بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
19 hadith
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى أَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ ‏.‏
Amir b. Sa'd reported:I saw the Messenger of Allah (may peace be open him) pronouncing taslim on his right and on his left till I saw the whiteness of his cheek
عامر بن سعد نے اپنے وال ( سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا : میں رسول اللہﷺ کو اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے دیکھا کرتا تھاٰحتی کہ میں آپ کے رخسار وں کی سفیدی دیکھتا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي ثَلاَثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ ‏.‏
Abu Salama asked 'A'isha about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) She said:He observed thirteen rak'ahs (in the night prayer). He observed eight rak'ahs and would then observe Witr and then observe two rak'ahs sitting, and when he wanted to bow he stood up and then bowed down, and then observed two rak'ahs in between the Adhan and lqama of the dawn prayer
ہشام نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے ر وایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوا ل کیا تو انھوں نے کہا آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ، آٹھ رکعتیں پڑھتے پھر ( ایک رکعت سے ) وتر ادا فرماتے ، پھر بیٹھے ہوئے دو رکعتیں پڑھتے ، پھر جب رکوع کرنا چاہتے تو اٹھ کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے ، پھر صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے ۔ ( کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد اور وتر کی ترتیب یہ بن جاتی تھی)
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ - فَلاَ أَدْرِي أَشَىْءٌ أُنْزِلَ أَمْ شَىْءٌ كَانَ يَقُولُهُ - بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ‏.‏
Anas b. Malik reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying this, but I do not know whether this thing was revealed to him or not, but he said to
شعبہ نے کہا : قتادہ سے سنا وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فر ما رہے تھے مجھے پتہ نہیں ہے کہ یہ الفا ظ آپ پر نازل ہو ئے تھے یا آپ ( خودہی ) فر ما رہے تھے ۔ ( آگے ) ابو عوانہ کی حدیث کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Jabir that he heard the Apostle (may peace and blessings be upon him) saying. Verily between man and between polytheism and unbelief is the negligence of prayer
ابو سفیان سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ بے شک آدمی اورشرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز کا ترک ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ، زَيْدٍ الْعَسْقَلاَنِيُّ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ ‏ "‏ ذَاكَ يَوْمٌ كَانَ يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) reported that the day of 'Ashura was mentioned before the Messenger of Allah (ﷺ) and he said:It is a day when the people in the pre-Islamic days need to observe fast, so he who wishes to observe fast should do so, and he who wishes to abandon it should do so
احمد بن عثمان نوفلی ، ابو عاصم ، عمر بن محمد بن زیدعسقلانی ، سالم بن عبداللہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو چاہے ر وزہ رکھے اور جو چاہے روزہ چھوڑ دے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيْنَا وَضَاقَتْ بِهِ صُدُورُنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَا نَدْرِي أَشَىْءٌ بَلَغَهُ مِنَ السَّمَاءِ أَمْ شَىْءٌ مِنْ قِبَلِ النَّاسِ فَقَالَ ‏ "‏ أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلاَ الْهَدْىُ الَّذِي مَعِي فَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَحْلَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ وَفَعَلْنَا مَا يَفْعَلُ الْحَلاَلُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:We entered with the Messenger of Allah (ﷺ) in the state of Ihram for Hajj. When we came to Mecca he commanded us to put off Ihram and make it for 'Umra. We felt it (the command) hard for us, and our hearts were anguished on account of this and it (this reaction of the people) reached the Messenger of Allah (ﷺ). We do not know whether he received (this news) from the Heaven (through revelation) or from the people. (Whatever the case might be) he said; O people, put off Ihram. If there were not the sacrificial animals with me, I would have done as you do. So we put off the Ihram (after performing Umra), and we had intercourse with our wives and did everything which a non-Muhrim does (applying perfume, putting on clothes, etc.), and when It was the day of Tarwiya (8th of Dhu'l-Hijja) we turned our back to Mecca (in order to go to Mini, 'Arafat) and we put on lhram for Hajj
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ حَدَّثْتُ مُحَمَّدًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ - يَعْنِي حَدِيثَ الْعَزْلِ - فَقَالَ إِيَّاىَ حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ‏.‏
Ibn 'Aun reported:I reported to Muhammad on the authority of Ibrahim the hadith reported by 'Abd al-Rahmann b. Bishr (the hadith concerning 'azl), where- upon he said: That (hadith) Abd al-Rahman b. Bishr had narrated to me (also)
حماد بن زید نے ابن عون سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حماد ( بن سیرین ) کو ابراہیم کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن بشر کی حدیث ، یعنی عزل کی حدیث سنائی تو انہوں نے کہا : عبدالرحمٰن بن بشر نے خود مجھے بھی یہ حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters
حماد اور یزید بن ہارون نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، - عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) bought some grain from a Jew on credit and gave him a coat-of- mail of his as a pledge
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار غلہ خریدا اور آپ نے اسے اپنی زرہ بطور رہن دی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Ishaq who said:I heard from Bara' a similar tradition except that he said:" These people (the Meccans) rebelled against us
عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ ۔ انہوں نے اسی کے مانند بیان کیا ، البتہ ( اس روایت کے مطابق ) انہوں نے کہا : " بلاشبہ ان لوگوں نے ہم پر زیادتی کی ہے
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَالشِّكَالُ أَنْ يَكُونَ الْفَرَسُ فِي رِجْلِهِ الْيُمْنَى بَيَاضٌ وَفِي يَدِهِ الْيُسْرَى أَوْ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى وَرِجْلِهِ الْيُسْرَى ‏.‏
This tradition has been narrated on the authority of Sufyan with the addition from Abd ar-Razzaq (one of the narrators) explaining the meaning of shikal as a bone whose right back foot and left front foot or left back foot and right front foot are white
عبداللہ بن نمیر اور عبدالرزاق نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے داہنے پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں میں سفیدی ہو ( الٹی طرف کے آگے اور پیچھے دو قدم سفید ہوں ۔)
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، - يَعْنِي الْفَزَارِيَّ - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ، حَمْزَةَ أَخْبَرَنِي أَبُو غَطَفَانَ الْمُرِّيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا فَمَنْ نَسِيَ فَلْيَسْتَقِئْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None of you should drink while standing; and if anyone forgets, he must vomit
ابوغطفان مری سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہوکر ہر گز نہ پیے اور جس نے بھول کرکھڑے ہوکر پی لیا ، وہ قے کردے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قِيلَ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ ‏"‏ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no transitive disease, no divination, but good omen pleases me. It was said: What is good omen? He said: Sacred words
شعبہ نے کہا : میں قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث روایت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں لگتا براشگون کی کو ئی چیز نہیں اور مجھے نیک فال اچھی لگتی ہے ۔ " کہا آپ سے عرض کی گئی : نیک فال کیا ہے ؟فر ما یا : " پاکیزہ کلمہ ( دعایا حوصلہ افزائی یا دا نا ئی پر مبنی کو ئی جملہ ۔)
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ قُلْتُ لِعُرْوَةَ كَمْ لَبِثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ قَالَ عَشْرًا ‏.‏ قُلْتُ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ بِضْعَ عَشْرَةَ ‏.‏ قَالَ فَغَفَّرَهُ وَقَالَ إِنَّمَا أَخَذَهُ مِنْ قَوْلِ الشَّاعِرِ ‏.‏
Amr reported:I said to 'Urwa: How long did Allah's Apostle (ﷺ) stay in Mecca? He said: For ten years. I said: Ibn Abbas says it is some years above ten. He ('Urwa) sought forgiveness for him and said: His statement is based on the verse of a poet
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے عروہ سے پوچھا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( بعثت کے بعد ) مکہ میں کتنے سال رہے؟انھوں نے کہا : دس ( سال ۔ ) کہا : میں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو دس ( سال ۔ ) سے کچھ زائد بتاتے ہیں ۔ انھوں ( عمرو بن دینار ) نے کہا : توانھوں ( عروہ رحمۃ اللہ علیہ ) نے کہا : اللہ ان کی مغفرت کرے!اور کہا : انھوں نے یہ عمر شاعر کے قول سے اخذ کی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ، الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ مَاتَ ابْنٌ لأَبِي طَلْحَةَ ‏.‏ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through another chain of transmitters
عمرو بن عاص نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک بچہ فوت ہوگیا ، اور اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَحْيَى، بْنِ مَالِكٍ الْمَرَاغِيِّ - وَهُوَ أَبُو أَيُّوبَ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one of you fights with his brother, he should avoid the face
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے ابوایوب یحییٰ بن مالک مراغی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے ( پر مارنے ) سے اجتناب کرے ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمِّهِ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ الطَّيَالِسَةُ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:The Dajjal would be followed by seventy thousand Jews of Isfahan wearing Persian shawls
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اصبہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار ( یہودی ) دجال کی پیروی کریں گے ، ان ( کے جسموں ) پر طینسان کی حبائیں ہوں گی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ‏ "‏ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith is also transmitted by 'Abd al-'Aziz with the same chain of transmitters, and the words are:I seek refuge with Allah from the wicked and noxious things
اسماعیل بن علیہ نے اسی مذکورہ بالا سند کے ساتھ عبد العزیز سے روایت بیان کی اور ( دعا کے ) یہ الفاظ بیان کیے : أعوذ بالله من الخبث والخبائث ’’میں نر اور مادہ دونوں قسم کی خبیث مخلوق سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ ‏"‏ ‏.‏
lbn Umar reported:I heard the Messeinger of Allah (ﷺ) say: When your women seek your permission for going to the mosque, you grant them (permission)
۔ حنظہ نے کہا : میں نے سالم سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جب تمہاری عورتیں تم سے مساجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دو