وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ . قَالَ الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ . إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ مُفَصَّلاً مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ .
This hadith has been reported by Dawud with the same chain of transmitters up to the word (s):" The traces of their embers." Sha'bi said: They (the Jinn) asked about their provision, and they were the Jinn of al-jazira, up to the end of the hadith, and the words of Sha'bi have been directly transmitted from the hadith of Abdullah
۔ اسماعیل بن ابراہیم نے داؤد سے اسی سند کے ساتھ وآثار نيرانهم ( ان کی آگ کے نشانات ) تک بیان کیا ۔ شعبی نے کہا : جنوں نے آپ سے خوراک کا سوار کیا اور وہ جزیرہ کے جنوں میں سے تھے ... حدیث کے آخری حصے تک جو شعبی کا قول ہے ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے الگ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، - فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ " قُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " . قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ بَلَغَنِي أَنَّ طَاوُسًا قَالَ لاِبْنِهِ أَدَعَوْتَ بِهَا فِي صَلاَتِكَ فَقَالَ لاَ . قَالَ أَعِدْ صَلاَتَكَ لأَنَّ طَاوُسًا رَوَاهُ عَنْ ثَلاَثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ أَوْ كَمَا قَالَ .
Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to teach them this supplication (in the same spirit) with which he used to teach them a surah of the Qur'an. He would thus instruct us:"Say, O Allah, we seek refuge with Thee from the torment of Hell. And I seek refuge with Thee from the torment of the grave, and I seek refuge with Thee from the trial of al-Masih ad-Dajjal, and I seek refuge with Thee from the trial of life and death." Muslim b. Hajjaj said: It has reached me that Tawus said to his son: Did you make this supplication in prayer? He said: No. (Upon this) he (Tawus) said: Repeat the prayer. Tawus has narrated this hadith through three or four (transmitters) with words to the same effect
طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ان ( سب صحابہ ) کو اس دعا کی تعلیم اسی طرح دیتے تھے جس طرح انھیں قرآن مجید کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔ آپ فرماتے تھے : ’’سب کہو : اے اللہ ! ہم جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتے ہیں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ‘ ‘ امام مسلم نے کہا مجھے یہ بات پہنچی کہ طاوس نے اپنے بیٹے سے پوچھا : کیا تم نے اپنی نماز میں یہ دعا مانگی ہے ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ اس پرطاوس نے کہا : دوبارہ نماز پرھو کیونکہ انھوں نے ( حدیث میں مذکور ) یہ دعا تین یا چار صحابہ سے روایت کی یا جیسے انھوں نے کہا ۔ ( یعنی جتنے صحابہ سے انھوں نے کہا ۔)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْوِتْرِ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَقَالَ فِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ ابْنُ عَامِرٍ . قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ .
Sa'd b. Hisham reported:I went to 'Abdullah b. 'Abbas and asked him about the Witr prayer, and the rest of the hadith is the same as recorded in this event. She (Hadrat 'A'isha) said: Who is that Hisham? I said: Son of 'Amir. She said: What a fine man 'Amir was! He died as a martyr in the Battle of Uhud
محمد بن بشر نے کہا : ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے حدیث سنائی ، کہا : ہم سے قتادہ نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے زراہ بن اوفیٰ سے اور انھوں نے سعد بن ہشام سے رویت کی کہ انھوں نے کہا : میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےپاس گیا اور ان سے وتر کےبارے میں سوال کیا ۔ ۔ ( اس کے بعد ) انھوں نے اپنے پورے قصے سمیت حدیث بیان کی اور اس میں کہا : انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : کون ہشام؟میں نے عرض کی : عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے ۔ انھوں نے کہا : عامر بہت اچھے انسان تھے اُحد کے دن شہید ہوئے ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، سَعْدٍ أَنَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ رَجُلاً لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا . قَالَ " أَوْ مُسْلِمًا " . فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا . قَالَ " أَوْ مُسْلِمًا " . فَسَكَتُّ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا . قَالَ " أَوْ مُسْلِمًا " . قَالَ " إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ . وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " . وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانِيِّ تَكْرَارُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ .
Sa'd reported that the Messenger of Allah (ﷺ) bestowed (some gifts) upon a group of people and I was sitting amongst them. The Messenger of Allah (ﷺ), however, left a person and he did not give him anything. and he seemed to me the most excellent among them (and thus deserved the gifts more than anyone else). So I stood up before the Messenger of Allah (ﷺ) and said to him in undertone:Messenger of Allah, what about so and so? By Allah, I find him a believer. He (the Messenger of Allah) said: He may be a Muslim. I kept quiet for a short while, and then what I knew of him urged me (to plead his case again) and I said: Messenger of Allah, what about so and so? By Allah, I find him a believer. Upon this he (the Holy Prophet) said: He may be a Muslim. I again remained quiet for a short while, and what I knew of him again urged me (to plead his case so I) said: Messenger of Allah, what about so and so? By Allah, I find him a believer. Upon this he (the Holy Prophet) said: He may be a Muslim. I often bestow (something) upon a person, whereas someone else is dearer to me than he, because of the fear that he may fall headlong into the fire. And in the hadith transmitted by Hulwani this statement was repeated twice
حسن بن علی حلوانی اور عبدبن حمید نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابرا ہیم بن سعد نے حدیث سنا ئی کہا میرے والد نے ہمیں صالح سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن شہاب سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا جبکہ میں بھی ان میں بٹھا ہوا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اس کو نہ دیا ۔ وہ میرے لیے ان سب کی نسبت زیادہ پسندیدہ تھا میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور ازداری کے ساتھ آپ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا وجہ ہے آپ فلا ں سے اعراض فر ما رہے ہیں ؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مو من سمجھتا ہوں آپ نے فر ما یا : " یا مسلمان ۔ میں کچھ دیر کے لیے چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر گالب آگئی اور میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا وجہ ہے کہ فلا ں کو نہیں دے رہے ؟اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فر ما یا مسلمان ۔ " اس کے بعد میں تھوڑی دیر چپ رہا پھر جو میں اسکے بارے میں جا نتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی میں نے پھر عرض کی : فلاں سے آپ کے اعراض کا سبب کیا ہے اللہ کی قسم! میں تو اسے مو من سمجھتا ہوں آپ نے فر ما یا : " مسلما ۔ " ( پھر ) آپ نے فر ما یا : " میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوبہو تا ہے اس ڈر سے ( دیتا ہوں ) کہ وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جا ئے اور حلوانی کی حدیث میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فر ما ن " یا مسلمان کا ) تکرا ر دوبارہے ( تین بار نہیں ۔)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has also been transmitted on the authority of Sa'd b. Ibrahim with this chain of narrators
شعبہ اور سفیان نے بھی سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ، قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ . فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلاَلَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا . قُلْتُ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ قَالَ نَعَمْ .
Hakam b. al-'Araj reported:I went to Ibn 'Abbas (Allah be Pleased with both of them) and he was reclining using his mantle as a pillow near the fountain of Zamzam. I said to him: Tell me about fasting on Ashura. He said: When you see the new moon of Muharram then count the (days) and observe fast on the 9th. I said to him: Is it how the Messenger of Allah (ﷺ) observed the fast? He said: Yes
ابو بکر بن ابی شیبہ ، وکیع بن جراح ، حاجب ابن عمر ، حضرت حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم ( کے قریب ) اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورے کے روزے کے بارے میں خبر دیجئے انہوں نے فرمایا کہ جب تو محرم کا چانددیکھے تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ .
Abu Musa, (Allah be pleased with him) reported that he used to deliver religious verdict in favor of Hajj Tamattu'. A person said to him:Exercise restraint in delivering some of your religious verdicts, for you do not know what the Commander of Believers has introduced in the rites (of Hajj) after you (when you were away in Yemen). He (Abu Musa, ) met him (Hadrat Umar) subsequently and asked him (about it), whereupon 'Umar said: I know that Allah's Apostle (May peace be upon him) and also his Companions did that (observed Tamattu'), but I do not approve that the married persons should have intercourse with their wives under the shade of the trees, and then set out for Hajj with water trickling down from their heads
ابراہیم بن ابی موسیٰ نے حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ حج تمتع ( کرنے ) کافتویٰ دیاکرتے تھے ، ایک شخص نے ان سے کہا : اپنےبعض فتووں میں زرا رک جاؤ ، تم نہیں جانتے کہ اب امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مناسک ( حج ) کے متعلق کیا نیا فرمان جاری کیا ہے ۔ بعد میں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے دریافت کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( حکم صادر ) کیا ، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اس پرعمل ) کیا ، لیکن مجھے یہ بات ناگوارمعلوم ہوئی کہ لوگ عرفات کے پاس وادی عرفہ کے قریب اراک مقام میں ( یا پیلو کے درختوں کی اوٹ میں ) اپنی عورتوں کےساتھ لطف اندوز ہوتے رہیں ۔ پھر جب وہ ( آٹھ ذوالحجہ یوم الترویہ کی ) صبح حج کے لئے چلیں تو ( غسل جنابت کریں اور ) ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transrmitters
سفیان بن عیینہ ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ قَيْسًا، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْلاَ أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ نَتْنٍ يَقَعُ فِيهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلاَ نُعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مَنْ هُمْ وَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُمْ نَحْنُ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَسَأَلْتَ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَدُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ فَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ وَسَأَلْتَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلاَ تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلاَمِ حِينَ قَتَلَهُ وَسَأَلْتَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلاَّ أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ
It has been narrated on the anthority of Yazid b. Hurmuz who said:Najda wrote to Ibn Abbas. I was sitting in the company of Ibn 'Abbas when he read his letter and wrote its reply. Ibn Abbas said: Were it not for preventing him from falling into wickedness. I would not have replied to his letter, may he never be joyful. He wrote in reply to him referring to the share of the close relatives (of the Holy Prophet) (from the booty) whom God has mentioned. (I have to tell you that) we thought we were the close relatives of the Messenger of Allah (ﷺ), but our people have refused to recognise us as such. You have asked about the orphan as to when his orphanhood comes to an end. (I have to say that) when he reaches the age of marriage, attains maturity of mind, and his property is returned to him, then he is no longer an orphan. You have inquired whether the Messenger of Allah (may peace be upo him) used to kill anyone from the children of the polytheists in the war. (You should know that) the Messenger of Allah (ﷺ) used not to kill any one of their children, and you (too) should not kill any one of them, except when you knew about them what Khadir had known about the boy whom he killed. And you have inquired whether there is a fixed share of the booty for women and slaves when they participate in a battle. (I have to tell you that) there is no fixed share for them except that they will be given some reward from the spoils of war
قیس بن سعد نے مجھے یزید بن ہرمز سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا تو میں اس وقت ، جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کا خط پڑھا اور اس کا جواب لکھا ، ان کے پاس حاضر تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! اگر یہ ( خیال ) نہ ہوتا کہ ( غالبا ) میں اسے کسی قبیح عمل میں پڑ جانے سے روک لوں گا تو اسے جواب نہ لکھتا ، یہ اس کی آنکھوں کی خوشی کے لیے نہیں ۔ کہا : تو انہوں نے اس کی طرف لکھا : تم نے ذوی القربیٰ کے حصے کے بارے میں پوچھا تھا ، جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کون ہین؟ تو ہمارا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہمی لوگ ہیں ( لیکن ) ہماری قوم نے ہماری بات ماننے سے انکار کر دیا ۔ اور تم نے یتیم کے بارے میں پوچھا تھا ، اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے ، اس کے سمجھدار ہو جانے کا پتہ چلنے لگے اور اس کا مال اس کے حوالے کیا جا سکے تو اس سے یتیمی ختم ہو جائے گی ۔ اور تم نے پوچھا تھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے بچوں میں سے کسی کو قتل کرتے تھے؟ تو بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی ایک کو بھی قتل نہیں کرتے تھے اور تم بھی ان میں سے کسی کو قتل مت کرنا ، الا یہ کہ ان کے بارے میں تم کو بھی اسی بات کا علم ہو جائے جس کا اس بچے کے بارے میں خضر علیہ السلام کو علم ہوا جب انہوں نے اسے قتل کیا تھا ۔ اور تم نے عورت اور غلام کے بارے میں پوچھا کہ جب وہ جنگ میں شریک ہوں تو کیا ان کو بھی مقررہ حصہ ملے گا؟ واقعہ یہ ہے کہ ان کا کوئی مقررہ حصہ نہیں ، ہاں یہ کہ لوگوں کی غنیمتوں میں سے انہیں کچھ عطیہ دے دیا جائے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ، بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " وَالْغَدْوَةَ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
It has been narrated on the authority of Sahl b. Sa'd as-Sa'idi that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The journey undertaken by a person in the morning (for Jihad) in the way of Allah (will merit a reward) better than the world and all that is in it
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کی راہ میں بندہ صبح کے وقت جو ایک سفر کرتا ہے ( جس وقت سفر کرنا آسان بھی ہوتا ہے ) تو وہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ، مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلاَثَ مِنَ الطَّعَامِ . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ حَاتِمٍ الثَّلاَثَ . وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ .
Ibn Ka'b b. Malik reported on the authority of his father that he saw Allah's Messenger (ﷺ) licking his three fingers (after having finished the food). Ibn Hatim made no mention of" three". This hadith is also narrated through another chain of transmitters
ابو بکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں ابن مہدی نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے ، انھوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں نے د یکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے بعد اپنی تین انگلیاں چاٹ رہ تھے ۔ ابن حاتم نےتین کا ذکر نہیں کیا ، اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ( ابن کعب بن مالک کے بجائے ) عبدالرحمان بن کعب سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کے الفاظ ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَجَعَلَ التَّفْسِيرَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّهِ .
This hadith has been reported on the authority of 'Ubaidullah with the same chain of transmitters. and the exposition of Qaza' is the same as that of Abu Usama
ابو اسامہ اور عبد اللہ بن نمیر دونوں نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور انھوں نے ابو اسامہ کی حدیث میں ( قزع کی ) تفسیر کو عبید اللہ کا قول قراردیا ہے ۔ ( ان کے شاگردوں کے سامنے عبید اللہ نے یہ وضاحت نافع کی طرف منسوب کیے بغیر بیان کی ۔)
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْقِلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
ابن جریج نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ معقل کی زہری سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ سَرِّحِ الْمَاءَ . يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِمْ فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلزُّبَيْرِ " اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ " . فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ " . فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لأَحْسِبُ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ { فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا}
Urwa b. Zubair reported that 'Abdullah b. Zubair had narrated to him that a person from the Ansar disputed with Zubair in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) in regard to the watering places of Harra from which they watered the date-palms. The Ansari said:Let the water flow, but he (Zubair) refused to do this and the dispute was brought to Allah's Messenger (ﷺ) and he said to Zubair: Zubair, water (your date-palms), then let the water flow to your neighbor. The Ansari was enraged and said: Allah's Messenger, (you have given this decision) for he is the son of your father's sister. The face of Allah's Apostle (ﷺ) underwent a change, and then said: Zubair, water (your date-palms), then hold it until it rises up to the walls. Zubair said: I think, by Allah, that this verse:" Nay, by the Lord, they will not (really) (believe) until they make thee a judge of what is in dispute among them, and find in this no dislike of what thou decidest and submit with full submission" (iv)
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرہ میں واقع پانی کی ان گزرگاہوں ( برساتی نالیوں ) کے بارے میں حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جھگڑا کیا جن سے وہ کھجوروں کو سیراب کرتے تھے ۔ انصاری کہتا تھا : پانی کو کھلا چھوڑ دو وہ آگے کی طرف گزر جائے ، انھوں نے ان لوگوں کی بات ماننے سے انکار کردیا ۔ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( کونرمی کی تلقین کرتے ہوئے ان ) سے کہا : " تم ( جلدی سے اپنے باغ کو ) پلاکر پانی اپنے ہمسائے کی طرف روانہ کردو ۔ " انصاری غضبناک ہوگیا اورکہنے لگا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اس لئے کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے ۔ ( صدمے سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کارنگ بدل گیا ، پھر آپ نے فرمایا : " زبیر! ( باغ کو ) پانی دو ، پھر اتنی دیر پانی کو روکو کہ وہ کھجوروں کے گرد کھودے گڑھے کی منڈیر سے ٹکرانے لگے " زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : اللہ کی قسم! میں یقیناً یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت : " نہیں!آپ کےرب کی قسم !وہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے " اسی ( واقعے ) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ . قَالَ قَتَادَةُ قُلْتُ لأَنَسٍ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي .
Anas is reported to have said:Four persons collected the Qur'an during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and all of them were Ansar: Mu'adh b. Jabal, Ubayy b. Ka'b, Zaid b. Thabit, Abu Zaid. Qatada said: Anas, who was Abu Zaid? He said: He was one of my uncles
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےعہد میں چاراشخاص نے قرآن مجید جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے تھے : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ قتادہ نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : ابو زید کون؟فرمایا : وہ میرے ایک چچا ہیں ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَازِعِ حَدَّثَنِي أَبُو بَرْزَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ " اعْزِلِ الأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ " .
Abu Barza reported:I said: Allah's Messenger, teach me something so that I may derive benefit from it. He said: Remove the troublesome thing from the paths of the Muslims
ابان نے صمعہ نے کہا : مجھے ابووازع نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے نبی! آپ مجھے کوئی ایسی بات سکھا دیں جس سے میں نفع حاصل کروں ۔ آپ نے فرمایا : " مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دیا کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ الأَعْرَابُ إِذَا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ مَتَى السَّاعَةُ فَنَظَرَ إِلَى أَحْدَثِ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ فَقَالَ " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ قَامَتْ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ " .
A'isha reported that when the desert Arabs came to Allah's Messenger (ﷺ) they asked about the Last Hour as to when that would come. And he looked towards the youngest amongst them and said:If he lives he would not grow very old that he would find your Last Hour coming to you (he would see you dying)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہا : " اعراب ( بدولوگ ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی؟آپ ان میں سب سے کم عمر انسان کی طرف دیکھ کر فرماتے : " اگر یہ زندہ رہاتو یہ بوڑھا نہیں ہوا ہوگا کہ تم پر تمہاری ( قیامت کی ) گھڑی آجائے گی ۔