بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
15 hadith
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَأَبِي، عَوْنٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَقَالَ تُعَلِّمُنِي الأَعْرَابُ بِالصَّلاَةِ
This hadith is narrated by Jabir b. Samura but with the addition of these words:" (Sa'd said): These bedouins presume to teach me prayer
۔ مسعر نے عبد الملک ( بن عمیر ) اور ابو عون سے روایت کی ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ان کی حدیث کے ہم معنیٰ روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : بدوی مجھے نماز سکھائیں گے؟ ( میں نے تو خود رسول اللہﷺ سے نماز سیکھی ہے)
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، مَوْلًى لَهُمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانَ يُهَلِّلُ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَقَالَ فِي آخِرِهِ ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏
Abu Zubair reported:Abdullah b Zubair used to say La ilaha il-Allah at the end of every prayer like the hadith narrated by Ibn Numair and he reported it in the end, and then reported Ibn Zubair saying: The Messenger of Allah (ﷺ) uttered La ilaha il-Allah at the end of every prayer
عبدہ بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اور انھوں نے اپنے خاندان کے مولیٰ ابو زبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے ( آگے ) ابن نمیر کی روایت کے مانند ہے اور انھوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا : پھر ابن زبیر کہتےکہ رسول اللہ ﷺہر نماز کے بعد ان ( کلمات ) کو بلند آواز سے کہتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَبُدَيْلٌ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَا بِمِثْلِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَمَا بَعْدَهُ ‏.‏
This hadith his been narrated by Ibn 'Umar by another chain of trans- mitters but it does not have these words:" Then a person asked him at the end of the year," and what follows subsequently
ابو کامل نے کہا : ہمیں حماد نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ایوب ، بدیل اور عمران بن حدیر نے عبداللہ بن شقیق سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز ( دوسری سند سے ) محمد بن عبید غبری نے کہا : ہمیں حماد نے حدیث سنائی ، کہا : ہم سے ایوب اور زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شقیق سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ۔ ۔ ۔ پھر دونوں ( ابو کامل اور محمد بن عبید ) نے اوپر والی ر وایت بیان کی مگر ان دونوں کی روایت میں " ایک آدمی نے آپ سے ایک سال گزرنے کابعد پوچھا " اور اس کے بعد کا حصہ مروی نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فَأَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ وَأَعْطَى عَلْقَمَةَ بْنَ عُلاَثَةَ مِائَةً ‏.‏
This hadith has been narrated by Sa'id b. Masruq with the same chain of transmitters (with the words):" The Apostle of Allah (ﷺ) distributed the spoils of Hunain, and he (the Holy Prophet) gave one hundred camels to Abu Sufyan b. Harb. The rest of the hadith is the same, but with this addition:" He bestowed upon" Alqama b. 'Ulatha one hundred (camels)
(احمد بن عبدہ ضبی نے کہا : ہمیں ) سفیان ( بن عینیہ نے عمر بن سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے غنائم تقیسم کیے تو ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سواونٹ دیے ۔ ۔ ۔ اورپچھلی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن علاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی سو اونٹ دیئے ۔)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمًا فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رضى الله عنهما أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ ‏.‏
Ziyad b. Jubair reported that a person came to Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) and said:I had taken a vow that I would fast on the day (but it accidentally) synchronises with the day of Adha or the day of Fitr. Thereupon Ibn 'Umar (Allah be pleased with him) said: Allah, the Exalted, has commanded fulfilling of the vow, but the Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden the observance of fast on this day
ابوبکر بن ابی شیبہ ، وکیع ابن عون ، حضرت زیاد بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آیا اور عرض کیا کہ میں نے منت مانی تھی کہ میں ایک دن کا روزہ رکھوں گا تو وہ دن قربانی کے عید کے دن یا عید الفطر کے دن سے موافقت کررہا ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے منت کو پورا کرنے کا حکم دیاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے سے منع فرمایا ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَمَّا الأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ ‏.‏ كَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ ‏.‏ وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لأَقْتُلَهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏.‏
The same hadith has been transmitted by the same chain of narrators. The hadith transmitted by Auza'i and Ibn Juraij contains these words:I embraced Islam for Allah's sake. and in the hadith narrated by Ma'mar the words are: I knelt down to kill him, that he said; There is no god but Allah
امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے معمر ، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کےساتھ زہری سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی ، اوزاعی اور ابن جریج کی روایت میں ( لیث کی ) سابقہ حدیث کی طرح أسلمت لله ’’میں اللہ کے لیے اسلام لے آیا ‘ ‘ کے الفاظ ہیں جبکہ معمر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’جب میں نے چاہا کہ اسے قتل کر دوں تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ ‘ ‘ ( دونوں کا حاصل ایک ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي، الْعَلاَءِ عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِنِّي لأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ بَعْدُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْتَئِيَ ‏.‏
Mutarrif reported:'Imran b. Husain said to me: Should I not narrate to you a hadith today by which Allah will benefit you subsequently-and bear in mind that Allah's Messenger (ﷺ) made some members of his family perform 'Umra within ten days of Dhu'l-Hijja. No verse was revealed to abrogate that, and he (the Holy Prophet) did not refrain from doing it till he died. So after him everyone said as he liked, (but it would be his. personal opinion and not the verdict of the Shari'ah)
ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں جریری نے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو العلاء سے ، انھوں نے مطرف سے روایت کی ، ( مطرف نے ) کہا : عمران بن حصین نے مجھ سے کہا : میں تمھیں آج ایک ایسی حدیث بیان کرنے لگاہوں جس سے اللہ تعالیٰ آج کے بعد تمھیں نفع دے گا ۔ جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے کچھ کو ذوالحجہ میں عمرہ کروایا ، پھر نہ تو کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جس نے اسے ( حج کے مہینوںمیں عمرے کو ) منسوخ قرار دیا ہو ، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل کی طرف تشریف لے گئے ۔ بعد میں ہر شخص نے جورائے قائم کرنا چاہی کرلی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ - قَالَ - فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا فَنَقِبَتْ قَدَمَاىَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نُعَصِّبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ ‏.‏ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللَّهُ يَجْزِي بِهِ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Musa (Ash'ari) who said:We set out on an expedition with the Messenger of Allah (ﷺ). We were six in number and had (with us) only one camel which we rode turn by turn Our feet were injured. My feet were so badly injured that my nails dropped off. We covered our feet with rags. so this expedition was called Dhat-ur-Riqa' (i. e. the expedition of rags) because we bandaged our feet with rags (on that day). Abu Burda said: Abu Musa narrated this tradition, and then disliked repeating it as he did not want to give any publicity to what he did in a noble cause Abu Usama said: Narrators other than Abu Buraida have added to the version of the words:" God will reward it
ابواسامہ نے ہمیں بریدہ بن ابی بردہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے ، ہم چھ افراد تھے ، ہم سب کے لیے اونٹ ایک ( ہی ) تھا ، ہم اس پر باری باری سوار ہوتے تھے ۔ کہا : ہمارے پیروں میں سوراخ ہو گئے ، میرے دونوں پاؤں بھی زخمی ہو گئے اور میرے ناخن گر گئے ، ہم اپنے پاؤں پر پرانے کپڑوں کے ٹکڑے باندھا کرتے تھے ، اسی وجہ سے تو اس غزوے کا نام ذات الرقاع ( دھجیوں والا غزوہ ) پڑ گیا کیونکہ ہم اپنے پیروں پر پھٹے پرانے کپڑوں کی دھجیاں باندھا کرتے تھے ۔ ابوبردہ نے کہا : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ، پھر اسے ( بیان کرنے ) کو ناپسند کیا جیسے وہ یہ بات ناپسند کرتے ہوں کہ ان کے عمل کا کوئی ایسا پہلو ہو جس کی انہوں نے تشہیر کی ہو ۔ ابواسامہ نے کہا : بریدہ کے علاوہ کسی اور نے مجھے مزید یہ بات بتائی : اور اللہ اس کی جزا دے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ، ‏{‏ وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏}‏ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى تِلْكَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمُ اطِّلاَعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَىَّ شَىْءٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى ‏.‏ فَلَمَّا رَأَى أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Masruq Who said:We asked 'Abdullah about the Qur'anic verse:" Think not of those who are slain in Allah's way as dead. Nay, they are alive, finding their sustenance in the presence of their Lord.." (iii. 169). He said: We asked the meaning of the verse (from the Holy Prophet) who said: The souls, of the martyrs live in the bodies of green birds who have their nests in chandeliers hung from the throne of the Almighty. They eat the fruits of Paradise from wherever they like and then nestle in these chandeliers. Once their Lord cast a glance at them and said: Do ye want anything? They said: What more shall we desire? We eat the fruit of Paradise from wherever we like. Their Lord asked them the same question thrice. When they saw that they will continue to be asked and not left (without answering the question). they said: O Lord, we wish that Thou mayest return our souls to our bodies so that we may be slain in Thy way once again. When He (Allah) saw that they had no need, they were left (to their joy in heaven)
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی : " جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھو ، وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں ، ان کو رزق دیا جاتا ہے ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے بھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، آپ نے فرمایا : " ان کی روحیں سبز پرندوں کے اندر رہتی ہیں ، ان کے لیے عرش الہیٰ کے ساتھ قبدیلیں لٹکی ہوئی ہیں ، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ، پھر ان قندیلوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ، ان کے رب نے اوپر سے ان کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : " کیا تمہیں کس چیز کی خواہش ہے؟ انہوں نے جواب دیا : ہم ( اور ) کیا خواہش کریں ، ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے اور کھاتے پیتے ہیں ۔ اللہ نے تین بار ایسا کیا ( جھانک کر دیکھا اور پوچھا ۔ ) جب انہوں نے دیکھا کہ ان کو چھوڑا نہیں جائے گا ، ان سے سوال ہوتا رہے گا تو انہوں نے نے کہا : اے ہمارے رب! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے یہاں تک کہ ہم دوبارہ تیری راہ میں شہید کیے جائیں ۔ جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ ان کو کوئی حاجت نہیں ہے تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one of you eats food he should lick his fingers, for he does not know in what part of the food sticking to his fingers the blessing lies
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص کھاناکھائے تو اپنی انگلیوں کو چاٹ لے ، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالنَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَمَا لِيَ لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَىِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا‏}‏ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ الآنَ ‏.‏ قَالَ اذْهَبِي فَانْظُرِي ‏.‏ قَالَ فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا فَجَاءَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا ‏.‏ فَقَالَ أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكِ لَمْ نُجَامِعْهَا ‏.‏
Abdullah reported that Allah had cursed those women who tattooed and who have themselves tattooed, those who pluck hair from their faces and those who make spaces between their teeth for beautification changing what God has created. This news reached a woman of the tribe of Asad who was called Umm Ya'qub and she used to recite the Holy Qur'an. She came to him and said:What is this news that has reached me from you that you curse those women who tattooed and those women who have themselves tattooed, the women who pluck hair from their faces and who make spaces between their teeth for beautification changing what God has created? Thereupon 'Abdullah said: Should I not curse one upon whom Allah's Messenger (ﷺ) has invoked curse and that is in the Book also. Thereupon that woman said: I read the Qur'an from cover to cover, but I did not find that in it. whereupon he said: If you had read (thoroughly) you would have definitely found this in that (as) Allah, the Exalted and Glorious, has said:" What Allah's Messenger brings for you accept that and what he has forbidden you, refrain from that." That woman said: I find this thing in your wife even now. Thereupon he said: Go and see her. She reported: I went to the wife of 'Abdullah but found nothing of this sort in her. She came back to him and said: I have not seen anything. whereupon he said: Had there been anything like it in her, I would have never slept with her in the bed
جریر نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر ( تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں ) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت ( پیدائش ) بدلنے والیوں پر ۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی ، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں ، اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے؟ وہ عورت بولی کہ میں تو دو جلدوں میں جس قدر قرآن تھا ، پڑھ ڈالا لیکن مجھے نہیں ملا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ ’ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بتلائے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو ‘ ( الحشر : 7 ) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعضی باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا ۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کے ساتھ مل کر نہ رہتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا لُبَابَةَ، يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ ‏
Nafi' reported that he heard Abu Lubaba informing Ibn 'Umar that Allah's Messenger (ﷺ) had forbidden the killing of domestic snakes
عبید اللہ نے کہا : مجھے نافع نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت ابولبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( گھریلو ) سانپوں کے مارنے سے منع فر ما یا ۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّاسَ، سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ ‏"‏ سَلُونِي لاَ تَسْأَلُونِي عَنْ شَىْءٍ إِلاَّ بَيَّنْتُهُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْقَوْمُ أَرَمُّوا وَرَهِبُوا أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَىْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالاً فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لاَفٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي فَأَنْشَأَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ كَانَ يُلاَحَى فَيُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ ‏"‏ أَبُوكَ حُذَافَةُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِنِّي صُوِّرَتْ لِيَ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَرَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that the people asked Allah's Apostle (ﷺ) until he was hard pressed. He went out one day and he occupied the pulpit and said:Ask me and I shall leave no question of yours unanswered for you, and when the people heard about it they were overawed, as if (something tragic) was going to happen. Anas said: I began to look towards the right and the left and (found) that every person was weeping wrapping his head with the cloth. Then a person in the mosque broke the ice and they used to dispute with him by attributing his fatherhood to another man than his own father. He said: Allah's Apostle, who is my father? He said: Your father is Hudhafa. Then 'Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) dared say something and said: We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our code of life and with Muhammad as our Messenger, seeking refuge with Allah from the evil of Turmoil. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Never did I see the good and evil as today. Paradise and Hell were given a visible shape before me (in this worldly life) and I saw both of them near this well
سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ لو گوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بہت زیادہ اور بے فائدہ ) سوالات کیےحتی کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سوالات سے تنگ کردیا ، تو ایک دن آپ باہر تشر یف لائے ، منبر پر رونق افروز ہو ئے اور فر ما یا : "" اب مجھ سے ( جتنے چاہو ) سوال کرو ، تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھو گے ، میں تم کو اس کا جواب دوں گا ۔ "" جب لوگوں نے یہ سنا تو اپنے منہ بند کر لیےاور سوال کرنے سے ڈر گئےکہ کہیں یہ کسی بڑے معاملے ( وعید ، سزا سخت حکم وغیرہ ) کا آغاز نہ ہو رہا ہو ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے دائیں بائیں دیکھا تو ہر شخص کپڑے میں منہ لپیٹ کررورہا تھا تو مسجد میں سے وہ شخص اٹھا کہ جب ( لوگوں کا ) اس سے جھگڑا ہو تا تھا تو اسے اس کے باپ کے بجا ئے کسی اور کی طرف منسوب کردیا جا تا تھا ( ابن فلا ں!کہہ کر پکا را جا تا تھا ) اس نے کہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرا باپ کون ہے ۔ ؟آپ نے فرما یا : "" تمھا را باپ حذافہ ہے ۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھے اور کہا : ہم اللہ کو رب ، اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مان کر راضی ہیں اور ہم برے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے والے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : خیر اور شر میں جو کچھ میں نے آج دیکھا ہے کبھی نہیں دیکھا ۔ میرے لیے جنت اور جہنم کی صورت گری کی گئی تو میں نے اس ( سامنے کی ) دیوارسےآگے ان دونوں کو دیکھ لیا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جُبَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَنَادِيلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏
Anas b Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) was presented a garment of sundus and he prohibited the use of silk. The persons admired it, whereupon he said:By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, the kerchiefs of Sa'd b. Mu'adh in Paradise are better than this
شیبان نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس ( باریک ریشم ) کا ایک جبہ ہدیہ کیاگیا ، حالانکہ آپ ریشم ( پہننے ) سے منع فرماتے تھے ، لوگوں کو اس ( کی خوبصورتی ) سے تعجب ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں محمد کی جان ہے!جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ اچھے ہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، جَمِيعًا عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters
روح بن قاسم اور سلیمان بن بلال نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔