بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
18 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ فَقَالَ عَلْقَمَةُ أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ لاَ وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ - قَالَ - فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ - قَالَ - فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ ‏"‏ لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا وَكُلُّ بَعَرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَلاَ تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Dawud reported from 'Amir who said:I asked 'Alqama if Ibn Mas'ud was present with the Messenger of Allah (ﷺ) on the night of the Jinn (the night when the Prophet met them). He (Ibn Mas'uad) said: No, but we were in the company of the Messenger of Allah (ﷺ) one night and we missed him. We searched for him in the valleys and the hills and said. He has either been taken away (by jinn) or has been secretly killed. He (the narrator) said. We spent the worst night which people could ever spend. When it was dawn we saw him coming from the side of Hiri'. He (the narrator) reported. We said: Messenger of Allah, we missed you and searched for you, but we could not find you and we spent the worst night which people could ever spend. He (the Holy Prophet) said: There came to me an inviter on behalf of the Jinn and I went along with him and recited to them the Qur'an. He (the narrator) said: He then went along with us and showed us their traces and traces of their embers. They (the Jinn) asked him (the Holy Prophet) about their provision and he said: Every bone on which the name of Allah is recited is your provision. The time it will fall in your hand it would be covered with flesh, and the dung of (the camels) is fodder for your animals. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Don't perform istinja with these (things) for these are the food of your brothers (Jinn)
۔ عبد الاعلیٰ نے داؤد سے اور انہوں نے عامر ( بن شراحیل ) سے روایت کی ، کہا : میں نے علقمہ سے پوچھا : کیا جنوں ( سے ملاقات ) کی رات عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہ کے ساتھ تھے؟ کہا : علقمہ نے جواب دیا : میں نے خود ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے پوچھا : کیا آپ لوگوں میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں ، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا ، ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، ( آپ نہ ملے ) تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑا لیا گیا ہے یا آپ کو بے خبری میں قتل کر دیا گیا ہے ، کہا : ہم نے بدترین رات گزاری جو کسی قوم نے ( کبھی ) گزاری ہو گی ۔ جب ہم نے صبح کی تو اچانک دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کوگم پایا تو آپ کی تلاش شروع کر دی لیکن آپ نہ ملے ، اس لیے ہم نے وہ بدترین رات گزاری جو کوئی قوم ( کبھی ) گزار سکتی ہے ۔ اس پر آپ نے فرمایا : ’’ میرے پاس جنوں کی طرف سے دعوت دینے والا آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور میں نے ان کے سامنت قرآن کی قراءت کی ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ﷺ ) ہمیں لے کر گئے اور ہمیں ان کے نقوش قدم اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے ۔ جنوں نے آپ سے زاد ( خوراک ) کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے ہر وہ ہڈی ہے جس ( کے جانور ) پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور تمہارے ہاتھ لگ جائے ، ( اس پر لگا ہوا ) گوشت جتنا زیادہ سے زیادہ ہو اور ( ہر نرم قدموں والے اونٹ اور کٹے سموں والے ) جانور کی لید تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے ( انسانوں سے ) فرمایا : ’’ تم ان دونوں چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو کیونکہ یہ دونوں ( دین میں ) تمہارے بھائیوں ( جنوں اور ان کے جانوروں ) کا کھانا ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ جَهَنَّمَ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ‏.‏
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to seek refuge from the torment of the grave, torment of Hell and the trial of Dajjal
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کی مانند روایت کی
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارَهُ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ‏.‏
Zurara b. Aufa said that Sa'd b. Hisham divorced his wife, and then proceeded to Medina to sell his property, and the rest of the hadith is the same
(۔ معاذ بن ہشام نے قتادہ سے انھوں نے زراہ بن اوفیٰ سے اور انھوں نے سعد بن ہشام سے روایت کی کہ انھوں نے بیوی کو طلاق دے دی ، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اپنی جائیداد فروخت کریں ۔ ۔ ۔ آگے اسی سابقہ حدیث کی ) طرح بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا ‏.‏ قَالَ فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَوْتَهُ فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏
Miswar b. Makhrama reported:Some cloaks were presented to the Messenger of Allah (ﷺ). My father Makhrama said to me: Come along with me to him; perhaps we may be able to get anything out of that (stock of cloaks). My father stood at the door and began to talk. The Apostle of Allah (ﷺ) recognised him by his voice and came out and there was a cloak with him, and he was showing its beauties and saying: I kept it for you, I kept it for you
ایو ب سختیا نی نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے اور انھوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے والد مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے آپ کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے ( کو ئی قباء ) عنا یت فر ما ئیں گے ۔ میرے والد نے دروازے پر کھڑے ہو کر گفتگو کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچا ن لی ۔ آپ باہر نکلے تو قباء آپ کے ساتھ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اس کی خوبیاں دکھا رہے تھے اور فر ما رہے تھے : " میں نے یہ تمھا رے لیے چھپا کر رکھی تھی میں نے تمھا رے لیے چھپا کر رکھی تھی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Amr b. al-'As that the Messenger of Allah (ﷺ) observed:Abusing one's parents is one of the major sins. They (the hearers) said: Messenger of Allah, does a man abuse his parents too? He (the Holy Prophet) replied: Yes, one abuses the father of another man, who in turn abuses his father. One abuses his mother and he in turn abuses his (the former's) mother
(یزید بن عبد اللہ ) ابن ہاد نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے حمید بن عبد الرحمان سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ آدمی کا اپنےوالدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘ ( صحابہ ) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ فرمایا : ’’ہاں! انسان کسی کے باپ کوگالی دیتا ہے تو وہ ا س کے باپ کو گالی دیتا ہے ۔ جب یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتاہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidullah b. Abi Yazid
۔ محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، عبیداللہ بن ابی یزید اس سند کے ساتھ اسی طرح کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ قَالَ فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ إِهْلاَلاً كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ سُقْتَ هَدْيًا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ‏.‏ ثُمَّ أَحِلَّ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ ‏.‏
Abu Musa (Allah be pleased with him) reported:The Messenger of Allah (May peace be upon im) had sent me to Yemen and I came back In the year in which he (the Holy Prophet) performed the (Farewell) Pilgrimage. Allah's Messenger (may peace be upon, him) said to me: Abu Musa, what did you ' say when you entered into the state of Ihram? I said: At thy beck and call; my (Ihram) is that of the Ihram of Allah's Apostle (May peace be upon him). He said: Have you brought the sacrificial animals? I said: No. Thereupon he said: Go and circumambulate the House, and (run) between al-Safa' and al-Marwa and then put off Ihram. The rest of the hadith is the same
ابو عمیس نے ہمیں قیس بن مسلم سے خبر دی ، انھوں نے طارق بن شہاب سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجاتھا ، پھر میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سال ملاقات ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : " ابو موسیٰ! " تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ ( حج کا ، عمرے کا ، یا دونوں کا؟ ) " میں نے عرض کی : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو ۔ آگے ( ابو عمیس نے ) شعبہ اور سفیان ہی کی طرح حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَ وَالِدَهُ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لِمَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أُشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا أَوْ عَلَى أَوْلاَدِهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ إِنْ كَانَ لِذَلِكَ فَلاَ مَا ضَارَ ذَلِكَ فَارِسَ وَلاَ الرُّومَ ‏"‏
Sa'd b. Abu Waqqas (Allah be pleased with him) reported that a person came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I do 'azi with my wife. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Why do you do that? The person said: I fear harm to her child or her children. Thereupon Allah's Messenger (way peace be upon him) said: If that were harmful it would harm the Persians and the Greeks
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور زہیر بن حرب نے ۔ ۔ الفاظ ابن نمیر کے ہیں ۔ ۔ حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں عبداللہ بن یزید مقبری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حیوہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عیاش بن عباس نے حدیث سنائی ، انہیں ابونضر نے عامر بن سعد سے حدیث بیان کی کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : می اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ "" اس نے جواب دیا : میں اس کے بچے یا اس کے بچوں پر ( جنہیں وہ دودھ پلا رہی ہوتی ہے ) شفقت کرتا ہوں ( کہ انہیں کوئی نقصان نہ ہو ۔ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر یہ نقصان دہ ہوتا تو فارس اور روم ( کے بچوں ) کو نقصان دیتا ۔ "" زہیر نے اپنی روایت میں کہا : "" اگر یہ ( عزل ) اس وجہ سے ہے تو ( اس کی ضرورت ) نہیں ، اس ( عمل ) نے فارس اور روم ( کے بچوں ) کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None among you should prevent his neighbour from fixing a beam in his wall. Abu Huraira (Allah be pleased with him) then said: What is this that I see you evading (this injunction of the Holy Prophet)? By Allah, I will certainly throw it between your shoulders (narrate this to you)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”کوئی تم سے اپنے ہمسایہ کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے ۔ “ (کیونکہ یہ مروت کے خلاف ہے اور اپنا کوئی نقصان نہیں بلکہ اگر ہمسایہ ادھر چھت ڈالے تو اور دیوار کی حفاظت ہے) سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے تھے (لوگوں سے) میں دیکھتا ہوں تم اس حدیث سے دل چراتے ہو ، قسم اللہ کی ! میں اس کو بیان کروں گا تم لوگوں میں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Yazid b. Hurmuz through another chain of transmitters
عبدالرحمان بن بشر عبدی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسماعیل بن امیہ نے سعید بن ابی سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔ ابواسحاق نے کہا : مجھے عبدالرحمان بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے پوری یہی حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Leaving (for Jihad) in the way of Allah in the morning or in the evening (will merit a reward) better than the world and all that is in it
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " صبح کو یا شام کو ایک بار اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، اس سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَاصِمٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ فَلاَ يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one of you eats food he should not wipe his hand until he has licked it or have it licked
ابن جریج نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم میں سے کوئی شخص کھاناکھائے تو وہ اس وقت تک اپنا ہاتھ صاف نہ کرے ، جب تک اسے خود نہ چاٹ لے یا کسی اور کو نہ چٹوالے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْقَزَعِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ وَمَا الْقَزَعُ قَالَ يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكُ بَعْضٌ ‏.‏
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade Qaza. I said to Nafi:What is Qaza'? He said: This means having a part of a boy's head shaved and leaving a part unshaven
یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے روایت کی کہا : مجھے عمر بن نافع نے اپنے والد سے خبردی ۔ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے " قزع " سے منع فرمایا ، میں نے نافع سے پو چھا : قزع کیا ہے ؟انھوں نے کہا : بچے کے سر کے کچھ حصے کے بال مونڈدیے جا ئیں اور کچھ حصے کو چھوڑ دیا جا ئے ۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، - وَهْوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْكُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَيْسُوا بِشَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا الشَّىْءَ يَكُونُ حَقًّا ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْجِنِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ ‏"‏ ‏.‏
Urwa reported from 'A'isha that she said that people asked Allah's Messenger (ﷺ) about the kahins. Allah's Messenger (ﷺ) said to them:It is nothing (i. e. it is a mere superstition). They said: Allah's Messenger, they at times narrate to us things which we find true. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: That is a word pertaining to truth which a jinn snatches away and then cackles into the ear of his friend as the hen does. And then they mix in it more than one hundred lies
معقل بن عبید اللہ نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے یحییٰ بن عروہ نے بتا یا کہ انھوں نے عروہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : لو گوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کا ہنوں کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" وہ کچھ نہیں ہیں ۔ "" صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ لو گ بعض اوقات ایسی چیز بتاتے ہیں جو سچ نکلتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : وہ جنوں کی بات ہو تی ہے ، ایک جن اسے ( آسمان کے نیچے سے ) اچک لیتا تھا پھر وہ اسے اپنے دوست ( کا ہن ) کے کان میں مرغی کی کٹ کٹ کی طرح کٹکٹاتا رہتا ہے ۔ اور وہ اس ( ایک ) بات میں سو زیادہ جھوٹ ملا دیتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) granted permission for doing a thing, but some persons amongst the people avoided it. This was conveyed to Allah's Apostle (ﷺ), and he was so much annoyed that the sign of his anger appeared on his face. He then said:What has happened to the people that they avoid that for which permission has been granted to me? By Allah, I have the best knowledge of Allah amongst them, and fear Him most amongst them
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ( ابوضحیٰ ) مسلم سے ، انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی ۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کوایسا کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سےظاہر ہوا ۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ بَدَأَ بِهَذَيْنِ لاَ أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ ‏.‏
Ubaidullah b. Mu'adh reported it on the authority of his father Shu'ba with the same chain of transmitters and he made this addition. He made a mention of these two names but I do not know whose name he mentioned first
ہمیں عبیداللہ بن معاذ نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کےساتھ حدیث سنائی اور کچھ مزید بیان کیا ، شعبہ نے کہا : آپ نے ان دونوں کے نام سے ابتداء کی ، مجھے یاد نہیں کی ان دونوں میں سے کس کا نام پہلے لیا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ شَجَرَةً كَانَتْ تُؤْذِي الْمُسْلِمِينَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَطَعَهَا فَدَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that there was a tree which caused inconvenience to the Muslims; a person came there and cut that (tree) (and thus entered ) Paradise
ابورافع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک درخت مسلمانوں کو اذیت دیتا تھا ، چنانچہ ایک شخص آیا اور اسے کاٹ دیا تو وہ جنت میں داخل ہو گیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَعْبَدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَضَمَّ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى ‏.‏
Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I and the Last Hour have been sent like this and (he while doing it) joined the forefinger with the middle finger
معبد نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے ۔ کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت اوردرمیانی انگلی کو اکٹھا کیا ۔