وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، - عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ} قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْىِ كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} أَخْذَهُ { إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ . وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَأُهُ { فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} قَالَ أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ { إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ .
Ibn 'Abbas reported with regard to the words of Allah, Great and Glorious:" Move not thy tongue therewith" (Ixxv. 16) that when Gabriel brought revelation to him (the Holy Prophet) he moved his tongue and lips (with a view to committing it to memory instantly). This was something hard for him and it was visible (from his face). Then Allah, the Exalted. revealed this a" Move not thy tongue therewith to make haste (in memorising it). Surely on us rests the collecting of it and the reciting of it" (ixxv. 16), i. e. Verily it rests with Us that We would preserve it in your heart and (enable you) to recite it You would recite it when We would recite it and so follow its recitation, and He (Allah) said:" We revealed it, so listen to it attentively. Verily its exposition rests with Us. i. e. We would make it deliver by your tongue." So when Gabriel came to him (to the Holy Prophet), he kept silence, and when he went away he recited as Allah had promised him
جریر بن عبد الحمید نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿ولا تحرك به لسانك لتعجل به﴾ ’’آپ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں تاکہ اسے جلدی حاصل کر لیں ۔ ‘ ‘ کے بارے میں روایت بیان کی کہا : جب جبرائیل رضی اللہ عنہ نبیﷺ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ ( اس کو پڑھنے کے لیے ساتھ ساتھ ) اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے ، ایسا کرنا آپ پر گراں گزرتا تھا اور یہ آپ ( کے چہرے ) سے معلوم ہو جاتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ آپ اس ( وحی کے پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بے شک اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ہمارا ذمہ ہے ۔ ‘ ‘ یعنی ہمارا ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کو سینۂ مبارک میں جمع کریں اور اس کی قراءت ( بھی ہمارے ذمے ہے ) تاکہ آپ قراءت کریں ۔ ’’پھر جب ہم اسے پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ فرمایا : یعنی ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنیں ۔ ’’ اس کا واضح کر دینا بھی یقیناً ہمارے ذمے ہے ‘ ‘ کہ آ پ کی زبان س ( لوگوں کے سامنے ) بیان کر دیں ، پھر جب جبرائیل رضی اللہ عنہ آپ کے پاس ( وحی لے کر ) آتے تو آپ سر جھکا کر غور سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو اللہ کے وعدے کے مطابق آپ اس کی قراءت فرماتے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:Seek refuge with Allah from the torment of Hell, seek refuge with Allah from the torment of the grave, and seek refuge with Allah from the trial of Masih al-Dajjal and seek refuge with Allah from the trial of life and death
ہشام نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : اللہ کے نبی ﷺ نے دعا کی : ’’اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور آگ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ .
Masruq reported on the authority of 'A'isha that she said that the Messenger Of Allah (ﷺ) used to observe the Witr prayer every night, maybe in the early part of night, at midnight and in the latter part, finishing his Witr at dawn
یحییٰ بن وثاب نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر ( رات ) کی نماز پڑھی ، رات کے ابتدائی حصے میں بھی ، درمیان میں بھی اور آخر میں بھی ، آپ کے وتر ( کے اوقات ) سحری تک جاتے تھے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا، ح وَحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكُ، بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ . فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ .
Anas b. Malik reported:I was walking with the Messenger of Allah (ﷺ) and he had put on a mantle of Najran with a thick border. A bedouin met him and pulled the mantle so violently that I saw this violent pulling leaving marks of the border of the mantle on the skin of the neck of the Messenger of Allah (ﷺ). And he (the bedouin) said: Muhammad, issue command that I should be given out of the wealth of Allah which is at your disposal. The Messenger of Allah (ﷺ) turned his attention to him and smiled, and then ordered for him a gift (provision)
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا آپ ( کے کندھوں ) پر خاصے موٹے کنا رے کی ایک نجرانی چادرتھی اتنے میں ایک بدوی آپ کے پا س آگیا اور آپ کی چا در سے ( پکڑ کر ) آپ کو زور سے کھنچا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کی ایک جا نب کی طرف نظر کی جس پر اس کے زور سے کھنچنے کے با عث چا در کے کنا رے نے گہرا نشان ڈا ل دیا تھا پھر اس نے کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہو ئے ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْكَبَائِرِ قَالَ " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَقَوْلُ الزُّورِ " .
Anas narrated from the Apostle (ﷺ) about the major sins. He (the Holy Prophet) observed:Associating anyone with Allah, disobedience to parents, killing a person and false utterance
خالد بن حارث نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ہمیں عبید اللہ بن ابی بکر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نےنبی ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں خبر دی ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو ( ناحق ) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صُومُوهُ أَنْتُمْ " .
Abu Musa (Allah be pleased with him) reported:The day of 'Ashura was one which the Jews respected and they treated it as Id. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You also observe fast on this day
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابن نمیر ، ابو اسامہ ، ابی عمیس ، قیس بن سالم ، طارق بن شہاب ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ یہودی لوگ عاشورہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی اس دن کو روزہ رکھو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ لِي " أَحَجَجْتَ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ " بِمَ أَهْلَلْتَ " . قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ " فَقَدْ أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَحِلَّ " . قَالَ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ . قَالَ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى كَانَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ - رضى الله عنه - فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا مُوسَى - أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ - رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ . فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا . قَالَ فَقَدِمَ عُمَرُ - رضى الله عنه - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ .
Abu Musa (Allah be pleased with him) said:I came to the Messenger of Allah (ﷺ) as he was encamping at Batha. He said to me: Did you intend to perform Hajj? I said: Yes. He again said: With what intention have you entered into the state of Ihram (for Ifrad, Qiran or Tamattu'). I said: I pronounced Talbiya (I have entered into the state of Ihram ) with that very aim with which the Messenger of Allah (ﷺ) is pronouncing Talbiya. He (the Holy Prophet) said; You have done well. Then circumambulate the House and run between al-Safa' and al-Marwa' and put off Ihram (as you have not brought the sacrificial animals along with you). So I circumambulated the House, and ran between al-Safa' and al-Marwa' and then came to a woman of the tribe of Qais and she rid my head of the lice. I again put on Ihram for Hajj. and continued giving religious verdict (according to this practice) till during the Caliphate of Umar (Allah be pleased with him) when a person said to him: Abu Musa, or Abdullah b. Qais, exercise restraint in delivering some religious verdict of yours, for you do not know what has been introduced after you by the Commander of the Believers in the rites (of Hajj). Thereupon he said: 0 people, whom we gave the religious verdict (concerning putting off Ihram ) they should wait, for the Commander of the Believers is about to come to you, and you should follow him. Umar (Allah be pleased with him) then came and I made a mention of it to him. whereupon he said: If we abide by the Book of Allah (we find) the Book of Allah has commanded us to complete the (. Hajj and 'Umra), and if we abide by the Sunnah of Allah's Messenger (ﷺ), we find that Allah's Messenger (ﷺ) did not put off Ihram till the sacrificial animal was brought to its end (till it was sacrificed)
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی کنکریلی زمین میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے ( یعنی وہاں منزل کی ہوئی تھی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جس نیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو ۔ پس میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا ( یہ ان کی محرم تھی ) تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھو دیا ۔ پھر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا ۔ ( یعنی جو بغیر قربانی کے حج پر آئے تو وہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے ، پھر یوم الترویہ 8 ۔ ذوالحج کو دوبارہ حج کا احرام باندھے لیکن ) ایک مرتبہ میں حج کے مقام پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا ، اس نے کہا کہ ( تو تو احرام کھولنے کا فتویٰ دیتا ہے ) آپ جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے متعلق نیا کام شروع کر دیا ۔ ( یعنی عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ عمرہ کر کے احرام کو کھولنا نہیں چاہئے ) تو میں نے کہا اے لوگو! ہم نے جس کو اس مسئلے کا فتویٰ دیا ہے اس کو رک جانا چاہئے ۔ کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنے والے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا ، امیرالمؤمنین آپ نے قربانی کے متعلق یہ کیا نیا مسئلہ بتایا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر آپ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کریں تو قرآن کہتا ہے : ( ( وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّـهِ ۚ ) ) یعنی حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو ( یعنی احرام نہ کھولو ) اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو ان کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے احرام اس وقت تک نہ کھولا جب تک قربانی نہ کر لی ۔ ( آپ عمرہ اورحج کے درمیان حلال نہیں ہوئے)
وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلاَ يَضُرُّ أَوْلاَدَهُمْ " . قَالَ مُسْلِمٌ وَأَمَّا خَلَفٌ فَقَالَ عَنْ جُذَامَةَ الأَسَدِيَّةِ . وَالصَّحِيحُ مَا قَالَهُ يَحْيَى بِالدَّالِ .
Judaima daughter of Wahb al-Asadiyya (Allah be pleased with her) reported that she heard Allah's Messenger (ﷺ) assaying:I intended to prohibit cohabitation with a suckling woman until I considered that the Romans and the Persians do it without any injury being caused to their children thereby. (Imam Muslim said: Khalaf reported it from Judamat al-'Asadiyya, but the correct wording is what has been stated by Yahya)
جدامہ نے رسول اﷲ ﷺ سے سُنا کہ فرماتے تھے میں نے چاہا کہ غیلہ سے منع کردوں پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس غیلہ کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو ضرر نہیں ہوتا ۔ مسلم نے فرمایا کہ جدامہ بے نقطہ کے دل سے صحیح ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who has a partner in a dwelling or a garden, it is not lawful for him to sell that until he is permitted by his partner. If he (the partner) agrees, he should go in for that, and if he disapproves of that, he should abandon (the idea of selling it)
ابوخثیمہ نے ہمیں ابوزبیر سے خبر دی ، اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کا گھر میں یا باغ میں کوئی شریک ہو تو اسے حق نہیں کہ اسے بیچے ، یہاں تک کہ اپنے شریک کو بتائے ، پھر اگر وہ راضی ہو تو ( اسے ) لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے ۔ " ( اور وہ دوسرے کو بیچ دیا جائے ۔)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ، كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ، خِلاَلٍ . فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْلاَ أَنْ أَكْتُمَ، عِلْمًا مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ . كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْزُو بِالنِّسَاءِ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ وَعَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْزُو بِالنِّسَاءِ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلاَ تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ فَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الأَخْذِ لِنَفْسِهِ ضَعِيفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا . فَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاكَ .
It has been narrated on the authority of Yazid b. Hurmuz that Najda wrote to Ibn Abbas inquiring of him five things. Ibn Abbas said:If I had not the fear of committing (sin) for concealing the knowledge I would not have written to him. Najda wrote to him saying (after praising the Almighty and invoking blessings on the Prophet): Tell me whether the Messenger of Allah (ﷺ) took women to participate with him in Jihad; (if he did), whether he allotted them a regular share from the booty; whether he killed the children of (the enemy in the war), how long an orphan would be entitled to consideration as such, and for whom the Khums (fifth part of the booty) was booty. Ibn Abbas wrote to him: You have written asking me whether the Messenger of Allah (ﷺ) took women with him to participate in Jihad. He did take them to the battle and sometimes he fought along with them. They would treat the wounded and were given a reward from the booty, but he did not assign any regular share for them. And the Messenger of Allah (ﷺ) did not kill the children of the enemy, so you should not kill the children. Also you have written to me asking me when the orphanhood of an orphan comes to an end. By my life, if a man has become bearded but is still incapable of getting his due from others or fulfilling his obligation towards them, (he is yet an orphan to be treated as such), but when he can look after his interests like grown-up people, he is no longer an orphan. And you have written to me inquiring about Khums as to whom it is meant for. (In this connection) we (the kinsmen of the Messenger of Allah) used to say: It is for us, but those people (i.e. Banu Umayya) have denied it to us
سلیمان بن بلال نے ہمیں جعفر بن محمد سے ، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یزید بن ہرمز سے روایت کی کہ ( معروف خارجی سردار ) نجدہ ( بن عامر حنفی ) نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پانچ باتیں دریافت کرنے کے لیے خط لکھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں علم چھپا رہا ہوں تو میں اسے جواب نہ لکھتا ۔ نجدہ نے انہیں لکھا تھا : امابعد! مجھے بتائیے : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے مدد لیتے ہوئے جنگ کرتے تھے؟ کیا آپ غنیمت میں ان کا حصہ رکھتے تھے؟ کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے؟ اور یہ کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اس نے خمس کے بارے میں ( بھی پوچھا کہ ) وہ کس کا حق ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف ( جواب ) لکھا : تم نے مجھ سے دریافت کرنے کے لیے لکھا تھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے مدد لیتے ہوئے جنگ کرتے تھے؟ بلاشبہ آپ ان سے جنگ میں مدد لیتے تھے اور وہ زخمیوں کو مرہم لگایا کرتی تھیں اور انہیں غنیمت ( کے مال ) سے معمولی سا عطیہ دیا جاتا تھا ، رہا ( غنیمت کا باقاعدہ ) حصہ تو وہ آپ نے ان کے لیے نہیں نکالا ، اور یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے ، لہذا تم بھی بچوں کو قتل نہ کیا کرو ۔ اور تم نے مجھ سے دریافت کرنے کے لیے لکھا تھا : یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ مجھے اپنی عمر ( کے مالک ) کی قسم! کسی آدمی کی داڑھی نکل آتی ہے جبکہ ابھی وہ اپنے لیے حق لینے میں اور اپنی طرف سے حق دینے میں کمزور ہوتا ہے ، جب وہ اپنے لیے ٹھیک طرح سے حقوق لے سکے جس طرح لوگ لیتے ہیں تو اس کی یتیمی ختم ہو جائے گی ۔ اور تم نے مجھ سے خمس کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے لکھا تھا کہ وہ کس کا حق ہے؟ تو ہم کہتے تھے : وہ ہمارا حق ہے ، لیکن ہماری قوم نے ہماری یہ بات ماننے سے انکار کر دیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This tradition has been handed down through a different chain of transmitters
ابو عوانہ ، جریر اور ابو معاویہ سب نے اسی سند کے ساتھ سہیل سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلاَمٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاخٌ فَقَالَ لِلْغُلاَمِ " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلاَءِ " . فَقَالَ الْغُلاَمُ لاَ . وَاللَّهِ لاَ أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا " . قَالَ فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَدِهِ .
Sahl b. Sa'd Sa'idi reported that Allah's Messenger (ﷺ) was given a drink, and he drank from that, and there was on his right side a boy. and on his left some old men. He said to the boy:Do you permit me to give it to them (the old men), but that boy said: by God. I will not give preference at your hand over me in my share. He (the narrator) said that Allah's Messenger (ﷺ) then gave it in his hand
امام مالک بن انس نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت سہل بن ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی چیز آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑے لوگ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا کہ تو مجھ کو بڑے لوگوں کو پہلے دینے کی اجازت دیتا ہے؟ وہ بولا کہ نہیں اللہ کی قسم میں اپنا حصہ کسی دوسرے کو نہیں دینا چاہتا ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهُ، حِينَ وَلَدَتِ انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُحَنِّكُهُ قَالَ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا . قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا .
Anas reported that when his mother gave birth to a child they brought that child to Allah's Messenger (ﷺ) so that he might chew some dates and touch his palate with them. and Allah's Apostle (ﷺ) was at that time in the fold busy in cauterising the animals Shu'ba said:So far as I know (he was cauterising) their ears
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، کہ جب ان کی والد کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ لوگ اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تا کہ آپ اسے گھٹی دیں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے اور بکریوں کو نشان لگا رہے تھے شعبہ نے کہا : میرا غالب گمان یہ ہے کہ انھوں نے ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا تھا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) ان ( بکریوں ) کے کا نوں پر نشان لگا رہے تھے ۔ ( اونٹوں کو لگانے کے بعد بکریوں کو بھی وہیں لا کر نشان لگا رہے تھے ۔)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا فِي حَدِيثِهِ ذَكَرَ الطِّيَرَةَ وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْكُهَّانِ .
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording
عقیل معمر ، ابن ابی ذئب اور مالک ، ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یو نس کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ، مگر مالک نے اپنی حدیث میں بدشگونی کا نام لیا ہے ، اس میں کا ہنوں کا ذکر نہیں ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو، بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً فَقَالَ " أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ " .
Abu Musa Ash'ari reported that Allah's Messenger (ﷺ) mentioned many names of his and said:I am Muhammad, Ahmad. Muqaffi (the last in succession), Hashir, the Prophet of repentance, and the Prophet of Mercy
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی نام ہم سے بیان کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور احمد اور مقفی ( آخر میں آنے والا ہوں ) اور حاشر اور نبی التوبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے کثیر خلقت توبہ کرے گی ) اور نبی الرحمۃ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے انسان بہت سی نعمتوں سے نوازے جائیں گے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَوَكِيعٍ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَدَّمَ مُعَاذًا قَبْلَ أُبَىٍّ . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ أُبَىٌّ قَبْلَ مُعَاذٍ .
This hadith has been reported on the authority of Abu Bakr b. Abu Shaiba and Abu Kuraib, and both of them said:Abu Mu'awiya narrated to us from A'mash on the authority of Jarir and Waki', and in a narration of Abu Bakr transmitted on the authority of Abu Mu'awiya the mention of Mu'adh has preceded Ubayy's, and in the narration transmitted on the authority of Abu Kuraib, the name of Ubayy preceded Mu'ddh's
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے جریر اور وکیع کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابو معاویہ سے ابو بکر کی روایت میں انھوں نے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقدم رکھا اورابو کریب کی روایت میں ابی ( بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے ہیں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:While a person was going along the path he found a thorny branch upon it. He pushed it to a side and Allah approved (this action) of his and (as a mark of appreciation) granted him pardon
ابو بکر کے آزاد کردہ غلام سُمی نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک شخص راستے پر چلا جا رہا تھا ، اس نے راستے پر ایک کانٹے دار ٹہنی دیکھی تو اسے ( ایک طرف ) ہٹا دیا ۔ اللہ تعالیٰ کے اسے اس کا انعام دیا تو اس کی بخشش فرما دی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، وَأَبَا التَّيَّاحِ، يُحَدِّثَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَنَسًا، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا " . وَقَرَنَ شُعْبَةُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى يَحْكِيهِ .
Shu'ba reported:I heard Qatada and Abu Tayyab narrating that both of them heard Anas as narrating that Allah's Messenger (ﷺ) said: I and the Last Hour have been sent like this, and Shu'ba drew his forefinger and middle finger near each other while narrating it
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قتادہ اور ابو تیاح کوحدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، ان دونوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ " اور شعبہ نے اسے بیان کرتے ہوئے اپنی انگشت شہادت اوردرمیانی انگلی کو ملایا ۔