حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَهُ .
Abdullah (b. Mas'ud) said:I was not with the Messenger of Allah (ﷺ) but I wish I were with him
(شعبی کے بجائے ) ابراہیم ( نخعی ) نے علقمہ سے اور انہوں نے عبد اللہ سے روایت کی ، کہا : میں لیلۃ الجن کو رسول اللہﷺ کے ساتھ نہ تھا اور میری خواہش تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلاَّ مِقْدَارَ مَا يَقُولُ " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ " يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ " .
A'isha reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) pronounced salutation, he salutation longer than it took him to say: O Allah: Thou art Peace, and peace comes from Thee, blessed art Thou, Possessor of Glory and ]Honour; and in the narration of Ibn Numair the words are:" O Possessor of Glory and Honour
ابو بکر بن ابی شبیہ اور ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا ہمیں ابو معاویہ نے عاصم سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن حارث سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی ، کہا رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد صرف یہ ذکر پڑھنے تک ہی ( قبلہ رخ ) بیٹھتے : اللہم ! انت السلام ومنک السلام تبارکت ذاالجلال والاکرام ’’اے اللہ ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے ، تو صاحب رفعت وبرکت ہے ، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے ! ‘ ‘ ابن نمیر کی روایت میں : یا ذالجلال والاکرام ( یا کے اضافے کے ساتھ ) ہے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلاَةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً .
A'isha reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) missed the night prayer due to pain or any other reason, he observed twelve rak'ahs during the daytime
ابوعوانہ نے قتادہ سے ، انھوں نے زراہ بن اوفیٰ سے ، انھوں نے سعد بن ہشام سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ کی رات کی نماز بیماری یا کسی اور وجہ سے رہ جاتی تو دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ - يَعْنِي حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَا - فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ثُمَّ قَالَ " أَقِتَالاً أَىْ سَعْدُ إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ " .
This hadith has been narrated on the authority of Muhammad b. Sa'd through another chain of transmitters (and the words are):" The Messenger of Allah (ﷺ) struck between my neck and shoulder with his hand and said: Do you wrangle, O Sa'd, because I bestow (some gifts) upon a person?
محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں یعنی زہری مذکورہ با لا حدیث انھوں نے اپنی حدیث میں کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے در میان اپنا ہا تھ مارا اور فر ما یا : " جنگ کر رہے ہو؟ اے سعد !میں ایک شخص کو دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ( آگے اسی طرح ہے جس طرح پہلی روایت میں ہے)
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، - قَالَ مِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرِيَاءَ " .
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Mas'ud that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:None shall enter the Fire (of Hell) who has in his heart the weight of a mustard seed of Iman and none shall enter Paradise who has in his heart the weight of a mustard seed of pride
اعمش نے ابراہیم نخعی سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر میں ایمان ہے ، آگ میں داخل نہ ہو گا اور کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہے ، جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، بْنَ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَقُولُ حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ " . قَالَ فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
Ibn 'Abbas reported that when the Messenger of Allah (ﷺ) fasted on the day of 'Ashura and commanded that it should he observed as a fast, they (his Companions) said to him:Messenger of Allah, it is a day which the Jews and Christians hold in high esteem. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: When the next year comes, God willing, we would observe fast on the 9th But the Messenger of Allah (ﷺ) died before the advent of the next year
حسن بن علی حلوانی ، ابن ابی مریم ، یحییٰ بن ایوب ، اسماعیل بن امیہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس دن تو یہودی اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters
خالد ، یعنی ابن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی ، ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّحَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّ أَرْوَى، خَاصَمَتْهُ فِي بَعْضِ دَارِهِ فَقَالَ دَعُوهَا وَإِيَّاهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . اللَّهُمَّ إِنْ كَانَتْ كَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِي دَارِهَا . قَالَ فَرَأَيْتُهَا عَمْيَاءَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ . فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشِي فِي الدَّارِ مَرَّتْ عَلَى بِئْرٍ فِي الدَّارِ فَوَقَعَتْ فِيهَا فَكَانَتْ قَبْرَهَا.
Sa'id b. Zaid b. 'Amr b. Nufail (Allah be pleased with them) reported that Arwi (bint Uwais) disputed with him (in regard to a part of the land) of his hodse. He said:Leave it and take off your claim from it, for I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who took a span of land without his right would be made to wear around his neck seven earths on the Day of Resurrection. He (Sa'id b. Zaid) said: O Allah, make her blind if she has told a lie and make her grave in her house. He (the narrator) said: I saw her blind groping (her way) by touching the walls and saying: The curse of Sa'id b. Zaid has hit me. And it so happened that as she was walking in her house, she passed by a well in her house and fell therein and that be- came her grave
عمر بن محمد کے والد ( محمد بن زید ) نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ارویٰ نے ان کے ساتھ گھر کے کسی حصے کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا : اسے اور گھر کو چھوڑ دو ، ( جو چاہے کرتی رہے ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، آپ فرما رہے تھے : "" جس نے حق کے بغیر ایک بالشت زمین بھی حاصل کی ، قیامت کے دن وہ سات زمینوں ( تک ) اس کی گردن کا طوق بنا دی جائے گی ۔ "" ( پھر اس کی ایذا رسانی سے تنگ آ کر انہوں نے دعا کی : ) اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کے گھر ہی میں اس کی قبر بنا دے ۔ ( محمد بن زید نے ) کہا : میں نے اس عورت کو دیکھا وہ اندھی ہو گئی تھی ، دیواریں ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی : مجھے سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے ۔ ایک مرتبہ وہ گھر میں چل رہی تھی ، گھر میں کنویں کے پاس سے گزری تو اس میں گزر گئی اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَى وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى
It has been narrated on the authority of Umm 'Atiyya, the Ansarite, who said:I took part with the Messenger of Allah (ﷺ) in seven battles. I would stay behind in the camp of men, cook their food, treat the wounded and nurse the sick
عبدالرحیم بن سلیمان نے ہمیں ہشام ( بن حسان ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی ، میں پیچھے ان کے خیموں میں رہتی تھی ، ان کے لیے کھانا تیار کرتی ، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ذَكْوَانَ، بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنْ أُمَّتِي " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ " وَلَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (ﷺ) said:If some persons of my Umma (were not to undertake the hardships of Jihad), and he (Abu Huraira) then narrated the rest of the hadith and then said: A journey undertaken for jihad in the evening or morning merits a reward better than the world and all that is in it
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر میری حالت میں ایسے لوگ نہ ہوتے ۔ " ( جو جہاد پر جانے کے لیے انتہائی ضروری سامان مہیا نہیں کر سکتے اور نہ میں ان کے لیے مہیا کر سکتا ہوں ) پھر آپ نے گفتگو فرمائی ، اس میں آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں صبح کا ایک سفر کرنا یا شام کا ایک سفر کرنا دنیا و ما فہیا سے بہتر ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ سَعْدٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، - أَوْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ - أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، كَعْبٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْكُلُ بِثَلاَثِ أَصَابِعَ فَإِذَا فَرَغَ لَعِقَهَا .
Abdullah b. Ka'b reported that his father Ka'b narrated to him that Allah's Messenger (ﷺ) used to eat with three fingers and when he had finished (eating), he licked them
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے عبدالرحمان بن سعد سے حدیث بیا ن کی کہ عبدالرحمان بن کعب ۔ یا عبداللہ بن کعب ۔ نے اپنے والد کعب ( بن مالک ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے ان کو حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سےکھاتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے توان کو چاٹ لیتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ، زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters
ایوب اور عبد الرحمٰن سراج نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ، شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ - كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ، قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ مِنَ الأَنْصَارِ وَفِي حَدِيثِ الأَوْزَاعِيِّ " وَلَكِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ " . وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ " وَلَكِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ " . وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ وَقَالَ اللَّهُ " حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ " . وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ كَمَا قَالَ الأَوْزَاعِيُّ " وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ " .
The hadith has been narrated on the authority of Zuhri through the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
اوزاعی ، یونس اور معقل بن عبید اللہ سب نے زہری سے ، اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر یونس نے کہا : عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : مجھے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے خبر دی اور اوزاعی کی حدیث میں ہے ۔ لیکن وہ اس میں جھوٹ ملا تے ہیں اور بڑھا تے ہیں ۔ " اور یونس کی حدیث میں ہے : " لیکن وہ اونچا لے جا تے ہیں ( مبا لغہ کرتے ہیں ) اور بڑھاتے ہیں ۔ " یونس کی حدیث میں مزید یہ ہے : اللہ تعا لیٰ نے فر ما یا : یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے ہیبت اور ڈر کو ہٹا لیا جا تا ہے تو وہ کہتے ہیں ۔ تمھا رے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں ۔ حق کہا ۔ اور معقل کی حدیث میں اسی کی طرح ہے جس طرح اوزاعی نے کہا : " لیکن وہ اس میں جھوٹ ملا تے ہیں ۔ اور اضافہ کرتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، - وَهُوَ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ - أَخْبَرَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَاءً .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters
یزید بن ہاد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُبَىٍّ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ " . قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ قَالَ " اللَّهُ سَمَّاكَ لِي " . قَالَ فَجَعَلَ أُبَىٌّ يَبْكِي .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to Ubayy:Verily Allah, the Exalted and Glorious, has commanded me to recite the Qur'an to you, whereupon he said: (Has) Allah mentioned my name to you? He said: Allah has mentioned your name to me. Thereupon he began to shed tears (of joy)
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا؛ " اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھارے سامنے قرآن مجید پڑھوں ۔ " حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے میرا نام لے کرکہا؟آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے تمھارا نام لیا ۔ " اس پر حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر گریہ طاری ہوگیا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ أَسْمَاءَ - عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لاَ هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ هِيَ حَبَسَتْهَا وَلاَ هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ " .
Abdullah reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:A woman was tormented because of a cat which she had confined until it died and she had to get into Hell. She did not allow it either to eat or drink as it was confined, nor did she free it so that it might eat the vermin of the earth
جویریہ بن اسماء نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ، اس نے بلی کو باندھے رکھا حتی کہ وہ مر گئی تو وہ اسی وجہ سے جہنم میں داخل ہو گئی ، کیونکہ جب اس نے بلی کو باندھا تو نہ اس کو کھلایا ، نہ پلایا اور نہ اس کو چھوڑا کہ وہ ( خود ہی ) زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ هِلاَلٍ الْعَنَزِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُنَيْهَةً ثُمَّ نَظَرَ إِلَى غُلاَمٍ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ فَقَالَ " إِنْ عُمِّرَ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . قَالَ قَالَ أَنَسٌ ذَاكَ الْغُلاَمُ مِنْ أَتْرَابِي يَوْمَئِذٍ .
Anas b. Malik reported that a person asked Allah's Apostle (ﷺ):When would the Last Hour come? Thereupon Allah's Messenger (way peace be upon him) kept quiet for a while. Then looked at a young boy in his presence belonging to the tribe of Azd Shanu'a and he said: If this boy lives he would not grow very old till the Last Hour would come to you. Anas said that this young boy was of our age during those days
معبد بن ہلال عنزی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : قیامت کب قائم ہوگی؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر خاموش رہے ، پھر آپ نے اپنے سامنے بیٹھے اذدشنو ، کے ایک لڑکے کی طرف نظر کی ، پھر فرمایا؛ "" اگر یہ لڑکا لمبی عمر پاگیا تو اسے بڑھایا نہیں آیا ہوگا کہ ( تمہاری ) قیامت قائم ہوجائےگی ۔ "" ( معبد نے ) کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : وہ لڑکا اس دن میرا ہم عمر تھا ۔