حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَأَنَّهُ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ .
Ibn 'Abbas reported:Dhikr (mentioning the name of Allah) in a loud voice after obligatory prayers was (a common practice) during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) ; and when I heard that I came to knew that they (the people) had finished the prayer
ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ ےغلام ابو معبد نے انھیں بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیرتے تو اس کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا نبی اکرمﷺ کے دور میں ( رائج ) تھا اور ابو معبد ) نے کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب لوگ سلام پھیرتے تو مجھے اس بات کا علم اسی ( بلندآواز کے ساتھ کیے گئے ذکر ) سے ہوتا تھا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ كَانَتْ صَلاَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ عَشَرَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فَتِلْكَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً .
It is reported on the authority of 'A'isha that the prayer of Allah's Messenger (ﷺ) in the night consisted of ten rak'ahs. He observed a Witr and two rak'ahs (of Sunan) of the dawn prayer, and thus the total comes to thirteen rak'ahs
قاسم بن محمد سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، فرمارہی تھی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز دس رکعتیں تھی اور آپ ایک رکعت وتر ادا کرتے ، پھر فجر کی ( سنتیں ) دو رکعت پڑھتے ۔ اس طرح یہ تیرہ رکعتیں ہوئیں ۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي، الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ بَعَثَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ إِلَى قُرَّاءِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلاَثُمِائَةِ رَجُلٍ قَدْ قَرَءُوا الْقُرْآنَ فَقَالَ أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ وَلاَ يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الأَمَدُ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ كَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا فِي الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَاءَةَ فَأُنْسِيتُهَا غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلاَ يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ . وَكُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً كُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَى الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَ تَفْعَلُونَ} فَتُكْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
Abu Harb b. Abu al-Aswad reported on the authority of his father that Abu Musa al-Ash'ari sent for the reciters of Basra. They came to him and they were three hundred in number. They recited the Qur'an and he said:You are the best among the inhabitants of Basra, for you are the reciters among them. So continue to recite it. (But bear in mind) that your reciting for a long time may not harden your hearts as were hardened the hearts of those before you. We used to recite a surah which resembled in length and severity to (Surah) Bara'at. I have, however, forgotten it with the exception of this which I remember out of it:" If there were two valleys full of riches, for the son of Adam, he would long for a third valley, and nothing would fill the stomach of the son of Adam but dust." And we used so recite a surah which resembled one of the surahs of Musabbihat, and I have forgotten it, but remember (this much) out of it:" Oh people who believe, why do you say that which you do not practise" (lxi 2.) and" that is recorded in your necks as a witness (against you) and you would be asked about it on the Day of Resurrection" (xvii)
ابو حرب بن ابی اسود کے والد سے روایت ہے انھوں نے کہا : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل بصرہ کے قاریوں کی طرف ( انھیں بلا نے کے لیے قاصد ) بھیجا تو ان کے ہاں تین سو آدی آئے جو قرآن پڑھ چکے تھے تو انھوں ( ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تم اہل بصرہ کے بہترین لو گ اور ان کے قاری ہو اس کی تلا وت کرتے رہا کرو تم پر لمبی مدت ( کا وقفہ ) نہ گزرے کہ تمھا رے دل سخت ہو جا ئیں جس طرح ان کے دل سخت ہو گئے تھے جو تم سے پہلے تھے ہم ایک سورت پڑھا کرتے تھے جسے ہم لمبا ئی اور ( ڈرا نے کی ) شدت میں ( سورہ ) براۃ تشبیہ دیا کرتے تو وہ مجھے بھلا دی گئی اس کے سوا کہ اس کا یہ ٹکڑا مجھے یا د رہ گیا آگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیا ہوں تو وہ تیسری وادی کا متلا شی ہو گا اور ابن آدم کا پیٹ تو مٹی کے سوا کو ئی شے نہیں بھرتی ۔ ہم ایک اور سورت پڑھا کرتے تھے جس کو ہم تسبیح والی سورتوں میں سے ایک سورت سے تشبیہ دیا کرتے تھے وہ بھی مجھے بھلا دی گئی ہاں اس میں سے مجھے یہ یا د ہے " اے ایمان والو! وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں وہ بطور شہادت تمھا ری گردنوں میں لکھ دی جا ئے گی اور قیامت کے دن تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جا ئے گا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ " الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ " . قَالَ قُلْتُ أَىُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ " أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا " . قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ " تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ قَالَ " تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ " .
Abu Dharr reported:I said: Messenger of Allah, which of the deeds is the best? He (the Holy Prophet) replied: Belief in Allah and Jihad in His cause. I again asked: Who is the slave whose emancipation is the best? He (the Holy Prophet) replied: One who is valuable for his master and whose price is high. I said: If I can't afford to do it? He (the Holy Prophet) replied: Help an artisan or make anything for the unskilled (labourer). I (Abu Dharr) said: Messenger of Allah, you see that I am helpless in doing some of these deeds. He (the Holy Prophet) replied: Desist from doing mischief to the people. That is the charity of your person on your behalf
ہشام بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے ابو مراوح لیثی سے اور انہون نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا ، میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کو ن سا عمل افضل ہے ؟ آپﷺ : ’’ اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ کہا : میں ( پھر ) پوچھا : کون سی گردن ( آزادکرنا ) افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے پوچھا : اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو ؟ آپ نے فرمایا : ’’ کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام ( خود ) کر دو ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا : ’’ لوگوں سے اپنا شر روک لو ( انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ، أَنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ فَكُلْ . قَالَ إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ كُنَّا نَصُومُهُ ثُمَّ تُرِكَ .
Qais b Sakan reported that al-Ash'ath b. Qais went to 'Abdullah on the day of 'Ashura while he was eating. He said:Abu Muhammad, come near and dine. Upon this he said: I am fasting. Thereupon he said: We used to observe fast and then (this practice) was abandoned
ابو بکر بن ابی شیبہ ، وکیع ، یحییٰ بن سعید ، سفیان ، محمد بن حاتم ، زبید یامی ، عمارۃ بن عمیر ، حضرت قیس بن سکن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عاشورہ کے دن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ آپ کھارہے تھے تو انہوں نے فرمایا اے ابو محمد! قریب ہوجاؤ اور کھاؤ انہوں نے کہا میں روزے سے ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ہم بھی اس د ن ر وزہ رکھتے تھے لیکن چھوڑ دیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى يَدَىَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ فَلَنْ أُوتَى بِرَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ إِلاَّ رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ .
(Abu Nadra reported:Ibn 'Abbas commanded the performance of Mut'a putting ihram for 'Umra during the months of Dhul-Hijja and after completing it. then putting on Ihram for Hajj), but Ibn Zubair forbade to do it. I made a mention of it to Jabir b. Abdullih and he said: It is through me that this hadith has been circulated. We entered into the state of Ihram as Tamattu' with the Messenger of Allah (ﷺ). When 'Umar was Installed as Caliph, he said: Verily Allah made permissible for His Messenger (ﷺ) whatever He liked and as Re liked. And (every command) of the Holy Qur'an has been revealed for every occasion. So accomplish Hajj and Umra for Allah as Allah has commanded you; and confirm by (proper conditions) the marriage of those women (with whom you have performed Mut'a). And any person would come to me with a marriage of appointed duration (Mut'a), I would stone him (to death)
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ ابو نضرہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع کا حکم دیا کر تے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے تھے ۔ ( ابو نضرہ نے ) کہا : میں نے اس چیز کا ذکر جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا ، انھوں نے فرمایا : " میرے ہی ذریعے سے ( حج کی ) یہ حدیث پھیلی ہے ۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جاکر ) حج تمتع کیا تھا ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( خلیفہ بن کر ) کھڑے ہوئے ( بحیثیت خلیفہ خطبہ دیا ) توا نھوں نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو چیز جس ذریعے سے چاہتا حلال کردیتاتھا اور بلا شبہ قرآن نے جہاں جہاں ( جس جس معاملے میں ) اترناتھا ، اتر چکا ، لہذا تم اللہ کے لئے حج کو اور عمرے کو مکمل کرو ، جس طرح ( الگ الگ نام لے کر ) اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے ۔ اوران عورتوں سے حتمی طور پرنکاح کیا کرو ( جز وقتی نہیں ) ، اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایاگیا جس نے کسی عورت سے کسی خاص مدت تک کے لئے نکاح کیا ہوگا تو میں اسے پتھروں سے رجم کروں گا ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، سَمِعَهُ يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ " مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ خَلْقَ شَىْءٍ لَمْ يَمْنَعْهُ شَىْءٌ " .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) was asked about 'azl, whereupon he said:The child does not come from all the liquid (sermen) and when Allah intends to create anything nothing can prevent it (from coming into existence)
عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے علی بن ابو طلحہ سے خبر دی ، انہوں نے ابو وداک سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں ( ابووداک ) نے ان سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا ، آپ نے فرمایا : "" ہر پانی ( منی کے قطرے ) سے بچہ پیدا نہیں ہوتا ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے کوئی چیز روک نہیں سکتی ۔ "" ( زید بن حباب نے معاویہ سے ، باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ مُجَاهِدًا، قَالَ لِطَاوُسٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَاسْمَعْ مِنْهُ الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَانْتَهَرَهُ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا " .
Mujahid said to Tiwus:Come along with me to Ibn Rafi b. Khadij in order to listen from him the hadith transmitted on the authority of his father (pertaining to the renting of land) from Allah's Apostle (ﷺ). He (Tawus) scolded him and said: By Allah, it I were to know that Allah's Messenger (ﷺ) had forbidden it, I would have never done it. But it has been narrated to me by one who has better knowledge of it amongst them (and he meant Ibn 'Abbas) that Allah's Messenger (ﷺ) said: It is better if a person lends, his land to his brother (for cultivation) than that he gets recognised rent on it
حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی کہ مجاہد نے طاوس سے کہا : ہمارے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس چلو اور ان سے ان کے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث سنو ، کہا : انہوں ( طاوس ) نے انہیں ڈانٹا اور کہا : اللہ کی قسم : اگر مجھے علم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو میں یہ کام ( کبھی ) نہ کرتا لیکن مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو اسے ان سب سے زیادہ جاننے والا ہے ، ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو عاریتا دے ، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے ۔ " ( اس سے اللہ کی رضا بھی حاصل ہو گی اور جھگڑوں سے محفوظ بھی رہے گا)
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ حَدِيدٍ.
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha (Allah be pleased with her), through another chain ol transmitters, but no mention was made of (its being made) of iron
حفص بن غیاث نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے " لوہے کی زرہ " کے الفاظ بیان کیے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الآخِرَةِ " . قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ " اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّعَيْشُ الآخِرَهْ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ " .
According to another version of the tradition, reported on the authority of Anas b. Malik, the Messenger of Allah (may peace he upon him) is reported to have said:O God, there is no life but the life of the Hereafter, So grant honour to the Ansar and the Muhajirs
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : "" اے اللہ! بےشک زندگی آخرت کی زندگی ہے ۔ "" شعبہ نے کہا : یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : "" اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی ( حقیقی ) نہیں ، تو انصار اور مہاجرین کو عزت عطا فرما
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
The same tradition has been melted through another chain of transmitters
ابن فضیل نے عمارہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، ح وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ، الدَّوْرَقِيُّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ - قَالَ إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا - هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، وَمُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ .
Ibn 'Abbas reported that Allah's Apostle (ﷺ) drank (water) from Zamzam while he was standing
ہشیم نےکہا : ہمیں عاصم احول اور مغیرہ نے شعبی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی پیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " .
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If there be bad luck, it is in the house, and the wife, and the horse
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : عدم موافقت ( ناسزاداری ) گھری ، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ فَذَكَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَكْبَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يُقَالُ لَهُ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَذَكَرُوا سِنِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ .
Abu Ishaq reported:I was sitting with 'Abdullah b. 'Utba and there was a discussion about the age of the Messenger of Allah (ﷺ). Some of the persons said: Abu Bakr was older than Allah's Messenger (ﷺ). 'Abdullah said: Allah's Messenger (ﷺ) died when he was sixty-three, and Abu Bakr died when he was sixty-three and so 'Umar fell as a martyr when he was sixty-three. A person from the people who was called 'Amir b. Sa'd reported that Jabir had said: We were sitting with Mu'awiya that there was a discussion about the age of Allah's Messenger (ﷺ). Thereupon Mu'awiya said: Allah's Messenger (ﷺ) died when he had attained the age of sixty-three, and Abu Bakr died when he had attained the age of sixty-three, and Umar fell as a martyr when he had attained the age of sixty-three
اسلام ابواحوص نے ابو اسحاق سے روایت کی ، کہا : میں عبداللہ بن عتبہ کے پاس بیٹھا ہواتھا تو ( وہاں بیٹھےہوئے ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کے بارے میں بات کی ۔ لوگوں میں سے ایک نے کہا : حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑ ے تھے عبداللہ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور آپ تریسٹھ سال کے تھے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاانتقال ہوا اور وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے ، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا اور وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے ۔ کہا : ان لوگوں میں سے ایک شخص نے ، جنھیں عامر بن سعد کہا جاتاتھا ، کہا : ہمیں جریر ( بن عبداللہ بن جابر بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے حدیث بیان کی کہ ہم حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کا ذکر کیاتو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور آپ تریسٹھ برس کے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے اور وہ بھی تریسٹھ برس کے تھے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي، مِنَ الْيَمَنِ فَكُنَّا حِينًا وَمَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلاَّ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ .
Abu Musa reported:When I and my brother came from Yemen we used to consider Ibn Mas'ud and his mother amongst the members of the household. of Allah's Messenger (ﷺ) because of their visiting them frequently and staying there for long (periods of) time
ابو زائدہ نے ابو اسحٰق سے ، انھوں نے اسود بن یزید سے ، انھوں نے حضرت موسی ( اشعری ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں اور میرا بھا ئی یمن سے آئے تو کچھ عرصہ ہم حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی والدہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بکثرت آنے جانے اور آپ کے ساتھ لگے رہنے کی وجہ سے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے سمجھتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ وَأَمِيرُهُمْ يَوْمَئِذٍ عُمَيْرُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى فِلَسْطِينَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَحَدَّثَهُ فَأَمَرَ بِهِمْ فَخُلُّوا .
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and he made this addition of Jarir that (Hisham b. Hakim) went to Umair b. Sa'd who was then ruler in Palestine and he narrated to him this hadith and he (submitting before the words of the Prophet) commanded that they should be let off and so they were let off
وکیع ، ابومعاویہ اور جریر سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور جریر کی حدیث میں مزید یہ ہے ، کہا : اور فلسطین پر ان دنوں ان لوگوں کا امیر عمیر بن سعد ( انصاری ) تھا تو وہ ( ہشام رضی اللہ عنہ ) ان کے پاس گئے ، ان کو حدیث سنائی تو انہوں نے ان کے بارے میں حکم دیا ، چنانچہ ان کو چھوڑ دیا گیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ - حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ رَهْطٍ، مِنْهُمْ أَبُو الدَّهْمَاءِ وَأَبُو قَتَادَةَ قَالُوا كُنَّا نَمُرُّ عَلَى هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ نَأْتِي عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ لَتُجَاوِزُونِي إِلَى رِجَالٍ مَا كَانُوا بِأَحْضَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنِّي وَلاَ أَعْلَمَ بِحَدِيثِهِ مِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ " .
Abu Qatada reported:We used to go to Imran b. Husain passing in front of Hisham b. 'Amir. He, one day, said: You pass by me (in order) to go to some persons, but (amongst the living persons) none remained in the company of Allah's Messenger (ﷺ) more than I and none knows more ahadith than I. I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: There would be no creation (creating more trouble) than the Dajjal right from the creation of Adam to the Last Hour
عبدالعزیز بن مختار نے کہا : ہمیں ایوب نے حمید بن ہلال سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ایک گروہ سے روایت کی جن میں ابو دہماء اور ابو قتادہ شامل ہیں ، انھوں نے کہا : ہم حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزر کر حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جایا کر تے تھے ، ایک دن انھوں نے کہا : تم مجھے چھوڑ کر ایسے لوگوں کے پاس جاتے ہوجو مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے نہیں تھے اور نہ ان کو مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا علم ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناتھا : " حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کوئی مخلوق ( فتنہ وفساد میں ) ایسی نہیں جو دجال سے بڑی ہو ۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنَامُونَ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلاَ يَتَوَضَّئُونَ قَالَ قُلْتُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ إِي وَاللَّهِ .
Qatida reported:I heard Anas as saying that the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ) dozed off and then offered prayer and did not perform ablution. He (the narrator) said: I asked him if he had actually heard it from Anas. He said: By Allah. yes
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ ( بیٹھے بیٹھے ) سو جاتے تھے ، پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے ۔ ( شعبہ کہتے ہیں : ) میں نے ( قتادہ سے ) پوچھا : آپ نے یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں! اللہ کی قسم
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ، رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ " . فَقَالَ ابْنٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ وَاقِدٌ إِذًا يَتَّخِذْنَهُ دَغَلاً . قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِهِ وَقَالَ أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَقُولُ لاَ .
Ibn 'Umar reported:Grant permission to women for going to the mosque in the night. His son who was called Waqid said: Then they would make mischief. He (the narrator) said: He thumped his (son's) chest and said: I am narrating to you the hadith of the Messenger of Allah (ﷺ), and you say: No
(اعمش کے بجائے ) عمرو ( بن دینار جحمی ) نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں کی طرف نکلنے کی اجازت دو ۔ ‘ ‘ تو ان کے بیٹے نے ، جس کو واقد کہا جاتا تھا ، کہا : تب وہ اس کو خرابی و بگاڑ بنا لیں گی ۔ ( مجاہد نے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے سینے پر مارا اور کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تو کہتا ہے : نہیں