حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ ثَلاَثِينَ آيَةً وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشَرَةَ آيَةً أَوْ قَالَ نِصْفَ ذَلِكَ وَفِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ .
Abu Sa'id al-Khudri reported:The Apostle of Allah (ﷺ) used to recite in every rak'ah of the first two rak'ahs of the noon prayer about thirty verses and in the last two about fifteen verses or half (of the first rak'ah) and in every rak'ah of the 'Asr prayer of the first two rak'ahs about fifteen verses and in the last two verses half (of the first ones)
۔ ابو عوانہ نے منصور سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قراءت فرماتے تھے اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا : اس ( پہلی دو ) سے نصف ۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو میں اس سے نصف ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ وَرَّادًا، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ - كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ - إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ حِينَ سَلَّمَ . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا . إِلاَّ قَوْلَهُ " وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " . فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ .
Warrad, the freed slave of Mughira b. Shu'ba, reported:Mughira b. Shu'ba wrote to Mu'awiya (it was Warrad who wrote this letter for him, i. e. Mughira): I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:" When the salutation is pronounced." and the rest of the hadith is the same except this that he made no mention of:" He is Potent over everything
ابن عون نے ابو سعید سے ، انھوں نے ورّاد سے ۔ جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کےکاتب تھے ۔ روایت کی ، کہا : معاویہ رضی اللہ عنہ نےمغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا ( مسئلہ دریافت کیا ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) منصور اور اعمش کی حدیث کے مطابق ( ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى " .
Ibn 'Umar reported that a person asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the night prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) said:Prayer during the night should consist of pairs of rak'ahs, but if one of you fears morning is near, he should pray one rak'ah which will make his prayer an odd number for him
نافع اور عبداللہ بن دینار نے حضرت ا بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " رات کی نمازدو رکعتیں ہیں ، جب تم میں سے کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے ، یہ اس کی پڑھی ہوئی ( تمام ) نماز کو وتر ( طاق ) بنادے گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ . فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ " مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ " . قَالُوا هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ . وَكَانُوا لاَ يَكْذِبُونَ . قَالَ " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَى بُيُوتِهِمْ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الأَنْصَارِ " .
Anas b. Malik reported:When Mecca was conquered, he (the Holy Prophet) distributed the spoils among the Quraish. Upon this the Ansar said: It is strange that our swords are dripping with their blood, whereas our spoils have been given to them (to the Quraish). This (remark) reached the Messenger of Allah (ﷺ), and so he gathered them and said: What is this that has been conveyed to me about you? They said: (Yes) it is that very thing that, has reached you and they were not (the people) to speak a lie. Upon this he said: Don't you like that the people should return to their houses along with worldly riches, whereas you should return to your houses with the Messenger of Allah? If the people were to tread a valley or a narrow path, and the Ansar were also to tread a valley or a narrow path, I would tread the valley (along with the) Ansar or the narrow path (along with the) Ansar
ابوتیاح سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : جب مکہ فتح ہوگیااور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی ) غنیمتیں قریش میں تقسیم کیں تو انصار نے کہا : یہ بڑے تعجب کی بات ہے ، ہماری تلواروں سے ان لوگوں کے خون ٹپک رہے ہیں اور ہمارے اموال غنیمت انھی کو دیے جارہے ہیں!یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جمع کیا اور فرمایا : " وہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ " انھوں نے کہا : بات وہی ہے جو آ پ تک پہنچ چکی ہےوہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم ( اس پر ) خوش نہ ہوگے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کراپنے گھروں کو لوٹو ۔ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار د وسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا انصار کی گھاٹی میں چلوں گا ۔ " ( انصار سے بھی یہی توقع ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ
Abu Ubaid, the freed slave of Ibn Azhar, reported:I observed Id along with Umar b. al-Khattab (Allah be pleased with him). He came (out in an open space) and prayed and (after) completing it addressed the people and said: The Messenger of Allah (ﷺ) has forbidden the observing of fast on these two days. One is the day of Fitr (at the end of your fasts), and the second one, the day when you eat (the meat) of your sacrifices
یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ابن شہاب ، حضرت ابو عبید مولی بن ازہر سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ میں عید کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس موجود تھا تو آپ آئے اور نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہوکر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ یہ وہ دن ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے کہ جس دن تم افطار کرتے ہو اور دوسرا وہ دن ہے کہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بِمِثْلِهِ .
The same hadith has been narrated by Ishaq b. Mansur on the authority of Jabir with another chain of transmitters
(قرہ کے بجائے ) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی : بے شک اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ...... ( آگے ) سابقہ روایت کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ فَقُلْتُ إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ الْعَامَ . فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ لَكِنْ أَبُوكَ لَمْ يَكُنْ لِيَهُمَّ بِذَلِكَ . قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ - رضى الله عنه - بِالرَّبَذَةِ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ .
Abd al-Rahman b. Abi al-Sha'tha' reported:I came to Ibrahim al-Nakha'I and Ibrahim Taimi and said: I intend to combine 'Umra and Hajj this year, whereupon Ibrahim al-Nakha'i said: But your father did not make such intention. Ibrahim narrated on the authority of, his father that he passed by Abu Dharr (Allah be pleased with him) at Rabdha, and made a mention of that, whereupon he said: It was a special concession for us and not for you
ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں جریر نے بیان سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن ابی شعشاء سے روایت کی ، کہا : میں ابراہیم نخعی اورابراہیم تیمی کے پاس آیا اور ان سے کہا : میں چاہتا ہوں کہ اس سال حج اور عمرے د ونوں کواکھٹا ادا کروں ۔ ابراہیم نخعی نے ( میری بات سن کر ) کہا : تمھارے والد ( ابو شعثاء ) تو کبھی ایسا ارادہ بھی نہ کرتے ۔ قتیبہ نے کہا : ہمیں جریر نے بیان سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابراہیم تیمی سے انھوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک ) سے روایت کی کہ ایک مرتبہ ان کا گزر ربذہ کے مقام پر حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سےہوا ، انھوں نے اس سے ، ( حج میں تمتع ) کا ذکر کیا ۔ حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : یہ تم لوگوں کو چھوڑ کر خاص ہمارے لئے تھا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، أَخْبَرَنَا أَبَانٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Salama with another chain of transmitters
ابان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی کہ انہیں محمد بن ابراہیم نے حدیث بیان کی ، انہیں ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، . قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَاتَلَ فِي ثَمَانٍ مِنْهُنَّ . وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ مِنْهُنَّ . وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ .
It has been narrated on the authority of Buraida (who heard the tradition from his father) that the Messenger of Allah (ﷺ) conducted nineteen military campaigns and he (actually) fought in eight of them
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زید بن حباب نے حدیث بیان کی ، نیز سعید بن محمد جرمی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوتمیلہ نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( زید اور ابوتمیلہ ) نے کہا : ہمیں حسین بن واقد نے عبداللہ بن بریدہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوے کیے ، آپ نے ان میں سے آٹھ میں لڑائی کی ۔ ابوبکر نے "" منهن "" ( ان میں سے ) روایت نہیں کیا اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ .
The tradition has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Qatada who said:A man came to the Messenger of Allah (ﷺ) while he was on the pulpit and said: Do you think if I am killed in the way of Allah... (except this difference in its beginning, the rest of the tradition is the same as the previous one)
یحییٰ بن سعید نے سعید بن ابی سعید مقبری سے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : آپ کیا فرماتے ہیں؟ اگر میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں ۔ ( آگے ) لیث کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَىْءٍ مِنْ شَأْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمُ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لْيَأْكُلْهَا وَلاَ يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي فِي أَىِّ طَعَامِهِ تَكُونُ الْبَرَكَةُ " .
Jabir reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: The Satan is present with any one of you in everything he does; he is present even when he eats food; so if any one of you drops a mouthful he should remove away anything filthy on it and eat it and not leave for the devil; and when he finishes (food) he should lick his fingers, for he does not know in what portion of his food the blessing lies
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : شیطان تم میں سے ہر ایک کی ہر حالت میں اس کے پاس حاضر ہوتاہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی ، جب تم میں سے کسی سے لقمہ گرجائے تو جو کچھ اسے لگ گیا ہے ۔ اسے صاف کرکے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب ( کھانے سے ) فارغ ہوتوا پنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعْرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَهَاهَا .
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that a woman came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:I have married my daughter (whose) hair of head have fallen. Her spouse likes them (the long hair). Allah's Messenger (may add false hair to her head? He forbade her to do this)
منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے ، اس کے بال جھڑ گئے ہیں ، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمادیا ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ " . قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ .
Salim, on the authority of his father. reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Kill the snakes having stripes over them and short-tailed snakes, for these two types cause miscarriage (of a pregnant woman) and they affect the eyesight adversely. So Ibn 'Umar used to kill every snake that he found. Abu Lubaba b. 'Abd al-Mundhir and Zaid b. Khattab saw him pursuing a snake, whereupon he said: They were forbidden (to kill) those snakes who live in houses
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : "" سانپوں کو قتل کردو اور ( خصوصاً ) دو سفید لکیروں والے اور دم بریدہ کو ، کیونکہ یہ حمل گرا دیتے ہیں اور بصارت زائل کردیتے ہیں ۔ "" ( سالم نے ) کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار ڈالتے ، ایک بارابولبابہ بن عبدالمنذر یا زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے تو انھوں نے کہا : لمبی مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو ( فوری طور پر ) ماردینے سے منع کیا گیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ السُّلَمِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ اللُّؤْلُؤِيُّ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، - أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَصْحَابِهِ شَىْءٌ فَخَطَبَ فَقَالَ " عُرِضَتْ عَلَىَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " . قَالَ فَمَا أَتَى عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمٌ أَشَدُّ مِنْهُ - قَالَ - غَطَّوْا رُءُوسَهُمْ وَلَهُمْ خَنِينٌ - قَالَ - فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا - قَالَ - فَقَامَ ذَاكَ الرَّجُلُ فَقَالَ مَنْ أَبِي قَالَ " أَبُوكَ فُلاَنٌ " . فَنَزَلَتْ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ}
Anas b. Malik reported that something was conveyed to him (the Holy prophet) about his Companions, so he addressed them and said:Paradise and Hell were presented to me and I have never seen the good and evil as (I did) today. And if you were to know you would have wept more and laughed less. He (the narrator) said: There was nothing more burdensome for the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) than this. They covered their heads and the sound of weeping was heard from them. Then there stood up 'Umar and he said: We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our code of life and with Muhammad as our Apostle, and it was at that time that a person stood up and he said: Who is my father? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Your father is so and so; and there was revealed the verse:" O you who believe, do not ask about matters which, if they were to be made manifest to you (in terms of law), might cause to you harm" (v)
نضر بن شمیل نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : ہمیں موسیٰ بن انس نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے بارے میں کو ئی بات پہنچی تو آپ نے خطبہ ارشاد فر ما یا, اور کہا : " جنت اور دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا ۔ میں نے خیر اور شر کے بارے میں آج کے دن جیسی ( تفصیلا ت ) کبھی نہیں دیکھیں ۔ جو میں جا نتا ہوں ، اگر تم ( بھی ) جان لو تو ہنسو کم اور روؤزیادہ ۔ " ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر اس سے زیادہ سخت دن کبھی نہیں آیا ۔ کہا : انھوں نے اپنے سر ڈھانپ لیے اور ان کے رونے کی آوازیں آنے لگیں ۔ کہا : تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو ئے اور کہا : ہم اللہ کے رب ہو نے ، اسلام کے دین ہو نے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہو نے پر راضی ہیں ۔ کہا : ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور پو چھا : میرا باپ کون تھا ؟آپ نے فر ما یا : " تمھارا باپ فلا ں تھا " اس پر آیت اتری : " اے ایمان لا نے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جا ئیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَجِنَازَتُهُ مَوْضُوعَةٌ - يَعْنِي سَعْدًا - " اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ " .
Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as say- ing:That his bier (that of Sa'd) was placed (before them) and the Throne of the most Compassionate shook
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ ان کے جنازے کی چار پائی رکھی ہوئی تھی ۔ ان کی مراد حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی ۔ فرمایا : " اس کی وجہ سے رحمان کا عرش جنبش میں آگیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الأَغَرِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعِزُّ إِزَارُهُ وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَاؤُهُ فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهُ " .
Abu Sa'id Khudri and Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Allah, the Exalted and Glorious, said: Glory is His lower garment and Majesty is His cloak and (Allah says, ) He who contends with Me in regard to them I shall torment him
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، دونون نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عزت اللہ عزوجل کا تہبند ہے اور کبریائی اس ( کے کندھوں ) کی چادر ہے ۔ جو شخص ان ( صفات ) کے معاملے میں میرے مدمقابل میں آئے گا ، میں اسے عذاب دوں گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ فِي الإِنْسَانِ عَظْمًا لاَ تَأْكُلُهُ الأَرْضُ أَبَدًا فِيهِ يُرَكَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالُوا أَىُّ عَظْمٍ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " عَجْبُ الذَّنَبِ " .
Abu Huraira reported so many ahadith from Allah's Apostle (ﷺ) and amongst these one was this that Allah's Messenger (ﷺ) said:There is a bone in the human being which the earth would never consume and it is from this that new bodies would be reconstituted (on the Day of Resurrection). They said: Allah's Messenger, which bone is that? Thereupon he said: It is the spinal bone
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ( ایک یہ ) ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " انسان کے جسم میں ایک ہڈی ہے جس کو مٹی کبھی نہ کھا سکے گی ، اسی میں ( سے ) قیامت کے دن اس کوپور ابنایا جائے گا ۔ " انھوں ( لوگوں ) نے پوچھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون سے ہڈی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " وہ دم کی ہڈی کا آخری سراہے ۔