حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ { وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ} وَرُبَّمَا قَالَ { ق} .
Ziyad b. 'Ilaqa reported it on the authority of his uncle that he said the morning prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) and he recited in the first rak'ah:"And the tall palm trees having flower spikes piled one above another (l. 10) or perhaps Surah Qaf
(ابو عوانہ ، شریک اور ابن عیینہ کے بجائے ) شعبہ نے زیادہ بن علاقہ سے اور انہوں نے اپنے چچا ( حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے پہلی رکعت میں ﴿والنخل باسقت طلع نضيد﴾ پڑھا اور بعض اوقات ( یہی بات سناتے ہوئے ) کہا : سورہ ق پڑھی ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيِّ، - قَالَ مُسْلِمٌ أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ فَتِلْكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone extols Allah after every prayer thirty-three times, and praises Allah thirty-three times, and declares His Greatness thirty-three times, ninety-nine times in all, and says to complete a hundred:" There is no god but Allah, having no partner with Him, to Him belongs sovereignty and to Him is praise due, and He is Potent over everything," his sins will be forgiven even If these are as abundant as the foam of the sea
خالد بن عبداللہ نے ہمیں سہیل سے خبر دی ، انھوں نے ابو عبید مذحجی سے روایت کی ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ نے کہا : ابو عبید سلیمان بن عبدالملک کے مولیٰ تھے ۔ انھوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی : ’’جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس دفعہ الحمد اللہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا ، یہ ننانوے ہو گے اور سو پورا کرنے کے لیے لا الہ الا اللہ وحد ہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولاہ الحمد ، وہو علی کل شیء قدیر ‘ ‘ کیا اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " . وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .
Abu Mijlaz reported:I asked Ibn 'Abbas about the Witr prayer. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: It is a rak'ah at the end of the night prayer
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے ابو مجلز سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ " ( وتر ) رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے ۔ " اور میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ( وتر ) رات کے آخر کی ایک رکعت ہے ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيُّ وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلاَثَةَ الْعَامِرِيُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي كِلاَبٍ وَزَيْدُ الْخَيْرِ الطَّائِيُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي نَبْهَانَ - قَالَ - فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ فَقَالُوا أَتُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لأَتَأَلَّفَهُمْ " فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ . - قَالَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِنْ عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِي " قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ - يُرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ " .
Abu Said Khudri reported that 'Ali (Allah be pleased with him) sent some gold alloyed with dust to the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) distributed that among four men, al-Aqra b. Habis Hanzali and Uyaina b. Badr al-Fazari and 'Alqama b. 'Ulatha al-'Amiri, then to one person of the tribe of Kilab and to Zaid al-Khair al-Ta'l, and then to one person of the tribe of Nabhan. Upon this the people of Quraish felt angry and said:He (the Holy Prophet) gave to the chiefs of Najd and ignored us. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: I have done it with a view to conciliating between them. Then there came a person with thick beard, prominent cheeks, deep sunken eyes and protruding forehead and shaven head. He said: Muhammad, fear Allah. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If I disobey Allah, who would then obey Him? Have I not been (sent as the) most trustworthy among the people of the world? But you do not repose trust in me." That person then went back. A person among the people then sought permission (from the Holy Prophet) for his murder. According to some, it was Khalid b. Walid who sought the permission. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ), said: From this very person's posterity there would arise people who would recite the Qur'an, but it would not go beyond their throat; they would kill the followers of Islam and would spare the idol-worshippers. They would glance through the teachings of Islam so hurriedly just as the arrow passes through the pray. If I were to ever find them I would kill them like 'Ad
سعید بن مسروق نے عبدالرحمان بن ابی نعم سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یمن میں تھے تو انھوں نےکچھ سونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا جو اپنی مٹی کے اندر ہی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد : اقرع بن حابس حنظلی ، عینیہ ( بن حصین بن حذیفہ ) بن بدر فزاری ، علقمہ بن علاثہ عامری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اس کے بعد ( آگے بڑے قبیلے ) بنو کلاب ( بن ربیعہ بن عامر ) کا ایک فرد تھا اور زید الخیر طائی جو اس کے بعد ( آگے بنوطے کی ذیلی شاخ ) بن نہہمان کا ایک فرد تھا ، میں تقسیم فرمادیا ، کہا : اس پر قریش ناراض ہوگئے اور کہنےلگے : کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجدی سرداروں کو عطا کریں گے اور ہمیں چھوڑدیں گے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کام میں نے ان کی تالیف قلب کی خاطر کیا ہے ۔ " اتنے میں گھنی داڑھی ، ابھرے ہوئے رخساروں ، دھنسی ہوئی آنکھوں ، نکلی ہوئی پیشانی ، منڈھے ہوئے سر والا ایک شخص آیا اور کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ سے ڈریں!تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میں اس کی نافرمانی کروں گاتو اس کی فرمانبرداری کون کرے گا!وہ تو مجھے تمام روئے زمین کے لوگوں پر امین سمجھتا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ " پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا ، لوگوں میں سے ایک شخص نے اس کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی ۔ ۔ ۔ بیان کرنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کی اصل ( جس قبیلے سے اس کا اپنا تعلق ہے ) سے ایسی قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اتر ےگا ۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑدیں گے ۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانہ بنائے جانے والے شکار سے نکل جاتا ہے ، اگر میں نے ان کو پالیاتو میں ہر صورت انھیں اس طرح قتل کروں گا جس طرح ( عذاب بھیج کر ) قوم عاد کو قتل کیا گیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - بِمِثْلِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Muhammad b. 'Abbas b. Ja'far reported that he asked Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them), whether he had heard like this from the Messenger of Allah (ﷺ)
محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ ، محمد بن عباد جعفر ، جابر بن عبداللہ ا س سند میں بھی حضرت محمد بن عباد بن جعفر خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح نقل فرمایا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا " .
It is narrated on the authority of Abu Musa Ash'ari:He who took up arms against us is not of us
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ، بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ - يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ - وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَاتَ . قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَاءَ .
Imran b. Husain said:There was revealed the verse of Tamattu' in Hajj in the Book of Allah and the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to perform it. and then no verse was revealed abrogating the Tamattu' (form of Hajj), and the Messenger of Allah (ﷺ) did not forbid to do it till he died. So whatever a person said was his personal opinion
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہاJ ہمیں عمرا ن بن مسلم نے ابو رجاء سے روایت کی ، کہ عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : متعہ یعنی حج میں تمتع کی آیت قرآن مجید میں نازل ہو ئی ۔ اور اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ، بعد ازیں نہ تو کو ئی آیت نازل ہو ئی جس نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کیا ہو اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فر ما یا حتی کہ آپ فوت ہو گئے بعد میں ایک شخص نے اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ كِلاَهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ " . فَقَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُسْلِمُ فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُسْتَشْهَدُ " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:God laughs at the two men both of whom will enter Paradise (though) one of them kills the other. They said: Messenger of Allah, how is it? He said: One of them fights in the way of Allah, the Almighty and Exalted. and dies a martyr. Then God turns in mercy to the murderer who embraces Islam, fights in the way of Allah, the Almighty and Exalted, and dies a martyr
محمد بن ابی عمر مکی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف ( دیکھ کر ) ہنستا ہے ، ان دونوں میں سے ایک آدمی دوسرے کو قتل کرتا ہے اور دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ " صحابہ کرام نے پوچھا : اللہ کے رسول! یہ کیسے ( ممکن ) ہے؟ آپ نے فرمایا : " ایک شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ، پھر اللہ اس کے قاتل کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے تو وہ مسلمان ہو جاتا ہے ، پھر وہ ( بھی ) اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے ۔ " ( جیسا کہ حضرت حمزہ اور وحشی بن حرب رضی اللہ عنہما ہیں ۔)
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ، - يَعْنِي الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلَمَةَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ بَيْنَا أَبُو بَكْرٍ قَاعِدٌ وَعُمَرُ مَعَهُ إِذْ أَتَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا أَقْعَدَكُمَا هَا هُنَا " . قَالاَ أَخْرَجَنَا الْجُوعُ مِنْ بُيُوتِنَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ .
Abu Huraira reported:One day while Abu Bakr was sitting and there was with him Umar also there came to them Allah's Messenger (ﷺ) and he said: What makes you stay here? They said: It is hunger that has brought us out from our houses. By Him Who has stint you with Truth; the rest of the hadith is the same
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں یزید نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوحازم نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک روزحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ تھے ۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم دونوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ " دونوں نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کےساتھ بھیجا ہے! ہمیں بھوک نے ا پنے گھروں سےنکالا ہے ۔ پھر خلف بن خلیفہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلاَّ الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ .
Sa'id b. Musayyib reported:Mu'awiya came to Medina and he addressed us and he took out a bunch of hair and said: What do I see that one of you does but that what the Jews did? (I can well recall) that when this act (adding of artificial hair) reached Allah's Messenger (ﷺ), he named it as cheating
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا : حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینے آئے ، ہمیں خطبہ دیا اور بالوں کاایک گچھہ نکال کرفرمایا : میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہود کے علاوہ کوئی اور بھی ایسا کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اس کو جھوٹ ( فریب کاری ) کا نام دیا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ مُحْرِمًا بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى .
Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) commanded a Muhrim (one who is in the state of pilgrimage) to kill the snake at Mina
ابو کریب نے کہا : ہمیں حفص نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں اعمش نے ابرا ہم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں احرام والے ایک شخص کو سانپ مارنے کا حکم دیا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّأَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ الأَنْبِيَاءُ أَوْلاَدُ عَلاَّتٍ وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I am most akin to the son of Mary among the whole of mankind and the Prophets are of different mothers, but of one religion, and no Prophet was raised between me and him (Jesus Christ)
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے انھیں بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے ۔ " تمام لوگوں کی نسبت میں حضرت ابن مریم علیہ السلام سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء علیہ السلام علاتی بھا ئی ( ایک باپ اور مختلف ماؤں کے بیٹے ) ہیں نیز میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ كِنَانَةَ، بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ فَأَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لأَصْحَابِهِ " هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ " . قَالُوا نَعَمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا . ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ " . قَالُوا نَعَمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا . ثُمَّ قَالَ " هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَاطْلُبُوهُ " . فَطُلِبَ فِي الْقَتْلَى فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ فَأَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ " قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " . قَالَ فَوَضَعَهُ عَلَى سَاعِدَيْهِ لَيْسَ لَهُ إِلاَّ سَاعِدَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَحُفِرَ لَهُ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ . وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلاً .
Abu Barza reported that Allah's Apostle (ﷺ) was there in a battlefield that Allah conferred upon him the spoils of war. He said to his Companions:Is anyone missing amongst you? They said: So and so and so. He again said: Is there anyone missing amongst you? They said: So and so and so. He then said: Is there anyone missing amongst you? They said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: But I am missing Julaibib. They (his Companions) searched him amongst those who had been killed and they found him by the side of seven (dead bodies) whom he had killed and he had been killed (by the oppoments). Allah's Apostle (ﷺ) came there and stood (by his side) and said: He killed seven (persons). Then (his opponents) killed him. He is mine and I am his. He then placed him upon his hands and there was none else to lift but Allah's Apostle (ﷺ). Then the grave was dug for him and he was placed in the grave and no mention is made of a bath
حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک جنگ میں تھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فتح کے ساتھ ) مال غنیمت دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی غائب تو نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہاں فلاں فلاں فلاں شخص غائب ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کوئی اور تو غائب نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا کہ فلاں فلاں شخص غائب ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تو کوئی غائب نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کوئی نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جلیبیب رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتا ۔ لوگوں نے ان کو مردوں میں ڈھونڈا تو ان کی لاش سات لاشوں کے پاس پائی گئی جن کو سیدنا جلیبیب نے مارا تھا ۔ وہ سات کو مار کر شہید ہو گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور وہاں کھڑے ہو کر پھر فرمایا کہ اس نے سات آدمیوں کو مارا ، اس کے بعد خود مارا گیا ۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھا اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ہی اس کی چارپائی تھے ۔ اس کے بعد قبر کھدوا کر اس میں رکھ دیا ۔ اور راوی نے غسل کا بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ بُرَيْدِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَى جُلَسَائِهِ فَقَالَ " اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ " .
Abu Musa reported that when any needy (person) came to Allah's Messenger (ﷺ) with a need he commanded him to his Companions, saying:Make a recommendation for him, and you would get the reward. Allah, however, gives the verdict through the tongue of His Apostle what He likes most
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے : " تم ( ابھی اس کی ) شفاعت کرو ، تمہیں بھی اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان سے وہی فیصلہ جاری کرائے گا جو اس کو پسند ہو گا ۔