بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
19 hadith
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُخْبِرُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ بِالتَّكْبِيرِ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لأَبِي مَعْبَدٍ فَأَنْكَرَهُ وَقَالَ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهَذَا ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو وَقَدْ أَخْبَرَنِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported:We knew the finishing of the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) through takbir. 'Amr (b. Dinar) said: I made a mention of it to Abu Mas'ud. hue he rejected it and said: I never narrated it to you. 'Amr said: He did narrate it before this
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمروبن دینار سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے مولی ٰ ابو معبد کو ابن عباس کے حوالے سے بتاتے ہوئے سنا ‘ انھوں ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے کہا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز ختم ہو جانے کا پتہ اللہ اکبر ہی سے لگتا تھا ۔ عمرو نےت کہا : میں نے اس روایت کا ( بعد میں ) ابو معبد کے سامنے ذکر کیا تو انھوں نے اس سے انکار کیا اور کہا : میں نے تمہیں یہ حدیث نہیں سنائی ۔ عمرو نے کہا : حالانکہ انھوں نے اس سے پہلے مجھے یہ بات بتائی تھی ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَىْ أُمَّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَتْ كَانَتْ صَلاَتُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ ‏.‏
Abu Salama is reported to have said. I came to 'A'isha. I said:O mother, inform me about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). She said: His (night prayer) in Ramadan and (during other months) was thirteen rak'ahs at night including two rak'ahs of fajr
عبداللہ بن ابی لبید سے روایت ہے کہ انھوں نے ابو سلمہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : اے میری ماں!مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتایئے ۔ تو انھوں نے کہا : رمضان اور غیر رمضان میں رات کے وقت آپ کی نماز تیرہ رکعتیں تھی ، ان میں فجر کی ( سنت ) دو کعتیں بھی شامل تھیں ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالاً لأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ وَلاَ يَمْلأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلاَ أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لاَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالَ فَلاَ أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ ‏.‏ لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ ‏.‏
Ibn Abbas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If there were for the son of Adam a valley full of riches, he would long to possess another one like it. and Ibn Adam does not feel satiated but with dust. And Allah returns to him who returns (to Him). Ibn Abbas said: I do not know whether it is from the Qur'an or not; and in the narration transmitted by Zuhair it was said: I do not know whether it is from the Qur'an, and he made no mention of Ibn Abbas
مجھے زہیر بن حرب اور ہا رون بن عبد اللہ نے حدیث سنا ئی دو نوں نے کہا : ہمیں حجا ج بن محمد نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عطا ء سے سنا کہہ رہے تھے میں نے حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا : "" اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال سے بھر ی ہو ئی ایک وادی ہو تو وہ چا ہے گا کہ اس کے پاس اس جیسی اور وادی بھی ہو آدمی کے دل کو مٹی کے سوا کچھ اور نہیں بھر سکتا اور اللہ اس پر تو جہ فر ما تا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہو ، حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے معلوم نہیں یہ قرآن میں سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ہے انھوں نے کہا : مجھے معلوم نہیں یہ با ت قرآن میں سے ہے ( یا نہیں ) انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ إِيمَانٌ بِاللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ‏"‏ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ‏"‏ حَجٌّ مَبْرُورٌ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ‏"‏ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah was asked about the best of deeds. He observed: Belief in Allah. He (the inquirer) said: What next? He (the Holy Prophet) replied: Jihad (struggle to the utmost) in the cause of Allah. He (the inquirer) again said: What next? He (the Holy Prophet) replied: Pilgrimage accepted into the grace of the Lord. In the. tradition narrated on the authority of Muhammad b. Ja'far (the words are) that he (the Holy Prophet) said: Belief in Allah and His Messenger. Muhammad b. Rafi and 'Abd b. Humaid, 'Abdur-Razzaq and Ma'mar and Zuhri have narrated a hadith like this on the authority of the same chain of transmitters
ابراہیم بن سعد کے بجائے معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ تَرَكَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated from Jarir on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and he said (these words with a little bit of variation from the previous hadith):When (fasting) in Ramadan was (made) obligatory, he abandoned it (the practice of observing fast on Ashura)
زہیر بن حرب ، عثمان بن ابی شیبہ ، جریر ، حضرت اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ، الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ - قَالَ - وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:We set out with Allah's Messenger (ﷺ) as Muhrim for Hajj. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to make this Ihram for Umra, and some put it off (after performing 'Umra), but the Prophet (ﷺ) had sacrificial animals with him, so he could not make it (this Ihram) as that of Umra
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ - وَلَمْ يَقُلْ فَلاَ يَفْعَلْ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ - فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلاَّ اللَّهُ خَالِقُهَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:Mention was made about al-'azl in the presence of Allah's Messenger (ﷺ), whereupon he said: Why any one of you practises it? (He did not say: One of you should not do it), for there is no created soul, whose creator is not Allah
قزعہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ایسا کیوں کرتا ہے؟ ۔ ۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے ۔ حقیقت یہ ہے پیدا ہونے والی کوئی جان نہیں مگر اللہ اسے پیدا کرنے والا ہے ۔ ( وہ اسے ضرور پیدا کرے گا)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ زَعَمَ ثَابِتٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ بَأْسَ بِهَا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. al-Sa'ib reported:We visited 'Abdullah b. Ma'qil and asked him about sharing of crops, whereupon he said: Thabit alleged that Allah's Messenger (ﷺ) forbade Muzara'a and commanded leasing it out on rent (for money) and said: There is no harm in it
ابوعوانہ نے ہمیں سلیمان شیبانی سے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم عبداللہ بن معقل کے پاس گئے ، ہم نے ان سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور مؤاجرت ( نقدی کے عوض کرائے پر دینے ) کا حکم دیا ہے اور فرمایا : " اس میں کوئی حرج نہیں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ، زِيَادٍ عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ ذَكَرْنَا الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فَقَالَ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) bought from a Jew grain for a specified time; and gave him iron coat-of-mail of his as a pledge
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم نے ابراہیم نخعی کے پاس بیع سلم میں رہن کی بات کی تو انہوں نے کہا : ہمیں اسود بن یزید نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے آئندہ مقررہ وقت تک ادائیگی پر غلہ خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے ہاں گروی رکھی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:O God, there is no life, but the life of the Hereafter, So forgive Thou the Ansar and the Muhajirs
معاویہ بن قرہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : "" اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں ، تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما دے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ - عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي فَهُوَ عَلَىَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلاً مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ‏.‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ حِينَ كُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ مِسْكٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلاَفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا وَلَكِنْ لاَ أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلاَ يَجِدُونَ سَعَةً وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace upon him) said:Allah has undertaken to look after the affairs of one who goes out to fight in His way believing in Him and affirming the truth of His Apostles. He is committed to His care that Re will either admit him to Paradise or bring him back to his home from where he set out with a reward or (his share of) booty. By the Being in Whose Hand is the life of Muhammad. If a person gets wounded in the way of Allah, he will come on the Day of Judgment with his wound in the same condition as it was when it was first inflicted; its colour being the colour of blood but its smell will be the smell of musk. By, the Being in Whose Hand is Muhammad's life, if it were not to be too hard upon the Muslime. I would not lag behind any expedition which is going to fight in the cause of Allah. But I do not have abundant means to provide them (the Mujahids) with riding beasts, nor have they (i. e. all of them) abundant means (to provide themselves with all the means of Jihad) so that they could he left behind. By the Being in Whose Hand is Muhammad's life, I love to fight in the way of Allah and be killed, to fight and again be killed and to fight again and be killed
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے خود ( ایسے شخص کی ) ضمانت دی ہے کہ جو شخص اس کے راستے میں نکلا ، میرے راستے میں جہاد ، میرے ساتھ ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے سوا اور کسی چیز نے اسے گھر سے نہیں نکالا ، اس کی مجھ پر ضمانت ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا ، یا پھر اسے اس کی اسی قیام گاہ میں واپس لے آؤں گا جس سے وہ ( میری خاطر ) نکلا تھا ، جو اجر اور غنیمت اس نے حاصل کی وہ بھی اسے حاصل ہو گی ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جو زخم بھی اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے ( تو زخم کھانے والا ) قیامت کے دن اسی حالت میں آئے گا جس حالت میں اس کو زخم لگا تھا ، اس ( زخم ) کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی بھی لشکر سے مختلف رویہ اپناتے ہوئے ( گھر میں ) نہ بیٹھتا ، لیکن میرے پاس اتنی وسعت نہیں ہوتی کہ میں سب مسلمانوں کو سواریاں مہیا کر سکوں اور نہ ہی ان ( سب ) کے پاس اتنی وسعت ہوتی ہے اور یہ بات ان کو بہت شاق گزرتی ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں ۔ اس ذات کی قسم کس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں اور پھر جہاد کروں ، پھر قتل کر دیا جاؤں ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ مِنْ دَلْوٍ مِنْهَا وَهُوَ قَائِمٌ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) drank (water) from Zamzam in a bucket while he was standing
سفیان نے عاصم سے ، انھوں نے شعبہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی ، اس کے ایک ڈول سےکھڑے کھڑے پیا ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ هَامَةَ وَلاَ طِيَرَةَ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no transitive disease, no hama, no divination, but I like good omen
ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " لا زمی طور پر خود بخود کسی سے بیمار ی لگ جا نے کی کو ئی حقیقت نہیں ، کھوپڑی سے الونکلنا کو ئی چیز نہیں ، بد شگونی کچھ نہیں اور میں نیک فا ل کو پسند کرتا ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ‏.‏
Ibn 'Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) stayed in Mecca for thirteen years (after he had received revelation) and stayed in Medina for ten years, and he was sixty-three when he died
ابو جمرہ ضبعی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی بھیجی جاتی تھی اور مدینہ میں دس سال رہ ، آپ کی وفات ہوئی اور آپ تریسٹھ سال کے تھے ۔
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ، زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ قَالَ سَهْلٌ وَمِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، الآخَرُونَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قِيلَ لِي أَنْتَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah reported that when this verse was revealed:" There is no harm on persons who believe and perform good acts, what they had eaten (formerly) when they avoided it (now) and they affirmed their faith" (v. 93) up to the end. Allah's Messenger (ﷺ) said to me: You are one amongst them
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : جب یہ آیت نازل ہو ئی : " جو لوگ ایمان لا ئے اور نیک اعمال کیے ان پر انھوں نے کھا یا پیا اس میں کو ئی گناہ نہیں جبکہ وہ تقویٰ پر تھے اور ایمان لے آئے تھے " آیت کے آخر تک ۔ ( تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " مجھے بتا یا گیا ہے کہ تم بھی انھی میں سے ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ مَرَّ هِشَامُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الأَنْبَاطِ بِالشَّامِ قَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ فَقَالَ مَا شَأْنُهُمْ قَالُوا حُبِسُوا فِي الْجِزْيَةِ ‏.‏ فَقَالَ هِشَامٌ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ‏"‏ ‏.‏
Hisham reported on the authority of his father that Hisham b. Hakim b. Hizam happened to pass by people, the farmers of Syria, who had been made to stand in the sun. He said:What is the matter with them? They said: They have been detained for Jizya. Thereupon Hisham said: I bear testimony to the fact that I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Allah would torment those who torment people in the world
ابواسامہ نے ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ شام کے چند نبطیوں ( سامی قوم زمیندار لوگوں ) کے قریب سے گزرے ، انہوں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا ، انہوں نے پوچھا : ان کا معاملہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا : انہیں جزیے ( کی ادائیگی کے معاملے ) میں محبوس کیا گیا ہے ، تو حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters
ابو عاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُنَاجِي رَجُلاً فَلَمْ يَزَلْ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِهِمْ ‏.‏
Anas b. Malik reported:(The people) stood up for prayer and the Messenger of Allah (ﷺ) was talking in whispers with a man, and he did not discontinue the conversation till his Companions dozed off; he then came and led the prayer
شعبہ نے عبد العزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو کہتے ہوئے سنا : نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی جبکہ رسول اللہﷺ ایک آدمی سے شرگوشی فرما رہے تھے ۔ آپ اس سے سرگوشی فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ کے ساتھی ( بیٹھے بیٹھے ) سو گئے ، اس کےبعد آپ آئے اور انہیں نماز پڑھائی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters
(دوسرے شاگرد ) عیسیٰ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی