسی سند کے ساتھ خبر دی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي ‏.‏ وَلْيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Umama b. Sahl b. Hunaif, on the authority of his father, reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None of you should say:" My soul has become evil," but he should say:" My soul has become remorseless
ابو امامہ بن سہل حنیف نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے ۔ میراجی گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے ، کہ میراجی بوجھل ہو گیا ہے ۔ ( یا میری طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters
ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، عبد اللہ بن یحییٰ بن ابی کثیرکی اپنے والد سے روایت کردہ حدیث کے مطا بق روایت کی ،
وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
The above hadith was likewise narrated with another chain of transmitters
سفیان نے ابو زناد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Umar b. Sa'id with the same chain of transmitters
عیسیٰ بن یونس نے عمربن سعید سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The tie of kinship is suspended to the Throne and says: He who unites me Allah would unite him and he who severed me Allah would sever him
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رَحم ( خونی رشتوں کا سارا سلسلہ ) عرش کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے : جس نے میرے تعلق کو جوڑ کر رکھا اللہ اس کے ساتھ تعلق جوڑے گا اور جس نے میرے تعلق کو توڑ دیا اللہ تعالیٰ اس سے تعلق توڑ لے گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ‏.‏ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏
Sahl b. Sa'd reported it from Allah's Messenger (ﷺ) that a person performs deeds like the deeds of the people of Paradise apparently before people and he would be amongst the dwellers of Hell and a person acts apparently like the people of Hell, but (in fact) he would be among the dwellers of Paradise
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک شخص ، جس طرح وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے ، اہل جنت کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، لیکن ( آخر کار ) وہ اہل جہنم میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی ، جس طرح سے وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے لیکن ( انجام کار ) وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira with a slight variation of wording
معمر نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " زمانہ باہم قریب ہو جائے گا اور علم اٹھا لیا جائے گا ۔ " پھر ان دونوں ( یونس اور شعیب ) کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Qatida with the same chain of transmitters
محمد بن بکر نے کہا : ہمیں سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَرْسَلْنَا الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَذْىِ يَخْرُجُ مِنَ الإِنْسَانِ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported it from 'Ali:We sent al-Miqdad b. al-Aswad to the Messenger of Allah (ﷺ) to ask him what must be done about prostatic fluid which flows from (the private part of) a person. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Perform ablution and wash your sexual organ
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، کہا : حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : ہم نے مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا ، انہوں نے آپ سے مذی کے بارے میں پوچھا جو انسان ( کے عضو مخصوص ) سے خارج ہوتی ہے کہ وہ اس کا کیا کرے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’وضو کرو اور شرم گاہ کو دھو لو ۔ ‘ ‘ ( ترتیب میں پہلے دھونا ، پھر وضو کرنا ہے جس طرح حدیث : 695میں ہے ۔)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ عَلَى نَفْسِهِ فَهُوَ مَوْضُوعٌ عِنْدَهُ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When Allah created the creation, He ordained for Himself and this document is with Him: Verily, My mercy predominates Mv wrath
عطاء بن مینا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کے بارے میں فیصلہ فرما لیا تو اس نے اپنی کتاب میں اپنے اوپر لازم کرتے ہوئے لکھ دیا ، وہ اس کے پاس رکھی ہوئی ہے : یقینا میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی ۔
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ، مُوسَى الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنَا إِيَاسٌ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، عُدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مَوْعُوكًا - قَالَ - فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلاً أَشَدَّ حَرًّا ‏.‏ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَشَدَّ حَرًّا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَذَيْنِكَ الرَّجُلَيْنِ الرَّاكِبَيْنِ الْمُقَفِّيَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ لِرَجُلَيْنِ حِينَئِذٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ‏.‏
Iyas reported on the authority of his father:We went along with Allah's Messenger (ﷺ) to visit a person suffering from fever. When I placed my hand upon him, I said: By Allah, I have never seen, till this day, a person running higher temperature than he. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ), turning his face to his companions, said: May I not inform you of a severer temperature than this which these two persons would run on the Day of Resurrection? And they were two hypocrites riding upon the camel turning their back towards (the Muslims)
ایاس ( بن سلمہ بن اکوع ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص کی ، جسے بخار چڑھا ہوا تھا ، عیادت کی ، کہا : میں نے اس ( کےجسم ) پر اپنا ہاتھ رکھا تو میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں نے آج کی طرح کسی شخص کو نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ تپ رہا ہو ، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ تپتے ہوؤں کے بارے میں نہ بتاؤں؟یہ دونوں شخص جو ( اونٹوں پر ) سوار ہیں ، اپنے منہ دوسری طرف کیے ہوئے ہیں ۔ " ( آپ نے یہ بات ) دو آدمیوں کے بارے میں ( فرمائی ) جو اس وقت ( ظاہر طور ) آپ کے ساتھیوں میں ( شمار ہوتے ) تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ عَمَلاً فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Khabbib through another chain of transmitters and the words are. I in the pre-Islamic days used to work as an iron-smith. I did some work for 'As b. Wa'il and came to him for getting the remuneration of my wages
ابو معاویہ عبد اللہ بن نمیر جریر اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ وکیع کی حدیث کی طرح بیان کیا اور جریر کی حدیث میں ہے ۔ ( حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا تو میں نے عاص بن وائل کے لیے کام کیا پھر میں اس سے ( اجرت کا ) تقاضا کرنے کے لیے آیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنَازِلُ لاَ يَتَغَوَّطُونَ وَلاَ يَبُولُونَ وَلاَ يَمْتَخِطُونَ وَلاَ يَبْزُقُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ أَخْلاَقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى طُولِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The first group of my Ummah to get into Paradise would be like a full moon in the night. Then those who would be next to them; they would be like the most significantly glittering stars in regard to brightness, then after them (others) in ranks. They would neither void excrement, nor pass water, nor suffer from catarrh, nor would they spit. And their combs would be made of gold, and the fuel of their braziers would be aloes and their sweat would be musk and their form would be the form of one single person according to the length of their father sixty cubits tall. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Shaiba with a slight variation of wording
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے اورانھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میری امت میں سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہوگا ، جو ان کے بعد ہوں گے وہ آسمان میں انتہائی چمکدار ستارے کی طرح ہوں گے ، پھر وہ تدریجاً اپنے اپنے مرتبے کے مطابق ہوں گے ، وہ پاخانہ کریں گے نہ پیشاب ، ناک سنکیں گے نہ تھوکیں گے ، ان کی کنگھیاں سونے کی ، انگیٹھیاں معطر عود کی اور پسینہ کستوری کا ہوگا ۔ ان سب کے اخلاق ایک ہی انسان کے ( خوبصورت ) اخلاق پر ( گئے ) ہوں گے ، اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کی قامت پر ساٹھ ہاتھ ( لمبے ) ہوں گے ۔ "" ابن ابی شیبہ نے کہا : ایک ہی آدمی کے اخلاق پر ، اور ابو کریب نے کہا : ایک ہی آدمی کی خلقت ( شکل وصورت قدوقامت ) پر ہوں گے ۔ اور ابن ابی شیبہ نے کہا : اپنے والد ( حضرت آدم علیہ السلام ) کی شکل پر ہوں گے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَالْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ‏"‏ ‏.‏
Ahnaf b. Qais reported on the authority of Abu Bakra that Allah's Messenger (ﷺ) said:When two Muslims confront each other with their swords, both the slayer and the slain are doomed to Hell-Fire
احمد بن عبدہ نصحی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں حماد نے ایوب یونس اور معلی بن زیادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حسن سے انھو ں نے حسن سے انھوں نے احنف بن قیس سے اور انھوں نےحضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب وہ مسلمان اپنی اپنی تلواروں سے باہم ٹکرائیں تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں ہو ں گے ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلاَّ صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الإِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لاَ زَوَالَ لَهَا فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا لاَ يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَوَاللَّهِ لَتُمْلأَنَّ أَفَعَجِبْتُمْ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزِّحَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَنَا طَعَامٌ إِلاَّ وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا فَالْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَاتَّزَرْتُ بِنِصْفِهَا وَاتَّزَرَ سَعْدٌ بِنِصْفِهَا فَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ أَصْبَحَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ مِنَ الأَمْصَارِ وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلاَّ تَنَاسَخَتْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَاقِبَتِهَا مُلْكًا فَسَتَخْبُرُونَ وَتُجَرِّبُونَ الأُمَرَاءَ بَعْدَنَا ‏.‏
Umair al-'Adawi reported:'Utba b. Ghazwan delivered us a sermon and he praised Allah and lauded Him, then said: Now coming to the point, verily the world has been given the news of its end and that too quite early. Nothing would be left out of it but only water left in the utensil which its owner leaves, and you are going to shift to an abode which knows no end, and you should shift with the good before you, for we have been told that a stone would be thrown at one side of the Hell and it would go down even for seventy years but would not be able to reach its bottom. By Allah, it would be fully packed. Do you find it something strange, and it has been mentioned that there yawns a distance which one would be able to cover in forty years from one end to another of Paradise, and a day would come when it would be fully packed and you must be knowing that I was the seventh amongst seven who had been with Allah's Messenger (ﷺ) and we had nothing to eat but the leaves of the tree until the corners of the mouth were injured. We found a sheet which we tore in two and divided between myself and Sa'd b. Malik. I made the lower garment with halt of it and so did Sa'd make the lower garment with half of it and today there is none amongst us who has not become the governor of a city from amongst the cities (of the Islamic Commonwealth) and I seek refuge with Allah that I should consider myself great whereas I am insignificant in the eye of Allah. Prophethood does not remain for ever and its impact fades with the result that it changes eventually into kingship, and you would soon come to know and experience those rulers who would come after us and see (how far they are from religion)
شیبان بن فروخ نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن بلال نے خالد بن عمیر عدوی سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ایک دن ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے بصرہ کےعامل ) حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی پھر کہا : حمدو ثنا کے بعد بے شک یہ دنیا خاتمے کے قریب ہو گئی ہے اور اس ( کی مہلت ) میں سے تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے جس طرح برتن کے آخری قطرےہوتے ہیں جنھیں برتن والا انڈیل رہا ہوتا ہے اور تم اس دنیا سے اس گھر کی طرف منتقل ہو رہے ہو جس پر زوال نہیں آئے گا ۔ جو تمھارے پاس ہے اس میں سے بہتر ین متاع کے ساتھ آگے جاؤ ۔ کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جاتا ہے تو وہ وہ سترسال گرتا رہتا ہے ۔ اس کی تہ تک نہیں پہنچتا ۔ اور اللہ کی قسم!یہ ( جہنم ) پوری طرح بھر جائے گی ۔ کیا تمھیں اس پر تعجب ہے؟اور ہمیں بتا یا گیا کہ جنت کے کواٹروں میں سے دو کواٹروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے اور اس پر ایک دن آئے گا جب وہ ازدحام کے سبب تنگ پڑجائے گا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ایمان لانے والے ) سات لوگوں میں سے ساتواں میں تھا ہمارے پاس درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کی کو ئی چیز نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں ۔ میں نے ایک چادر اٹھائی تو اسے اپنے اور سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان دوحصوں میں تقسیم کرلیا آدھی میں نے کمر پر باندھی اور آدھی سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اب ہم میں سے ہر کوئی شہروں میں سے کسی شہر کا امیر بن گیا ہے ۔ میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے دل میں بڑا اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہو جاؤں اور کبھی کوئی نبوت نہیں تھی ۔ مگر ختم ہو گئی ۔ یہاں تک کہ اس کا پچھلا حصہ بادشاہت میں بدل گیا ۔ جلد ہی تمھیں ( اس کا ) پتہ چل جائے گا اور ہمارےبعد کے امیروں کا ( بھی تم لوگ خود ) تجربہ کر لو گے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ‏}‏ فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آخِرَ مَا أُنْزِلَ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَىْءٌ ‏.‏
Sa'id b. Jubair reported:The inhabitants of Kufa differed in regard to this verse:" But whoever slays another believer intentionally, his requital shall be Hell" (iv. 92), so I went to Ibn 'Abbas and asked him about it, whereupon he said: This has been revealed and nothing abrogated it
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے مغیرہ بن نعمان سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : کہ اہل کوفہ کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا " جس شخص نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے؟چنانچہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور ان سےاس ( آیت ) کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا : یہ آیت آخر میں نازل ہوئی پھر کسی چیز ( قرآن کی کسی دوسر ی آیت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ) نے اس کو منسوخ نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ أَحَالَ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ فَإِذَا سَمِعَ الإِقَامَةَ ذَهَبَ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:When Satan hears the call to prayer, he turns back and breaks the wind so as not to hear the call being made, but when the call is finished he turns round and distracts (the minds of those who pray), and when he hears the Iqama, he again runs away so as not to hear its voice and when it subsides, he comes back and distracts (the minds of those who stand for prayer)
۔ اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : شیطان جب نماز کے لیے پکار ( کی آواز ) سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ مؤذن کی آواز نہ سن سکے ، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آ تا ہے اور ( نمازیوں کے دلوں میں ) وسوسہ پیدا ےکرتا ہے ، پھر جب اقامت سنتا ہے تو چلا جاتا ہے تاکہ اس کی آواز نہ سنے ، پھر جب وہ خاموش ہو جاتا ہے تو واپس آتا ہے اور ( لوگوں کے دلوں میں ) وسوسہ ڈالتا ہے ۔ ‘ ‘