بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
19 hadith
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَعَقَدَ ثَلاَثَةً وَخَمْسِينَ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ ‏.‏
Another version on the authority of Ibn Umar says:When the Messenger of Allah (ﷺ) sat for tashahhud, he placed his left hand on his left knee and placed his right hand on his right knee, and he formed a ring like (fifty-three) and pointed with his finger of attestation
ایوب نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺجب تشہد میں بیٹھتےتو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گٹھنے پررکھتےاوراپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گٹھنے پر رکھتے اور انگلیوں سے تریپن ( 53 ) کی گرا بناتے اور انگشت شہادت سے اشارہ کرتے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولُ الْحَيَاةِ وَحُبُّ الْمَالِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) had said this:The heart of an old person is young for two things: for long life and love for wealth
سعید بن مسیب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل بھی جوان رہتا ہے : زندگی لمبی ہونے اور مال کی محبت میں ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Tahir with this chain of transmitters
(لیث کے بجائے ) بکر بن مضر نے ابن ہاد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ أَهْلَ، الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَامَهُ وَالْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ يُفْتَرَضَ رَمَضَانُ فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ عَاشُورَاءَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) reported that (the Arabs of) pre-Islamic days used to observe fast on the day of Ashura and the Messenger of Allah (ﷺ) observed it and the Muslims too (observed it) before fasting in Ramadan became obligatory. But when it became obligatory, the Messenger of Allah (ﷺ) said:'Ashura is one of the days of Allah, so he who wished should observe fast and he who wished otherwise should abandon it
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عبداللہ بن نمیر ، ابن نمیر ، عبیداللہ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمانوں نے بھی رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھا جب ر مضان کے روزے فرض ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عاشورہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً سَهْلاً إِذَا هَوِيَتِ الشَّىْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ ‏.‏ قَالَ مَطَرٌ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ كَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported that A'isha (Allah be pleased with her) entered into the state of Ihram (separately) for 'Umra while the Prophet (ﷺ) was performing Hajj. The rest of the hadith is the same, but with this addition:The Messenger of Allah (ﷺ) was a person of gentle disposition, so when she (A'Isha) wished for a thing, he accepted it (provided it did not contravene the teachings of Islam). So he (in pursuance of her desire for a separate lhram for Umra) sent her with 'Abd al-Rahman b. Abu Bakr and she put on Ihram for 'Umra at al-Tan'im. Matar and Abu Zubair (the two narrators amongst the chain of transmitters) said: Whenever 'A'isha performed Hajj she did as she had done along with Allah's Apostle (ﷺ)
مطر نے ابو زبیر سے ، انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج ( حجۃ الوداع ) کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عمرے کا ( احرام باندھ کر ) تلبیہ پکارا تھا ۔ مطر نے آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، ( البتہ اپنی ) حدیث میں یہ اضا فہ کیا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت نرم خوتھے ۔ وہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) جب بھی کو ئی خواہش کرتیں ، آپ اس میں ان کی بات مان لیتے ۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھیجا اور انھوں نے تنعیم سے عمرے کا تلبیہ پکا را ( اور عمرہ ادا کیا ۔ ) مطرؒ نے کہا : ابو زبیر نے بیان کیا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے بعد ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب بھی حج فر ما تیں تو وہی کرتیں جو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا تھا ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا فَكُنَّا نَعْزِلُ ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَنَا ‏ "‏ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:We took women captives, and we wanted to do 'azl with them. We then asked Allah's Messen- ger (ﷺ) about it, and he said to us: Verily you do it, verily you do it, verily you do it, but the soul which has to be born until the Day of judg- ment must be born
زہری نے ابن محریز سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے ان ( ابن محریز ) کو خبر دی ، ہمیں لونڈیاں حاصل ہوئیں تو ( ان کے ساتھ ) ہم عزل کرتے تھے ، پھر ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے ہمیں فرمایا : " ( کیا ) تم ایسا کرتے ہو؟ تم ایسا کرتے ہو؟ ( واقعی ) تم ایسا کرتے ہو؟ کوئی جان نہیں جو قیامت تک پیدا ہونے والی ہو مگر وہ پیدا ہو کر رہے گی
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ رَافِعٍ، أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ، - وَهُوَ عَمُّهُ - قَالَ أَتَانِي ظُهَيْرٌ فَقَالَ لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا ‏.‏ فَقُلْتُ وَمَا ذَاكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهُوَ حَقٌّ ‏.‏ قَالَ سَأَلَنِي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ فَقُلْتُ نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الرَّبِيعِ أَوِ الأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ أَوِ الشَّعِيرِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فَلاَ تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا ‏"‏ ‏.‏
Rafi (Allah be pleased with him) reported that Zuhair b. Rafi (who was his uncle) came to me and said:Allah's Messenger (ﷺ) forbade a practice which was useful for us. I said: What is this? (I believe) that whatrver Allah's Messenger (ﷺ) says is absolutely true. He (Zuhair) said that he (the Holy Prophet) asked me: What do you do with your cultivable lands? I said: Allah's Messenger, we rent those irrigated by canals for dry dates or barley. He said: Don't do that. Cultivate them or let them be cultivated (by others) or retain them yourself
ابوعمرو اوزاعی نے مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابونجاشی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ظُہیر بن رافع ان کے چچا تھے ، کہا : ظہیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمیں سہولت دینے والا تھا ۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ برحق ہے ۔ کہا : آپ نے مجھ سے پوچھا : " تم اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم انہیں چھوٹی نہر ( کے کناروں کی پیداوار ) پر یا کھجور یا جو کے ( متعینہ ) وسقوں پر اجرت پر دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تو ایسا نہ کرو ، اسے خود کاشت کرو یا کاشت کے لیے کسی کو دے دو یا ویسے ہی اپنے ہاتھ میں رکھو
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرًا ‏.‏ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ فَإِنَّ خَيْرَ عِبَادِ اللَّهِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً ‏"‏ ‏.‏
Abu Rafi', the freed slave of Allah's Messenger (ﷺ), said:Allah's Messenger (ﷺ) took as a loan (the rest of the hadith is the same), but with this variation that he (the Holy Prophet) said: Good amongst the servants of Allah is he who is best in paying off the debt
محمد بن جعفر سے روایت ہے ، میں نے زید بن اسلم سے سنا ، انہوں نے کہا : ہمیں عطاء بن یسار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابورافع رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نو عمر اونٹ بعد کی ادائیگی پر لیا ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند ، مگر انہوں نے کہا : " اللہ کے بندوں میں سے بہترین وہ ہے جو ان میں سے ادائیگی میں بہترین ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُئُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسَ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏
It has been narrated (through another chain of transmitters) on the authority of the same narrator (i. e. Anas) who said:I was riding behind Abu Talha on the day of the Battle of Khaibar (and we were riding so close to the Prophet that) my foot would touch his We encountered the people at sunrise when they had come out with their axes, spades and strings driving their cattle along. They shouted (in surprise): Muhammad has come along with his force! The Messenger of Allah (ﷺ) said: Khaibar shall face destruction. Behold! when we descend in the city-square of a people, it is a bad day for those who have been warned (but have not taken heed). Allah, the Glorious and Majestic, inflicted defeat upon them
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : خیبر کے دن میں سواری پر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا اور میرا پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہا تھا ، کہا : ہم اس وقت ان کے پاس پہنچے جب سورج چمک رہا تھا ، وہ لوگ اپنے مویشی نکال چکے تھے اور کلہاڑیاں ، ٹوکریاں اور بیلچے لے کر ( خود بھی ) نکل چکے تھے ۔ تو انہوں نے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور لشکر ہے ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خیبر اجڑ گیا ، جب ہم کسی قوم کے گھروں کے سامنے اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا جا چکا تھا ۔ " کہا : تو اللہ عزوجل نے انہیں شکست دی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي، الأَحْوَصِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، جَمِيعًا عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ سَمِعَ عُرْوَةَ الْبَارِقِيَّ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
A version of the tradition narrated on the authority of 'Urwat al-Bariqi does not mention (the words):" reward and booty
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم زَجَرَ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا ‏.‏
Anas reported Allah's Apostle (ﷺ) disapproved the drinking of water while standing
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکرپانی پینے سے ڈانٹ کر منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:Those who paint pictures would be punished on the Day of Resurrection and it would be said to them: Breathe soul into what you have created
عبید اللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو لو گ تصویریں بنا تے ہیں انھیں قیامت کے دن عذاب دیا جا ئے گا ، ان سے کہا جا ئے گا جن کو تم نے تخلیق کیا ( اب ان کو زندہ کرو ۔)
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ - حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ غُولَ وَلاَ صَفَرَ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no transitive disease, no ghoul, no safar
یزید تستری نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا ، نہ چھلا وا کوئی چیز ہے ، نہ صفر کی ( نحوست ) کو ئی حقیقت ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ، بِلاَلٍ كِلاَهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِهِمَا كَانَ أَزْهَرَ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Anas b. Malik with this addition that instead of the word al-Amhaq there is the word Azhar
اسماعیل بن جعفر اور سلیمان بن بلال دونوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے مانندحدیث بیان کی اور ان دونوں نےاپنی حدیث میں مذید بیان کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ کھلتا ہوا تھا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلاَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعُمَرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَزُورُهَا ‏.‏ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالاَ لَهَا مَا يُبْكِيكِ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَتْ مَا أَبْكِي أَنْ لاَ أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْىَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ ‏.‏ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلاَ يَبْكِيَانِ مَعَهَا ‏.‏
Anas reported that after the death of Allah's Messenger (ﷺ) Abu Bakr said to 'Umar:Let us visit Umm Aiman as Allah's Messenger (ﷺ) used to visit her. As we came to her, she wept. They (Abu Bakr and Umar) said to her: What makes you weep? What is in store (in the next world) for Allah's-Messenger (ﷺ) is better than (this worldly life). She said: I weep not because I am ignorant of the fact that what is in store for Allah's Messenger (ﷺ) (in the next world) is better than (this world), but I weep because the revelation which came from the Heaven has ceased to come. This moved both of them to tears and they began to weep along with her
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی ملاقات کے لئے چلو ہم اس سے ملیں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے ۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ۔ دونوں ساتھیوں نے کہا کہ تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو سامان ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہتر ہے ۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس لئے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا ۔ ام ایمن کے اس کہنے سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی رونا آیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنِ أَبِي، الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When any one of you fights with his brother he should avoid striking at the face
مغیرہ حزامی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے ( مسلمان ) بھائی سے لڑے تو چہرے ( پر مارنے ) سے اجتناب کرے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ أَبُو عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ يُقَالُ لَهُ رُطَبُ ابْنِ طَابٍ وَأَسْقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ، ثَلاَثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ قَالَتْ طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلاَثًا فَأَذِنَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي - قَالَتْ - فَنُودِيَ فِي النَّاسِ إِنَّ الصَّلاَةَ جِامِعَةً - قَالَتْ - فَانْطَلَقْتُ فِيمَنِ انْطَلَقَ مِنَ النَّاسِ - قَالَتْ - فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ مِنَ النِّسَاءِ وَهُوَ يَلِي الْمُؤَخَّرَ مِنَ الرِّجَالِ - قَالَتْ - فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَتْ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَهْوَى بِمِخْصَرَتِهِ إِلَى الأَرْضِ وَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ طَيْبَةُ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْمَدِينَةَ ‏.‏
Al-Sha'bi reported:We visited Fatima b. Qais and she served us fresh dates which are called rutab and she also served us barley. I asked her about that woman in whose case three divorces had been pronounced as to how much time she should count as the waiting period. She said: My husband pronounced three divorces in my case and Allah's Messenger (ﷺ) permitted me to spend any waiting period in my family. (It was during this period) that announcement was made for the people to observe prayer in the bigger Mosque. I went there along with people and I was in the front row meant for women and it was adjacent to the last row of men and I heard Allah's Messenger (ﷺ) deliver sermon sitting on the pulpit. He said: The cousin of Tamim (Dari) sailed in the ocean. The rest of the hadith is the same but with this addition:" (I see) as if I am looking to Allah's Apostle (ﷺ) pointing his rod towards the land (and saying): It is Taiba, i. e. Medina
سیار ابو الحکم نے کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں گئے ، انھوں نے ہمیں تازہ کھجوروں کاتحفہ دیا جن کو ابن طاب کی تازہ کھجوریں کہا جاتا تھا اور جو کے ستو پلائے ، میں نے ان سے ا س عورت کے بارے میں پوچھا جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟انھوں نے کہا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی کہ میں انے گھر والوں کے درمیان عدت گزار لوں ، ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : پھر ( عدت کے بعد ) لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ نماز کی جماعت ہونے والی ہے ، میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز کے لئے چل دی ، میں عورتوں کی پہلی صف میں تھی جو مردوں کی آخری صف کے پیچھے تھی ۔ انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پرخطبہ دے رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " تمیم داری کے چچا کے بیٹے ( ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے رشتہ دار ) سمندر ( کے جہاز ) میں سوار ہوئے ۔ " اسکے بعد ( سیار نے پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں مزید کہا کہ ( حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ایسے لگتا ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی ہوں ، آپ نے اپنے عصا کو زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا : " یہ طیبہ ہے ۔ " آپ کی مراد مدینہ سے تھی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوءَ فَقَالَ ‏ "‏ أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ فَأَتَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) came out of the privy, and he was presented with some food, and the people reminded him about ablution, but he said: Am I to say prayer that I should perform ablution?
۔ حماد نے عمرو بن سے ، انہوں نے سعید بن حویرث سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کہ نبی اکرمﷺ ( ہاتھ دھو کر ) بیت الخلا سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( کیا ) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟ ‘ ‘
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith is narrated by Suhail with the same chain of transmitters
عبد العزیز ، یعنی دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی ہے ۔