حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ أَخْبَرَنِي بِذَا أَبُو مَعْبَدٍ، - ثُمَّ أَنْكَرَهُ بَعْدُ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالتَّكْبِيرِ .
Ibn 'Abbas said:We used to know that Allah's Messenger (ﷺ) had finished his prayer when we heard the takbir (Allah-O-Akbar)
زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے کہا : مجھے ابو معبد نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اس بات کی خبر دی ‘ بعد میں ( بھول جانے کی وجہ سے ) اس سے انکار کر دیا ‘ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ ہمیں رسول اللہ کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر سے چلتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا تِسْعَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا يُوتِرُ مِنْهُنَّ .
Abu Salama reported that he asked 'A'isha about the prayer of the Messenger of Allah (may peace he upon him) (during the night). The rest of the hadith is the same but with this exception that he (the Holy Prophet) observed nine rak'ahs including Witr
شیبان اور معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ نے بتایا کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکے بارے میں پوچھا ۔ ۔ ۔ آگے سابقہ حدیث کی طرح ہے ، البتہ ان دونوں کی روایت میں ہے : " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر نو رکعتیں پڑھتے تھے وتر انھی میں ادا کرتے ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لَوْ كَانَ لاِبْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا آخَرَ وَلَنْ يَمْلأَ فَاهُ إِلاَّ التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If there were two valleys of gold for the son of Adam, he would long for another one. and his mouth will not be filled but with dust, and Allah returns to him who repents
ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " اگر ابن آدم کے پاس سونے کی ( بھری ہو ئی ) ایک وادی ہو تو وہ چا ہے گا کہ اس کے پاس ایک ا ور وای بھی ہو ، اس کا منہ مٹی کے سوا کو ئی اور چیز نہیں بھرتی اللہ اس کی طرف تو جہ فر ما تا ہے جو اللہ کی طرف تو جہ کرتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ " .
It is narrated on the authority of Abu Zubair that he heard Jabir b. 'Abdullah saying. I heard the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observing this:Between man and polytheism and unbelief is the abandonment of salat
ابو زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ آدمی اور شرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز چھوڑنا ہے ۔ ‘ ‘ ( اس روایت میں إن’’بےشک ‘ ‘ کا لفظ نہیں ، باقی وہی ہے ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ دَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ . فَقَالَ أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ قَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ . وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ تَرَكَهُ .
Abd al-Rahman b. Yazid said:When al-Ash'ath b. Qais entered the house of 'Abdullah he was having his breakfast. He ('Abdullah b. Umar) said: Abd Muhammad (al-Asha'th), come near to the breakfast. Thereupon he said: Is not today the day of 'Ashura? He ('Abd al-Rahman) said: Do you know what the day of 'Ashura is? He said: What is it? He said: It is a day on which the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe fast before the (fasting) in the month of Ramadan (became) obligatory. But when it became obligatory the (fasting of 'Ashura) was abandoned (as compulsory). Abu Kuraib said: He (the Holy Prophet) abandoned it
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، ابی معاویہ ، ابو بکر ، ابومعاویہ ، اعمش ، عمارۃ ، حضرت عبدالرحمان بن یزید فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس حضرت عبداللہ کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ وہ صبح کا ناشتہ کررہے تھے انہوں نے فرمایا اے ابو محمد !آؤ ناشتہ کرلوتو انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ کیا تو جانتا ہے کہ عاشورہ کا دن کیا ہے؟اشعث نے کہا وہ کیا ہے؟حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن کا روزہ چھوڑ دیا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ، قَالَ قَدِمْتُ مَكَّةَ مُتَمَتِّعًا بِعُمْرَةٍ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِأَرْبَعَةِ أَيَّامٍ فَقَالَ النَّاسُ تَصِيرُ حَجَّتُكَ الآنَ مَكِّيَّةً فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَقَالَ عَطَاءٌ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ - رضى الله عنهما - أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ سَاقَ الْهَدْىَ مَعَهُ وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ فَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصِّرُوا وَأَقِيمُوا حَلاَلاً حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً " . قَالُوا كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ قَالَ " افْعَلُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَإِنِّي لَوْلاَ أَنِّي سُقْتُ الْهَدْىَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ بِهِ وَلَكِنْ لاَ يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ " . فَفَعَلُوا .
Musa b. Nafi reported:I came to Mecca as a Mutamattil for Umra (performing Umra first and then putting off Ihram and again entering into the state of Ihram for Hajj) four days before the day of Tarwiya (i. e. on the 4th of Dhu'l-Hijja). Thereupon the people said: Now yours is the Hajj of the Meccans. I went to 'Ata' b. Abi Rabah and asked his religious verdict. Ata' said: Jabir b. 'Abdullah al'Ansari (Allah be pleased with them) narrated to me that he performed Hajj with the Messenger of Allah (ﷺ) in the year when he took sacrificial animals with him (i.e. during the 10th year of Hijra known as the Farewell Pilgrimage) and they had put on Ihram for Hajj only (as Mufrid). The Messenger of Allah (ﷺ) said: Put off Ihram and circumambulate the House, and (run) between al-Safa and al-Marwa, and get your hair cut and stay as non-Muhrims. When it was the day of Tarwiya, then put on Ihram for Hajj and make lhram for Mut'a (you had put on Ihram for Hajj, but take it off after performing Umra and then again put on Ihram for Hajj). They said: How should we make it Mut'a although we entered upon lhram in the name of Hajj? He said: Do whatever I command you to do. Had I not brought sacrificial animals with me, I would have done as I have commanded you to do. But it is not permissible for me to put off Ihram till the sacrifice is offered. Then they also did accordingly
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَعْبَدِ، بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْنَا لأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ فِي الْعَزْلِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ إِلَى قَوْلِهِ " الْقَدَرُ " .
Ma'bad b. Sirin said to Abu Sa'id (Allah be pleased with him):Did you hear Allah's Messenger (ﷺ) making a mention of something in regard to al-'azl? Thereupon he said: Yes. The rest (of the hadith is the same)
ہشام نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معبد بن سیرین سے روایت کی ، کہا : ہم نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے عرض کی ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ آگے انہوں نے القدر ( یہ تو تقدیر ہے ) تک ابن عون کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنِ الْمُزَارَعَةِ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ نَهَى عَنْهَا . وَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ مَعْقِلٍ . وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ .
Abdullah b. al Sa'ib reported:I asked Abdullah b. Ma'qil about Muzara'a (cultivating land on share basis in the produce). He said: Thabit b. Dahhak informed me that Allah's Messenger (ﷺ) forbade Muzara'a as Ibn Abu Shaiba forbade it with a slight change of words. He (the narrator) said: I asked Ibn Ma'qil but he did not name 'Abdullah
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے خبر دی ، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( عبدالواحد اور علی ) نے ( سلیمان ) شیبانی سے اور انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن معقل سے مزارعت ( زمین کی پیداوار کی متعین مقدار پر بٹائی ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا ۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : آپ نے اس سے منع فرمایا ۔ اور انہوں نے کہا : میں نے ابن معقل سے پوچھا ۔ عبداللہ کا نام نہیں لیا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ، يُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Allah's Messenger (ﷺ) bought from a Jew grain (as loan) and pledged him his iron coat-of-mail
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں اعمش سے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا اور آپ نے لوہے کی زرہ اس کے ہاں گروی رکھی ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ " .
It has been reported on the authority of Sahl b. Sa'd who said:The Messenger of Allah (ﷺ) came to us while we were digging the ditch and were carrying the earth on our shoulders. (Seeing our condition), he said: O God, there is no life but the life of the Hereafter. So forgive Thou the Muhajirs and the Ansar
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا کر پھینک رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے ، اس لیے مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ . وَفِي رِوَايَةِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ . وَلَمْ يَذْكُرِ النَّخَعِيَّ .
The tradition has been handed down through a different chain of transmitters
محمد بن جعفر اور وہب بن جریر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن یزید نخعی سے ، انہوں نے ابوزرعہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح وکیع کی حدیث ہے ۔ اور وہب کی روایت میں ( سند اس طرح ) ہے : انہوں نے عبداللہ بن یزید سے روایت کی لیکن نخعی کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ قَالَ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ .
Ibn Abbas reported:I served. (water of) Zamzam to Allah's Messenger (ﷺ), and he drank it while standing
ابوعوانہ نے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زم زم کا پانی پلایا تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَتِيقٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no transitive disease, no divination, but I like good words
یحییٰ بن عتیق نے کہا : ہمیں محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی پر لازمی طور پر بیمار ی لگ جا نے کی کو ئی حقیقت نہیں بد شگونی کو ئی شے نہیں اور میں اچھی فال کو پسند کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ .
Ibn 'Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) stayed in Mecca for thirteen years and he died when he had attained the age of sixty three years
عمرو بن دینار نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے ، آپ کی وفات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم 63 سال کے تھے ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِبِلاَلٍ عِنْدَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ " يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ فِي الإِسْلاَمِ مَنْفَعَةً فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَىَّ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ بِلاَلٌ مَا عَمِلْتُ عَمَلاً فِي الإِسْلاَمِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لاَ أَتَطَهَّرُ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلاَ نَهَارٍ إِلاَّ صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ .
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to Bilal:Bilal, narrate to me which act at the time of morning prayer you did in Islam for which you hope to receive good reward, for I heard during the night the sound of your steps before me in Paradise. Bilal said: I did not do any act in Islam for which I hope to get any benefit but this that when I perform complete ablution during the night or day I observe prayer with that purification what Allah has ordained for me to pray
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال سے صبح کی نماز کے بعد فرمایا کہ اے بلال! مجھ سے وہ عمل بیان کر جو تو نے اسلام میں کیا ہے اور جس کے فائدے کی تجھے بہت امید ہے ، کیونکہ میں نے آج کی رات تیری جوتیوں کی آواز اپنے سامنے جنت میں سنی ہے ۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اسلام میں کوئی عمل ایسا نہیں کیا جس کے نفع کی امید بہت ہو ۔ سوا اس کے کہ رات یا دن میں کسی بھی وقت جب پورا وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے نماز پڑھتا ہوں جتنی کہ اللہ تعالیٰ نے میری قسمت میں لکھی ہوتی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى أُنَاسٍ وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ وَصُبَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الزَّيْتُ فَقَالَ مَا هَذَا قِيلَ يُعَذَّبُونَ فِي الْخَرَاجِ . فَقَالَ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ فِي الدُّنْيَا " .
Urwa reported on the authority of his father that Hisham b. Hakim b. Hizam happened to pass by some people in Syria who had been made to stand in the sun and olive-oil was being poured upon their heads. He said:What is this? It was said: They are being punished for (not paying) the Kharaj (the government revenue). Thereupon he said: Allah would punish those who torment people in this world (without any genuine reason)
حفص بن غیاث نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : شام میں ان کا کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا ہوا جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر زیتون کا تیل ڈالا کیا تھا ، انہوں نے پوچھا : یہ کیا ہو رہا ہے؟ بتایا گیا : ان کو خراج ( نہ دینے ) کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے تو ( حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنے کا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ " . قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ " هُمْ قَلِيلٌ " .
Umm Sharik reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The people would run away from the Dajjal seeking shelter in the mountains. She said: Where would be the Arabs then in that day? He said: They would be small in number
حجاج بن محمد نے کہا : ابن جریج نے کہا کہ مجھے ابو زبیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے ام شریک نے خبر دی کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " لوگ دجال سے فرار ہوکر پہاڑوں میں جائیں گے ۔ " حضرت ام شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ ( جو دین کے دفاع میں سینہ سپر ہوجاتے ہیں ۔ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " وہ بہت کم ہوں گے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَجِيٌّ لِرَجُلٍ - وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنَاجِي الرَّجُلَ - فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ .
Anas reported:(The people) stood up for prayer and the Messenger of Allah (ﷺ) was whispering to a man, and in the narration of 'Abd al-Warith (the words are): The Apostle of Allah (ﷺ) was having a private conversation with a man, and did not start the prayer till the people dozed off
اسماعیل بن علیہ اور عبد الوارث دونوں نے عبد العزیز سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی اور رسول اللہﷺ ایک آدمی سے بہت قریب ہو کر آہستہ آہستہ بات کر رہے تھے ۔ ( عبد الوارث کی روایت میں ورسول الله ﷺ نجي لرجل کے بجائے ونبی اللہ ﷺ یناجی الرجل آپ ایک آدمی سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے ہے ۔ مفہوم ایک ہے ) تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ ( بیٹھےبیٹھے ) سو گئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَمْنَعُوا النِّسَاءَ مِنَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ " . فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ لاَ نَدَعُهُنَّ يَخْرُجْنَ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلاً . قَالَ فَزَبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ وَقَالَ أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَقُولُ لاَ نَدَعُهُنَّ .
Ibn 'Umar reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not prevent women from going to the mosque at night. A boy said to 'Abdullah b. Umar: We would never let them go out, that they may not be caught in evil. He (the narrator) said: Ibn Umar reprimanded him and said.. I am saying that the Messenger of Allah (ﷺ) said this, but you say: We would not allow
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’رات کو عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے نہ روکو ۔ ‘ ‘ تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے کہا : ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے کہ وہ جائیں اور اسے خرابی اور بگار ( کا ذریعہ ) بنا لیں ۔ ( مجاہد نے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے سخت ڈانٹا او ر کہا : میں کہتا ہوں رسول اللہﷺ نے فرمایا اور تو کہتا ہے ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے