حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَعْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُوكَ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ آذَنَتْهُ بِهِمْ شَجَرَةٌ .
Ma'n reported.. I heard it from my father who said:I asked Masruq who informed the Messenger of Allah (ﷺ) about the night when they heard the Qur'an. He said: Your father, Ibn Mas'ud, narrated it to me that a tree informed him about that
معن ( بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود ہذلی ) سے روایت ہے ، کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، کہا : میں نے مسروق سے پوچھا : جس رات جنوں نے کان لگا کر ( قرآن ) سنا ، اس کی اطلاع نبیﷺ کو کس نے دی؟ انہوں نے کہا : مجھے تمہارے والد ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے بتایا کہ آپ کو ان جنوں کی اطلاع ایک درخت نے دی تھی ۔ ( یہ آپﷺ کا معجزہ تھا ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي الأَحْمَرَ - عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
Ibn Numair narrated it with the same chain of transmitters and said:O Possessor of Glory and Honour
ابو خالد احمر نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور یا ذالجلال والاکرام ( یا کے اضافے کے ساتھ ) کہا ۔
وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا عَمِلَ عَمَلاً أَثْبَتَهُ وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً . قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلاَّ رَمَضَانَ .
A'isha reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) decided upon doing any act, he continued to do it, and when he slept at night or fell sick he observed twelve rak'ahs during the daytime. I am not aware of Allah's Messenger (ﷺ) observing prayer during the whole of the night till morning, or observing fast for a whole month continuously except that of Ramadan
شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو اس کو برقراررکھتے اور جب آپ رات سوتے رہ جاتے یا بیمار ہوجاتے تو آپ دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( کبھی ) نہیں دیکھا کہ آپ نے ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہواور نہ ( کبھی ) آپ نے رمضان کے سوا مسلسل مہینے بھر کے روزے رکھے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أُنَاسًا، مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِي رِجَالاً مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الإِبِلِ فَقَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ . قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَحُدِّثَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ قَوْلِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ " . فَقَالَ لَهُ فُقَهَاءُ الأَنْصَارِ أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالاً حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَفَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ " . فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا . قَالَ " فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ " . قَالُوا سَنَصْبِرُ .
Anas b. Malik reported that when on the Day of Hunain Allah conferred upon His Apostle (ﷺ) the riches of Hawazin (without armed encounter), the Messenger of Allah (ﷺ) set about distributing to some persons of Quraish one hundred camels Upon this they (the young people from the Ansar) said:May Allah grant pardon to the Messenger of Allah (ﷺ) that he bestowed (these camels) upon the people of Quraish, and he ignored us, whereas our swords are still dripping blood. Anas b. Malik said: Their statement was conveyed to the Messenger of Allah (ﷺ) and he sent (someone) to the Ansar and gathered them under a tent of leather. When they had assembled, the Messenger of Allah (ﷺ) came to them and said: What is this news that has reached me from you? The wise people of the Ansar said: Messenger of Allah, so far as the sagacious amongst us are concerned they have said nothing, but we have amongst us persons of immature age; they said: May Allah grant pardon to the Messenger of Allah (ﷺ) that he gave to the Quraish and ignored us (despite the fact) that our swords are besmeared with their blood. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: I give (at times material gifts) to persons who were quite recently in the state of unbelief, so that I may incline them to truth Don't you feel delighted that people should go with riches, and you should go back to your places with the Messenger of Allah? By Allah, that with which you would return is better than that with which they would return. They said: Yes, Messenger of Allah, we are pleased. The Prophet said too: You would find marked preference (in conferring of the material gifts) in future, so you should show patience till you meet Allah and His Messenger and I would he at the Haud Kauthar. They said: We would show patience
یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ حنین کےدن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور فے ( قبیلہ ) ہوازن کے وہ اموال عطا کیے جو عطا کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو سوسو اونٹ دینے شروع کیے تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے!آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں ، حالانکہ ہماری تلواریں ( ابھی تک ) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ان کی باتوں میں سے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئیں تو آپ نے انصار کو بلوا بھیجا اور انھیں چمڑے کے ایک ( بڑے ) سائبان ( کے سائے ) میں جمع کیا ، جب وہ سب اکھٹے ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : "" یہ کیا بات ہے جو مجھے تم لوگوں کی طرف سے پہنچی ہے؟ "" انصار کے سمجھدار لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے اہل رائے تو کچھ نہیں کہا ، البتہ ہم میں سے ان لوگوں نے ، جو نو عمر ہیں ، یہ بات کہی ہے کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے ، وہ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کررہے ہیں ، حالانکہ ہماری تلواریں ( ابھی تک ) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں ان کو دے رہاہوں جو کچھ عرصہ قبل تک کفر پر تھے ، ایسے لوگوں کی تالیف قلب کرناچاہتا ہوں ، کیا تم اس پر راضی نہیں ہوکہ لوگ مال ودولت لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھروں کی طرف لوٹو؟اللہ کی قسم! جو کچھ تم لے کر واپس جارہے ہو وہ اس سے بہت بہتر ہے جسے وہ لوگ لے کر لوٹ رہے ہیں ۔ "" تو ( انصار ) کہنے لگے : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ( بالکل ) راضی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بے شک تم ( اپنی نسبت دوسروں کو ) بہت زیادہ ترجیح ملتی دیکھو گے تو تم ( اس پر ) صبرکرنا یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آملو ۔ میں حوض پرہوں گا ( وہیں ملاقات ہوگی ۔ ) "" انصار نے کہا : ہم ( ہر صورت میں صبر ) صبر کریں گے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، - لَعَلَّهُ قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لأَصُومَنَّ التَّاسِعَ " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ .
Abdullah b 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:If I live till the next (year), I would definitely observe fast on the 9th, and the narration transmitted by Abu Bakr is:" He meant the day of Ashura
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، وکیع ، ابن ابی ذئب ، قاسم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں آنے والے سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی ضرور روزہ رکھوں گا اور ابو بکر کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا عاشورہ کے دن کا روزہ ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ " .
It is narrated on the authority of 'Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:He who has in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise
(یحییٰ کے بجائے ) شعبہ کے ایک اور شاگرد ابو داؤد نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایسا شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ - رضى الله عنهما - بِعُسْفَانَ فَكَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَنْهَى عَنْهُ فَقَالَ عُثْمَانُ دَعْنَا مِنْكَ . فَقَالَ إِنِّي لاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِيٌّ ذَلِكَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا .
Sa'id b. al-Musayyab reported that 'Ali and 'Uthman (Allah be pleased with them) met at 'Usfan; and Uthman used to forbid (people) from performing Tamattu' and 'Umra (during the period of Hajj), whereupon 'Ali said:What is your opinion about a matter which the Messenger of Allah (ﷺ) did but you forbid it? Thereupon Uthman said: You leave us alone, whereupon he ('Ali) said: I cannot leave you alone. When 'Ali saw this, he put on Ihram for both of them together (both for Hajj and 'Umra)
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا : ( ایک مرتبہ ) مقام عسفان پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکھٹے ہوئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع سے یا ( حج کے مہینوں میں ) عمرہ کرنے سے منع فرماتے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا : آپ اس معاملے میں کیا کرنا چاہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے ہیں؟حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : آپ اپنی ر ائے کی بجائے ہمیں ہماری رائے پر چھوڑ دیں ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( آپ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کےخلاف حکم دے رہے ہیں ) میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ( اصرار ) دیکھا توحج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پکارنا شروع کردیا ( تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تمتع بھی رائج رہے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَرْوَى بِنْتَ أُوَيْسٍ، ادَّعَتْ عَلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا فَخَاصَمَتْهُ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ . فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا كُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ " . فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ لاَ أَسْأَلُكَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا . فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَعَمِّ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا . قَالَ فَمَا مَاتَتْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهَا ثُمَّ بَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ .
Hisham b. Urwa reported on the authority of his father (Allah be pleased with him) that Arwa bint Uwais disputed with Sa'id b. Zaid that he had seized some of the land belonging to her. She brought this dispute before Marwan b. al-Hakam. Sa'id said:How could I take a part of her land, after what I heard from Allah's Messenger (may peace be upon'him)? He (Marwan) said: What did you hear from Allah's Messenger (ﷺ)? He said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say: He who wrongly took a span of land would be made to wear around his neck seven earths. Marwan said: I do not ask any evidence from you after this. He (Sa'id) said: O Allah, make her blind if she has told a lie and kill her in her own land. He (the narrator) said: She did not die until she had lost her eyesight, and (one day) as she was walking in her land, she fell down into a pit and died
حماد بن زید نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ارویٰ بنت اویس نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے خلاف دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور مروان بن حکم کے پاس مقدمہ لے کر گئی تو حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں اس بات کے بعد بھی اس کی زمین کے کسی حصے پر قبضہ کر سکتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ اس ( مروان ) نے کہا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس نے ( عام یا کسی کی ) زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم سے حاصل کی اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا ۔ " تو مروان نے ان سے کہا : اس کے بعد میں آپ سے کسی شہادت کا مطالبہ نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد انہوں ( سعید ) نے کہا : اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اسے اس کی زمین ہی میں ہلاک کر دے ۔ ( عروہ نے ) کہا : وہ ( اس وقت تک ) نہ مری یہاں تک کہ اس کی بینائی ختم ہو گئی ، پھر ایک مرتبہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں جا گری اور مر گئی ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
A similar tradition has been narrated on the authority of Hisham b. Hassan through a different chain of transmitters
یزید بن ہارون نے ہشام بن حسان سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ وَإِسْحَاقَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ " .
It has been narrated on the authority of Abu Ayyub that the Messenger of Allah (ﷺ) said:A journey undertaken in the morning or evening (for Jihad) in the way of Allah is better than (anything) on which the sun rises or sets
عبداللہ بن یزید مقری نے سعید بن ابی ایوب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے شرجیل بن شریک معافری نے ابوعبدالرحمٰن حُبلی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں ایک بار صبح کو یا شام کو نکلنا ( یا پہرہ دینا ) ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّحَدَّثَاهُ - أَوْ، أَحَدُهُمَا - عَنْ أَبِيهِ، كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been reported on the authority of Ka'b b. Malik through another chain of transmitters
۔ ( عبداللہ ) ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے عبدالرحمان بن سعد سے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان بن کعب بن مالک اورعبداللہ بن کعب دونوں نے ۔ ۔ ۔ یا ان میں سے ایک نے ۔ ۔ ۔ اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کےمانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ، بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ " . قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ " غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الأَذَى وَرَدُّ السَّلاَمِ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
Abu Sa'id Al-Khudri reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Avoid sitting on the paths. They (his Companions) said: Allah's Messenger, there is no other help to it (but to sit there as we) hold our meetings and discuss matters there. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: If you have to sit at all, then fulfil the rights, of the path. They said: What are their rights? Thereupon he said: Keeping the eye downward (so that you may not stare at the women), refraining from doing some harm to the other and exchanging mutual greetings (saying as-Salamu 'Alaikum to one another) and commanding the good and forbidding the evil
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " راستوں میں بیٹھنے سے بچو ۔ " لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھے بغیر چارہ نہیں وہی ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر تم بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا ( جہاں مجلس ہے ) حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے پو چھا : راستے کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " نگا ہیں جھکا کر رکھنا ( چلنے والوں کے لیے ) تکلیف کا سبب بننے والی چیزوں کو ہٹانا سلام کا جواب دینا ، اچھی بات کا حکم دینا اور برا ئی سے روکنا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَىْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً " .
Safiyya reported from some of the wives of Allah's Apostle (ﷺ) Allah's Apostle (ﷺ) having said:He who visits a diviner ('Arraf) and asks him about anything, his prayers extending to forty nights will not be accepted
۔ ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ ) صفیہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فرما یا : " جو شخص کسی غیب کی خبر یں سنا نے والے کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو چالیس راتوں تک اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي كِلاَهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، كُلُّهُمْ قَالَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ " . وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ " مَا تُرِكْتُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " . ثُمَّ ذَكَرُوا نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
This hadith has been narrated by Abu Huraira through a different chain of transmitters (and the words are) that he reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:Abandon that which I have asked you to abandon, for the people before you went to their doom (for asking too many questions)
ابو صالح ، اعرج ، محمد بن زیاد اور ہمام بن منبہ ، سب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ( آپ نے فرمایا : ) " جب تک میں تمھیں چھوڑ رکھوں ( کو ئی حکم نہ دوں ) تم بھی مجھے چھوڑ ے رکھو ( خواہ مخواہ کے سوال مت کرو ) " اور ہمام کی حدیث میں ہے ۔ " جب تک تمھیں چھوڑ دیا جا ئے ، کیونکہ وہ لو گ جو تم سے پہلے تھے ( کثرت سوال سے ) ہلا ک ہو گئے ۔ پھر انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ سے زہری کی حدیث کی طرح ( آگے ) بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ { لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} " . قَالَ وَسَمَّانِي قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ فَبَكَى .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to Ubayy b. Ka'b:I have been commanded to recite to you the Sura (al- Bayyinah) which opens with these words (Lam Yakunil-ladhiyna Kafaruu) He said: Has he mentioned to you my name? He said: Yes; thereupon he shed tears of joy
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ن حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے ( قرآن مجید کی یہ سورت ) : ﴿لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ ( البینہ 1 : 98 ) تلاوت کروں ۔ ( حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟آپ نے فرمایا : " ہاں ۔ " تو وہ ( حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) رونے لگے ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ، جَمِيعًا عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ جُوَيْرِيَةَ .
The above hadith is narrated through another chain of transmitters with the same meaning
امام مالک بن انس نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، جویریہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ مَرَّ غُلاَمٌ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يُؤَخَّرْ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
Anas reported:A young boy of Mughira b. Shu'ba happened to pass by (the Holy Prophet) and he was of my age. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: If he lives long he would not grow very old till the Last Hour would come (to the old people of this generation)
قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ( اس وقت ) حضرت مغیرہ بن شعبہ کا ایک لڑکا گزرا جو میرے ہم عمروں میں سے تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اس کو مہلت ملی تو اسے بڑھاپا نہیں آیا ہوگا کہ ( تم پر ) قیامت آجائے گی ۔