بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
19 hadith
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ، قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ قَالَ سُفْيَانُ فَكَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بِهِ عَنْ مُسْلِمٍ ثُمَّ حَدَّثَنِيهِ مُسْلِمٌ ‏.‏
This hadith has been narrated by another chain of transmitters
ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان نے مسلم بن ابی مریم سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے علی بن عبد الرحمان معادی سے روایت کی ئ انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھی ...پھر سفیان نے مالک کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور ( سفیان کے شاگرد ابن ابی عمر نے ) یہ اضافہ کیا کہ سفیان نے کہا : یحییٰ بن سعید نے ہمیں یہ حدیث مسلم ( بن ابی مریم ) سے بیان کی تھی ‘ پھر مسلم ( بن ابی مریم ) نے خود مجھے یہ حدیث سنائی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters
عبدہ بن سلیمان ، وکیع اور ابو اسامہ سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہ ) روایت بیان کی ہے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
A hadith like this has been narrated by Anas through another chain of transmitters
معاذ بن ہشام کے والد ہشام نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی طرح ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَرِهَ فَلْيَدَعْهُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) said that the day of 'Ashura was mentioned before the Messenger of Allah (may peace he upon him). Thereupon the Messenger of Allah, (ﷺ) said:That was a day on which the people of pre-Islamic days used to observe fast. So he who amongst you likes to observe fast should do so, and he who does not like it should abandon it
قتیبہ بن سعید ، لیث ، ابن رمح ، لیث ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت والے لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے تو تم میں جو کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ روزہ رکھے تو رکھ لے اور جو کوئی ناپسند کرتاہے تو وہ چھوڑ دے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ نُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنًى ‏.‏ قَالَ فَأَهْلَلْنَا مِنَ الأَبْطَحِ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported that the Messenger of Allah (ﷺ) ordered us to put on Ihram (again) as we proceeded towards Mina after we had put it off (i. e. 'on the 8th of Dhu'l-Hijja). So we pronounced Talbiya at al-Abtah
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ مَهْدِيٍّ وَبَهْزٌ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْعَزْلِ ‏ "‏ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ بَهْزٍ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
This hadith is reported on the authority of Abu Sa'id with the same chain of transmitters but with a slight variation (of words)
محمد بن جعفر ، خالد بن حارث ، عبدالرحمٰن بن مہدی اور بہز ، سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر ان کی حدیث میں ( اس طرح ) ہے : انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے عزل کے بارے میں فرمایا : "" ( اس میں ) کوئی حرج نہیں کہ تم یہ کام نہ کرو ، یہ تو بس تقدیر ( کا معاملہ ) ہے ۔ "" بہز کی روایت میں ہے ، شعبہ نے کہا : میں نے ان سے پوچھا : کیاآپ نے یہ حدیث ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنی؟ انہوں نے کہا : ہاں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ، فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ قَالَ فَقُلْتُ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏
Hanzala b. Qais reported that he asked Rafi b. Khadij (Allah be pleased with him) about renting of land, whereupon he said:Allah's Messenger (ﷺ) forbade the renting of land. I said: Is it forbidden (even if it is paid) in gold (dinar) and silver (dirham)? Thereupon he said: If it is paid in gold and silver, there is no harm in it
امام مالک نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حنظلہ بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : میں نے پوچھا : کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی؟ انہوں نے جواب دیا : البتہ سونے اور چاندی کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي، سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِنًّا فَأَعْطَى سِنًّا فَوْقَهُ وَقَالَ ‏ "‏ خِيَارُكُمْ مَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported:Allah's Messenger (ﷺ) took a camel on loan, and then returned him (the lender) the camel of a more mature age and said: Good among you are those who are good in clearing off the debt
علی بن صالح نے سلمہ بن کہیل سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو عمر اونٹ ادھار لیا تو آپ نے اس سے بہتر جوان اونٹ دیا اور فرمایا : " تم میں سے بہترین وہ ہے جو ادئیگی میں بہترین ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ فَتَسَيَّرْنَا لَيْلاً فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الأَكْوَعِ أَلاَ تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلاً شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ هَذَا السَّائِقُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا عَامِرٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ يَرْحَمُهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلاَ أَمْتَعْتَنَا بِهِ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُوقِدُونَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا عَلَى لَحْمٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَىُّ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَحْمُ حُمُرِ الإِنْسِيَّةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ يُهَرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا فَقَالَ ‏"‏ أَوْ ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاكِتًا قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَهُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ ‏"‏ مَنْ قَالَهُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ ‏"‏ كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ ‏"‏ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ وَأَلْقِ سَكِينَةً عَلَيْنَا ‏.‏
It has been narrated on the authority of Salama b. al-Akwa' who said:We marched upon Khaibar with the Messenger of Allah (ﷺ). We journeyed during the night. One of the people said to (my brother) 'Amir b. al-Akwa': Won't you recite to us some of your verses? Amir was a poet. So he began to chant his verses to urge the camels, reciting: O God, if Thou hadst not guided us We would have neither been guided rightly nor practised charity, Nor offered prayers. We wish to lay down our lives for Thee; so forgive Thou our lapses, And keep us steadfast when we encounter (our enemies). Bestow upon us peace and tranquillity. Behold, when with a cry they called upon us to help. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who is this driver (of the camels)? They said: It is 'Amir. He said: God will show mercy to him. A man said: Martyrdom is reserved for him. Messenger of Allah, would that you had allowed us to benefit ourselves from his life. (The narrator says): We reached Khaibar and besieged them, and (we continued the siege) until extreme hunger afflicted us. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: Behold, God has conquered it for you. When it was evening of the day on which the city was conquered. the Muslims lit many fires. The Messenger of Allah (ﷺ) said: What are these fires? And what are they cooking? They said: They are cooking meat. He asked. Which meat? They said: That of domestic asses. He said: Let them throw it away and break the pots (in which it is being cooked). A man said: Or should they throw it away and wash the pots? He said: They may do that. When the people drew themselves up in battle array 'Amir caught hold of his sword that was rather short He drove a Jew before him to strike him with it. (As he struck him), his sword recoiled and struck his own knee, and 'Amir died of the wound. When the people returned (after the conquest of Kliaibar) and he (Salama) had caught hold of my hand, and said: The Messenger of Allah (ﷺ) saw that I was silent (and dejected) ; he said: What's the matter with thee? I said to him: My father and my mother be thy ransom, people presume that 'Amir's sacrifice has been in vain. He asked: Who has said that? I said: So and so and Usaid b. Hudair al-Ansari. He said: Who has said that has lied. For him (for 'Amir) there is a double reward. (He indicated this by putting two of his fingers together.) He was a devotee of God and a warrior fighting for His cause. There will be hardly any Arab who can fight as bravely as he did. Qutaiba has differed in a few words
قتیبہ بن سعید اور محمد بن عباد نے ۔ ۔ الفاظ ابن عباد کے ہیں ۔ ۔ ہمیں حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں حاتم بن اسماعیل نے سلمہ بن اکوع کے آزاد کردہ غلام یزید بن ابی عبید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو ہم نے رات کے وقت سفر کیا ، لوگوں میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا تم ہمیں اپنے نادر جنگی اشعار سے نہیں سناؤ گے؟ اور عامر رضی اللہ عنہ شاعر آدمی تھے ، وہ اتر کر لوگوں کے ( اونٹوں ) کے لیے حدی خوانی کرنے لگے ، وہ کہہ رہے تھے : "" اے اللہ! اگر تو ( فضل و کرم کرنے والا ) نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ، نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے ، ہم تیرے نام پر قربان ، ہم نے جو گناہ کیے ان کو بخش دے اور اگر ہمارا مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے اور ہم پر ضرور بالضرور سکینت اور وقار نازل فرما ۔ ہمیں جب بھی آواز دے کر بلایا گیا ہم آئے ، ہمیں آواز دے کر ان ( آواز دینے والے ) لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا ( اور ہم اس پر پورے اترے ۔ ) "" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ ( حدی خوانی کر کے ) اونٹوں کو ہانکنے والا کون ہے؟ "" لوگوں نے کہا : عامر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اللہ سے اس کی محبت اور شوق کو دیکھتے ہوئے ) فرمایا : "" اللہ اس پر رحم کرے! "" لوگوں میں سے ایک آدمی ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : ( اس کے لیے شہادت ) واجب ہو گئی ، اے اللہ کے رسول! آپ نے ( اس کے حق میں دعا مؤخر فرما کر ) ہمیں اس ( کی صحبت ) سے زیادہ مدت فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا؟ ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہم خیبر پہنچے تو ہم نے ان کا محاصرہ کر لیا یہاں تک کہ ہمیں ( شدید بھوک کے ) مخمصے نے آ لیا ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ اللہ نے اسے ان ( جہاد کرنے والے ) لوگوں کے لیے فتح کر دیا ہے ۔ "" جب لوگوں نے اس دن کی شام کی جب انہیں فتح عطا کی گئی تھی تو انہوں نے بہت سی ( جگہوں پر ) آگ جلائی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ آگ کیسی ہے اور یہ لوگ کس چیز ( کو پکانے ) کے لیے اسے جلا رہے ہیں؟ "" انہوں نے جواب دیا : گوشت ( کو پکانے ) کے لیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" کون سا گوشت؟ "" انہوں نے جواب دیا : پالتو گدھوں کا گوشت ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے ( پانی سمیت ) بہا دو اور ان ( برتنوں ) کو توڑ دو ۔ "" اس پر ایک آدمی نے کہا : یا اسے بہا دیں اور برتن دھو لیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یا ایسے کر لو ۔ "" کہا : جب لوگوں نے مل کر صف بندی کی تو عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی ، انہوں نے مارنے کے لیے اس ( تلوار ) سے ایک یہودی کی پنڈلی کو نشانہ بنایا تو تلوار کی دھار لوٹ کر عامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے پر آ لگی اور وہ اسی زخم سے فوت ہو گئے ۔ جب لوگ واپس ہوئے ، سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اور اس وقت انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاموش دیکھا تو آپ نے پوچھا : "" تمہیں کیا ہوا ہے؟ "" میں نے آپ سے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان! لوگوں کا خیال ہے کہ عامر رضی اللہ عنہ کا عمل ضائع ہو گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" کس نے کہا ہے؟ "" میں نے کہا : فلاں ، فلاں اور اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ نے ۔ تو آپ نے فرمایا : "" جس نے بھی یہ کہا ، غلط کہا ہے ، اس کے لیے تو یقینا دو اجر ہیں ۔ "" آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو اکٹھا کیا ۔ "" وہ تو خود جم کر جہاد کرنے والے مجاہد تھے ، کم ہی کوئی عربی ہو گا جو اس راستے پر ان کی طرح چلا ہو گا ۔ "" قتیبہ نے حدیث کے دو حرفوں ( القين کے آخری دو حرفوں ی اور ن ) میں محمد ( بن عباد ) کی مخالفت کی ہے اور ( محمد ) بن عباد کی روایت میں ( القين کے بجائے ) الق ( ضرور بالضرور کی تاکید کے بغیر محض ) "" نازل کر "" کے الفاظ ہیں
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:There is a blessing in the forelocks of the war horses
انس رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا برکت گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ قَتَادَةَ ‏.‏
This hadith is reported on the authority of Anas with a different chain of transmitters, but no mention is made of the words of Qatada
ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی اور قتادہ کاقول ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الأَشَجُّ إِنَّ ‏.‏
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verity the most grievously tormented people on the Day of Resurrection would be the painters of pictures. Ashajj (one of the narrators) in the hadith narrated by him did not make mention of the word" verity
عثمان بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابو ضحیٰ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یقیناً قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں ( گرفتار تصویر بنانے والے ہو ں گے ۔ " اشج نے یقیناً " ( کا لفظ ) بیان نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ ‏"‏ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: There is no divination but the best type is the good omen. It was said to Allah's Messenger (ﷺ): What is good omen? Thereupon he said: A good word which one of you hears
معمر نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا : " بد شگونی کی کو ئی حقیقت نہیں اور شگون میں سے اچھی نیک فال ہے ۔ " عرض کی گئی ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فال کیا ہے ؟ ( وہ شگون سے کس طرح مختلف ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( فال ) نیک کلمہ ہے تو تم میں سے کوئی شخص سنتا ہےَ ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ، بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بِمِثْلِ ذَلِكَ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) died when he had attained the age of sixty-three. And a hadith like this had been transmitted on the authority of Sa'id b. Musayyib
عقل بن خالد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ63 سال کے تھے ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے بھی اسی طرح بتایا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذِهِ الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported that Allah's Apostle (ﷺ) said:I entered Paradise and heard the noise of steps. I said: Who is it? They said: She is Ghumaisa, daughter of Milhan, the mother of Anas b. Malik
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں جنت میں گیا ، وہاں میں نے ( کسی کے چلنے کی ) آہٹ پائی تو میں نے پوچھا کہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ غمیصا بنت ملحان ( ام سلیم کا نام غمیصا یا رمیصا تھا ) انس بن مالک کی والدہ ہیں ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:When any one of you fights with his brother, he should spare his face
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے ( پر مارنے ) سے بچے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏ "‏ أَيُّهَا النَّاسُ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَنَّ أُنَاسًا مِنْ قَوْمِهِ كَانُوا فِي الْبَحْرِ فِي سَفِينَةٍ لَهُمْ فَانْكَسَرَتْ بِهِمْ فَرَكِبَ بَعْضُهُمْ عَلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَخَرَجُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
Fatima b. Qais reported that Allah's Messenger (ﷺ) sat on the pulpit and said:O people, Tamim Dari has reported to me that some persons of his tribe sailed in the ocean in a boat and it capsised and then some of them travelled on one of the planks of the boat and they went to an island in the ocean. The rest of the hadith is the same
ابو زناد نے شعبی سے اور انھوں نےحضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا : " لوگو! مجھے تمیم داری نے یہ بتایا ہے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ اپنے ایک جہاز میں سمندر میں تھے ، وہ جہاز ٹوٹ گیا اوران میں سے کچھ لوگ جہاز کے تختوں میں سے ایک تختے پر سوار ہوگئے اور سمندر میں ایک جزیرے کی طرف جانکلے ۔ " اور پھر ( آگے باقی ماندہ ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، مَوْلَى آلِ السَّائِبِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْغَائِطِ فَلَمَّا جَاءَ قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ تَوَضَّأُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ لِمَ أَلِلصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) went to the privy and when he came back, he was presented with food. It was said to him; Messenger of Allah, wouldn't you perform ablution. He said: Why, am I to say prayer?
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ( یہ ) کہتے ہوئے سنا : اللہ کے رسولﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا ، آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گئے؟ آپ نے جواب دیا : ’’کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟ ‘ ‘
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سَالِمًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلاَ يَمْنَعْهَا ‏"‏ ‏.‏
Salim narrated it from his father ('Abdullah b. Umar) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When women ask permission for going to the mosque, do not prevent them
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سالم سے سنا ، وہ اپنے والد سے روایت بیان کر رہے تھے اور وہ ( اس کی سند میں ) رسول اللہ ﷺ تک پہنچتے تھے ( کہ ) آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی سے اس کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اسے نہ روکے ۔ ‘ ‘