بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
21 hadith
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلاَةَ الْعَتَمَةِ فَقَرَأَ ‏{‏ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ‏}‏ فَسَجَدَ فِيهَا ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ فَقَالَ سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُهَا ‏.‏
Abu Rafi' reported:I said the night prayer along with Abu Huraira and -as he recited:" When the heaven burst asunder," he performed prostration. Isaid to him: What prostration is this? He said: I prostrated myself (on this occasion of recital) behind Abu'I-Qasim (Muhammad. may peace be upon him), and Iwould go on doing this till I meet him (in the next world). Ibn 'Abu al-A'la said: (Abu Huraira uttered this: ) I would not abandon performing prostration
عبید اللہ بن معاذ غنبری ارو محمد بن عبد الاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے حدیث سنائی ‘ انھوں نے بکر ( بن عبد اللہ مزنی ) سے اور انھوں نے ابو رافع سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابوھریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انھوں نے ( اذا السّماء انشقّت ) کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا ۔ میں نے پوچھا : یہ سجدہ کیسا ہے ؟انھوں نے جواب دیا : میں نے اس میں ابوالقاسم ( محمد رسو ل اللہ ﷺ ) کے پیچھے سجدہ کیا ‘ اس لیے میں اس میں ہمیشہ سحدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ ( ﷺ ) سے جا ملوں ۔ ( محمد ) بن عبد الاعلیٰ نے کہا : میں بھی ہمیشہ یہ سجدہ کرتا ہوں ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا ‏.‏
Hafsa reported:Never did I see the Messenger of Allah (ﷺ) observing supererogatory prayer sitting till one year before his death when he would observe Nafl prayer in a sitting position, and he would recite the Surah (of the Qur'an) in such a slow-measured tone (that duration of its recital) became more lengthy than the one longer than this
۔ امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سائب بن یزید سے ، انھوں نے مطلب بن ابی وداعہ سہمی سے اور انھوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز بیٹھ کر کبھی نہ پڑھتے دیکھاتھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے کا زمانہ ہوا تو آپ نفل نماز بیٹھ کر پڑھنےلگے ۔ آپ سورت کی قراءت کرتے تو اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے حتیٰ کہ وہ طویل ترین سورت سے بھی لمبی ہوجاتی ۔ ( یعنی بیٹھ کر لیکن اور بھی زیادہ لمبی نماز پڑھتے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ حُبُّ الأَنْصَارِ آيَةُ الإِيمَانِ وَبُغْضُهُمْ آيَةُ النِّفَاقِ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Anas that the Apostle (may peace and blessings be upon him) said:The love of the Ansar is the sign of faith and hatred against them is the sign of dissemblance
خالد بن حارث نے کا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انصار سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے او ران سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - يَقُولُ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ‏.‏ حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالاً فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خُذْهُ وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلاَ سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لاَ فَلاَ تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ‏"‏ ‏.‏
Salim b. Abdullah b. 'Umar reported on the authority of his father ('Abdullah b. 'Umar) that he had heard 'Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) saying:The Messenger of Allah (ﷺ) gave me a gift, but I said: Give it to one who needs it more than I. He gave me wealth for the second time but I said: Give it to one who needs it more than I. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: Take out of this wealth which comes to you without your being avaricious and without begging, but in other circumstance's do not let your heart hanker after it
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی مجھے عنایت فرماتے تھے تو میں عرض کرتا : کسی ایسے آدمی کو عنایت فرمادیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو حتیٰ کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے بہت سارا مال عطا کردیا تو میں نے عرض کی : کسی ایسے فرد کو عطا کردیجئے جو اس کا مجھ سے زیادہ محتاج ہو ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے لے لو اور ایسا جو مال تمھارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تو تم اس کے خواہش مند ہو اور نہ ہی مانگنے والے ہو تو اس کو لے لو اور جو مال اس طرح نہ ملے اس کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ، الأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلاَبِ اللَّبَنِ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ‏.‏
Kuraib, the freed slave of Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him), reported from Maimuna, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), that people had doubt about the fasting of Allah's Messenger (ﷺ) on the day of 'Arafa. Maimuna sent him a cup of milk and he was halting at a place and he drank it and the people were seeing him
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمر ، بکیر ، بن اشج ، کریب ، مولی ابن عباس ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ لوگ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک میں پڑ گئے چنانچہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک لوٹا بھیجا جس وقت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےدودھ پیا جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا ‏.‏ وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ ‏.‏ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّفْرِ ‏ "‏ يَسَعُكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَبَتْ فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that she put on Ihram for, Umra and arrived 'at Mecca) but did not circumambulate the House as she had entered in the period of menses, and then put on Ihram for Hajj and performed all the rituals concerning it (except circumambulating the House). The Apostle of Allah (ﷺ) said to her on the day of march (when pilgrims come to Mina):Your circumambulation would suffice both Hajj and Umra. She, however, felt reluctant. Thereupon the Prophet (ﷺ) sent her with 'Abd al-Rahman to Tan'im and she performed Umra (with separate rituals) after Hajj
طاوس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا مکہ پہنچیں ، ابھی بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ ایا م شروع ہو گئے ، انھوں نے حج کا تلبیہ کہا اور تمام مناسک ( حج ) ادا کیے ۔ واپسی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( مخاطب ہو کر ) فر مایا : " تمھا را طواف تمھارے حج اور عمرے ( دونوں ) کے لیے کا فی ہے ۔ ( اب تمھیں مزید عمرے کی ضرورت نہیں ) " مگر وہ نہ مانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ( ان کے بھا ئی ) عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا اور انھوں نے حج کے بعد ( ایک اور ) عمرہ ادا کیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلاَّ كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا ‏"‏ ‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her
یزید بن کیسان نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَحَدَّثَهُ عَنْ بَعْضِ، عُمُومَتِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ابن عون نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : انہوں نے اپنے بعض چچاؤں کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمَّا أَتَى عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي - قَالَ - فَنَخَسَهُ فَوَثَبَ - فَكُنْتُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لأَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ بِعْنِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ - قَالَ - قُلْتُ عَلَى أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي ‏.‏
Jabir (Allah be pleased with him) reported:My camel had grown tired as Allah's Messenger (ﷺ) came to me. He goaded it and it began to jump. After that I tried to restrain its rein so that I could listen to his (Prophet's) words, but I could not do that. Allah's Apostle (ﷺ) met me and said: Sell it to me, and I sold it for five 'uqiyas. I said: On the condition that I may use it as a ride (for going back) to Medina. He (the Holy Prophet) said: Well, you may use it as a ride up till Medina. When I came to Medina I handed over that to him and he made an addition of an uqiya (to that amount which had been agreed upon) and then presented that (camel) to me
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا تو آپ نے اسے کچوکا لگایا ، وہ اچھل پڑا ۔ اس کے بعد میں اس کی لگام کھینچتا تاکہ آپ کی بات سنوں لیکن میں اس پر قابو نہ پا رہا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے تو فرمایا : " یہ مجھے بیچ دو ۔ " میں نے وہ ( اونٹ ) آپ کو پانچ اوقیہ ( چاندی جو ایک اوقیہ سونے کے برابر تھی ) کے عوض فروخت کر دیا ۔ میں نے کہا : اس شرط پر کہ مدینہ تک اس کی پیٹھ ( پر سواری ) میرے لیے ہو گی ۔ آپ نے فرمایا : " مدینہ تک اس کی پیٹھ ( پر سواری ) تمہاری ہو گی ۔ " کہا : جب میں مدینہ پہنچا ، اس ( اونٹ ) کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے مجھے ایک اوقیہ ( طے شدہ قیمت کا چوتھا حصہ ) زائد دیا ، پھر آپ نے مجھے ( اونٹ بھی ) ہبہ کر دیا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى - حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَزَادَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ ‏.‏
A similar tradition has been narrated through a different chain of transmitters by Ibn Shihab with the addition of the words:" Before Abdullah (b. Ubayy) became a Muslim
عقیل نے ابن شہاب ( زہری ) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور یہ اضافہ کیا : یہ عبداللہ ( بن ابی ) کے ( ظاہری طور پر ) اسلام ( کا اعلان کرنے ) سے پہلے کا واقعہ ہے
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ، رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ ‏.‏
The same tradition has been handed down through a different chain of transmitters
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً أَكَلَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشِمَالِهِ فَقَالَ ‏"‏ كُلْ بِيَمِينِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ قَالَ ‏"‏ لاَ اسْتَطَعْتَ ‏"‏ ‏.‏ مَا مَنَعَهُ إِلاَّ الْكِبْرُ ‏.‏ قَالَ فَمَا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ ‏.‏
Salama b. Akwa' reported on the authority of his father that a person ate in the presence of Allah's Messenger (ﷺ) with his left hand, whereupon he said:Eat with your right hand. He said: I cannot do that, whereupon he (the Holy Prophet) said: May you not be able to do that. It was vanity that prevented him from doing it, and he could not raise it (the right hand) up to his mouth
۔ سیدنا ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھا ۔ وہ بولا کہ میرے سے نہیں ہو سکتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کرے تجھ سے نہ ہو سکے ۔ اس نے ایسا غرور کی راہ سے کیا تھا ۔ راوی کہتا ہے کہ وہ ساری زندگی اس ہاتھ کو منہ تک نہ اٹھا سکا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي إِلَيْهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَخِّرِيهِ عَنِّي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ ‏.‏
A'isha reported she had a cloth havinc, pictures upon it and it was hanging upon the shelf and Allah's Messenger (ﷺ) said:Take it (away) from me (from my sight), so I removed it and made cushions from that
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قاسم سے سنا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کررہے تھے کہ ان کے پاس ا یک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ، وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کو مجھ سے ہٹا دو ۔ " تو میں نے اس کو ہٹا دیا اور اسکے تکیے بنالیے ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ عَدْوَى ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ ‏.‏ وَعَنْ شُعَيْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no trahsitive disease. Thereupon a desert Arab stood up. The rest of the hadith is the same and in the hadith transmitted on the authority of Zuhri' the Prophet (ﷺ) is reported to have said: There is no transitive disease, no safar, no hama
شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : کو ئی مرض کسی دوسرے کو خود بخود نہیں چمٹتا ۔ " تو ایک اعرابی کھڑا ہو گیا ، پھر یونس اور صالح کی حدیث کی مانند بیان کیا اور شعیب سے روایت ہے ، انھوں نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سائب بن یزید بن اخت نمر نے حدیث سنا ئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " نہ کسی سے خود بخود مرض چمٹتا ہے نہ صفر کی نحوست کو ئی چیز ہے اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ قَالَ لاَ بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَكَانَ مُسْتَدِيرًا وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ ‏.‏
Jabir b. Samura reported that there had appeared some whiteness on the front part of the head and beard of Allah's Messenger (ﷺ). When he applied oil, it did not become visible, but when he did not (apply) oil, it became apparent. And he had a thick beard. A person said:His face was as (bright) as the sword. Thereupon he (Jabir) said: No, it was round and like the sun and the moon. And I saw the seal near his shoulder of the size of a pigeon's egg and its color was the same as that of his body
اسرائیل نے سماک سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی کا آگے کا حصہ سفید ہو گیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیل ڈالتے تو سفیدی معلوم نہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی بہت گھنی تھی ۔ ایک شخص بولا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح یعنی لمبا تھا؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سورج اور چاند کی طرح اور گول تھا اور میں نے نبوت کی مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر دیکھی جیسے کبوتر کا انڈا ہوتا ہے اور اس کا رنگ جسم کے رنگ سے ملتا تھا ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَكَيْتِ ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ قَالَتْ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ فَبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) called his daughter Fatima (during his last illness). He said. to her something secretly and she wept. He again said to her something secretly and she laughed. 'A'isha further reported that she said to Fatima:What is that which Allah's Messenger (ﷺ) said to you secretly and you wept and then said to you something secretly and you laughed? Thereupon she said: He informed me secretly of his death and so I wept. He then again informed me secretly that I would be the first amongst the members of his family to follow him and so I laughed
عروہ بن زبیر نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بلا یا اور ان کو راز داری سے ( سر گوشی کرتے ہو ئے ) کو ئی بات کہی تو حضرت فاطمہ روپڑیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کو رازداری سے کو ئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : یہ کیا بات تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو راز داری سے کہی اور آپ روپڑیں ، پھر دوبارہ رازداری سے بات کی تو ہنس دیں ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کا ن میں بات کی اور اپنی موت کی خبر دی تو میں روپڑی ، پھر دوسری بار میرے کان میں بات کی اور مجھے بتا یا کہ ان کے گھر والوں میں سے پہلی میں ہو ں گی جو ان سے جا ملوں گی تو میں ہنس دی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters
معمر اور شعیب دونوں نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ‏.‏
This tradition is narrated by Abu Kuraib, Ibn Numair, Abu Tahir, Ibn Wahb, Yahya b. 'Abdullah b. Salim, Malik b. Anas, 'Amr b. Harith on the authority of Hisham b. 'Urwa, with the same chain of transmitters like one transmitted by Yahya b. Sa'id like the above-mentioned
یحییٰ بن عبد اللہ بن سالم ، مالک بن انس اور عمرو بن حارث تینوں نے ہشام بن عروہ کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ یہی روایت اسی طرح بیان کی جس طرح یحییٰ بن سعید نے بیان کی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُحَدِّثُ بِهِ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ - أَوْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهُمَا - لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا يُحَرَّقُ الْبَيْتُ وَيَكُونُ وَيَكُونُ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ - لاَ أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا - فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ فَلاَ يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلاَّ قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبَدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلاَمِ السِّبَاعِ لاَ يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلاَ يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلاَ تَسْتَجِيبُونَ فَيَقُولُونَ فَمَا تَأْمُرُنَا فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الأَوْثَانِ وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلاَ يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلاَّ أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا - قَالَ - وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ - قَالَ - فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ - أَوْ قَالَ يُنْزِلُ اللَّهُ - مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ - نُعْمَانُ الشَّاكُّ - فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ ‏.‏ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ - قَالَ - ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ فَيُقَالُ مِنْ كَمْ فَيُقَالُ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ - قَالَ - فَذَاكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. 'Amr reported that a person came to him and said:What is this hadith that you narrate that the Last Hour would come at such and such time? Thereupon he said: Hallowed be Allah, there is no god but Allah (or the words to the same effect). I have decided that I would not narrate anything to anyone now. I had only said that you would see after some time an important event that the (sacred) House (Ka'ba) would be burnt and it would happen and definitely happen. He then reported that Allah's Messenger (ﷺ) said: The Dajjal would appear in my Ummah and he would stay (in the world) for forty - I cannot say whether he meant forty days, forty months or forty years. And Allah would then send Jesus son of Mary who would resemble 'Urwa b Mas'ud. He (Jesus Christ) would chase him and kill him. Then people would live for seven years that there would be no rancour between two persons. Then Allah would send cold wind from the side of Syria that none would survive upon the earth having a speck of good in him or faith in him but he would die, so much so that even if some amongst you were to enter the innermost part of the mountain, this wind would reach that place also and that would cause his death. I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Only the wicked people would survive and they would be as careless as birds with the characteristics of beasts. They would never appreciate the good nor condemn evil. Then Satan would come to them in human form and would say: Don't you respond? And they would say: What do you order us? And he would command them to worship the idols but, in spite of this, they would have abundance of sustenance and lead comfortable lives. Then the trumpet would be blown and no one would hear that but he would bend his neck to one side and raise it from the other side and the first one to hear that trumpet would be the person who would be busy in setting right the tank meant for providing water to the camels. He would swoon and the other people would also swoon, then Allah would send or He would cause to send rain which would be like dew and there would grow out of it the bodies of the people. Then the second trumpet would be blown and they would stand up and begin to look (around). Then it would be said: O people, go to your Lord, and make them stand there. And they would be questioned. Then it would be said: Bring out a group (out of them) for the Hell-Fire. And then it would be asked: How much? It would be said: Nine hundred and ninty-nine out of one thousand for the Hell-Fire and that would be the day which would make the children old because of its terror and that would be the day about which it has been said: "On the day when the shank would be uncovered" (lxviii)
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے یعقوببن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے سنا ، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : یہ کیا حدیث ہے جو آپ بیان کرتے ہیں ۔ کہ فلاں فلاں بات ہونے تک قیامت قائم ہو جائے گی انھوں نے سبحان اللہ ! ۔ یا ۔ ۔ ۔ لاالہ الااللہ ۔ ۔ ۔ یا ۔ ۔ ۔ اس جیسا کوئی کلمہ کہا : ( اورکہنے لگے ) میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ میں کسی کو کبھی کوئی بات بیان نہیں کروں گا ۔ میں نے یہ کہا تھا تم لوگ تھوڑے عرصے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے ۔ بیت اللہ کو جلا دیا جا ئےگا ۔ اور یہ ہوگا پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت میں دجال نمودار ہو گا اور چالیس مجھے یاد نہیں کہ چالیس دن ( فرمائے ) یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیں گے ۔ وہ اس طرح ہیں جیسے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اسے ڈھونڈیں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے پھر لوگ سات سال تک اس حالت میں رہیں گے ۔ کہ کوئی سے دو آدمیوں کے درمیان دشمنی تک نہ ہوگی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہواچلائے گاتو روئے زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو گا ۔ مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کرے گی یہاں تک کہااگر تم میں سے کوئی شخص پہاڑ کے جگرمیں گھس جائے گا تو وہاں بھی وہ ( ہوا ) داخل ہو جا ئے گی ۔ یہاں تک کہ اس کی روح قبض کرلے گی ۔ " انھوں نے کہا : یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ۔ آپ نے فرمایا : " پرندوں جیسا ہلکا پن اور درندوں جیسی عقلیں رکھنے والے بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے ۔ نہ اچھائی کو اچھا سمجھیں گے نہ برائی کو برا جانیں گے ۔ شیطان کوئی شکل اختیار کر کے ان کے پاس آئے گا اور کہے گا : " کیا تم میری بات پر عمل نہیں کروگے؟وہ کہیں گے ۔ تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے ۔ ؟وہ انھیں بت پوجنے کا حکم دے گا وہ اسی حالت میں رہیں گے ان کا رزق اترتا ہوگا ان کی معیشت بہت اچھی ہو گی پھر صور پھونکا جائے گا ۔ جو بھی اسے سنے گا وہ گردن کی ایک جانب کو جھکائے گا اور دوسری جانب کو اونچا کرے گا ( گردنیں ٹیڑھی ہو جائیں گی ) سب سے پہلا شخص جواسے سنے گاوہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا ۔ وہ پچھاڑ کھا کر گر جائے گا ۔ اور دوسرے لوگ بھی گر ( کر مر ) جائیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک بارش نازل فرمائےگا ۔ جو ایک پھوار کے مانند ہو گی ۔ یا سائے کی طرح ہو گی ۔ شک کرنے والے نعمان ( بن سالم ) ہیں اس سے انسانوں کے جسم اُگ آئیں گے ۔ پھر صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی ۔ تو وہ سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے ، ( زندہ ہو جا ئیں گے ) پھر کہا جا ئے گا لوگو! اپنے پروردگارکی طرف آؤ !اور ( فرشتوں سے کہا جائے گا ان کولاکھڑا کرو ان سے سوال پوچھے جائیں گے ۔ حکم دیا جا ئےگا ۔ آگ میں بھیجے جانے والوں کو ( اپنی صفوں سے ) باہرنکالو پوچھا جائے گا ۔ کتنوں میں سے ( کتنے؟ ) کہاجائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ انھوں نے کہا : تویہ وہ دن ہو گا جو بچوں کو بوڑھا کردے گا ۔ اور وہی دن ہو گا جب پنڈلی سے پردہ ہٹا ( کر دیدار جمال کرایا ) جائے گا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ ذَرًّا، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ قَالَ الْحَكَمُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَ عَمَّارٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ شِئْتَ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنْ حَقِّكَ لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا وَلَمْ يَذْكُرْ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ عَنْ ذَرٍّ ‏.‏
Abd al-Rahman b. Abza mnated it on the authority of his father that a man came to Umar and said:I have had a seminal emission but I found no water, and the rest of the hadith is the same but with this addition: 'Amr said: 0 Commander of the Faithful, because of the right given to you by Allah over me, if you desire, I would not narrate this hadith to anyone
نضر بن شمیل نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ اس کے بعد ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو آپ کے اس حق کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رکھا ہے ، میں یہ حدیث کسی کو نہ سناؤں گا ۔ اور ( شعبہ نے یہاں ) مجھے سلمہ نے ذر حدیث بیان کی ( کے الفاظ ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
Abu 'Awana reported this hadith with the same chain of transmitters
ابو احوص اورابو عوانہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ( سماک سے ) مذکورہ بالا روایت کے ہم معنیٰ روایت بیان کی ۔