وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ صَلَّى لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى وَهَارُونَ أَوْ ذِكْرُ عِيسَى - مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ - أَخَذَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَعْلَةٌ فَرَكَعَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِكَ . وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَحَذَفَ فَرَكَعَ . وَفِي حَدِيثِهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو . وَلَمْ يَقُلِ ابْنِ الْعَاصِ .
Abdullah b. Sa'id reported:The Apostle of Allah (ﷺ) led us in the morning prayer in Mecca and began Sarat al-Mu'minin (xxiii ) but when he came to the mention of Moses and Aaron (verse. 45) or to the mention of Jesus (verse 50), a cough got the better of him, and he bowed. 'Abdullah b. Sa'ib was present there, and in the hadith narrated by Abd al-Razzaq (the words are): He cut short (the recitation) and bowed
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، نیز عبد الرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے ہمیں بتایا ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے ابو سلمہ بن سفیان ، عبد اللہ بن عمرو بن عاص اور عبد اللہ بن مسیب سے عابدی نے حضرت عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ، انہوں نے کہا : نبیﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ مومنون کی قراءت شروع کی حتیٰ کہ موسیٰ اور ہارون علیہ السلام کا ذکر آیا یا عیسیٰ رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا ( محمد بن عبادہ کو شک ہے یا راویوں نے اس کے سامنے ( بیان کرتے ہوئے ) اختلاف کیا ہے ) ( اس وقت ) رسو ل اللہﷺ کو کھانسی آنے لگی تو آپ رکوع میں چلے گئے ۔ عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بھی اس نماز میں موجود تھے ۔ عبد الرزاق کی روایت میں ہے : آپ نے قراءت قطع کر دی اور رکوع میں چلے گئے ۔ اور ان کی حدیث میں ( راوی کا نام ) عبد اللہ بن عمرو ہے ، آگے ابن عاص نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، كِلاَهُمَا عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ أَنَّ فُقَرَاءَ، الْمُهَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ . فَقَالَ " وَمَا ذَاكَ " . قَالُوا يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلاَ نَتَصَدَّقُ وَيُعْتِقُونَ وَلاَ نُعْتِقُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَفَلاَ أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلاَ يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلاَّ مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " تُسَبِّحُونَ وَتُكَبِّرُونَ وَتَحْمَدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ مَرَّةً " . قَالَ أَبُو صَالِحٍ فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوا مِثْلَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " . وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ اللَّيْثِ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ قَالَ سُمَىٌّ فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ وَهِمْتَ إِنَّمَا قَالَ " تُسَبِّحُ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَحْمَدُ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتُكَبِّرُ اللَّهَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ " . فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ حَتَّى تَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلاَثَةً وَثَلاَثِينَ . قَالَ ابْنُ عَجْلاَنَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Huraira reported:The poor amongst the emigrants came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: The possessors of great wealth have obtained the highest ranks and the lasting bliss. He (the Holy Prophet) said: How is that? They said: They pray as we pray, and they observe fast as we observe fast, and they give charity but we do not give charity, and they set slaves free but we do not set slaves free. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Shall I not teach you something by which you will catch upon those who have preceded you, and get ahead of those who come after you, only those who do as you do being more excellent than you? They said: Yes, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: Extol Allah, declare His Greatness, and Praise Him thirty-three times after every prayer. Abu Salih said: The poor amongst the emigrants returned to the Messenger of Allah (may peace upon him) saying: Our brethren, the possessors, of property have heard what we have done and they did the same. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: This is Allah's Grace which He gives to whom He wishes. Sumayy reported: I made a mention of this hadith to some members of my family (and one of them) said: You have forgotten; he (the Holy Prophet) had said (like this): "Extol Allah thirty-three time, praise Allah thirty-three times and declare His Greatness thirty-three times." Ibn `Ajlan said: I made a mention of this hadith to Raja' b. Haiwa and he narrated to me a hadith like this from Abu Salih from the Messenger of Allah (ﷺ) on the authority of Abu Huraira
عاصم بن نضر تیمی نے کہا : ہمین معتمر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمین عبیداللہ نے حدیث سنائی نیز ( ایک اور سند سے ) قتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں لیث نے ابن عجلان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( عبیداللہ اور ابن عجلان ) نے سًمَیّ سے ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ یہ قتیبہ کی روایت کردہ حدیث ہے ۔ کہ کچھ تنگدست مہاجر رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی : بلند درجے اور دائمی نعمت تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے ! آپ نے پوچھا : ’’ وہ کیسے ؟ ‘ ‘ انھوں نے کہا : وہ اسی طرح نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں ، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہم صدقہ نہیں کر سکتے ، وہ ( بندھے ہوؤں اور غلاموں کو ) آزاد کرتے ہیں جبکہ ہم آزاد نہیں کر سکتے تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تو کیا پھر میں تمھیں اسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم ان لوگوں کو پالو گے جو تم سے سبقت لے گے ہیں اور اس کے ذریعے سے ان سے بھی سبقت لے جاؤ گے جو تم سے بعد ( آنے والے ) ہیں ؟ اور تم سے وہی افضل ہو گا جو تمھاری طرح عمل کرے گا ۔ ‘ ‘ انھوں نے کہا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! ( ضرور بتائیں ۔ ) آپ نے فرمایا : ’’تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح : تکبیر اور تحمید ( سبحان اللہ : اللہ اکبر ، اور الحمد اللہ ) کا ورد کیا کرو ‘ ‘ ابو صالح نےکہا : فقرائے مہاجرین دوبارہ رسو ل اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی جو ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں سن لیا ہے اور اسی طرح عمل کرنا شروع کر دیا ہے ( وہ بھی تسبیح ، تکبیر اور تحمید کرنے لگے ہیں ۔ ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمادے ۔ ‘ ‘ قتیبہ کے علاوہ لیث سے ابن عجلان کے حوالے سے دیگر روایت کرنے والوں نے یہ اضافہ کیا کہ سمی نے کہا : میں نے یہ حدیث اپنے گھر کے ایک فرد کو سنائی تو انھوں نے کہا : تمھیں وہم ہوا ہے ، انھوں ( ابو صالح ) نے تو کہا تھا : ’’تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو ، تینتیس بار الحمد اللہ کہو اور تینتیس بار اللہ اکبر کہو ۔ ‘ ‘ میں دوبارہ ابو صالح کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں یہ بتا یا تو انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا : اللہ اکبر ، سبحان اللہ اور الحمد اللہ ، اللہ اکبر ، سبحان اللہ اور الحمد اللہ ( اس طرح کہو ) کہ سب کی تعداد تینتیس ہو جائے ۔ ابن عجلان نے کہا : میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ کو سنائی تو انھوں نے مجھے ابو صالح کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ( روایت کرتے ہوئے ) اسی کی مانند حدیث سنائی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اجْعَلُوا آخِرَ صَلاَتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Make Witr the end of your night prayer
عبیداللہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ا نھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " رات کے وقت وتر کو اپنی نماز کا آخری حصہ بناؤ ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِكَ وَأَعْطَى أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ . قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ - قَالَ - فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ " فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ ثُمَّ قَالَ " يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " . قَالَ قُلْتُ لاَ جَرَمَ لاَ أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا .
Abdullah reported:On the day of Hunain, the Messenger of Allah (ﷺ) showed preference (to some) people in the distribution of the spoils. He bestowed on Aqra' b. Habis one hundred camels, and bestowed an equal (number) upon 'Uyaina, and bestowed on people among the elites of Arabia, and preferred them (to others) on that day, in the distribution (of spoils). Upon this a person said: By Allah, neither justice has been done in this distribution (of spoils), nor has the pleasure of Allah been sought in it. I (the narrator ) said: By Allah, I will certainly inform the Messenger of Allah (ﷺ) about it. I came to him and informed him about what he had said. The colour of his (the Prophet's) face changed red like blood and he then said: "Who would do justice, if Allah and His Messenger do not do justice?" He further said: "May Allah have mercy upon Moses; he was tormented more than this, but he showed patience." I said: Never would I convey him (the Holy Prophet) after this (unpleasant) narration
منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب حنین کی جنگ ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں ترجیح دی ۔ آپ نے اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ دیے ، عینیہ کو بھی اتنے ہی ( اونٹ ) دیے اور عرب کے دوسرے اشراف کو بھی عطا کیا اور اس دن ( مال غنیمت کی ) تقسیم میں نہ عدل کیا گیا اور نہ اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھاگیا ہے ۔ کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم!میں ( اس بات سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی اطلاع دی جو اس نے کہی تھی ۔ ( غصے سے ) آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا یہاں تک کہ وہ سرخ رنگ کی طرح ہوگیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے تو پھر کون عدل کرے گا! "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے!انھیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تو انھوں نے صبر کیا ۔ "" ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نےدل میں سوچا آئندہ کبھی ( اس قسم کی ) کوئی بات آپ کے سامنے پیش نہیں کروں گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ خَالِدٌ فَلَقِيتُ أَبَا الْمَلِيحِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَزَادَ فِيهِ " وَذِكْرٍ لِلَّهِ " .
Nabaisha reported that Khalid said:I met Abu Malih and asked him and he narrated it to me from the Messenger of Allah (ﷺ). a hadith like one (narrated above) with this addition:" And remembrance of Allah
محمد بن عبداللہ ابن نمیر ، اسماعیل ابن علیہ ، خالد ، ابی ملیح ، نبیشہ ، اس سند کے ساتھ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح حدیث منقول ہے اور اس میں صرف ذکر اللہ کے الفاظ زائد ہیں ۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِبْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلاً مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشَيْنَاهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ . فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيُّ وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ . قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي " يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا . قَالَ فَقَالَ " أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ " . قَالَ فَمَازَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَىَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
(It is narrated on the authority of Usama b. Zaid:The Messenger of Allah may peace be upon him) sent us to Huraqat, a tribe of Juhaina. We attacked that tribe early in the morning and defeated them and I and a man from the Ansar caught hold of a person (of the defeated tribe). When we overcame him, he said: There is no god but Allah. At that moment the Ansari spared him, but I attacked him with my spear and killed him. The news had already reached the Apostle (peace be upon him), so when we came back he (the Apostle) said to me: Usama, did you kill him after he had made the profession: There is no god but Allah? I said. Messenger of Allah, he did it only as a shelter. The Prophet observed: Did you kill him after he had made the profession that there is no god but Allah? He (the Holy Prophet) went on repeating this to me till I wished I had not embraced Islam before that day
حصین نے کہا : ہمیں ابو ظبیان نے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جہینہ کی شاخ ( یا آبادی ) حرقہ کی طرف بھیجا ، ہم نے ان لوگوں پر صبح کے وقت حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی ، جنگ دوران میں ایک انصاری اور میں ان میں سے ایک آدمی تک پہنچ گئے جب ہم نے اسے گھیر لیا ( اور وہ حملے کی زد میں آ گیا ) تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ انہوں نے کہا : انصاری اس پر حملہ کرنے سے رک گیا اور میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا ۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ جب ہم واپس آئے تویہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی ، اس پر آپ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے اسامہ ! کیا تو نے اس کے لا إله إلاالله کہنے کے بعد اسے قتل کر دیا؟ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! وہ تو ( اس کلمے کے ذریعے سے ) محض پناہ حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ کہا : تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا تو نے اسے لا إله إلا الله کہنے کے بعد قتل کر دیا ؟ ‘ ‘ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ بار بار یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی ( کاش ) میں آج کے دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا ۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ .
This hadith has been narrated on the authority of Mutarrif with the same chain of transmitters
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے حمید بن ہلال سے روایت کی ، کہا میں نے مطرف سے سنا ، انھوں نے کہا عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا ۔ آگے معاذ کی حدیث کے مانند ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ فَقَالَ " وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ " . وَلَمْ يَقُلْ " ثُمَّ رَجُلٌ " .
A version of the tradition narrated on the authority of Ibn Shihab has a little differently worded ending. i. e." A man in a mountain valley." but did not mention" next to him a man who
اوزاعی نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اورآدمی جو کسی گھاٹی میں ہے کہا ۔ پھر وہ آدمی نہیں کہا
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ . قَالَ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ فِي رِوَايَتِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ، الأَنْصَارِيُّ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
This hadith has been reported on the authority of Abu Mas'ud Ansari through another chain of transmitters
ابو بکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں یہی حدیث ابو معاویہ سے بیان کی ، نیز یہ حدیث ہمیں نصر بن علی جہضمی اور ابو سعید اشج نے بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، عبیداللہ بن معاذ نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن یوسف نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ان سب ( ابو معاویہ ، شعبہ اورسفیان ) نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے ابو مسعود سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جس طرح جریر کی حدیث ہے ۔ نصر بن علی نے اس حدیث کی اپنی روایت میں کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش سے شقیق بن سلمہ سے ، انھوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، پھر پوری حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ - حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
This hadith has been transmitted on the authority of Abdullah
اعمش نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھون نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمًا عِنْدَ هَدْمٍ لَهُ فَرَأَى وَبِيصَ جَانٍّ فَقَالَ اتَّبِعُوا هَذَا الْجَانَّ فَاقْتُلُوهُ . قَالَ أَبُو لُبَابَةَ الأَنْصَارِيُّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ إِلاَّ الأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا اللَّذَانِ يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَتَتَبَّعَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ .
Nafi' reported on the authority of his father that as 'Abdullah b. 'Umar saw one day (standing) near the ruin (of his house) the slough of a snake and said (to the people around him):Pursue this snake and kill it. Abu Lubaba Ansari said: I heard Allah's Messenger (ﷺ). He forbade the killing of snakes found in the houses except the short-tailed snakes and those having streaks upon them, for both of them obliterate eyesight and affect that which is in the wombs of (pregnant) women
عمر بن نافع نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ایک دن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کے گرے ہو ئے حصے کے قریب مو جو د تھے کہ انھوں نے اچانک سانپ کی ایک کینچلی دیکھی ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : اس سانپ کو تلا ش کر کے قتل کردو ۔ حضرت ابو لبابہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے ان سانپوں کو ، جو گھروں میں رہتے ہیں قتل کرنےسے منع فر ما یا ، سوا ئے دم کٹے اور دو سفید دھاریوں والے سانپوں کے کیونکہ یہی دوسانپ ہیں جو نظر کو زائل کر دیتے ہیں اور عورتوں کے حمل کو نقصان پہنچاتے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقَوْمٍ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ فَقَالَ " مَا يَصْنَعُ هَؤُلاَءِ " . فَقَالُوا يُلَقِّحُونَهُ يَجْعَلُونَ الذَّكَرَ فِي الأُنْثَى فَيَلْقَحُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا " . قَالَ فَأُخْبِرُوا بِذَلِكَ فَتَرَكُوهُ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَقَالَ " إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْنَعُوهُ فَإِنِّي إِنَّمَا ظَنَنْتُ ظَنًّا فَلاَ تُؤَاخِذُونِي بِالظَّنِّ وَلَكِنْ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللَّهِ شَيْئًا فَخُذُوا بِهِ فَإِنِّي لَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
Musa b. Talha reported:I and Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by people near the date-palm trees. He (the Holy Prophet) said: What are these people doing? They said: They are grafting, i. e. they combine the male with the female (tree) and thus they yield more fruit. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: I do not find it to be of any use. The people were informed about it and they abandoned this practice. Allah's Messenger (ﷺ) (was later) on informed (that the yield had dwindled), whereupon he said: If there is any use of it, then they should do it, for it was just a personal opinion of mine, and do not go after my personal opinion; but when I say to you anything on behalf of Allah, then do accept it, for I do not attribute lie to Allah, the Exalted and Glorious
موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا جو درختوں کی چوٹیوں پر چڑھے ہو ئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا یہ لو گ کیا کر رہے ہیں ۔ ؟ " لوگوں نے کہا : یہ گابھہ لگا رہے ہیں نر ( کھجور کا بور ) مادہ ( کھجور ) میں ڈال رہے ہیں اس طرح یہ ( درخت ) ثمر آور ہو جا تے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : " میرا گمان نہیں کہ اس کا کچھ فائدہ ہو تا ہے ۔ " لوگوں نے کو یہ بات بتا دی گئی تو انھوں نے ( گابھہ لگا نے کا ) یہ عمل ترک کر دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتا ئی گئی ۔ تو آپ نے فر ما یا : اگر یہ کا م انھیں فائدہ پہنچاتا ہے تو کریں ۔ میں نے تو ایک بات کا گمان کیا تھا تو گمان کے حوالے سے مجھے ذمہ دارنہ ٹھہراؤ لیکن جب میں اللہ کی طرف سے تمھا رے ساتھ بات کروں تو اسے اپنالو ، کیونکہ اللہ عزوجل پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جِيءَ بِأَبِي مُسَجًّى وَقَدْ مُثِلَ بِهِ - قَالَ - فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ فَنَهَانِي قَوْمِي ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ فَنَهَانِي قَوْمِي فَرَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَمَرَ بِهِ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ أَوْ صَائِحَةٍ فَقَالَ " مَنْ هَذِهِ " . فَقَالُوا بِنْتُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو فَقَالَ " وَلِمَ تَبْكِي فَمَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ " .
Jabir b. 'Abdullah reported:The dead body of my father was brought and he was covered (with cloth) and it had been mutilated. I made an attempt to lift the cloth, but my people prohibited me to do so. I again made an attempt to lift the cloth, but my people prohibited me. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) lifted it or he commanded it to be lifted. He heard the noise (of a loud) weeping, or the noise of a woman mourner. He inquired who she was. They said: The daughter of 'Amr or the sister of Amr, whereupon he said: Why does she weep? The Angels provide him shade with the help of their Wings until he would be lifted (to his heavenly abode)
سفیان بن عیینہ نے کہا : میں نے ابن منکدر کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا ، کہہ رہے تھے : جب احد کی جنگ ہوئی تو میرے والد کو کپڑے سے ڈھانپ کر لایاگیا ، ان کا مثلہ کیاگیا تھا ( ان کے چہرے تک کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے ) میں نے چاہا کہ میں کپڑا اٹھاؤں ( اوردیکھوں ) تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے روک دیا ، میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے روک دیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر کپڑا اٹھایا ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کپڑا اٹھایا گیا تو ( اس وقت ) ایک رونے والی یا چیخنے والی کی آواز آئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " یہ کون ہے؟ " تو لوگوں نے بتایا : عمرو کی بیٹی ( شہید ہونے والے عبداللہ کی بہن ) ہے یا ( کہا : ) عمرو کی بہن ( شہید کی پھوپھی ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ کیوں روتی ہے؟ان ( کے جنازے ) کو اٹھائے جانے تک فرشتوں نے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیا ہواہے ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Gabriel impressed upon me (the kind treatment) towards the neighbour (so much) that I thought as if he would soon confer upon him the (right) of inheritance
عمر بن محمد کے والد نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جبریل مجھے لگاتار ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے رہے حتی کہ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ اسے وارث ( بھی ) بنا دیں گے ۔