حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَفِيهِ قَالَتْ وَمَا صَلَّى صَلاَةً بَعْدَ ذَلِكَ إِلاَّ سَمِعْتُهُ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
Masruq reported this hadith on the authority of 'A'isha who said:Never did he (the Holy Prophet) say prayer after this in which I did not hear him seeking refuge from the torment of the grave
(ابو وائل کے بجائے ) اشعث کے والد ( ابو شعثاء سلیم محاربی ) نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ ؓ سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی ۔ اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : آپ نے اس کے بعد جو نماز بھی پڑھی میں نے آپ سے سناکہ آپ اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا أَلْفَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّحَرُ الأَعْلَى فِي بَيْتِي - أَوْ عِنْدِي - إِلاَّ نَائِمًا .
A'isha reported:Never did the earlier part of the dawn find the Messenger of Allah (ﷺ) but sleeping in my house or near me
ابو سلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : سحر کے آخری حصے ( جب طلوع فجر سے بالکل پہلے سحر اپنی انتہا پر ہوتی ہے ) نے میرے گھر میں یا میرے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوئے ہوئے ہی پایا ۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ، صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ " إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يُكَلِّمُكَ قَالَ وَرُئِينَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ وَقَالَ " إِنَّ هَذَا السَّائِلَ - وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ - إِنَّهُ لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلاَّ آكِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ رَتَعَتْ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
Abu Said al-Khudri reported:The Messenger of Allah (ﷺ) was sitting on the pulpit and we were sitting around him, and he said: What I am afraid of in regard to you after my death is that there would be opened for you the adornments of the world and its beauties. A person said: Messenger of Allah, does good produce evil? The Messenger of Allah (ﷺ) remained silent. And it was said to him (the man who had asked the question from the Holy Prophet): What Is the matter with you, that you speak with the Messenger of Allah (ﷺ) but he does not speak with you? We thought as if revelation was descending upon him. He regained himself and wiped the sweat from him and said: He was the inquirer (and his style of expression showed as if he praised him and then added): Verily good does not produce evil. Whatever the spring rainfall causes to grow kills or is about to kill, but that (animal) which feeds on vegetation. It eats till its flanks are filled; it faces the sun and dungs and urinates. and then returns to eat. And this Wealth is a sweet vegetation, and it is a good companion for a Muslim who gives out of it to the needy, to the orphan. to the wayfarer, or something like that as the Messenger of Allah (ﷺ) said: He who takes it without his right is like one who eats but does not feel satisfied, and it would stand witness against him on the Day of judgment
ہلال بن ابی میمونہ نے عطا ء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فر ما ہوئے اور ہم آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : " مجھے اپنے بعد تمھا رے بارے میں جس چیز کا خوف ہے وہ دنیا کی شادابی اور زینت ہے جس کے دروازے تم پر کھول دیے جا ئیں گے ۔ تو ایک آدمی نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر شر کو لے آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب میں ( کچھ دیر ) خا مو ش رہے اس سے کہا گیا : تیرا کیا معاملہ ہے ؟ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے ہو ( جبکہ ) وہ تم سے بات نہیں کر رہے ؟ کہا : اور ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی اتاری جا رہی ہے پھر آپ پسینہ پو نچھتے ہو ئے اپنے معمول کی حا لت میں آگئے اور فرمایا : " یہ سا ئل کہاں سے آیا ؟ گو یا آپ نے اس کی تحسین فر ما ئی ۔ ۔ ۔ پھر فر ما یا : " واقعہ یہ ہے کہ خیر شر کو نہیں لا تی اور بلا شبہ مو سم بہار جو اگا تا ہے وہ ( اپنی دفرت شادابی اور مرغوبیت کی بنا پر ) مار دیتا ہے یا مو ت کے قریب کر دیتا ہے سوائے سبز دکھا نے والے اس حیوان کے جس نے کھا یا یہاں تک کہ جب اس کی کو کھیں بھرگئیں تو اس نے سورج کی آنکھ کی طرف منہ کر لیا ( اور آرام سے بیٹھ کر کھا یا ہوا ہضم کیا ) پھر لید کی ، پیشاب کیا اس کے بعد ( پھر سے ) گھا س کھا ئی ۔ یقیناً یہ ما ل شاداب اور شریں ہے اور یہ اس مسلمان کا بہترین ساتھی ہے جس نے اس میں سے مسکین یتیم اور مسافر کو دیا ۔ ۔ ۔ یا الفا ظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما ئے ۔ ۔ ۔ اور حقیقت یہ ہے جو اسے اس کے حق کے بغیر لیتا ہے وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کھا تا ہے اور سیر نہیں ہو تا اور قیامت کے دن وہ ( مال ) اس کے خلاف گواہ ہو گا ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، قَالَ حَدَّثَنِي صَاحِبُ، هَذِهِ الدَّارِ - وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ " الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا " . قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " . قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ " ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .
It was heard from Abu 'Amr Shaibani that, pointing towards the house of Abdullah, he said:The owner of this house told me that he asked the Messenger of Allah (ﷺ): Which of the deeds are liked by Allah? He (the Holy Prophet) observed: Prayer at its proper time. I (again) said: What next? He replied: Then goodness to the parents. I (again) said: What then? He replied: Then Jihad in the cause of Allah. He ('Abdullah) said: This is what I was told (by the Holy Prophet). Had I questioned further, he would have made additions for me
عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو عمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی ( اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا ) انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آ پ مجھے مزید بتاتے ۔)
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Shihab through the same chain of transmitters
ابو طاہر عبداللہ ، عبداللہ بن وہب ، مالک بن انس ، حضرت ابن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَجَّةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَكَانَتِ الْعَرَبُ يَدْفَعُ بِهِمْ أَبُو سَيَّارَةَ عَلَى حِمَارٍ عُرْىٍ فَلَمَّا أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ . لَمْ تَشُكَّ قُرَيْشٌ أَنَّهُ سَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ وَيَكُونُ مَنْزِلُهُ ثَمَّ فَأَجَازَ وَلَمْ يَعْرِضْ لَهُ حَتَّى أَتَى عَرَفَاتٍ فَنَزَلَ .
Ja'far b. Muhammad narrated on the authority of his father thus:I came to Jabir b. Abdullah and asked him about the (Farewell) Pilgrimage of Allah's Messenger (ﷺ). The rest of the hadith is the same, but with the addition of this:" There was one Abu Sayyara among the Arabs, (of pre-Islamic period) who carried (people from Muzdalifa to Mini). As the Messenger of Allah (May peace be upon him) set out from Muzdalifa to al-Mash'ar al-Haram, the Quraish were certain that he would halt there and that would be his station. But he passed on (without staying) there. and paid no heed to it till he came to 'Arafat and there he stayed
ہم سے حاتم بن اسماعیل مدنی نے جعفر ( الصادق ) بن محمد ( الباقرؒ ) سے ، انھوں نےاپنے والد سے ر وایت کی ، کہا : ہم جابر بن عبداللہ کے ہاں آئے ، انھوں نے سب کے متعلق پوچھنا شروع کیا ، حتیٰ کہ مجھ پر آکر رک گئے ، میں نے بتایا : میں محمد بن علی بن حسین ہوں ، انھوں نے ( ازراہ شفقت ) اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے سر پر رکھا ، پھر میرا اوپر ، پھر نیچے کا بٹن کھولا اور ( انتہائی شفقت اورمحبت سے ) اپنی ہتھیلی میرے سینے کے درمیان رکھ دی ، ان دنوں میں بالکل نوجوان تھا ، فرمانے لگے : میرے بھتیجے تمھیں خوش آمدید!تم جوچاہوپوچھ سکتے ہو ، میں نے ان سے سوال کیا ، وہ ان دنوں نابینا ہوچکے تھے ۔ ( اس وقت ) نماز کا وقت ہوگیا تھا ، اور موٹی بُنائی کا ایک کپڑا اوڑھنے والا لپیٹ کر ( نماز کےلیے ) کھڑے ہوگئے ۔ وہ جب بھی اس ( کے ایک پلو ) کو ( دوسری جانب ) کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی بناء پر اس کے دونوں پلوواپس آجاتے جبکہ ا ن کی ( بڑی ) چادر ان کے پہلو میں ایک کھونٹی پرلٹکی ہوئی تھی ۔ انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی ، ( نماز سے فارغ ہوکر ) میں نے عرض کی : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیے ۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو گرہ بنائی ، اور کہنے لگے : بلاشبہ نو سال ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف فرمایا ، حج نہیں کیا ، اس کےبعد دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کروایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حج کررہے ہیں ۔ ( یہ اعلان سنتے ہی ) بہت زیادہ لوگ مدینہ میں آگئے ۔ وہ سب اس بات کے خواہشمند تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں ۔ اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کریں اس پر عمل کریں ۔ ( پس ) ہم سب آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچ گئے ، ( وہاں ) حضرت اسماء بن عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھی بھیجا کہ ( زچگی کی اس حالت میں اب ) میں کیا کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غسل کرو ، کپڑے کالنگوٹ کسو ، اور حج کا احرام باندھ لو ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ذوالحلیفہ کی ) مسجد میں نماز ادا کی ۔ اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوگئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوئی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ، تاحد نگاہ پیادے اورسوار ہی دیکھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی یہی حال تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ( موجود ) تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرقرآن نازل ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کی ( حقیقی ) تفسیر جانتے تھے ۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ہم بھی اس پر عمل کرتے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اللہ کی ) توحید کا تلبیہ پکارا " لبيك اللهم لبيك .. لبيك لا شريك لك لبيك .. إن الحمد والنعمة لك والملك .. لا شريك لك " ان لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا ۔ " اور لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا جو ( بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ ) وہ آج پکارتے ہیں ۔ آپ نے ان کے تلبیہ میں کسی بات کو مسترد نہیں کیا ۔ اور اپنا وہی تلبیہ ( جو پکاررہے تھے ) پکارتے رہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہماری نیت حج کےعلاوہ کوئی ( اور ) نہ تھی ، ( حج کے مہینوں میں ) عمرے کو ہم جانتے ( تک ) نہ تھے ۔ حتیٰ کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کااستلام ( ہاتھ یا ہونٹوں سے چھونا ) کیا ، پھر ( طواف شروع کیا ) ، تین چکروں میں چھوٹے قدم اٹھاتے ، کندھوں کوحرکت دیتے ہوئے ، تیز چلے ، اور چار چکروں میں ( آرام سے ) چلے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیمؑ کی طرف بڑھے اوریہ آیت تلاوت فرمائی ( وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ) " اور مقام ابراہیم ( جہاں آپ کھڑے ہوئے تھے ) کو نماز کی جگہ بناؤ " ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیمؑ کواپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا ۔ میرے والد ( محمد الباقرؒ ) کہا کر تے تھے ۔ اور مجھے معلوم نہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےعلاوہ کسی اور ( کے حوالے ) سے یہ کہا ہو ۔ کہ آپ دو رکعتوں میں ( قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ) اور ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) پڑھا کرتے تھے ۔ پھر آپ حجر اسود کے پاس تشریف لائے ، اس کا استلام کیا اور باب ( صفا ) سے صفا ( پہاڑی ) کی جانب نکلے ۔ جب آپ ( کوہ ) صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی : ( إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِاللَّـهِ ۖ ) " صفا اور مروہ اللہ کے شعائر ( مقرر کردہ علامتوں ) میں سے ہیں ۔ " میں ( بھی سعی کا ) وہیں سے آغاز کررہا ہوں جس ( کےذکر ) سے اللہ تعالیٰ نے آغاز فرمایا ۔ " اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفاسے ( سعی کا ) آغاز فرمایا ۔ اس پر چڑھتے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کودیکھ لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے ، اللہ کی وحدانیت اورکبریائی بیان فرمائی ۔ اور کہا : " اللہ کے سوا کوئی عبادت کےلائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، ساری بادشاہت اسی کی ہے اورساری تعریف اسی کے لئے ہے ۔ اکیلے اللہ کےسوا کوئی عبادت کےلائق نہیں ، اس نےاپنا وعدہ خوب پورا کیا ، اپنے بندے کی نصرت فرمائی ، تنہا ( اسی نے ) ساری جماعتوں ( فوجوں ) کو شکست دی ۔ " ان ( کلمات ) کے مابین دعا فرمائی ۔ آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشادفرمائے تھے ۔ پھر مروہ کی طرف اترے ۔ حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک وادی کی ترائی میں پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی فرمائی ، ( تیز قدم چلے ) جب وہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےقدم مباک مروہ کی ) چڑھائی چڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( معمول کی رفتار سے ) چلنے لگے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ کی طرف پہنچ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ پر اسی طرح کیا جس طرح صفا پر کیا تھا ۔ جب مروہ پر آخری چکر تھا تو فرمایا : " اگر پہلے میرے سامنے وہ بات ہوتی جو بعد میں آئی تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا ، اور اس ( منسک ) کو عمرے میں بدل دیتا ، لہذا تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ، وہ حلال ہوجائے اور اس ( منسک ) کو عمرہ قرار دے لے ۔ " ( اتنے میں ) سراقہ بن مالک جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے عرض کی : اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ) ہمارے اسی سال کے لئے ( خاص ) ہے یا ہمیشہ کے لئے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( دونوں ہاتھوں کی ) انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں ، اور فرمایا : " عمرہ ، حج میں داخل ہوگیا ۔ " دو مرتبہ ( ایسا کیا اورساتھ ہی فرمایا : ) " صرف اسی سال کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔ " حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی اونٹنیاں لے کرآئے ، انھوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو احرام سے فارغ ہوچکے تھے ۔ ، رنگین کپڑے پہن لیے تھے اورسرمہ لگایا ہوا ہے ۔ اسےا نھوں ( حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان کے لئے نادرست قرار دیا ۔ انھوں نے جواب دیا : میرے والدگرامی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عراق میں کہا کرتے تھے : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس ، اس کام کی وجہ سے جو فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیاتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے خلاف ابھارنے کے لئے گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کے متعلق پوچھنے کے لئے جو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہی تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( یہ بھی ) بتایا کہ میں نے ان کے اس کام ( احرام کھولنے ) پر اعتراض کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ کہا ہے ، اس نے بالکل سچ کہا ہے ۔ اورتم نے جب حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا؟ " میں نے جواب دیا میں نے کہا تھا : اے اللہ ! میں بھی اسی ( منسک ) کے لئے تلبیہ پکارتاہوں ۔ جس کے لئے تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے ساتھ قربانی ہے ۔ ( میں عمرے کے بعدحلال نہیں ہوسکتا اور تمھاری بھی نیت میری نیت جیسی ہے ، لہذا ) تم بھی عمرے سے فارغ ہونے کے بعد احرام مت کھولنا ۔ ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جانوروں کی مجموعی تعداد جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے لائےتھے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے کرآئے تھے ۔ ایک سوتھی ۔ پھر ( عمرے کےبعد ) تمام لوگوں نے ( جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں ) احرام کھول لیا اور بال کتروالیے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جن کے ہمراہ قربانیاں تھیں ( انھوں نے احرام نہیں کھولا ) ، جب ترویہ ( آٹھ ذوالحجہ ) کا دن آیا تو لوگ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے ، حج ( کا احرام باندھ کر اس ) کا تلبیہ پکارا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوگئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ( منیٰ میں ) ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اورفجر کی نمازیں ادا فرمائیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے رہے حتیٰ کہ سورج طلو ع ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بالوں سے بنا ہوا یک خیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نمرہ میں لگا دیاجائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے ، قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعر حرام کے پاس جا کر ٹھر جائیں گے ۔ جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۔ ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہاں سے آگے ) گزر گئے یہاں تک کہ عرفات میں پہنچ گئے ۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہواملا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں فروکش ہوگئے ۔ جب سورج ڈھلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی اونٹنی ) قصواء کو لانے کا حکم دیا ، اس پر آ پ کے لئے پالان کس دیا گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم و ادی ( عرفہ ) کے درمیان تشریف لے آئے ، اور لوگوں کو خطبہ دیا : تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر ( ایسے ) حرام ہیں جیسے آج کے دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے اور زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے دونوں پیروں کے نیچے رکھ دی گئی ( یعنی ان چیزوں کا اعتبار نہ رہا ) اور جاہلیت کے خون بے اعتبار ہو گئے اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ کا خون ہے کہ وہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور اس کو ہذیل نے قتل کر ڈالا ( غرض میں اس کا بدلہ نہیں لیتا ) اور اسی طرح زمانہ جاہلیت کا سود سب چھوڑ دیا گیا ( یعنی اس وقت کا چڑھا سود کوئی نہ لے ) اور پہلے جو سود ہم اپنے یہاں کے سود میں سے چھوڑتے ہیں ( اور طلب نہیں کرتے ) وہ عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کا سود ہے اس لئے کہ وہ سب چھوڑ دیا گیا اور تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اس لئے کہ ان کو تم نے اللہ تعالیٰ کی امان سے لیا ہے اور تم نے ان کے ستر کو اللہ تعالیٰ کے کلمہ ( نکاح ) سے حلال کیا ہے ۔ اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں ( یعنی تمہارے گھر میں ) جس کا آنا تمہیں ناگوار ہو پھر اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسا مارو کہ ان کو سخت چوٹ نہ لگے ( یعنی ہڈی وغیرہ نہ ٹوٹے ، کوئی عضو ضائع نہ ہو ، حسن صورت میں فرق نہ آئے کہ تمہاری کھیتی اجڑ جائے ) اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ ان کی روٹی اور ان کا کپڑا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے اور میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہو گے ( وہ ہے ) اللہ تعالیٰ کی کتاب ۔ اور تم سے ( قیامت میں ) میرے بارے میں سوال ہو گا تو پھر تم کیا کہو گے؟ ان سب نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور رسالت کا حق ادا کیا اور امت کی خیرخواہی کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگشت شہادت ( شہادت کی انگلی ) آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور لوگوں کی طرف جھکاتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے اللہ! گواہ رہنا ، اے اللہ! گواہ رہنا ، اے اللہ! گواہ رہنا ۔ تین بار ( یہی فرمایا اور یونہی اشارہ کیا ) پھر اذان اور تکبیر ہوئی تو ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر اقامت کہی اور عصر پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان میں کچھ نہیں پڑھا ( یعنی سنت و نفل وغیرہ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار کر موقف میں آئے اونٹنی کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور پگڈنڈی کو اپنے آگے کر لیا اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور غروب آفتاب تک وہیں ٹھہرے رہے ۔ زردی تھوڑی تھوڑی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیا ڈوب گئی تب ( سوار ہوئے ) سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا لیا اور واپس ( مزدلفہ کی طرف ) لوٹے اور قصواء کی مہار اس قدر کھینچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوہ کے ( اگلے حصے ) مورک سے لگ گیا تھا ( مورک وہ جگہ ہے جہاں سوار بعض وقت تھک کر اپنا پیر جو لٹکا ہوا ہوتا ہے اس جگہ رکھتا ہے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے کہ اے لوگو! آہستہ آہستہ آرام سے چلو اور جب کسی ریت کی ڈھیری پر آ جاتے ( جہاں بھیڑ کم پاتے ) تو ذرا مہار ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ اونٹنی چڑھ جاتی ( آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو تکبیروں سے پھڑیں اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے ( یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے ۔ ( سبحان اللہ کیسے کیسے خادم ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ دن رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے بیٹھنے ، اٹھنے جاگنے ، کھانے پینے پر نظر ہے اور ہر فعل مبارک کی یادداشت و حفاظت ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کرے ) یہاں تک کہ صبح ہوئی جب فجر ظاہر ہو گئی تو اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز فجر پڑھی پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر الحرام میں آئے اور وہاں قبلہ کی طرف منہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کی توحید پکاری اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ بخوبی روشنی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے طلوع آفتاب سے قبل لوٹے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فضل رضی اللہ عنہ ایک نوجوان اچھے بالوں والا گورا چٹا خوبصورت جوان تھا ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو عورتوں کا ایک ایسا گروہ چلا جاتا تھا کہ ایک اونٹ پر ایک عورت سوار تھی اور سب چلی جاتی تھیں اور سیدنا فضل صان کی طرف دیکھنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کے چہرے پر ہاتھ رکھ دیا ( اور زبان سے کچھ نہ فرمایا ۔ سبحان اللہ یہ اخلاق کی بات تھی اور نہی عن المنکر کس خوبی سے ادا کیا ) اور فضل رضی اللہ عنہ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا اور دیکھنے لگے ( یہ ان کے کمال اطمینان کی وجہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا ہاتھ ادھر پھیر کر ان کے منہ پر رکھ دیا تو فضل دوسری طرف منہ پھیر کر پھر دیکھنے لگے یہاں تک کہ بطن محسر میں پہنچے تب اونٹنی کو ذرا تیز چلایا اور بیچ کی راہ لی جو جمرہ کبریٰ پر جا نکلتی ہے ، یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے ( اور اسی کو جمرہ عقبہ کہتے ہیں ) اور سات کنکریاں اس کو ماریں ۔ ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے ، ایسی کنکریاں جو چٹکی سے ماری جاتی ہیں ( اور دانہ باقلا کے برابر ہوں ) اور وادی کے بیچ میں کھڑے ہو کر ماریں ( کہ منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ داہنی طرف اور مکہ بائیں طرف رہا ) پھر نحر کی جگہ آئے اور تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر ( یعنی قربان ) کئے ، باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دئیے کہ انہوں نے نحر کئے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی قربانی میں شریک کیا اور پھر ہر اونٹ سے گوشت ایک ٹکڑا لینے کا حکم فرمایا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق لے کر ) ایک ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں نے اس میں سے گوشت کھایا اور اس کا شوربا پیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف آئے اور طواف افاضہ کیا اور ظہر مکہ میں پڑھی ۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے کہ وہ لوگ زمزم پر پانی پلا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی بھرو اے عبدالمطلب کی اولاد! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ بھیڑ کر کے تمہیں پانی نہ بھرنے دیں گے تو میں بھی تمہارا شریک ہو کر پانی بھرتا ( یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھرتے تو سنت ہو جاتا تو پھر ساری امت بھرنے لگتی اور ان کی سقایت جاتی رہتی ) پھر ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا ۔
وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ، قَاصُّ أَهْلِ مَكَّةَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ عِيَاضِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:A person came to Allah's Apostle (the rest of the hadith is the same)
ابو احمد زبیری نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مکہ کے قصہ گو سعید بن حسان نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عروہ بن عیاض بن عدی بن خیار نوفلی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ( آگے ) سفیان کی حدیث کے ہم معنی ( ہے)
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبِي زَيْدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَإِنَّهُ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ " .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:He who has land, it is better for him that he should let it out to his brother
عبدالملک بن زید نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس کی زمین ہو ، وہ اگر اسے اپنے بھائی کو عاریتا دے دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، بِإِسْنَادِهِمْ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ يَذْكُرُ فِيهِ " إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ " .
This hadith has been narrated by Ibn Abu Najih through another chain of transmitters mentioning in it" for a specified period
وکیع اور عبدالرحمان بن مہدی دونوں نے سفیان ( ثوری ) سے ، انہوں نے ابن ابی نجیح سے انہی کی سند کے ساتھ ابن عیینہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی اور انہوں نے اس میں " معین مدت تک " کے الفاظ ( بھی ) بیان کیے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ - وَهَذَا حَدِيثُهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، قَدِمْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لاَ تُرْوِيهَا - قَالَ - فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَبَا الرَّكِيَّةِ فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَسَقَ فِيهَا - قَالَ - فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا . قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَانَا لِلْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ . قَالَ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَسَطٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ " بَايِعْ يَا سَلَمَةُ " . قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ قَالَ " وَأَيْضًا " . قَالَ وَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَزِلاً - يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ سِلاَحٌ - قَالَ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ " أَلاَ تُبَايِعُنِي يَا سَلَمَةُ " . قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ وَفِي أَوْسَطِ النَّاسِ قَالَ " وَأَيْضًا " . قَالَ فَبَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ قَالَ لِي " يَا سَلَمَةُ أَيْنَ حَجَفَتُكَ أَوْ دَرَقَتُكَ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ عَزِلاً فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا - قَالَ - فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " إِنَّكَ كَالَّذِي قَالَ الأَوَّلُ اللَّهُمَّ أَبْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ نَفْسِي " . ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّى مَشَى بَعْضُنَا فِي بَعْضٍ وَاصْطَلَحْنَا . قَالَ وَكُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَسْقِي فَرَسَهُ وَأَحُسُّهُ وَأَخْدُمُهُ وَآكُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَكْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَكَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَكَسَحْتُ شَوْكَهَا فَاضْطَجَعْتُ فِي أَصْلِهَا - قَالَ - فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَجَعَلُوا يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبْغَضْتُهُمْ فَتَحَوَّلْتُ إِلَى شَجَرَةٍ أُخْرَى وَعَلَّقُوا سِلاَحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِي يَا لَلْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ . قَالَ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَى أُولَئِكَ الأَرْبَعَةِ وَهُمْ رُقُودٌ فَأَخَذْتُ سِلاَحَهُمْ . فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِي يَدِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لاَ يَرْفَعُ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأْسَهُ إِلاَّ ضَرَبْتُ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاهُ . قَالَ ثُمَّ جِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - وَجَاءَ عَمِّي عَامِرٌ بِرَجُلٍ مِنَ الْعَبَلاَتِ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزٌ . يَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَرَسٍ مُجَفَّفٍ فِي سَبْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " دَعُوهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُورِ وَثِنَاهُ " فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْزَلَ اللَّهُ { وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ} الآيَةَ كُلَّهَا . قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي لَحْيَانَ جَبَلٌ وَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ رَقِيَ هَذَا الْجَبَلَ اللَّيْلَةَ كَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ - قَالَ سَلَمَةُ - فَرَقِيتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِهِ - قَالَ - ثُمَّ قُمْتُ عَلَى أَكَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلاَثًا يَا صَبَاحَاهْ . ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ أَقُولُ أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمَ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ رَجُلاً مِنْهُمْ فَأَصُكُّ سَهْمًا فِي رَحْلِهِ حَتَّى خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَى كَتِفِهِ - قَالَ - قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَىَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا ثُمَّ رَمَيْتُهُ فَعَقَرْتُ بِهِ حَتَّى إِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِي تَضَايُقِهِ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ - قَالَ - فَمَا زِلْتُ كَذَلِكَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثِينَ بُرْدَةً وَثَلاَثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ وَلاَ يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلاَّ جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ حَتَّى أَتَوْا مُتَضَايِقًا مِنْ ثَنِيَّةٍ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَتَاهُمْ فُلاَنُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَجَلَسُوا يَتَضَحَّوْنَ - يَعْنِي يَتَغَدَّوْنَ - وَجَلَسْتُ عَلَى رَأْسِ قَرْنٍ قَالَ الْفَزَارِيُّ مَا هَذَا الَّذِي أَرَى قَالُوا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ وَاللَّهِ مَا فَارَقَنَا مُنْذُ غَلَسٍ يَرْمِينَا حَتَّى انْتَزَعَ كُلَّ شَىْءٍ فِي أَيْدِينَا . قَالَ فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ أَرْبَعَةٌ . قَالَ فَصَعِدَ إِلَىَّ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فِي الْجَبَلِ - قَالَ - فَلَمَّا أَمْكَنُونِي مِنَ الْكَلاَمِ - قَالَ - قُلْتُ هَلْ تَعْرِفُونِي قَالُوا لاَ وَمَنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ أَنَا سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لاَ أَطْلُبُ رَجُلاً مِنْكُمْ إِلاَّ أَدْرَكْتُهُ وَلاَ يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ . فَيُدْرِكَنِي قَالَ أَحَدُهُمْ أَنَا أَظُنُّ . قَالَ فَرَجَعُوا فَمَا بَرِحْتُ مَكَانِي حَتَّى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ - قَالَ - فَإِذَا أَوَّلُهُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِيُّ عَلَى إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الأَنْصَارِيُّ وَعَلَى إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ - قَالَ - فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ الأَخْرَمِ - قَالَ - فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ قُلْتُ يَا أَخْرَمُ احْذَرْهُمْ لاَ يَقْتَطِعُوكَ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ . قَالَ يَا سَلَمَةُ إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلاَ تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ . قَالَ فَخَلَّيْتُهُ فَالْتَقَى هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ - قَالَ - فَعَقَرَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ وَتَحَوَّلَ عَلَى فَرَسِهِ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لَتَبِعْتُهُمْ أَعْدُو عَلَى رِجْلَىَّ حَتَّى مَا أَرَى وَرَائِي مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَلاَ غُبَارِهِمْ شَيْئًا حَتَّى يَعْدِلُوا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ ذُو قَرَدٍ لِيَشْرَبُوا مِنْهُ وَهُمْ عِطَاشٌ - قَالَ - فَنَظَرُوا إِلَىَّ أَعْدُو وَرَاءَهُمْ فَحَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ - يَعْنِي أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ - فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً - قَالَ - وَيَخْرُجُونَ فَيَشْتَدُّونَ فِي ثَنِيَّةٍ - قَالَ - فَأَعْدُو فَأَلْحَقُ رَجُلاً مِنْهُمْ فَأَصُكُّهُ بِسَهْمٍ فِي نُغْضِ كَتِفِهِ . قَالَ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمَ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ يَا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ أَكْوَعُهُ بُكْرَةَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَكْوَعُكَ بُكْرَةَ - قَالَ - وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَى ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - وَلَحِقَنِي عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا مَذْقَةٌ مِنْ لَبَنٍ وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَتَوَضَّأْتُ وَشَرِبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي حَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَخَذَ تِلْكَ الإِبِلَ وَكُلَّ شَىْءٍ اسْتَنْقَذْتُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَكُلَّ رُمْحٍ وَبُرْدَةٍ وَإِذَا بِلاَلٌ نَحَرَ نَاقَةً مِنَ الإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذْتُ مِنَ الْقَوْمِ وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا - قَالَ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلِّنِي فَأَنْتَخِبُ مِنَ الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ فَلاَ يَبْقَى مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلاَّ قَتَلْتُهُ - قَالَ - فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فِي ضَوْءِ النَّارِ فَقَالَ " يَا سَلَمَةُ أَتُرَاكَ كُنْتَ فَاعِلاً " . قُلْتُ نَعَمْ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ . فَقَالَ " إِنَّهُمُ الآنَ لَيُقْرَوْنَ فِي أَرْضِ غَطَفَانَ " . قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ نَحَرَ لَهُمْ فُلاَنٌ جَزُورًا فَلَمَّا كَشَفُوا جِلْدَهَا رَأَوْا غُبَارًا فَقَالُوا أَتَاكُمُ الْقَوْمُ فَخَرَجُوا هَارِبِينَ . فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَانَ خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرَ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ " . قَالَ ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَهْمَيْنِ سَهْمُ الْفَارِسِ وَسَهْمُ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا لِي جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ - قَالَ - فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ قَالَ وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ لاَ يُسْبَقُ شَدًّا - قَالَ - فَجَعَلَ يَقُولُ أَلاَ مُسَابِقٌ إِلَى الْمَدِينَةِ هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِكَ - قَالَ - فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلاَمَهُ قُلْتُ أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَلاَ تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لاَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي ذَرْنِي فَلأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ " إِنْ شِئْتَ " . قَالَ قُلْتُ اذْهَبْ إِلَيْكَ وَثَنَيْتُ رِجْلَىَّ فَطَفَرْتُ فَعَدَوْتُ - قَالَ - فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِي نَفَسِي ثُمَّ عَدَوْتُ فِي إِثْرِهِ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ثُمَّ إِنِّي رَفَعْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ - قَالَ - فَأَصُكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ - قَالَ - قُلْتُ قَدْ سُبِقْتَ وَاللَّهِ قَالَ أَنَا أَظُنُّ . قَالَ فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْنَا إِلاَّ ثَلاَثَ لَيَالٍ حَتَّى خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَجَعَلَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ تَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَذَا " . قَالَ أَنَا عَامِرٌ . قَالَ " غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ " . قَالَ وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِنْسَانٍ يَخُصُّهُ إِلاَّ اسْتُشْهِدَ . قَالَ فَنَادَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلاَ مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ . قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ قَالَ خَرَجَ مَلِكُهُمْ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَيَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ وَبَرَزَ لَهُ عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرٌ شَاكِي السِّلاَحِ بَطَلٌ مُغَامِرٌ قَالَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْفُلُ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ . قَالَ سَلَمَةُ فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُونَ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَالَ ذَلِكَ " . قَالَ قُلْتُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ . قَالَ " كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " . ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ " لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَسَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ثُمَّ كَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْهِ .
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, he said to me: You take the vow, Salama. I said: I was one of those who took the vow in the first instance. He said: (You may do) again. Then the Messenger. of Allah (ﷺ) saw that I was without weapons. He gave me a big or a small shield. Then he continued to administer vows to the people until it was the last batch of them. He said (to me): Won't you swear allegiance, Salama? I said: Messenger of Allah, I took the oath with the first batch of the people and then again when you were in the middle of the people. He said: (Doesn't matter), you may (do so) again. So I took the oath of allegiance thrice. Then he said to me: Salama, where is the shield which I gave to thee? I said: Messenger of Allah, my uncle 'Amir met me and he was without any weapons. So I gave the shield to him. The Messenger of Allah (ﷺ) laughed and said: You are like a person of the days gone by who said: O God. I seek a friend who is dearer to me than myself. (When all Companions had sworn allegiance to the Holy Prophet), the polytheists sent messages of peace, until people could move from our camp to that of the Meccans and vice versa. Finally, the peace treaty was concluded. I was a dependant of Talha b. Ubaidullah. I watered his horse, rubbed its back. I served Talha (doing odd jobs for him) and partook from his food. I had left my family and my property as an emigrant in the cause of Allah and His Messenger (may peace be uron him). When we and the people of Mecca had concluded a peace treaty and the people of one side began to mix with those of the other, I came to a tree, swept away its thorns and lay down (for rest) at its base; (while I lay there), four of the polytheists from the Meccans came to me and began to talk ill of the Messenger of Allah (ﷺ). I got enraged with them and moved to another tree. They hung their weapons (to the branches of the tree) and lay down (for rest). (While they lay there), somebody from the lower part of the valley cried out: Run up, O Muhajirs! Ibn Zunaim has been murdered. I drew my sword and attacked these four while they were asleep. I seized their arms and collected them up in my hand, and said: By the Being Who has conferred honour upon Muhammad, none of you shall raise his head, else I will smite his face. (Then) I came driving them along to the Prophet (ﷺ). (At the same time). my uncle Amir came (to him) with a man from" Abalat called Mikraz. Amir was dragging him on a horse with a thick covering on its back along with seventy polytheists. The Messenger of Allah (ﷺ) cast a glance at them and said: Let them go (so that) they may prove guilty of breach of trust more than once (before we take action against them). So the Messenger of Allah (ﷺ) forgave them. On this occasion. God revealed the Qur'anic verse:" It is He Who restrained their hands from you and your hands from them in the valley of Mecca after He had granted you a victory over them" (xlviii. 24). Then we moved returning to Medina, and halted at a place where there was a mountain between us and Banu Lihyan who were polytheists. The Messenaer of Allah (ﷺ) asked God's forgiveness for one who ascended the mountain at night to act as a scout for the Messenger of Allah (ﷺ) and his Compinions. I ascended (that mountain) twice or thrice that night. (At last) we reached Medina. The Messenger of Allah (ﷺ) sent his camels with his slave, Rabah, and I was with him. I (also) went to the pasture with the horse of Talha along with the camels. When the day dawned, Abd al-Rahman al-Fazari made a raid and drove away all the camels of the Messenger of Allah (ﷺ), and killed the man who looked after them. I said: Rabah, ride this horse, take it to Talha b. 'Ubaidullah and Inform the Messenger of Allah (ﷺ) that the polytheists have made away with his camels. Then I stood upon a hillock and turning my face to Medina, shouted thrice: Come to our help I Then I set out in pursuit of the raiders, shooting at them with arrows and chanting a (self-eulogatory) verse in the Iambic metre: I am the son of al-Akwa' And today is the day of defeat for the mean. I would overtake a man from them, shoot at him an arrow which, piercing through the saddle, would reach his shoulder. and I would say: Take it, chanting at the same time the verse And I am the son of al-Akwa' And tody is the day of defeat for the mean. By God, I continued shooting at them and hamstringing their animals. Whenever a horseman turned upon me, I would come to a tree and (hid myself) sitting at its base. Then I would shoot at him and hamstring his horse. (At last) they entered a narrow mountain gorge. I ascended that mountain and held them at bay throwing stones at them. I continued to chase them in this way until I got all the camels of the Messenger of Allah (ﷺ) released and no camel was left with them. They left me; then I followed them shooting at them (continually) until they dropped more than thirty mantles and thirty lances. lightening their burden. On everything they dropped, I put a mark with the help of (a piece of) stone so that the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions might recognise them (that it was booty left by the enemy). (They went on) until They came to a narrow valley when so and so, son of Badr al-Fazari joined them. They (now) sat down to take their breakfast and I sat on the top of a tapering rock. Al-Fazari said: Who is that fellow I am seeing? They said: This fellow has harassed us. By God, he has not left us since dusk and has been (continually) shooting at us until he has snatched everything from our hands. He said: Four of you should make a dash at him (and kill him). (Accordingly), four of them ascended the mountain coming towards me. When it became possible for me to talk to them, I said: Do you recognise me? They said: No. Who are thou? I said: I am Salama, son of al-Akwa'. By the Being Who has honoured the countenance of Muhammad (ﷺ) I can kill any of you I like but none of you will be able to kill me. One of them said: I think (he is right). So they returned. I did not move from my place until I saw the horsemen of the Messenger of Allah (ﷺ), who came riding through the trees. Lo! the foremost among them was Akhram al-Asadi. Behind him was Abu Qatada al-Ansari and behind him was al-Miqdad b. al-Aswad al-Kindi. I caught hold of the rein of Akhram's horse (Seeing this). they (the raiders) fled. I said (to Akhram): Akhram, guard yourself against them until Allah's Messenger (ﷺ) and his Companions join you. He said: ) Salama, if you believe In Allah and the Day of Judgment and (if) you kaow that Paradise is a reality and Hell is a reality, you should not stand between me and martyrdom. so I let him go. Akhram and Abd al-Rahman (Fazari) met in combat. Akhram hamstrung Abd al-Rahman's horse and the latter struck him with his lance and killed him. Abd al-Rabman turned about riding Akhram's horse. Abu Qatada, a horse-man of the Messenger of Allah (ﷺ), met 'Abd al-Rahman (in combat), smote him with his lance and killed him. By the Being Who honoured the countenance of Muhammad (may peace oe upon him), I followed them running on my feet (so fast) that I couldn't see behind me the Companions of Muhammad (ﷺ), nor any dust raised by their horses. (I followed them) until before sunset they reached a valley which had a spring of water, which was called Dhu Qarad, so that they could have a drink, for they were thirsty. They saw me running towards them. I turned them out of the valley before they could drink a drop of its water. They left the valley and ran down a slope. I ran (behind them), overtook a man from them, shot him with an arrow through the shoulder blade and said: Take this. I am the son of al-Akwa'; and today is the day of annihilation for the people who are mean. The fellow (who was wounded) said: May his mother weep over him! Are you the Akwa' who has been chasing us since morning? I said: Yes, O enemy of thyself, the same Akwa'. They left two horses dead tired on the hillock and I came dragging them along to the Messenger of Allah (ﷺ). I met 'Amir who had with him a container having milk diluted with water and a container having water. I performed ablution with the water and drank the milk. Then I came to the Messenger of Allah (ﷺ) while he was at (the spring of) water from which I had driven them away. The Messenger of Allah (ﷺ) had captured those camels and everything else I had captured and all the lances and mantles I had snatched from the polytheists and Bilal had slaughtered a she-camel from the camels I had seized from the people, and was roasting its liver and hump for the Messenger of Allah (ﷺ). I said: Messenger of Allah, let me select from our people one hundred men and I will follow the marauders and I will finish them all so that nobody is left to convey the news (of their destruction to their people). (At these words of mine), the Messenger of Allah (ﷺ) laughed so much that his molar teeth could be seen in the light of the fire, and he said: Salama, do you think you can do this? I said: Yes, by the Being Who has honoured you. He said: Now they have reached the land of Ghatafan where they are being feted. (At this time) a man from the Ghatafan came along and said: So and so slaughtered a camel for them. When they were exposing its skin, they saw dust (being raised far off). They said: They (Akwa' and his companions) have come. So. they went away fleeing. When it was morning, the Messenger of Allah (ﷺ) said: Our best horseman today is Abu Qatada and our best footman today is Salama. Then he gave me two shares of the booty-the share meant for the horseman and the share meant for the footman, and combined both of them for me. Intending to return to Medina, he made me mount behind him on his she-camel named al-Adba'. While we were travelling, a man from the Ansar who could not be beaten in a race said: Is there anyone who could compete (with me) in race to Medina? Is there any competitor? He continued repeating this. When I heard his talk, I said: Don't you show consideration to a dignified person and don't you have awe for a noble man? He said: No, unless he be the Messenger of Allah (ﷺ). I said: Messenger of Allah, may my father and mother be thy ransom, let me get down so that I may beat this man (in the race). He said: It you wish, (you may). I said (to the man): I am coming to thee, I then turned my feet. sprang up and tan and gasped (for a while) when one or two elevated places were left and again followed his heel and again gasped (for a while) when one or two elevated places were left and again dashed until I joined him and gave a blow between his shoulders. I said: You have been overtaken, by God. He said: I think so. Thus, I reached Medina ahead of him. By God, we had stayed there only three nights when we set out to Khaibar with the Messenger of Allah (ﷺ). (On the way) my uncle, Amir, began to recite the following rajaz verses for the people: By God, if Thou hadst not guided us aright, We would have neither practised charity nor offered prayers. (O God! ) We cannot do without Thy favours; Keep us steadfast when we encounter the enemy, And descend tranquillity upon us. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who is this? 'Amir said: it is 'Amir. He said: May thy God forgive thee! The narrator said: Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) asked forgiveness for a particular person, he was sure to embrace martyrdom. Umar b. Khattab who was riding on his camel called out: Prophet of Allah, I wish you had allowed us to benefit from Amir. Salama continued: When we reached Khaibar, its king named Marhab advanced brandishing his sword and chanting: Khaibar knows that I am Marhab (who behaves like) A fully armed, and well-tried warrior. When the war comes spreading its flames. My uncle, Amir, came out to combat with him, saying: Khaibar certainly knows that I am 'Amir, A fully armed veteran who plunges into battles. They exchanged blows. Marbab's sword struck the shield of 'Amir who bent forward to attack his opponent from below, but his sword recoiled upon him and cut the main artery: in his forearm which caused his death. Salama said: I came out and heard some people among the Companions of the Prophet (ﷺ) saying: Amir's deed has been wasted; he has killed himself. So I came to the Prophet (ﷺ) weeping and I said: Messenger of Allah. Amir's deed has been wasted. The Messenger (ﷺ) said: Who passed this remark? I said: Some of your Companions. He said: He who has passed that remark has told a lie, for 'Amir there is a double reward. Then he sent me to 'Ali who had sore eyes, and said: I will give the banner to a man who loves Allah and His Messenger or whom Allah and His Messenger love. So I went to 'Ali, brought him beading him along and he had sore eyes, and I took him to the Messenger of Allah (ﷺ), who applied his saliva to his eyes and he got well. The Messenger of Allah (ﷺ) gave him the banner (and 'Ali went to meet Marhab in a single combat). The latter advanced chanting: Khaibar knows certainly that I am Marhab, A fully armed and well-tried valorous warrior (hero) When war comes spreading its flames. 'Ali chanted in reply: I am the one whose mother named him Haidar, (And am) like a lion of the forest with a terror-striking countenance. I give my opponents the measure of sandara in exchange for sa' (i. e. return thir attack with one that is much more fierce). The narrator said: 'Ali struck at the head of Mirhab and killed him, so the victory (capture of Khaibar) was due to him. This long tradition has also been handed down Through a different chain of transmitters
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ما قَعَدْتُ خِلاَفَ سَرِيَّةٍ " . بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ . وَبِهَذَا الإِسْنَادِ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَى " . بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira who said:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: I would not stay behind (when) an expedition (for Jihad was being mobilised) if it were going to be too hard upon the believers.... This is followed by the same words as have appeared in the previous tradition, but this tradition has the same ending as the previous hadith with a slight difference in the wording:" By the Being in Whose Hand is my life, I love that I should be killed in the way of Allah; then I should be brought back to life and be killed again in His way
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں مبتلا کروں گا تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا ۔ " ان کی حدیث کے مانند ۔ اور اسی سند کے ساتھ ( اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوزرعہ کی روایت کردہ حدیث کے مطابق ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَزْرَةَ، بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ ثَلاَثًا .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to breathe three times in the course of a drink (i. e. he drank in three gulps)
ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں ( سے پانی پیتے ہوئے اس سے منہ ہٹا کر ) تین مرتبہ سانس لیتے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ، بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ - قَالَ - فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَسُولاً - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ - " لاَ يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلاَدَةٌ إِلاَّ قُطِعَتْ " . قَالَ مَالِكٌ أُرَى ذَلِكَ مِنَ الْعَيْنِ .
Abu Bashir Ansari reported that he had had (the opportunity of accompanying Allah's Messenger (ﷺ) in some of his journeys. Allah's Messenger (ﷺ) sent one of his messengers 'Abdullah b Abi Bakr said:I think he said (these words) when the people were at the places of rest: No necklace of strings be left on the necks of the camels or the necklace kept unbroken. Imam Malik said: To my mind (this practice) of wearing necklace round the necks of camels or animals was because of the fact that they (wanted to save them) from the influence of the evil eye
امام مالک نے عبد اللہ بن ابی بکر سے ، انھوں نے عباد بن تمیم سے روایت کی کہ حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کو بھیجا ۔ عبد اللہ ابو بکر نے کہا : میرا گمان ہے کہ انھوں نے کہا : لو گ اپنی اپنی سونے کی جگہ میں پہنچ چکے تھے ۔ ( اور حکم دیا ) : "" کسیاونٹ کی گردن میں تانت ( کمان کے دونوں سرے جوڑے نے والی مضبوط باریک چمڑے کی ڈوری ) کا ہا ر ۔ یا کو ئی بھی ہار ۔ نہ چھوڑ اجا ئے مگر اسے کاٹ دیا جا ئے ۔ "" امام مالک نے فرما یا : "" میراخیال ہے کہ یہ ( ہار ) نظر بد سے بچانے کے لیے ( گلے میں ڈالے جا تے ) تھے ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ " حَقٌّ " .
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but there is no mention of the word" Haqq"" (fact)
روح بن عبادہ نے کہا : شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی لیکن انوھں نے " برحق " نہیں کہا : ( امکان یہی ہے کہ وہ حدیث روایت بالمعنی ہے ،)
وَحَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ .
Ammar, the freed slave of Banu Hashim, reported that Ibn 'Abbas said that Allah's Messenger (ﷺ) died when he had attained the age of sixty-five
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں خالد حذاء نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں بنی ہاشم کے آزاد کردہ غلام عمارنے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پینسٹھ برس کے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، قَالَ كُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَى مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ . فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ كَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا .
Abu Ahwas reported:We were in the house of Abu Musa along with some of the companions of 'Abdullah and they were looking at the Holy Book. 'Abdullah stood up, whereupon Abu Mas'ud said: I do not know whether Allah's Messenger, (ﷺ) has left after him one having a better knowledge (of Islam) than the man who is standing. Abu Musa said: If you say this, that is correct, because he had been present when we had been absent and he was permitted when we were detained
قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے ، انھوں نے مالک بن حارث سے ، انھوں نے ابو احوص سے روایت کی ، کہا : ہم حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چند ساتھیوں ( شاگردوں ) کے ہمراہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں تھے ۔ وہ سب ایک مصحف ( قرآن مجید کا نسخہ ) دیکھ رہے تھے ، اس اثناءمیں حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اس شخص سے ، جو ( ابھی ) اٹھا ہے ، زیادہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کو جاننے والا کوئی اور آدمی چھوڑا ہو! حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر آپ نے یہ کہا ہے تو ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ) یہ اس وقت حاضر ر ہتے جب ہم موجود نہ ہوتے اورا نھیں ( اس وقت بھی ) حاضری کی اجازت دی جاتی جب ہمیں اجازت نہ ہوتی تھی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلاً كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَنْ لاَ يَمُرَّ بِهَا إِلاَّ وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا . وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ كَانَ يَصَّدَّقُ بِالنَّبْلِ .
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) commanded a person who had been distributing arrows freely in the mosque that he should not move about in the mosque but by catching hold of their iron-heads. Ibn Rumh narrated this with a slight variation of wording
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : ہمیں لیث اور ابوزبیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے ایک شخص کو جو مسجد میں کچھ تیر بطور صدقہ لوگوں میں تقسیم کر رہا تھا ، حکم دیا کہ وہ کو نوکوں سے پکڑے بغیر انہیں لے کر ( لوگوں کے درمیان میں سے ) نہ گزرے ۔ ابن رمح نے ( اپنی روایت میں ) کہا : وہ تیروں کو بطور صدقہ دے رہا تھا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Qatada through another chain of transmitters
ہمام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلاَ تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الآخِرَةَ " .
Abu Huraira said:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever (woman) fumigates herself with perfume should not join us in the 'Isha' prayer
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جس عورت کو ( بخور ) خوشبودار دھواں لگ جائے ، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو ۔ ‘ ‘