حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِـ { ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَكَانَ صَلاَتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا .
Jabir b. Samura reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to recite in the morning prayer" Qaf. By the Glorious Quran." and his prayer afterward shortened
زائدہ نے کہا : ہمیں سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺ فجر کی نماز میں ﴿ق والقرآن المجيد﴾ پڑھا کرتے تھے ، اس کے باوجود آپ کی نماز ہلکی تھی
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
This hadith has been narrated by Abu Huraira by another chain of transmitters
اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے ، انھوں نے ابو عبید سے ، انھوں نے عطاء سے اور انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ، آگے ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَجُلاً نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُوتِرُ صَلاَةَ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى فَلْيُصَلِّ مَثْنَى مَثْنَى فَإِنْ أَحَسَّ أَنْ يُصْبِحَ سَجَدَ سَجْدَةً فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى " . قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . وَلَمْ يَقُلِ ابْنِ عُمَرَ .
Ibn 'Umar reported:A person called (the attention) of the Messenger of Allah (ﷺ) as he was in the mosque, and said: Messenger of Allah, how should I make the rak'ahs of the night prayer an odd number? Upon this the Messenger of Allah (may peace he upon him) said: He who prays (night prayer) he should observe it in pairs, but if he apprehends the rise of morning, he should observe one rak'ah; that would make the number odd (for the rak'ahs) observed by him. This was narrated by Abu Kuraib 'Ubaidullah b. 'Abdullah and Ibn 'Umar did not make mention of it
ابو کریب اور ہارون بن عبداللہ نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے ولید بن کثیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ ایک آدمی نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے آپ کو آواز دی اور کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں رات کی نماز کو وتر ( طاق ) کیسے بناؤں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو ( رات ) کی نماز پڑھے وہ دو دو رکعت پڑھے ، پھر وہ اگر محسوس کرے کہ صبح ہورہی ہےتو ایک رکعت پڑھ لے ، یہ ( ایک رکعت ) اس کی ساری نماز کو وتر ( طاق ) بنا دے گی ۔ "" ابو کریب نے عبیداللہ بن عبداللہ کہا ، ( آگے ) ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا - قَالَ - فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَزَيْدِ الْخَيْلِ وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ بْنُ عُلاَثَةَ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلاَءِ - قَالَ - فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " أَلاَ تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً " . قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الإِزَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ . فَقَالَ " وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ " . قَالَ ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ " لاَ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي " . قَالَ خَالِدٌ وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلاَ أَشُقَّ بُطُونَهُمْ " . قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ " إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ - قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ - لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ " .
Abu Said al-Khudri reported:'Ali b. Abu Talib sent to the Messenger of Allah (ﷺ) from Yemen some gold alloyed with clay in a leather bag dyed in the leaves of Mimosa flava. He distributed it among four men. 'Uyaina b. Hisna, Aqra' b. Habis and Zaid al-Khail, and the fourth one was either Alqama b. 'Ulatha or 'Amir b. Tufail. A person from among his (Prophet's) Companions said: We had a better claim to this (wealth) than these (persons). This (remark) reached the Messenger of Allah (ﷺ) upon which he said: Will you not trust me, whereas I am a trustee of Him Who is in the heaven? The news come to me from the heaven morning and evening. Then there stood up a person with deep sunken eyes, prominent cheek bones, and elevated forehead, thick beard, shaven head, tucked up loincloth, and he said: Messenger of Allah, fear Allah. He (the Holy Prophet) said: Woe to thee. Do I not deserve most to fear Allah amongst the people of the earth? That man then returned. Khalid b. Walid then said: Messenger of Allah, should I not strike his neck? Upon this he (the Holy Prophet) said: Perhaps he may be observing the prayer. Khalid said: How many observers of prayer are there who profess with their tongue what is not in their heart? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: I have not been commanded to pierce through the hearts of people, nor to split their bellies (insides). He again looked at him and he was going back. Upon this he (the Holy Prophet) said: There would arise a people from the progeny of this (man) who would recite the Qur'an glibly, but it would not go beyond their throats; they would (hurriedly) pass through (the teachings of their) religion just as the arrow passes through the prey. I conceive that he (the Holy Prophet) also said this: If I find them I would certainly kill them as were killed the (people of) Thamud
عبدالواحد نے عمارہ بن قعقاع سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمان بن نعیم نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت علی بن ابی طالب نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رنگے ہوئے ( دباغت شدہ ) چمڑے میں ( خام ) سونے کا ایک ٹکڑا بھیجاجسے مٹی سے الگ نہیں کیاگیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد : عینیہ بن حصن ، اقرع بن حابس ، زید الخیل اور چوتھے فرد علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کردیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی نے کہا : ہم اس ( عطیے ) کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار تھے ۔ کہا : یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟حالانکہ میں اس کا امین ہوں جو آسمان میں ہے ، میرے پاس صبح وشام آسمان کی خبر آتی ہے ۔ " ( ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : گھنی داڑھی ، ابھرے ہوئے رخساروں ، دھنسی ہوئی آنکھوں ، نکلی ہوئی پیشانی ، منڈھے ہوئے سر والا اور پنڈلی تک اٹھے تہبند والا ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے کہا : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے ڈریئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تجھ پر افسوس ، کیا میں تمام اہل زمین سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے کا حقدار نہیں ہوں! " پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔ توخالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہو ۔ " خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے ( وہ بات ) کہتے ہیں ( کلمہ پڑھتے ہیں ) جو ان کے دلوں میں نہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کروں اور نہ یہ کہ ان کے پیٹ چاک کروں ۔ " پھر جب وہ پشت پھیر کر جارہاتھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا : " یہ حقیقت ہے کہ اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ کی کتاب کو بڑی تراوٹ سے پڑھیں گے ( لیکن ) لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ بنائے جانے والے شکار سے نکلتا ہے ۔ " ( ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میر اخیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں نے ان کو پالیا تو انھیں اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلاَّ أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:None among you should observe fast on Friday, but only that he observes fast before it and after it
ابو بکر بن ابی شیبہ ، حفص ، ابو معاویہ ، اعمش ، یحییٰ بن یحییٰ ، ابو معاویہ ، اعمش ، ابی صالح ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو میں سے کوئی آدمی جمعہ کے دن روزہ رکھے سوائے اس کے کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد روزہ رکھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who took up arms against us is not of us and he who acted dishonestly towards us is not of us
سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا ، وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَقُلْ وَأَمَرَنَا بِهَا .
A hadith like this is transmitted on the authority of Imran b. Husain, but with this variation that he ('Imran) said:We did that (Tamattu') in the company of Allah's Messenger (ﷺ) and he did not say anything but he (the Holy Prophet) commanded us to do it
یحییٰ بن سعید نے ہمیں عمرا ن قصیر سے حدیث سنا ئی ( انھوں نے کہا : ) ہمیں ابو رجاء نے عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند ( مذکورہ بالاروایت ) کے مانند حدیث بیان کی ۔ البتہ اس میں یہ کہا کہ ہم نے یہ ( حج میں تمتع ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ( یحییٰ بن سعید نے ) یہ نہیں کہا : آپ نے ہمیں اس کا حکم دیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
The same tradition has been narrated on the authority of Abu Zinad (with the same chain of transmitters)
وکیع نے سفیان سے ، انہوں نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، مِنْ رُقْعَةٍ عَارَضَ لِي بِهَا ثُمَّ قَرَأَهُ عَلَىَّ قَالَ أَخْبَرَنَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمَصًا فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي فَقُلْتُ لَهَا هَلْ عِنْدَكِ شَىْءٌ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمَصًا شَدِيدًا . فَأَخْرَجَتْ لِي جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ وَلَنَا بُهَيْمَةٌ دَاجِنٌ - قَالَ - فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتْ فَفَرَغَتْ إِلَى فَرَاغِي فَقَطَّعْتُهَا فِي بُرْمَتِهَا ثُمَّ وَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لاَ تَفْضَحْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ مَعَهُ - قَالَ - فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنَتْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا فَتَعَالَ أَنْتَ فِي نَفَرٍ مَعَكَ . فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ لَكُمْ سُورًا فَحَيَّهَلاَ بِكُمْ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلاَ تَخْبِزُنَّ عَجِينَتَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ " . فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْدُمُ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي فَقَالَتْ بِكَ وَبِكَ . فَقُلْتُ قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ لِي . فَأَخْرَجْتُ لَهُ عَجِينَتَنَا فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَى بُرْمَتِنَا فَبَصَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ قَالَ " ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلاَ تُنْزِلُوهَا " . وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَتَنَا - أَوْ كَمَا قَالَ الضَّحَّاكُ - لَتُخْبَزُ كَمَا هُوَ .
Jabir b. 'Abdullah reported:When the ditch was dug, I saw Allah's Messenger (may peace he upon him) feeling very hungry. I came to my wife and said to her: Is there anything with you? I have seen Allah's Messenger (ﷺ) feeling extremely hungry. She brought out a bag of provisions which contained a sa', of barley. We had also with us a lamb. I slaughtered it. She ground the flour. She finished (this work) along with me. I cut it into pieces and put it in the earthen pot and then returned to Allah's Apostle (ﷺ) (for inviting him). She said: Do not humiliate me in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) and those who are with him. When I came to him I whispered to him saying: Allah's Messenger, we have slaughtered a lamb for you and she has ground a sa' of barley which we had with us. So you come along with a group of people with you. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said loudly: O people of the ditch, Jabir has arranged a feast for you, so (come along). Allah's Messenger (ﷺ) said: Do not remove your earthen pot from the hearth and do not bake the bread from the kneaded flour until I come. So I came and Allah's Messenger (ﷺ) came and he was ahead of the people; and I came to my wife and she said (to me): You will be humbled. I said: I did what you had asked me to do. She (his wife) said: I brought out the kneaded flour and Allah's Messenger (ﷺ) put some saliva of his in that and blessed It. He then put saliva in the earthen pot and blessed it and then said. Call another baker who can bake with you. and bring out the soup from it, but do not remove it from the hearth, and the guests were one thousand. (Jabir said): I take an oath by Allah that all of them ate (the food to their fill) until they left it and went away and our earthen pot was brimming over as before, and so was the case with our flour, or as Dahhak (another narrator) said: It (the flour) was in the same condition and loaves had been prepared from that
حجاج بن شاعر نے کہا : ضحاک بن مخلد نے مجھے ایک رقعے سے حدیث بیان کی ، اسے میرے سامنے رکھا پھر اسے پڑھا ، کہا : مجھے حنظلہ بن عثمان نے اس کے بارے میں بتایا ، کہا : ہمیں سعید بن میناء نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : کہ جب ( مدینہ کے گرد ) خندق کھودی گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پایا ۔ میں اپنی بیوی کے پاس لوٹا اور کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بھوکا پایا ہے ۔ اس نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کا پلا ہوا بچہ تھا ، میں نے اس کو ذبح کیا اور میری عورت نے آٹا پیسا ۔ وہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہوئی میں نے اس کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پلٹنے لگا تو عورت بولی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے سامنے رسوا نہ کرنا ( کیونکہ کھانا تھوڑا ہے کہیں بہت سے آدمیوں کی دعوت نہ کر دینا ) ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا جو ہمارے پاس تھا ، تیار کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر تشریف لائیے ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اور فرمایا کہ اے خندق والو! جابر نے تمہاری دعوت کی ہے تو چلو ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی ہانڈی کو مت اتارنا اور آٹے کی روٹی مت پکانا ، جب تک میں نہ آ جاؤں ۔ پھر میں گھر میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے آگے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ۔ میں اپنی عورت کے پاس آیا ، وہ بولی کہ تو ہی پریشان ہو گا اور لوگ تجھے ہی برا کہیں گے ۔ میں نے کہا کہ میں نے تو وہی کیا جو تو نے کہا تھا ( لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا اور سب کو دعوت سنا دی ) میں نے وہ آٹا نکالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لب مبارک اس میں ڈالا اور برکت کی دعا کی ، پھر ہماری ہانڈی کی طرف چلے اور اس میں بھی تھوکا اور برکت کی دعا کی ۔ اس کے بعد ( میری عورت سے ) فرمایا کہ ایک روٹی پکانے والی اور بلا لے جو تیرے ساتھ مل کر پکائے اور ہانڈی میں سے ڈوئی نکال کر نکالتی جا ، اس کو اتارنا مت ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے ، پس میں قسم کھاتا ہوں کہ سب نے کھایا ، یہاں تک کہ چھوڑ دیا اور لوٹ گئے اور ہانڈی کا وہی حال تھا ، ابل رہی تھی اور آٹا بھی ویسا ہی تھا ، اس کی روٹیاں بن رہی تھیں ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سَوْءٍ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الزُّورِ . قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ قَالَ مُعَاوِيَةُ أَلاَ وَهَذَا الزُّورُ . قَالَ قَتَادَةُ يَعْنِي مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ .
Sa, id b. Musayyib reported that Mu'awiya said one day:Should I narrate to you the evil make-up. Allah's Apostle (ﷺ) forbade cheating. It was during that time that a person came with a staff and there was a cloth on its head, whereupon Mu, awiya said: Behold, that is cheating. Qatada said: This implies how women artificially increase their hair with the help of rags
قتادہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں نے ایک بری ہیت نکال لی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے ، پھر ایک شخص عصا لیے ہوئے آیا جس کے سرے پر کپڑے کی ایک دھجی ( لیر ) تھی ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : سنو! یہ جھوٹ ہے ۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ دھجیاں ( لیریں ) ہیں جن کے ذریعے سے عورتیں اپنے بالوں کو زیادہ کرتی ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ .
Abdullah reported:While we were with the Messenger of Allah (ﷺ) in the cave, the rest of the hadith is the same as the one narrated above
عمر بن حفص بن غیاث نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابرا ہیم نے اسود سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غار میں تھےجس طرح جریر اور ابو معاویہ کی حدیث ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى الأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلاَّتٍ وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I am most akin to Jesus Christ among the whole of mankind, and all the Prophets are of different mothers but belong to one religion and no Prophet was raised between me and Jesus
اعرج نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تمام لوگوں کی نسبت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام علیہ السلام کے زیادہ قریب ہوں ۔ تمام انبیا ء علیہ السلام علا تی بھا ئی ہیں اور میرے اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان اور کو ئی نبی نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَنَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَالَفَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَاءَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْنَا الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ لَهُ أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلاَ جِمَاعَ لَكَ فِيمَا بَعْدُ . فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ فَجَعَلَ يَبْكِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْكَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا أُنَيْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا - قَالَ - وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثِ سِنِينَ . قُلْتُ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ . قُلْتُ فَأَيْنَ تَوَجَّهُ قَالَ أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي أُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ . فَقَالَ أُنَيْسٌ إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي . فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَرَاثَ عَلَىَّ ثُمَّ جَاءَ فَقُلْتُ مَا صَنَعْتَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلاً بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ . قُلْتُ فَمَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ يَقُولُونَ شَاعِرٌ كَاهِنٌ سَاحِرٌ . وَكَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَاءِ . قَالَ أُنَيْسٌ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ فَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ . قَالَ قُلْتُ فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ . قَالَ فَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلاً مِنْهُمْ فَقُلْتُ أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ فَأَشَارَ إِلَىَّ فَقَالَ الصَّابِئَ . فَمَالَ عَلَىَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلِّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَىَّ - قَالَ - فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ - قَالَ - فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا وَلَقَدْ لَبِثْتُ يَا ابْنَ أَخِي ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلاَّ مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ - قَالَ - فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَةَ - قَالَ - فَأَتَتَا عَلَىَّ فِي طَوَافِهِمَا فَقُلْتُ أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الأُخْرَى - قَالَ - فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا - قَالَ - فَأَتَتَا عَلَىَّ فَقُلْتُ هَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لاَ أَكْنِي . فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلاَنِ وَتَقُولاَنِ لَوْ كَانَ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا . قَالَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ قَالَ " مَا لَكُمَا " . قَالَتَا الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَ " مَا قَالَ لَكُمَا " . قَالَتَا إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلأُ الْفَمَ . وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ أَبُو ذَرٍّ . فَكُنْتُ أَنَا أَوَّلُ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ - قَالَ - فَقُلْتُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ " وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " . ثُمَّ قَالَ " مَنْ أَنْتَ " . قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ - قَالَ - فَأَهْوَى بِيَدِهِ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِ انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ . فَذَهَبْتُ آخُذُ بِيَدِهِ فَقَدَعَنِي صَاحِبُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ " مَتَى كُنْتَ هَا هُنَا " . قَالَ قُلْتُ قَدْ كُنْتُ هَا هُنَا مُنْذُ ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ " فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ " . قَالَ قُلْتُ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلاَّ مَاءُ زَمْزَمَ . فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا أَجِدُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ " إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ . فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَفَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ لاَ أُرَاهَا إِلاَّ يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ " . فَأَتَيْتُ أُنَيْسًا فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ . قَالَ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ . فَأَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ . فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ . وَقَالَ نِصْفُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا . فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمُ الْبَاقِي وَجَاءَتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَتُنَا نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ . فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .
Abdullah b. Samit reported that Abu Dharr said:We set out from our tribe Ghafir who look upon the prohibited months as permissible months. I and my brother Unais and our mother stayed with our maternal uncle who treated us well. The men of his tribe fell jealous and they said: When you are anay from your house, Unais commits adultery with your wife. Our -naternal uncle came and he accused us of the sin which was conveyed to him. I said: You have undone the good you did to us. We cannot stay with you after this. We came to our camels and loaded (our) luggage. Our maternal uncle began to weep covering himself with (a piece of) cloth. We proceeded on until we encamped by the side of Mecca. Unais cast lot on the camels (we had) and an equal number (above that). They both went to a Kahin and he made Unais win and Unais came with our camels and an equal number along with them. He (Abu Dharr) said: My nephew, I used to observe prayer three years before my meeting with Allah's Messenger (ﷺ). I said: For whom did you say prayer? He said: For Allah. I said: To which direction did you turn your face (for observing prayer)? He said: I used to turn my face as Allah has directed me to turn my face. I used to observe the night prayer at the time of the end of night and I fell down in prostration like the mantle until the sun rose over me. Unais said: I have a work in Mecca, so you better stay here. Unais went until he came to Mecca and he came to me late. I said: What did you do? He said: I met a person in Mecca who is on your religion and he claims that verily it is Allah Who has sent him. I said: What do the people say about him? He said: They say that he is a poet or a Kahin or a magician. Unais who was himself one of the poets said. I have heard the words of a Kahin but his words in no way resemble his (words). And 1 also compared his words to the verses of poets but such words cannot be uttered by any poet. By Allah, he is truthful and they are liars. Then I said: you stay here, until I go, so that I should see him. He said: I came to Mecca and I selected an insignificant person from amongst them and said to him: Where is he whom you call as-Sabi? He pointed out towards me saying: He is Sabi. Thereupon the people of the valley attacked me with sods and bows until I fell down unconscious. I stood up after havin. regained my consciousness and I found as if I was a red idol. I came to Zamzarn and washed blood from me and drank water from it and listen, O son of my brother, I stayed there for thirty nights or days and there was no food for me but the water of Zamzarn. And I became so bulky that there appeared wrinkles upon my stomach, and I did not feel any hunger in my stomach. It was during this time that the people of Mecca slept in the moonlit night and none was there to eircumambulate the House but only two women who had been invoking the name of Isafa, and Na'ila (the two idols). They came to me while in their circuit and I said: Marry one with the other, but they did not dissuade from their invoking. They came to me and I said to them: Insert wood (in the idols' private parts). (I said this to them in such plain words) as I could not express in metaphorical terms. These women went away crying and saying: Had there been one amongst our people (he would have taught a lesson to you for the obscene words used for our idols before us). These women met Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr who had also been coming down the hill. He asked them: What has happened to you? They said: There is Sabi, who has hidden himself between the Ka'ba and its curtain. He said: What did he say to you? They said: He uttered such words before us as we cannot express. Allah's Messenger (ﷺ) came and he kissed the Black Stone and circumambulated the House along with his Companion and then observed prayer, and when he had finished his prayer, Abu Dharr said: I was the first to greet him with the salutation of peace and uttered (these words) in this way; Allah's Messen- ger, may there be peace upon you, whereupon he said: It may be upon you too and the mercy of Allah. He then said: Who are you? I said: From the tribe of Ghifar. He leaned his hand and placed his finger on his forehead and I said to myself: Perhaps he has not liked it that I belong to the tribe of Ghifar. I attempted to catch hold of his hand but his friend who knew about him more than I dissuaded me f rom doing so. He then lifted his head and said: Since how long have you been here? I said: I have been here for the last thirty nights or days. He said: Who has been feeding you? I said: There has been no food for me but the water of Zamzam. I have grown so bulky that there appear wrinkles upon my stomach and I do not feel any hunger. He said: It is blessed (water) and it also serves as food. Thereupon Abu Bakr said: Allah's Messenger, let me serve as a host to him for tonight, and then Allah's Messenger (ﷺ) proceeded forth and so did Abu Bakr and I went along with them. Abu Bakr opened the door and then he brought for us the raisins of Ta'if and that was the first food which I ate there. Then I stayed as long as I had to stay. I then came to Allah's Messenaer (ﷺ) and he said: I have been shown the land abound- ing in trees and I think it cannot be but that of Yathrib (that is the old name of Medina). You are a preacher to your people on my behalf. I hope Allah would benefit them through you and He would reward you. I came to Unais and he said: What have you done? I said: I have done that I have embraced Islam and I have testified (to the prophethood of Allah's Messenger). He said: I have no aversion for your religion and I also embrace Islam and testify (to the prophethood of Muhammad). Then both of us came to our mother and she said: I have no aversion for your religion and I also embrace Islam and testify to the prophethood of Muhammad. We then loaded our camels and came to our tribe Ghifir and half of the tribe embraced Islam and their chief was Aimi' b. Rahada Ghifirl and he was their leader and hall of the tribe said: We will embrace Islam when Allah's Messenger (may p,. ace be upon him) would come to Medina, and when Allah's Messenger (ﷺ) came to Medina the remaining half also embraced Islam. Then a tribe Aslam came to the Prophet (ﷺ) and said: Allah's Messenger, we also embrace Islam like our brothers who have embraced Islam. And they also embraced Islam. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Allah granted pardon to the tribe of Ghifar and Allah saved (from destruction) the tribe of Aslam
ہداب بن خالد ازدی نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حمید بن ہلال نے عبداللہ بن صامت سے خبر دی ، انھوں نے کہا ، کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ، میرا بھائی انیس اور ہماری ماں تینوں اپنی قوم غفار میں سے نکلے جو حرام مہینے کو بھی حلال سمجھتے تھے ۔ پس ہم اپنے ایک ماموں کے پاس اترے ۔ اس نے ہماری خاطر کی اور ہمارے ساتھ نیکی کی تو اس کی قوم نے ہم سے حسد کیا اور ( ہمارے ماموں سے ) کہنے لگے کہ جب تو اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے تو انیس تیری بی بی کے ساتھ زنا کرتا ہے ۔ وہ ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ بات ( حماقت سے ) مشہور کر دی ۔ میں نے کہا کہ تو نے ہمارے ساتھ جو احسان کیا تھا وہ بھی خراب ہو گیا ہے ، اب ہم تیرے ساتھ نہیں رہ سکتے ۔ آخر ہم اپنے اونٹوں کے پاس گئے اور اپنا اسباب لادا اور ہمارے ماموں نے اپنا کپڑا اوڑھ کر رونا شروع کر دیا ۔ ہم چلے ، یہاں تک کہ مکہ کے سامنے اترے ۔ انیس نے ہمارے اونٹوں کے ساتھ اتنے ہی اور کی شرط لگائی ۔ پھر دونوں کاہن کے پاس گئے تو کاہن نے انیس کو کہا کہ یہ بہتر ہے ۔ پس انیس ہمارے پاس سارے اونٹ اور اتنے ہی اور اونٹ لایا ۔ ابوذر نے کہا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سے پہلے تین برس پہلے نماز پڑھی ہے ۔ میں نے کہا کہ کس کے لئے پڑھتے تھے؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ۔ میں نے کہا کہ کدھر منہ کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ادھر منہ کرتا تھا جدھر اللہ تعالیٰ میرا منہ کر دیتا تھا ۔ میں رات کے آخر حصہ میں عشاء کی نماز پڑھتا اور سورج طلوع ہونے تک کمبل کی طرح پڑ رہتا تھا ۔ انیس نے کہا کہ مجھے مکہ میں کام ہے ، تم یہاں رہو میں جاتا ہوں ۔ وہ گیا اور اس نے آنے میں دیر کی ۔ پھر آیا تو میں نے کہا کہ تو نے کیا کیا؟ وہ بولا کہ میں مکہ میں ایک شخص سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھیجا ہے ۔ میں نے کہا کہ لوگ اسے کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ لوگ اس کو شاعر ، کاہن اور جادوگر کہتے ہیں ۔ اور انیس خود بھی شاعر تھا ۔ اس نے کہا کہ میں نے کاہنوں کی بات سنی ہے لیکن جو کلام یہ شخص پڑھتا ہے وہ کاہنوں کا کلام نہیں ہے اور میں نے اس کا کلام شعر کے تمام بحروں پر رکھا تو وہ کسی کی زبان پر میرے بعد شعر کی طرح نہ جڑے گا ۔ اللہ کی قسم وہ سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں ۔ میں نے کہا کہ تم یہاں رہو میں اس شخص کو جا کر دیکھتا ہوں ۔ پھر میں مکہ میں آیا تو میں نے ایک ناتواں شخص کو مکہ والوں میں سے چھانٹا ( اس لئے کہ طاقتور شخص شاید مجھے کوئی تکلیف پہنچائے ) ، اور اس سے پوچھا کہ وہ شخص کہاں ہے جس کو تم صابی ( بےدین ) کہتے ہو؟ اس نے میری طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ صابی ہے ( جب تو صابی کا پوچھتا ہے ) یہ سن کر تمام وادی والوں نے ڈھیلے اور ہڈیاں لے کر مجھ پر حملہ کر دیا ، یہاں تک کہ میں بیہوش ہو کر گر پڑا ۔ جب میں ہوش میں آ کر اٹھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گویا میں لال بت ہوں ( یعنی سر سے پیر تک خون سے سرخ ہوں ) ۔ پھر میں زمزم کے پاس آیا اور میں نے سب خون دھویا اور زمزم کا پانی پیا ۔ پس اے میرے بھتیجے! میں وہاں تیس راتیں یا تیس دن رہا اور میرے پاس سوائے زمزم کے پانی کے کوئی کھانا نہ تھا ( جب بھوک لگتی تو میں اسی کو پیتا ) ۔ پھر میں موٹا ہو گیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی بٹیں ( موٹاپے سے ) جھک گئیں اور میں نے اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پائی ۔ ایک بار مکہ والے چاندنی رات میں سو گئے کہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کوئی نہ کرتا تھا ، صرف دو عورتیں اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں ( اساف اور نائلہ مکہ میں دو بت تھے اساف مرد تھا اور نائلہ عورت تھی اور کفار کا یہ اعتقاد تھا کہ ان دونوں نے وہاں زنا کیا تھا ، اس وجہ سے مسخ ہو کر بت ہو گئے تھے ) ، وہ طواف کرتی کرتی میرے سامنے آئیں ۔ میں نے کہا کہ ایک کا نکاح دوسرے سے کر دو ( یعنی اساف کا نائلہ سے ) ۔ یہ سن کر بھی وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں ۔ پھر میں نے صاف کہہ دیا کہ ان کے فلاں میں لکڑی ( یعنی یہ فخش اساف اور نائلہ کی پرستش کی وجہ سے ) اور میں نے کنایہ نہ کیا ( یعنی کنایہ اشارہ میں میں نے گالی نہیں دی بلکہ ان مردود عورتوں کو غصہ دلانے کے لئے اساف اور نائلہ کو کھلم کھلا گالی دی ، جو اللہ تعالیٰ کے گھر میں اللہ کو چھوڑ کر اساف اور نائلہ کو پکارتی تھیں ) یہ سن کر وہ دونوں عورتیں چلاتی اور کہتی ہوئی چلیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی ہوتا ( جو اس شخص کو بے ادبی کی سزا دیتا ) ۔ راہ میں ان عورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور وہ پہاڑ سے اتر رہے تھے ۔ انہوں نے عورتوں سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ وہ بولیں کہ ایک صابی آیا ہے جو کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس صابی نے کیا کہا؟ وہ بولیں کہ ایسی بات بولا جس سے منہ بھر جاتا ہے ( یعنی اس کو زبان سے نہیں نکال سکتیں ) ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، یہاں تک حجراسود کو بوسہ دیا اور اپنے ساتھی کے ساتھ طواف کیا اور نماز پڑھی ۔ جب نماز پڑھ چکے تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اول میں نے ہی سلام کی سنت ادا کی اور کہا کہ السلام علیکم یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وعلیک ورحمۃ اللہ ۔ پھر پوچھا کہ تو کون ہے؟ میں نے کہا کہ غفار کا ایک شخص ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ جھکایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں ( جیسے کوئی ذکر کرتا ہے ) میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنا برا معلوم ہوا کہ میں ( قبیلہ ) غفار میں سے ہوں ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑنے کو لپکا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال جانتے تھے مجھے روکا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ تو یہاں کب آیا؟ میں نے عرض کیا میں یہاں تیس رات یا دن سے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھے کھانا کون کھلاتا ہے؟ میں نے کہا کہ کھانا وغیرہ کچھ نہیں سوائے زمزم کے پانی کے ۔ پھر میں موٹا ہو گیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بٹ مڑ گئے اور میں اپنے کلیجہ میں بھوک کی ناتوانی نہیں پاتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمزم کا پانی برکت والا ہے اور وہ کھانا بھی ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھر دیتا ہے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آج کی رات اس کو کھلانے کی اجازت مجھے دیجئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی میں بھی ان دونوں کے ساتھ چلا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک دروازہ کھولا اور اس میں سے طائف کی سوکھی ہوئی کشمش نکالیں ، یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا ۔ پھر میں رہا جب تک کہ رہا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک کھجور والی زمین دکھلائی گئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ زمین یثرب کے سوا کوئی اور نہیں ہے ۔ ( یثرب مدینہ کا نام تھا ) ، پس تو میری طرف سے اپنی قوم کو دین کی دعوت دے ، شاید اللہ تعالیٰ ان کو تیری وجہ سے نفع دے اور تجھے ثواب دے ۔ میں انیس کے پاس آیا تو اس نے پوچھا کہ تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا کہ میں اسلام لایا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی ۔ وہ بولا کہ تمہارے دین سے مجھے بھی نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام لایا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کی ۔ پھر ہم دونوں اپنی ماں کے پاس آئے وہ بولی کہ مجھے بھی تم دونوں کے دین سے نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام لائی اور میں نے تصدیق کی ۔ پھر ہم نے اونٹوں پر اسباب لادا ، یہاں تک کہ ہم اپنی قوم غفار میں پہنچے ۔ آدھی قوم تو مسلمان ہو گئی اور ان کا امام ایماء بن رحضہ غفاری تھا وہ ان کا سردار بھی تھا ۔ اور آدھی قوم نے یہ کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوں گے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور آدھی قوم جو باقی تھی وہ بھی مسلمان ہو گئی اور ( قبیلہ ) اسلم کے لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم بھی اپنے غفاری بھائیوں کی طرح مسلمان ہوتے ہیں تو وہ بھی مسلمان ہو گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غفار کو اللہ نے بخش دیا اور اسلم کو اللہ تعالیٰ نے بچا دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً " .
Abu Musa reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The similitude of good company and that of bad company is that of the owner of musk and of the one (iron-smith) blowing bellows, and the owner of musk would either offer you free of charge or you would buy it from him or you would. smell its pleasant odour, and so far as one who blows the. bellows is concerned, he would either burn your clothes or you shall have to smell its repugnant smell
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " نیک ہم نشیں اور بُرے ہم نشیں کی مثال مُشک بردار اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مُشک بردار یا تم کو ہدیے میں مشک دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے ، ورنہ کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو آئے گی اور بھٹی دھونکنے والا یا تو ( چنگاریوں سے ) تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں ( اس سے ) بدبُو آئے گی ۔