حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated by Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters
(سلیمان بن بلال کے بجائے ) عبد الوہاب ثقفی ، سفیان بن عیینہ ، ابو خالد احمر اورعیسیٰ بن یونس سبھی نے یحییٰ بن سعید سے ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث روایت کی ہے
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، - قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، - حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (way peace be upon him) said: When any one of you utters tashahhud (in prayer) he must seek refuge with Allah from four (trials) and should thus say:" O Allah! I seek refuge with Thee from the torment of the Hell, from the torment of the grave, from the trial of life and death and from the evil of the trial of Masih al-Dajjal" (Antichrist)
وکیع نے کہا : ہمیں اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے محمد بن ابی عائشہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، نیز ( اوزاعی نے ) یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھون نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : روسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھ لے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرے ۔ ’’اے اللہ ! میں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت میں آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
A hadith like this has been narrated by 'A'isha by another chain of transmitters
ابن ابی عتاب نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ - أَوِ الْعَمَلِ - الصَّلاَةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ " .
It is reported on the authority of 'Abdullah that the Messenger of Allah observed:The best of' the deeds or deed is the (observance of) prayer at its proper time and kindness to the parents
ابو عمرو شیبانی سے ان کے ایک شاگرد حسن بن عبید اللہ نے یہی روایت بیان کی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’سب سے افضل اعمال ( یاعمل ) وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا ہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ " . فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) reported that when Allah's Messenger (ﷺ) came to Medina, he found the Jews observing the fast on the day of Ashura. They (the Jews) were asked about it and they said:It is the day on which Allah granted victory to Moses and (his people) Bani Isra'il over the Pharaoh and we observe fast out of gratitude to Him. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: We have a closer connection with Moses than you have, and he commanded to observe fast on this day
یحییٰ بن یحییٰ ، ہشیم ابی بشر ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو لوگوں نے ان سے اس روزے کےبارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضر ت موسیٰ علیہ السلام کو اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا تو ہم اس دن کی عظمت کی وجہ سے روزہ رکھتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزے کا حکم فرمایا ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ، مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلاَثًا وَمَشَى أَرْبَعًا
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported that when Allah's Messenger (ﷺ) proceeded to Mecca, he came to it (the Black Stone). he kissed it. and moved to his right. and moved quickly in three circuits, and walked in four circuits
سفیان ( ثوری ) نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے سابقہ سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے ، اسے بوسہ دیا ، پھر ( طواف کے لئے ) اپنی دائیں جانب روانہ ہوئے ۔ ( تین چکروں میں ) چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیزی سے اور ( باقی ) چار میں عام رفتار سے چلے ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ لَقَدْ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Jabir (Allah be pleased with him) reported:We used to practise 'azl during the life of Allah's Messenger (ﷺ)
معقل نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کیا کرتے تھے
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحْتَكِرُ إِلاَّ خَاطِئٌ " .
Ma'mar b. Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No one hoards but the sinner
محمد بن عجلان نے محمد بن عمرو بن عطاء سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " گناہ گار کے سوا کوئی اور شخص ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا ۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ثَمَانِينَ، رَجُلاً مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ هَبَطُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سَلَمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ}
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that eighty Persons from the inhabitants of Mecca swooped down upon the Messenger of Allah (ﷺ) from the mountain of Tan'im. They were armed and wanted to attack the Prophet (ﷺ) and his Companions unawares. He (the Holy Prophet) captured them but spared their lives. So, God, the Exalted and Glorious, revealed the verses:" It is He Who restrained your hands from them and their hands from you in the valley of Mecca after He had given you a victory over them
انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے اسی آدمی مکہ والے رسول اﷲؐ کے اوپر اترے تنعیم کے پہاڑ سے ، وہ چاہتے تھے آپ کو دھوکا دیں او رغفلت میں حملہ کریں ۔ پھرآپ نے ان کو پکڑ لیا اور قید کیا ۔ بعد اس کے آپ نے چھوڑ دیا تب اﷲ تعایٰ نے اس آیت کو اتارا : وھو الذی کف ایدیھم عنکم یعنی خدا وہ ہے جس نے روکا ان کے ہاتھوں کو تم سے ( اور ان کا فریب کچھ نہ چلا ) اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے ( تم نے ان کو قتل نہ کیا ) مکہ کی سرحد میں تمہارے فتح ہوجانے کے بعد ان پر ۔ ترجمہ وہی جو اوپر گزرا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ - إِلَى قَوْلِهِ - مَا تَخَلَّفْتُ خِلاَفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " .
Another version of the tradition narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Huraira has the same wording as the previous tradition:" Allah takes care of one who goes out in the way of Allah" but ends in the words:" I would not lag behind any expedition which is undertaken to fight in the way of Allah, the Exalted
سہیل منے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا ، اللہ اس کے لیے اس بات کی ضمانت دیتا ہے " سے لے کر " میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا " تک ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ أَبِي عِصَامٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَقَالَ فِي الإِنَاءِ .
This hadith is reported on the authority of Anas with a slight variation of wording
ہشام دستوائی نے ابو عصام سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " برتن میں ( سے پیتے ہوئے)
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، . كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ، بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
This hadith has been reported on the authority of Jabir b. 'Abdullah through another chain of transmitters
حجاج بن محمد اور محمد بن بکر دونوں نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فر ما یا : سابقہ حدیث کے مانند ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ، سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ كَانَ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ " . يَعْنِي الشُّؤْمَ .
Sahl b. Sa'd reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If bad luck were to be in anything, it is found in the woman, the horse and the abode
امام مالک نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر یہ بات ہو تو عورت ، گھوڑے اور گھر میں ہو گی ۔ " آپ کی مراد عدم موافقت سے تھی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَسْمَعُ الصَّوْتَ وَيَرَى الضَّوْءَ سَبْعَ سِنِينَ وَلاَ يَرَى شَيْئًا وَثَمَانَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا .
Ibn 'Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) stayed in Mecca for fifteen years (after his advent as a Prophet) and he heard the voice of Gabriel and saw his radiance for seven years but did not see any visible form, and then received revelation for ten years, and he stayed in Medina for ten years
حماد بن سلمہ نے عمار بن ابی عمار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ برس تک آواز سنتے تھے اور روشنی دیکھتے تھے سات برس تک ، لیکن کوئی صورت نہیں دیکھتے تھے پھر آٹھ برس تک وحی آیا کرتی تھی اور دس برس تک مدینہ میں رہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ { وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} ثُمَّ قَالَ عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي أَنْ أَقْرَأَ فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ . قَالَ شَقِيقٌ فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلاَ يَعِيبُهُ .
Abdullah (b. Mas'ud) reported that he (said to his companions to conceal their copies of the Qur'an) and further said:He who conceals anything he shall have to bring that which he had concealed on the Day of judgment, and then said: After whose mode of recitation you command me to recite? I in fact recited before AIlah's Messenger (ﷺ) more than seventy chapters of the Qur'an and the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) know it that I have better understanding of the Book of Allah (than they do), and if I were to know that someone had better understanding than I, I would have gone to him. Shaqiq said: I sat in the company of the Companions of Mubkmmad (ﷺ) but I did not hear anyone having rejected that (that is, his recitation) or finding fault with it
شقیق نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے پڑھا : "" ”اور جو کوئی چیز چھپا رکھے گا ، وہ اس کو قیامت کے دن لائے گا“ ( سورۃ : آل عمران : 161 ) پھر کہا کہ تم مجھے کس شخص کی قرآت کی طرح قرآن پڑھنے کا حکم کرتے ہو؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سے زیادہ سورتیں پڑھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یہ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں اللہ کی کتاب کو زیادہ جانتا ہوں اور اگر میں جانتا کہ کوئی مجھ سے زیادہ اللہ کی کتاب کو جانتا ہے تو میں اس شخص کی طرف سفر اختیار کرتا ۔ شفیق نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے حلقوں میں بیٹھا ہوں ، میں نے کسی کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اس بات کو رد کرتے یا ان پر عیب لگاتے نہیں سنا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، - وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا بِشَىْءٍ " . أَوْ قَالَ " لِيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا " .
Abu Musa reported Allah's Apostle (ﷺ) assaying:He who amongst you moves in the mosque or in the bazar and there is an arrow with him he should take hold of its iron-head in his palm, so that none amongst the Muslims should receive any injury from it, or he said, should catch its iron-head
بُرید نے ابوبردہ سے ، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو وہ انہیں اپنی ہتھیلی سے ان کے تیز نوکدار حصوں کی طرف سے پکڑے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا کوئی حصہ مسلمانوں میں سے کسی شخص کو لگ جائے ۔ "" یا فرمایا : "" وہ ان کے پیکانوں کو اپنی مٹھی میں پکڑے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
The previous hadith is narrated through Abu Kamil from Hammad with the same chain
یہی حدیث مجھے ابو کامل نے بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔