بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
12 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَابْنُ، عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ ‏{‏ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ‏}‏
Qutba b. Malik reported that he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting in the morning prayer this:" And the tall palm trees having flower spikes piled one above another" (Al-Qur'an 50:)
(ابو عوانہ کے بجائے ) شریک اور سفیان بن عیینہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت قطبہ بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انہوں نے فجر کی نماز میں نبی اکرمﷺ کو ﴿والنخل باسقت لها طلع نضيد﴾ ( اور کجھور کے بلند وبالا درخت ( پیدا کیے ) جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں ) کی قراءت کرتے ہوئے سنا
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Witr is a rak'ah at the end of the night prayer
شعبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے مجلز سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا : " وتر رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْسِمُ مَغَانِمَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Jabir b. 'Abdullah through another chain of transmitters
عبدالوہاب ثقفی نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، نیز قرہ بن خالد نے بھی ابو زبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غنیمتیں تقسیم فرمارہے تھے ۔ ۔ ۔ اور ( مذکورہ بالا حدیث کے مانند ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ ‏.‏
Muhammad b. 'Abbas b. Ja'far reported:I asked Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) as he was circumambulating the House (Ka'ba) whether the Messenger of Allah (ﷺ) had forbidden the fasting on Friday, whereupon he said: Yes, by the Lord of this House
عمرو ناقد ، سفیان بن عینیہ ، عبدالحمید ابن جبیر ، حضرت محمد بن عباد بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا اس حال میں کہ وہ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟تو انہوں نے فرمایا ہاں! قسم ہے اس گھر کے رب کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ - حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏ ‏.‏
Iyas b. Salama narrated from his father that the Apostle (ﷺ) observed:He who draws the sword against us is not of us
ایاس بن سلمہ نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نےہم پر تلوار سونتی ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَ أَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ بَعْجَةَ وَقَالَ ‏ "‏ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ ‏"‏ ‏.‏
Two more versions of the tradition narrated by 'Abdullah b. Badr and Abu Huraira, respectively, have been handed down through different chains of transmitters with negligible difference in the wording
اسامہ بن زید نے بعجہ بن عبداللہ جہنی سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی جو ابوحازم نے بعجہ سے روایت کی ۔ اور انہوں نے " گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں " کہا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالاَ الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا ‏"‏ ‏.‏ فَقَامُوا مَعَهُ فَأَتَى رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ قَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلاً ‏.‏ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيْنَ فُلاَنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ ‏.‏ إِذْ جَاءَ الأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي - قَالَ - فَانْطَلَقَ فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ كُلُوا مِنْ هَذِهِ ‏.‏ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ ‏"‏ ‏.‏ فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) went out (of his house) one day or one night, and there he found Abu Bakr and 'Umar also. He said:What has brought you out of your houses at this hour? They said: Allah's Messenger, it is hunger. Thereupon he said: By Him in Whose Hand is my life, what has brought you out has brought me out too; get up. They got up along with him. and (all of them) came to the house of an Ansari, but he was not at home. When his wife saw him she said: Most welcome, and Allah's Messenger (may peace be Upon him) said to her: Where is so and so? She said: He has gone to get some fresh water for us. When the Ansari came and he saw Allah's Messenger (ﷺ) and his two Companions, he said: Praise be to Allah, no one has more honourable guests today than I (have). He then went out and brought them a bunch of ripe dates, dry dates and fresh dates, and said: Eat some of them. He then took hold of his long knife (for slaughtering a goat or a sheep). Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Beware of killing a milch animal. He slaughtered a sheep for them and after they had eaten of it and of the bunch and drank, and when they had taken their fill and had been fully satisfied with the drink, Allah's Messenger (ﷺ) said to Abu Bakr and Umar: By Him in Whose Hand is my life, you will certainly be questioned about this bounty on the Day of judgment. Hunger brought you out of your house, then you did not return until this bounty came to you
خلف بن خلیفہ نے یزید بن کیسان سے ، انھوں نے ابوحازم سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ رات یا دن کو باہر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو پوچھا کہ تمہیں اس وقت کون سی چیز گھر سے نکال لائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بھوک کے مارے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں ، چلو ۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر آئے ، وہ اپنے گھر میں نہیں تھا ۔ اس کی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں شخص ( اس کے خاوند کے متعلق فرمایا ) کہاں گیا ہے؟ وہ بولی کہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے ( اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عذر سے اجنبی عورت سے بات کرنا اور اس کو جواب دینا درست ہے ، اسی طرح عورت اس مرد کو گھر بلا سکتی ہے جس کے آنے سے خاوند راضی ہو ) اتنے میں وہ انصاری مرد آ گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج کے دن کسی کے پاس ایسے مہمان نہیں ہیں جیسے میرے پاس ہیں ۔ پھر گیا اور کھجور کا ایک خوشہ لے کر آیا جس میں گدر ، سوکھی اور تازہ کھجوریں تھیں اور کہنے لگا کہ اس میں سے کھائیے پھر اس نے چھری لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دودھ والی بکری مت کاٹنا ۔ اس نے ایک بکری کاٹی اور سب نے اس کا گوشت کھایا اور کھجور بھی کھائی اور پانی پیا ۔ جب کھانے پینے سے سیر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں سوال ہو گا کہ تم اپنے گھروں سے بھوک کے مارے نکلے اور نہیں لوٹے یہاں تک کہ تمہیں یہ نعمت ملی ۔ ( اس فضل پر سوال ضرور ہوگا)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ‏ "‏ إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri but with a slight variation of wording
سفیان بن عینیہ ، یونس اور معمر ، ان سب نے زہری سے مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا مگر معمر کی حدیث میں : " بنی اسرائیل کو عذاب میں مبتلا کردیا گیا " کے الفاظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of al-A'mash with the same chain of transmitters
جریر اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ وَلاَ يَرَانِي ثُمَّ لأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْمَعْنَى فِيهِ عِنْدِي لأَنْ يَرَانِي مَعَهُمْ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَهُوَ عِنْدِي مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ ‏.‏
Abu Huraira reported so many 'ahadith from Allah's Messenger (ﷺ) and one among them was that Allah's Messenger (ﷺ) is reported to have said:By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, a day would come to you when you would not be able to see me, and the glimpse of my face would be dearer to one than one's own family, one's property and in fact everything. This hadith has been transmitted on the authority of Ishaq with a slight variation of wording
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ، انھوں نے کئی حدیثیں بیان کیں ، ان میں یہ ( بھی ) تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم لوگوں میں سے کسی پروہ دن ضرورآئے گا ۔ کہ وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گا ۔ اور میری زیارت کرنا اس کے لیے اپنے اس سارے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہو گا جو ان کے پاس ہو گا ۔ " ( امام مسلم کے شاگرد ) ابو اسحاق ( ابرا ہیم بن محمد ) نے کہا : میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شخص مجھے اپنے سب لوگوں کے ساتھ دیکھے ، میں اس کے نزدیک اس کے اہل ومال سے زیادہ محبوب ہوں گا ۔ اس میں تقدیم و تا خیر ہو ئی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ مُجَدَّعًا فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
Jabir reported:My father was brought in a state that his ears had been cut off and (his dead body) was placed before Allah's Apostle (ﷺ), the rest of the hadith is the same
عبدالکریم نے محمد بن منکدر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : اُحد کے دن میرے والد کو اس طرح لایاگیا کہ ان کی ناک اور ان ک کان کاٹ دیے گئے تھے ، انھیں لا کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ر کھ دیا گیا ، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، - يَعْنِي الْخَزَّازَ - عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported:Allah's Apostle (ﷺ) said to me: Don't consider anything insignificant out of good things even if it is that you meet your brother with a cheerful countenance
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " نیکی میں کسی چیز کو حقیر نہ سمجھو ، چاہے یہی ہو کہ تم اپنے ( مسلمان ) بھائی کو کھلتے ہوئے چہرے سے ملو ۔