بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
4
18 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا‏}‏ قَالَتْ أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَاءِ ‏.‏
A'isha reported that so far as these words of (Allah) Glorious and High are concerned:" And utter not thy prayer loudly, not be low in it" (xvii. 110) relate to supplication (du'a)
یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان : ’’ نہ اپنی نماز میں ( قراءت ) بلند کریں اور نہ آہستہ ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں اتری ہے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - جَمِيعًا عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏"‏ إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ ‏"‏ الآخِرَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you completes the last tashahhud. he should seek refuge with Allah from four (trials). I.e. from the torment of Hell, from the torment of grave, from the trial of life and death, and from the mischief of Masih at-Dajjal (Antichrist). This hadith has been narrated by al-Auza'i with the same chain of transmitters but with these words:" When any one of you completes the tashahhud" and he made no mention of the words" the last
ولید بن مسلم نےکہا : مجھے اوزاعی نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں حسان بن عطیہ نےحدیث سنائی ، کہا : مجھے محمد بن ابی عائشہ نے حدیث سنائی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی آخر ی تشہد سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے : جہنم کے عذاب سے ، قبر کے عذاب سے زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي صَلاَتَهُ بِاللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ ‏.‏
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to offer prayer at night while she lay in front of him, and when the Witr prayer was yet to be observed, he would awaken her and she observed Witr
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اپنی نماز پڑھتے اور وہ ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں ، جب آپ کے وتر باقی رہ جاتے تو آپ انھیں جگا دیتے اور وہ وتر پڑھ لیتیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، كِلاَهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:O Allah, make the provision of Muhammad's family sufficient just to sustain life
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ( دعا فر ما ئی ) : " اے اللہ ! آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روزی کم سے کم کھانے جتنی کر دے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ ‏"‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا ‏{‏ وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا‏}‏
It is narrated on the authority of Abdullah b. Mas'ud that a man said:Messenger of Allah, which offence is the most grievous in the eye of Allah? He (the Holy Prophet) replied: That you associate a partner with Allah (despite the fact) that He created you. He (the man) said: What next? He (the Holy Prophet) replied: That you kill your child out of fear that he would join you in food. He (the inquirer) said (again): What next? He (the Holy Prophet) replied: That you commit adultery with the wife of your neighbour. And the Almighty and Exalted Lord testified it (with this verse): All those who call not unto another god along with Allah, and slay not any soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice, nor commit fornication, and he who does this shall meet a requital of sin (xxv)
(منصور کے بجائے ) اعمش نے ابو وائل سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ م اللہ کے ساتھ کوئی شریک ( بنا کر ) پکارو ، حالانکہ اسی ( اللہ ) نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنی پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ ‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے اس ( بات ) کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی : ’’ جو لوگ اللہ کےساتھ کسی اور کو معبود ( بنا کر ) نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے ( قتل کرنا ) اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے ، حق کے بغیر قتل نیہں کرتے اور جو زنا نہیں کرتے ( وہی رحمٰن کے مومن بندےہیں ۔ ) اور جو ان ( کاموں ) کا ارتکاب کرے گا ، وہ سخت گنا ہ ( کی سزا ) سے دو چار ہو گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ‏.‏
Ibn'Abbas (Allah be pleased with both of them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Medina and found the Jews observing fast on the day of 'Ashura. The Messenger of Allah (ﷺ) said to them:What is the (significance) of this day that you observe fast on it? They said: It is the day of great (significance) when Allah delivered Moses and his people, and drowned the Pharaoh and his people, and Moses observed fast out of gratitude and we also observe it. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: We have more right, and we have a closer connection with Moses than you have; so Allah's Messenger (ﷺ) observed fast (on the day of 'Ashura), and gave orders that it should be observed
ابن ابی عمر ، سفیان ، ایوب ، عبداللہ بن سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس دن کی کیا وجہ ہے؟تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ عظیم دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کونجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق فرمایا چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانے کاروزہ رکھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم زیادہ حق دار ہیں اور تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَتِ الْعَرَبُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرَاةً إِلاَّ الْحُمْسَ وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ وَمَا وَلَدَتْ كَانُوا يَطُوفُونَ عُرَاةً إِلاَّ أَنْ تُعْطِيَهُمُ الْحُمْسُ ثِيَابًا فَيُعْطِي الرِّجَالُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءُ النِّسَاءَ وَكَانَتِ الْحُمْسُ لاَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ وَكَانَ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَبْلُغُونَ عَرَفَاتٍ ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ فَحَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتِ الْحُمْسُ هُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ ‏{‏ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ‏}‏ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَكَانَ الْحُمْسُ يُفِيضُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ يَقُولُونَ لاَ نُفِيضُ إِلاَّ مِنَ الْحَرَمِ فَلَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ‏}‏ رَجَعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ ‏.‏
Hisham narrated on the authority of his father that the Arabs with the exception of Hums who were Quraish, and their descendants, circumambulated the House naked. They kept circumambulating In this state of nudity unless the Hums supplied to them the clothes. The male provided (clothes) to the male and the female provided clothes to the female. And the Hums did not get out of Muzdalifa, whereas the people (other than the Quraish) went t o 'Arafat. Hisham said on the authority of his father who related from 'A'isha (Allah be pleased with her) who said:Hums are those about whom Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse:" Then hasten to where the people hasten." She (further) said: The people hastened on from 'Arafat, whereas Hums hastened from Muzdalifa, and said: We'do not hasten but from Haram. But when this (verse) was revealed:" Hasten on from that (place) where the people hasten on," they (the Quraish) then went to 'Arafat
ابو اسامہ نے کہا ، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا ، کہا : حمس ( کہلانے والے قبائل ) کے علاوہ عرب ( کےتمام قبائل ) عریاں ہوکر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے ۔ حمس ( سے مراد ) قریش اور ان ( کی باہر بیاہی ہوئی خواتین ) کے ہاں جنم لینے والے ہیں ۔ عام لوگ برہنہ ہی طواف کرتے تھے ، سوائے ان کے جنھیں اہل حمس کپڑے دے دیتے ( دستور یہ تھا کہ ) مرد مردوں کو ( طواف کے لئے ) لباس دیتے اورعورتین عورتوں کو ۔ ( اسی طرح ) حمس ( دوران حج ) مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے اور باقی سب لوگو عرفات تک پہنچتے تھے ۔ ہشام نے کہا : مجھے میرے والد ( عروہ ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نےفرمایا : یہ حمس ہی تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : "" پھر تم وہیں سے ( طواف کے لئے ) چلو جہاں سے ( دوسرے ) لوگ چلیں ۔ "" انھوں نےفرمایا : لوگ ( حج میں ) عرفات سے لوٹتے تھے اور اہل حمس مزدلفہ سےچلتے تھے اور کہتے تھے : ہم حرم کے سوا کہیں اور سے نہیں چلیں گے جب آیت "" پھر تم وہیں سے چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں "" نازل ہوئی تو یہ عرفات کی طرف لوٹ آئے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَتَى بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ فَقَالَ ‏"‏ لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Darda' (Allah be pleased with him) related from the Prophet of Allah (ﷺ) that he came upon a woman who was in the advanced stage of pregnancy at the door of a tent. He (the Holy Prophet) said:Perhaps he (the man accompanying her) intends to cohabit with her. They said: Yes. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: I have decided to curse him with such a curse as may go along with him to his grave. How can he own him (the child to be born) and that is not lawful for him, and how can he take him as a servant for that is not lawful for him?
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے یزید بن خُمَیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمٰن بن جبیر سے سنا وہ اپنے والد ( جبیر بن نفیر ) سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیمے کے دروازے پر کھڑی ایک پورے دِنوں کی حاملہ عورت ( لونڈی ) کے پاس سے گزرے ، آپ نے فرمایا : " شاید وہ ( اس کا مالک ) چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ مجامعت کرے؟ " صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی : جی ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت بھیجوں جو اس کی قبر میں اس کے ساتھ جائے ۔ ایسا کام کرنے والا کیسے اس ( طرح کے بچے ) کو وارث بنائے گا ، جبکہ وہ ( وارث بنانا ) اس کے لیے حلال نہیں ۔ وہ کیسے اس سے خدمت لے گا ( اسے غلام بنائے گا؟ ) جبکہ ( اس بچے کے پیٹ میں ہونے کے دوران میں اس کی ماں سے مباشرت کرنے کی بنا پر اس بچے/بچی کو غلام/کنیز بنانا ) اس کے لیے حلال نہیں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الأُمَوِيُّ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلرِّبْحِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) said he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Swearing produces a ready sale for a commodity, but blots out the blessing
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " قسم سامان کو فروغ دینے والی ، ( بعد ازاں ) نفع کو مٹانے والی ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى ‏.‏
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik who said that the Messenger of Allah (ﷺ) allowed Umm Sulaim and some other women of the Ansar to accompany him when he went to war; they would give water (to the soldiers) and would treat the wounded
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کرتے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انصار کی کچھ دوسری عورتوں کو ساتھ لے جا کر جنگ کرتے ، وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَىْءٍ غَيْرُ الشَّهِيدِ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik (through a different chain of transmitters) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Nobody who enters Paradise will (ever like to) return to this world even if he were offered everything on the surface of the earth (as an inducement) except the martyr who will desire to return to this world and be killed ten times for the sake of the great honour that has been bestowed upon him
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، آپ نے فرمایا : " جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ دنیا میں واپس جائے ، یا زمین پر موجود کوئی چیز اس کی ہو جائے ، سوائے شہید کے ، وہ ( اپنی ) جو عزت افزائی دیکھتا ہے اس کی بنا پر یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دس بار واپس جائے اور قتل کیا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ وَشِيبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ شِمَالِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ ‏.‏ فَأَعْطَاهُ أَعْرَابِيًّا عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الأَيْمَنَ فَالأَيْمَنَ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported:The Apostle of Allah (may peace he upon him) came to Medina when I was ten years old and he died when I was twenty years old. My mother exhorted me to serve him. He (the Holy Prophet) came to our house, and we ruined a flabby goat for him and mixed it (the milk) with water from the well of the house. Allah's Messenger (ﷺ) drank that. Umar and Abu Bakr on his left side said to him: Allah's Messenger, give it to Abu Bakr, but he (the Holy Prophet) gave it to the desert Arab who was on his right. Allah's Messenger (ﷺ) said: He who is on the right, then he who is on the right
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں دس برس کا تھا ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا ۔ میری مائیں ( والدہ ، خالائیں ، پھوپھیاں ) مسلسل مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کا شوق دلایاکرتی تھیں ۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں گھر کے کنوئے کا پانی ملایاگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی ۔ اور اس وقت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب تھے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابو بکر کو عنایت فرمادیجئے ، لیکن آپ نے وہ ( دودھ کا برتن ) اپنی دائیں جانب ( بیٹھے ہوئے ) بدو کو تھمادیا اور فرمایا؛ " دایاں ، پھر ( اس کےبعد والا ) دایاں ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ، بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ لاَ أَسِمُهُ إِلاَّ فِي أَقْصَى شَىْءٍ مِنَ الْوَجْهِ ‏.‏ فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ ‏.‏
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) saw an ass which had been cauterised on the face. He disapproved of it saying:By Allah, I do not cauterise (the animal) but on a part at a distance from the face, and commanded (for the cauterisation) of his ass and it was cauterised on the buttocks and he was the first to cauterise on the buttocks
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلا م ناعم ابو عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگا نے کے لیے داغا گیا تھا آپ نے اس کو بہت برا خیال کیا ، انھوں نے ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اللہ کی قسم !میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کر تا ۔ پھر انھوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین ( کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے ) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ فَفِي الرَّبْعِ وَالْخَادِمِ وَالْفَرَسِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If bad luck were to be in anything, it is found in the land, in the servant and in the horse
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبردے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر کسی چیز میں یہ بات ہو گی تو گھر ، کادم اور گھوڑےمیں ہو گی ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَىَّ وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ سَمَّاهُ اللَّهُ رَءُوفًا رَحِيمًا ‏.‏
Jubair b. Mut'im reported on the authority of his father that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I have many names: I am Muhammad, I am Ahmad, I am al-Mahi through whom Allah obliterates unbelief, and I am Hashir (the gatherer) at whose feet people will be gathered, and I am 'Aqib (after whom there would be none), and Allah has named him as compassionate and merciful
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے محمد جبیر بن معطم سے ، انھوں نے ا پنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے کئی نام ہیں ، میں محمد ، احمد اور ماحی یعنی میری وجہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا ۔ اور میں حاشر ہوں ، لوگ میرے پاس قیامت کے دن شفاعت کے لئے اکٹھے ہوں گے ۔ اور میں عاقب ہوں ، یعنی میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام رؤف اور رحیم رکھا ( بہت نرم اور بہت مہربان ) ( صلی اللہ علیہ وسلم)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ - وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عِنْدَهُ - فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلاً لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ - فَبَدَأَ بِهِ - وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ‏"‏ ‏.‏
Masruq reported:We used to go to Abdullah b. 'Amr and talk to him, Ibn Numair said: One day we made a mention of Abdullah b. Mas'ud, whereupon he said: You have made mention of a person whom I love more than anything else. I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Learn Qur'an from four persons: Ibn Umm 'Abd (i. e. 'Abdullah b. Mas'ud) he started from him-then Mu'adh b. Jabal and Ubayya b. Ka'b, then Salim the ally of Abu Hudhaifa
ابو بکر بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ ( علمی ) گفتگو کیاکرتے تھے ۔ اور ابن نمیر نے کہا : ان کے پاس ( گفتگو کیا کرتے تھے ) چنانچہ ایک دن ہم نے ( ان کے سامنے ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کیا تو انھوں نےکہا : تم نے مجھ سے اس شخص کا ذکر کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سننے کے بعد سے مسلسل اس سے محبت کرتا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قرآن چار آدمیوں سے سیکھو : ابن ام عبد ( حضرت ابن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ۔ آپ نے ابتداء ان سے کی ۔ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابن ابی کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےآزاد کردہ غلام سالم سے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
Abu Huraira reported a hadith like this from Allah's Apostle (ﷺ) through another chain of transmitters
ابن عون نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي، حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلاً، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been reported by Sahl b. Sa'd that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I and the Last Hour are (close to each other) like this (and he, in order to explain it) pointed (by joining his) forefinger, (one) next to the thumb and the middle finger (together)
یعقوب نے ابو حازم سے روایت کی ، انھوں نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ انگوٹھے کے ساتھ والی ( شہادت کی انگلی ) اور بڑی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمارہے تھے؛ " میں اورقیامت اس طرح ( ساتھ ساتھ ) بھیجے گئے ہیں ۔