حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ وَهْىَ تَقُولُ هَلْ شَعَرْتِ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَالَتْ فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
A'isha reported:The Prophet (ﷺ) entered my house when a Jewess was with me and she was saying: Do you know that you would be put to trial in the grave? The Messenger of Allah (ﷺ) trembled (on hearing this) and said: It is the Jews only who would-be put to trial. 'A'isha said: We passed some nights and then the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you know that it has been revealed to me:" You would be put to trial in the grave"? 'A'isha said: 1 heard the Messenger of Allah (ﷺ) seeking refuge from the torment of the grave after this
عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا : رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک یہودی عورت موجود تھی اور وہ کہہ رہی تھی : کیا تمہیں پتہ ہے کہ قبر و ں میں تمہارا امتحان ہوگا ؟عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس پر رسول اللہ ﷺ خوفزدہ ہو گئے اور فرمایا : ’’یہودی کی آزمائش ہو گی ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا : کچھ دن گزرنے کے بعد رسو اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تمہیں پتہ چلا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبرو ں میں آزمائے جاؤ گے؟ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے اس کے بعد رسو ل اللہﷺ کو سنا ‘ آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَأَلْتُ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ، عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ يَنَامُ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الأَوَّلِ - قَالَتْ - وَثَبَ - وَلاَ وَاللَّهِ مَا قَالَتْ قَامَ - فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ - وَلاَ وَاللَّهِ مَا قَالَتِ اغْتَسَلَ . وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ - وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ .
A'isha thus reported about the (night prayer) of the Messenger of Allah (ﷺ):He used to sleep in the early part of the night, and woke up in the latter part. If he then wished intercourse with his wife, he satisfied his desire, and then went to sleep; and when the first call to prayer was made he jumped up (by Allah, she, i. e. 'A'isha, did not say" he stood up" ), and poured water over him (by Allah she, i. e. 'A'isha, did not say that he took a bath but I know what she meant) and if he did not have an intercourse, he performed ablution, just as a man performs ablution for prayer and then observed two rak'ahs
ابو خثیمہ ( زہیر بن معاویہ ) نے ابو اسحاق سے خبر دی ، کہا : میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جو ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی ۔ انھوں ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصے میں سوجاتے اور آخری حصے کو زندہ کرتے ( اللہ کے سامنے قیام فرماتے ہوئے جاگتے ) پھر اگر اپنے گھر والوں سےکوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے اور سوجاتے ، پھر جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : آپ اچھل کر کھڑے ہوجاتے ( راوی نے کہا : ) اللہ کی قسم!عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وثب کہا ، قام ( کھڑے ہوتے ) نہیں کہا ۔ پھر اپنے اوپر پانی بہاتے ، اللہ کی قسم! انھوں نے اغتسل ( نہاتے ) نہیں کہا : " اپنے اوپر پانی بہاتے " میں جانتا ہوں ان کی مراد کیا تھی ۔ ( یعنی زیادہ مقدار میں پانی بہاتے ) اور اگر آپ جنبی نہ ہوتے تو جس طرح آدمی نماز کے لئے وضو کرتا ہے ، اسی طرح وضو فرماتے ، پھر دو رکعتیں ( سنت فجر ) ادا فرماتے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:Richness does not lie in the abundance of (worldly) goods but richness is the richness of the soul (heart, self)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " غنا مال و اسباب کی کثرت سے نہیں بلکہ حقیقی غنا دل کی بے نیا زی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ، مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ " .
Muhammad b. Abu Rafi' narrated the hadith on the authority of Abu Dharr with a slight difference
(ہشام کے بجائے ) عروہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام حبیب نے سابقہ سند سے یہی روایت بیان کی ، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے ( تعین صانعاکسی کاریگر کے بجائے ( فتعین الصانع ( الف لام کےساتھ ) کہا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ دَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَأْكُلُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ . فَقَالَ قَدْ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تُرِكَ فَإِنْ كُنْتَ مُفْطِرًا فَاطْعَمْ .
Alqama reported that Ash'ath b. Qais went to Ibn Mas'udd while he was eating on the day of Ashura. Thereupon he said:Abu Abd al-Rahman, it is the day of 'Ashura (and you are eating). Upon this he said: Fast was observed on (this day) before the (fasting) in Ramadan was made obligatory, but when it was made obligatory, (fasting on the day of 'Ashura) was abandoned. So if you are not fasting, then take food
محمد بن حاتم ، اسحاق بن منصور ، اسرائیل ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، اشعث بن قیس ، علی ابن مسعود ، حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن مسعود کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھاناکھارہے تھے توانہوں نے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمان! آج تو عاشورہ ہے؟تو ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتاتھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَافْصِلُوا حَجَّكُمْ مِنْ عُمْرَتِكُمْ فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّكُمْ وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِكُمْ .
Qatada narrated this hadith with the same chain of transmitters saying:(That 'Umar also said): Separate your Hajj from 'Umra, for that is the most complete Hajj, and complete your Umra
ہمیں ہمام نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے اسی ( مذکورہ بالا ) سندسے حدیث بیا ن کی ، اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : اپنے حج کو اپنے عمرے سے الگ ( ادا کیا ) کرو ۔ بلا شبہ یہ تمھارے حج کو اور تمھارے عمرے کو زیادہ مکمل کرنے والا ہے ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been transmitted by Abu Sa'id from Allah's Apostle (ﷺ)
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کی : میری ایک لونڈی ہے ، وہی ہماری خادمہ ہے اور وہی ہمارے لیے پانی لانے والی بھی ہے اور میں اس سے مجامعت بھی کرتا ہوں ۔ میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو ۔ تو آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو اس سے عزل کر لیا کرو ، ( لیکن ) یہ بات یقینی ہے کہ جو بچہ اس کے لیے مقدر میں لکھا گیا ہے وہ آ کر رہے گا ۔ " وہ شخص ( چند دن ) رکا ، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور عرض کی : وہ لونڈی حاملہ ہو گئی ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ جو اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے وہ آ کر رہے گا
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، وَابْنُ، طَاوُسٍ عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّهُ كَانَ يُخَابِرُ قَالَ عَمْرٌو فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ . فَقَالَ أَىْ عَمْرُو أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَنْهَ عَنْهَا إِنَّمَا قَالَ " يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا " .
Tawus reported that he let out his land on rent, whereupon Amr said:I said to him: Abu Abd al-Rahrman, I wish if you abandon this renting of land, for they alleged that Allah's Apostle (ﷺ) forbade Mukhabara. He siad: Amr, one who has informed me has the best knowledge of it among them (he meant Ibn Abbas). (He said) that Allah's Apostle (ﷺ) did not prohibit it altogether, but said: Lending of land by one among you to his brother is better for him than getting a specified amount of produce from it
سفیان نے ہمیں عمرو اور ابن طاوس سے حدیث بیان کی اور انہوں نے طاوس سے روایت کی کہ وہ ( نقدی کے عوض ) بٹائی پر زمین دیتے تھے ۔ عمرو نے کہا : میں نے ان سے کہا : ابو عبدالرحمٰن! اگر آپ مخابرہ چھوڑ دیں ( تو بہتر ہے ) کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ۔ انہوں نے کہا : عمرو! مجھے اس مسئلے کو ان سب کی نسبت زیادہ جاننے والے ، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا ، آپ نے تو صرف فرمایا تھا : " تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو ( زمین ) عاریتا دے یہ اس کے لیے اس کی نسبت بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے ۔ " ( بلا عوض دینے سے اسے غیر متعین ، وسیع منفعت حاصل ہو گی)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا وَقَالَ يَحْيَى - أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ فَقَالَ " مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ" .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that when Allah's Prophet (ﷺ) came to Medina, they were paying one and two years in advance for fruits, so he said:Those who pay in advance for anything must do so for a specified weight and for a definite time
یحییٰ بن یحییٰ اور عمرو ناقد نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ یحییٰ کے ہیں ، عمرو نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی اور یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی ۔ ۔ سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابن ابی نجیح سے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن کثیر سے ، انہوں نے ابومنہال سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور وہ لوگ پھلوں میں ایک دو سال تک کے لیے بیع سلف کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو کھجور میں بیع سلف کرے تو وہ معلوم ماپ اور معلوم وزن میں معلوم مدت تک کے لیے کرے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ، شَيْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ فَاغْفِرْ .
According to still another version of the tradition narrated by the same authority, and handed down through a different chain of transmitters, it has been reported that they (the Companions of the Holy Prophet) were reciting rajaz verses and the Messenger of Allah (ﷺ) was (reciting) with them. And they were chanting:O God, there is no good but the good of the Hereafter. So help Thou the Ansar and the Muhajirs. Shaiban substituted" So forgive Thou" for" So help Thou
یحییٰ بن یحییٰ اور شیبان بن فروخ نے ہمیں حدیث بیان کی ، یحییٰ نے کہا : ہمیں عدالوارث نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : صحابہ رجزیہ اشعار پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ساتھ دیتے تھے ، وہ کہتے تھے : "" اے اللہ! بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے ، تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما ۔ "" شیبان کی حدیث میں "" مدد فرما "" کی جگہ "" مغفرت فرما "" ہے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لاَ يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلاَّ جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ - بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .
It has been narrated on the authority of Abu Huraira who said:Allah has undertaken to provide for one who leaves his home (only) to fight for His cause and to affirm the truth of His word; Allah will either admit him to Paradise or will bring him back home from where he had come out, with his reward and booty
مغیرہ بن عبدالرحمٰن حزامی نے ابوزناد سے خبر دی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، فرمایا : " جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، اسے اپنےگھر سے اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کلمے کی تصدیق کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں نکالا تو اللہ اس کے لیے اس بات کا کفیل بنا ہے کہ ( شہید ہو گیا تو ) اسے جنت میں داخل کرے گا یا پھر اس غنیمت اور اجر سمیت جو اسے ملا ، اس کے اسی ٹھکانے میں اس کو واپس لے جائے گا جہاں سے وہ ( جہاد کے لیے ) نکلا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ قَائِمًا وَاسْتَسْقَى وَهُوَ عِنْدَ الْبَيْتِ .
Ibn 'Abbas reported:I served (water from) Zamzam to Allah's Messenger (ﷺ), and he drank while standing, and he asked for it while he was near the House (i. e. House of Allah-Ka'ba)
معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عاصم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی کو سنا ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ، آپ نے ( اس وقت ) پانی مانگا تھا ( جب ) آپ بیت اللہ کے پاس تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَصْحَبُ الْمَلاَئِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ وَلاَ جَرَسٌ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Angels do not accompany the travellers who have with them a dog and a bell
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سہیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( رحمت کے ) فرشتے ( سفرکے ) ان رفیقوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے درمیان کتا ہواور نہ ( ان کے ساتھ جن کے پاس ) گھنٹی ہو ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثَةٍ الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ " .
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no transitive disease, no ill omen, and bad luck is lound in the house, or wife or horse. Note: The majority of scholars interpret this to mean that these things in and of themselves do not transmit or cause harm through supernatural or hidden means but that Allah is ultimately in control and any fearful superstition around these is false
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوبیٹوں حمزہ اور سالم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی سے خود بخود مرض کا لگ جا نا اور بد شگونی کی کو ئی حقیقت نہیں ۔ ناموافقت تین چیزوں میں ہو تی ہے ۔ عورت گھوڑے اور گھر میں ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَخْطُبُ فَقَالَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ .
Jabir reported that he heard Mu'awiya say in his address that Allah's Messenger (ﷺ) died at the age of sixty-three, so was the case with Abu Bakr and 'Umar, and I (am now) sixty-three
شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحاق سےسنا ، وہ عامر بن سعد بجلی سے حدیث روایت کررہے تھے ، انھوں نے جریر سے روایت کی ، انھوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخطبہ دیتے ہوئے سنا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاانتقال ہوا تو آپ تریسٹھ برس کے تھے اور ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بھی اتنی ہی عمر کے ہوئے ) اوراب میں بھی تریسٹھ برس کا ہوں ۔
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ الأَسْوَدَ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى، يَقُولُ لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي، مِنَ الْيَمَنِ . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
The above hadith is narrated likewise through another chain of transmitters
یو سف نے ابو اسحاق سے روایت کی کہ انھوں نے اسود کو یہ کہتے ہوئے سنا ، میں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں اور میرا بھائی یمن سے آئے ، پھر اسی کے مانند بیان کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، وَجَدَ رَجُلاً وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ النَّبَطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ فَقَالَ مَا هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا " .
Urwa b. Zubair reported that Hisham b. Hakim found a person (the ruler of Hims) who had been detaining some Nabateans in connection with the dues of Jizya. He said:What is this? I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Allah would torment those persons who torment people in the world
ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا ، وہ حمص کا عامل تھا ۔ اس نے نبطیوں میں سے کچھ لوگوں کو جزیے کی ادائیگی کے سلسلے میں دھوپ میں کھڑا کیا ہوا تھا تو انہوں نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو مبتلائے عذاب کرے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرتے ہیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ ثَلاَثَةِ، رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ قَالُوا كُنَّا نَمُرُّ عَلَى هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُخْتَارٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ " .
This hadith has been transmitted on the authority of 'Imran b. Husain with a slight variation of wording
عبیداللہ بن عمرو نے ایوب سے ، انھوں نے حمید بن ہلال سے اور انھوں نے اپنی قوم کے تین لوگوں سے روایت کی جن میں ابو قتادہ بھی شامل ہیں کہ ہم ہشام بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزر کر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س جاتے تھے ۔ جس طرح عبدالعزیز بن مختار کی روایت ہے مگر انھوں نے کہا؛ " دجال ( کے فتنے ) سے بڑا کوئی معاملہ ( پیش نہیں آیا ۔)
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الْعِشَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ لِي حَاجَةٌ . فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ - أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ - ثُمَّ صَلَّوْا .
Anas reported:(The people) stood up for the night prayer when a man spoke forth: I need to say something. The Apostle of Allah (ﷺ) entered into secret conversation with him, till the people dozed off or some of the people (dozed off), and then they said the prayer
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی تو ایک آدمی نے ( رسول اللہ سے ) کہا : میرا ایک کام ہے ، چنانچہ آپﷺ کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرنے لگے حتیٰ کہ لوگ یا کچھ لوگ ( بیٹھے بیٹھے ) سو گئے ، پھر سب نے نماز پڑھی ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ - حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ بِلاَلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنُوكُمْ " فَقَالَ بِلاَلٌ وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ . فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَقُولُ أَنْتَ لَنَمْنَعُهُنَّ .
Ibn Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not deprive women of their share of the mosques, when they seek permission from you. Bilal said: By Allah, we would certainly prevent them. 'Abdullah said: I say that the Messenger of Allah (ﷺ) said it and you say: We would certainly prevent them
(خود ) بلال بن عبد اللہ بن عمر نے اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ عورتوں کو ، جب وہ تم سے اجازت طلب کریں تو مسجدوں میں جو ان کے حصے ہیں ان ( کے حصول ) سے ( انہیں ) نہ روکو ۔ ‘ ‘ بلال نے کہا : اللہ کی قسم! ہم ان کو ضرور روکیں گے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اور تو کہتا ہے : ہم انہیں ضرور روکیں گے