وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ .
A hadith like this has been transmitted by Abual-Rahman al-Araj on the authority of Abu Huraira
۔ عبید اللہ بن ابی جعفر نے عبد الرحمٰن اعرج سے ‘ انھوں نے حصرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسو ل اللہﷺسے اسی کے مانند بیان کیا
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ زَيْدٍ، قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا بَدَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَثَقُلَ كَانَ أَكْثَرُ صَلاَتِهِ جَالِسًا .
A'isha reported:When the Messenger of Allah (ﷺ) grew bulky and heavy he would observe (most of his Nafl) prayers sitting
عبداللہ بن عروہ کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن زرا بڑھ گیا اور آپ بھاری ہوگئے تو آپ کی نماز کا زیادہ تر حصہ بیٹھے ہوئے ( ادا ) ہوتا تھا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آيَةُ الْمُنَافِقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ وَآيَةُ الْمُؤْمِنِ حُبُّ الأَنْصَارِ " .
It is reported on the authority of Anas that the Messenger of Allah (may peace and blessings Be upon him) observed:The sign of a hypocrite is the hatred against the Ansar and the sign of a believer is the love for the Ansar
انس سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق كی نشانی یہ ہے كہ انصار سے دشمنی ركھے اور مومن كی نشانی یہ ہے كہ انصار سے محبت ركھے .
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ، مُخَارِقٍ الْهِلاَلِيِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ " أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا " . قَالَ ثُمَّ قَالَ " يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلاَنًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ - أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ - فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا " .
Qabisa b. Mukhariq al-Hilali said:I was under debt and I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and begged from him regarding it. He said: Wait till we receive Sadaqa, so that we order that to be given to you. He again said: Qabisa, begging is not permissible but for one of the three (classes) of persons: one who has incurred debt, for him begging is permissible till he pays that off, after which he must stop it; a man whose property has been destroyed by a calamity which has smitten him, for him begging is permissible till he gets what will support life, or will provide him reasonable subsistence; and a person who has been smitten by poverty. the genuineness of which is confirmed by three intelligent members of this peoples for him begging is permissible till he gets what will support him, or will provide him subsistence. Qabisa, besides these three (every other reason) for begging is forbidden, and one who engages in such consumes that what is forbidden
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے ( لوگوں کے معاملات میں اصلاح کے لئے ) ادائیگی کی ایک ذمہ داری قبول کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا کہ آپ سے اس کے لئے کچھ مانگوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ آجائے تو ہم وہ تمھیں دے دینے کا حکم دیں ۔ " پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے قبیصہ!تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرناجائز نہیں : ایک وہ آدمی جس نے کسی بڑی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کرلی ، اس کے لئے اس وقت تک سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے حتیٰ کہ اس کو حاصل کرلے ، اس کے بعد ( سوال سے ) رک جائے ، دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آپڑی ہو جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو ، اس کے لئے سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی گزران درست کرلے ۔ یا فرمایا : زندگی کی بقا کاسامان کرلے ۔ اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہوگیا ، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقلمند افراد کھڑے ہوجائیں ( اور کہہ دیں ) کہ فلاں آدمی فاقہ زدہ ہوگیا ہے تو اس کے لئے بھی مانگنا حلال ہوگیا یہاں تک کہ وہ درست گزران حاصل کرلے ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : زندگی باقی رکھنے جتنا حاصل کرلے ۔ ۔ ۔ اے قبیصہ!ان صورتوں کے سوا سوال کرناحرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ، - رضى الله عنها - تَقُولُ شَكَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ وَنَحْنُ بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ فِيهِ لَبَنٌ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ .
Umm al-Fadl (Allah be pleased with her) is reported to have said that some people among the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) were in doubt about fasting on the day of 'Arafa and we were with him on that day. I (Umm al-Fadl) sent him a cup of milk and he was halting at 'Arafa, and he drank that
ہارون بن سعید ، ابن وہب ، عمرو ، ابی نضر ، مولی ابن عباس ، حضرت ام فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ۔ کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن روزہ کے بارے میں شک کیا حضرت ام فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک پیالہ بھیجا جس میں دودھ تھا عرفہ کے دن تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ، الْحُسَيْنِ عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ . بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ مِنَ الْحَكَمِ فِي قَوْلِهِ يَتَرَدَّدُونَ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) came out (for Pilgrimage) on The 4th or 5th of Dbu'l Hjjja. The rest of the hadith is the same, but he (the narrator) made no mention of the doubt of Hakam about his (the Prophet's) words:" They were reluctant
عبید اللہ بن معاذ نے کہا : مجھے میرے والد نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد مکہ تشریف لا ئے آگے ( عبید اللہ بن معاذ نے ) غندر کی روایت کے مانند ہی حدیث بیان کی انھوں نے پس و پیش کرنے کے حوالےسے حکم کا شک ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " حَتَّى تَرْجِعَ " .
This hadith has been narrated through the same chain of transmitters (with a slight variation):" He said: Until she comes back
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، اور کہا : " یہاں تک کہ وہ ( اس کے بستر پر ) لوٹ آئے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ - حَدَّثَنَا ابْنُ، عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَأْجُرُ الأَرْضَ - قَالَ - فَنُبِّئَ حَدِيثًا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - قَالَ - فَانْطَلَقَ بِي مَعَهُ إِلَيْهِ - قَالَ - فَذَكَرَ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ ذَكَرَ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ . قَالَ فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ يَأْجُرْهُ .
Nafi, reported that Ibn Umar (Allah be pleased with them) used to rent the land, and that he was conveyed the hadith transmitted on the authority of Rafi b. Khadij. He (the narrator) said:He then went to him along with me. He (Rafi) narrated from some of his uncles in which it was mentioned that Allah's Apostle (ﷺ) forbade the renting of land. Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) then abandoned this practice of renting
حسین بن حسن بن یسار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عون نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ زمین کو اجرت پر دیتے تھے ، کہا : انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بتائی گئی ، کہا : وہ میرے ساتھ ان کے ہاں گئے تو انہوں نے اپنے بعض چچاؤں سے بیان کیا ، انہوں نے اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور زمین اجرت پر نہ دی
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي، نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي . وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ لِي " ارْكَبْ بِاسْمِ اللَّهِ " . وَزَادَ أَيْضًا قَالَ فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ " وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported:We were with Allah's Messenger (ﷺ) in a journey and my camel meant for carrying water lagged behind. The rest of the hadith is the same and it is mentioned also: Allah's Messenger (ﷺ) pricked it and then said to me: Ride in the name of Allah. He constantly made addition (in prayers for me) and went on saying. May Allah forgive you
ابونضرہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، میرا اونٹ پیچھے رہ گیا ۔ ۔ اور ( پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچوکا لگایا ، پھر مجھ سے فرمایا : " اللہ کا نام لے کر سوار ہو جاؤ ۔ " اور یہ اضافہ بھی کیا ، کہا : آپ مسلسل مجھے زیادہ کی پیشکش کرتے اور فرماتے رہے : " اللہ تمہیں معاف فرمائے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَذَاكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لاَ تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا . فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ أَيُّهَا الْمَرْءُ لاَ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا فَلاَ تُؤْذِنَا فِي مَجَالِسِنَا وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ . قَالَ فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُخَفِّضُهُمْ ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ " أَىْ سَعْدُ أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ - يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ - قَالَ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ . فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
It has been narrated on the authority of Usama b. Zaid that the Prophet (ﷺ) rode a donkey. It had on it a saddle under which was a mattress made at Fadak (a place near Medina). Behind him he seated Usama. He was going to the street of Banu Harith al-Khazraj to inquire after the health of Sa'd b. Ubada This happened before the Battle of Badr. (He proceeded) until he passed by a mixed company of people in which were Muslims, polytheists, idol worshippers and the Jews and among them were 'Abdullah b. Ubayy and 'Abdullah b. Rawaha. When the dust raised by the hoofs of the animal spread over the company, 'Abdullah b. Ubayy covered his nose with his mantle and said:Do not scatter the dust over us (Not minding this remark), the Prophet (ﷺ) greeted them, stopped, got down from his animal, invited them to Allah, and recited to them the Qur'an. 'Abdullah b. Ubayy said: O man, if what you say is the truth, the best thing for you would be not to bother us with it in our assemblies. Get back to your place. Whoso comes to you from us, tell him (all) this. Abdullah b. Rawaha said: Come to us in our gatherings, for we love (to hear) it. The narrator says: (At this), the Muslims, the polytheists and the Jews began to rebuke one another until they were determined to come to blows. The Prophet (ﷺ) continued to pacify them. (When they were pacified), he rode his animal and came to Sa'd b. 'Ubida. He said: Sa'd, haven't you heard what Abu Hubab (meaning 'Abdullah b. Ubayy) has said? He has said so and so. Sa'd said: Messenger of Allah, forgive and pardon. God has granted you a sublime position, (but so far as he is concerned) the people of this settlement had-decided to make him their king by making him wear a crown and a turban (in token thereof), but God has circumvented this by the truth He has granted you. This has made him jealous and his jealousy (must have) prompted the behaviour that you have witnessed. So, the Prophet (may peace upon him) forgave him
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ ( بن زبیر ) سے خبر دی کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے پر سواری فرمائی ، اس پر پالان تھا اور اس کے نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک چادر تھی ، آپ نے اسامہ ( بن زید رضی اللہ عنہ ) کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا ، آپ قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنا چاہتے تھے ۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ، آپ راستے میں ایک مجلس سے گزرے جہاں مسلمان ، بت پرست اور مشرک اور یہودی ملے جلے موجود تھے ، ان میں عبداللہ بن اُبی بھی تھا اور مجلس میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ جب سواری کی گرد مجلس کی طرف اٹھی تو عبداللہ بن اُبی نے چادر سے اپنی ناک ڈھانپ لی اور کہنے لگا : ہم پر گرد نہ اڑائیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو سلام کیا ، رگ گئے ، پھر آپ سواری سے اترے ، ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور ان پر قرآن مجید کی تلاوت کی ۔ عبداللہ بن اُبی نے کہا : اے شخص! اس سے اچھی بات اور کوئی نہیں ہو گی کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں اگر وہ سچ ہے تو بھی ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں اور اپنے گھر لوٹ جائیں اور ہم میں سے جو شخص آپ کے پاس آئے اس کو سنائیں ۔ ۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ہماری مجلس میں تشریف لائیں ۔ ہم اس کو پسند کرتے ہیں ، پھر مسلمان ، یہود اور بت پرست ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے ، یہاں تک کہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑنے پر تیار ہو گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مسلسل دھیما کرتے رہے ، پھر آپ اپنی سواری پر بیٹھے ، حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمایا : " سعد! آپ نے نہیں سنا کہ ابوحباب نے کیا کہا ہے؟ آپ کی مراد عبداللہ بن اُبی سے تھی ، اس نے اس ، اس طرح کہا ہے ۔ ( حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ) کہا : یا رسول اللہ! اس کو معاف کر دیجئے اور اس سے درگزر کیجیے ۔ بےشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو عطا کیا ہے سو کیا ہے ۔ اس نشیبی نخلستانی علاقے میں بسنے والوں نے مل جل کر یہ طے کر لیا تھا کہ اس کو ( بادشاہت کا ) تاج پہنائیں گے اور اس کے سر پر ( ریاست کا ) عمامہ باندھیں گے ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے ، اس حق کے ذریعے جو آپ کو عطا فرمایا ہے ، اس ( فیصلے ) کو رد کر دیا تو اس بنا پر اس کو حلق میں پھندا لگ گیا اور آپ نے جو دیکھا ہے اس نے اسی بنا پر کیا ہے ۔ سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:There will be great benefit in the forelock of the horses until the Day of judgment
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں برکت ہے اور خوبی قیامت تک۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، عُمَرَ حَدَّثَهُ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَأْكُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشِمَالِهِ وَلاَ يَشْرَبَنَّ بِهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِهَا " . قَالَ وَكَانَ نَافِعٌ يَزِيدُ فِيهَا " وَلاَ يَأْخُذُ بِهَا وَلاَ يُعْطِي بِهَا " . وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ " لاَ يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ " .
Salim, on the authority of his father, reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None of you should eat with his left hand and drink with that (left hand), for the Satan eats with left hand and drinks with that (hand). Nafi' has made this addition in that:" Do not take up anything with that (left hand) and do not give anything with that" ; and in the narration transmitted on the authority of Abu Tahir there is a slight variation of wording
ابوطاہر اورحرملہ نے کہا : ہمیں عبداللہ بن وہب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عمر بن محمد نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے قاسم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ "" تم میں سے کوئی شخص نہ بائیں ہاتھ سے کھائے نہ اس ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتاہے ۔ اور اسی سے پیتا ہے ۔ نافع اس روایت میں یہ اضافہ کرتے ہیں ؛ "" نہ اس ( بائیں ہاتھ ) سے لے اور نہ اس کے ذریعے سےدے ۔ "" اورابوطاہر کی روایت میں ہے : "" تم میں سےکوئی شخص ( بائیں ہاتھ سے ) ہر گز نہ کھائے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ " يَا عَائِشَةُ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَطَعْنَاهُ فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ .
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) visited me. and I had a shelf with a thin cloth curtain hangin. over it and on which there were portraits. No sooner did he see it than he tore it and the colour of his face underwent a change and he said: A'isha, the most grievous torment from the Hand of Allah on the Day of Resurrection would be for those who imitate (Allah) in the act of His creation. A'isha said: We tore it into pieces and made a cushion or two cushions out of that
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ کہہ رہی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے طاق پر موٹا ساکپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں ۔ جب آپ نے اس کے پردے کو دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالاآپ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے فرمایا؛ "" عائشہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے شدید عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کریں گے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم نے اس پردے کو کاٹ دیااور اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے ( ایک یا دو کے بارے میں شک راوی کی طرف سے ہے ۔)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ هَامَةَ " . فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ . بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no transitive disease, no evil omen, no safar, no hama. A desert Arab said: Allah's, Messenger.... The rest of the hadith is the same
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا ، نہ بد فالی کی کو ئی حقیقت ہے نہ صفر کی نحوست کی اور نہ کھوپڑی سے الونکلنے کی ۔ " تو ایک اعرابی کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( آگے ) یو نس کی حدیث کی مانند ( ہے ۔)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ، بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، سُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يُرَ مِنْهُ شَىْءٌ وَإِذَا لَمْ يَدْهُنْ رُئِيَ مِنْهُ .
Jabir b. Samura was asked about the old age of Allah's Apostle (ﷺ). He said:When he oiled his head nothing was seen (as a mark of old age) and when he did not apply oil something (of the old age) became visible
سماک بن حرب نے کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے متعلق سوال کیاگیاتھا ، انھوں نےکہا : جب آپ سر مبارک کو تیل لگاتے تھے تو سفید بال نظر نہیں آتے تھے اور جب تیل نہیں لگاتے تھے تونظر آتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ، - يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ - يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
نعمان بن راشد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ " . قَالُوا فَالشَّدِيدُ أَيُّمَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
Abu Huraira reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: One is not strong because of one's wrestling skillfully. They said: Allah's Messenger, then who is strong? He said: He who controls his anger when he is in a fit of rage
زبیدی نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " پچھاڑ دینے سے کوئی شخص طاقتور نہیں ہوتا ۔ " صحابہ نے پوچھا : اللہ کے رسول! پھر طاقت ور کون ہے؟ آپ نے فرمایا : " جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبَهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهِ قَالَ " تَحُتُّهُ ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ تَنْضَحُهُ ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ " .
Asma (daughter of Abu Bakr) reported:A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: What should one do if the blood of menses smears the garment of one amongst us? He (the Holy Prophet) replied: She should scrape it, then rub it with water, then pour water over it and then offer prayer in it
وکیع نے بیان کیا ، ہمیں ہشام نے حدیث سنائی : اور یحییٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، کہا : مجھے فاطمہ ( بنت منذر ) نے حدیث سنائی ، انہوں نے ( اپنی اور ہشام دونوں کی دادی ) حضرت اسماء ؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور پوچھا : ہم میں سے کسی کو کپڑے کو حیض کا خون لگ جاتا ہے تو وہ اس کے بارے میں کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا : ’’اسے کھرچ ڈالے ، پھر پانی ڈال کر اسے رگڑے ، پھر اس پر پانی بہا دے ( دھولے ) ، پھر اس میں نماز پڑھ لے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ، أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ فَقَالَ لِي " أَىْ بُنَىَّ " .
This hadith has been narrated on the authority of Isma'il through other chains of transmitters with a slight variation of wording
وکیع ، جریر ، سفیان ، یزید بن ہارون اور ابو اسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ابراہیم بن حمید کی طرح روایت کی اور یزید کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " میرے بیٹے
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ - عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً . فَقَالَ لاَ تُصَلِّ . فَقَالَ عَمَّارٌ أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الأَرْضَ ثُمَّ تَنْفُخَ ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ " . فَقَالَ عُمَرُ اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ . قَالَ إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ . قَالَ الْحَكَمُ وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ حَدِيثِ ذَرٍّ قَالَ وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ عَنْ ذَرٍّ فِي هَذَا الإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ فَقَالَ عُمَرُ نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ .
Abd al-Rabmin b. Abza narrated It on the authority of his father that a man came to 'Umar and said:I am (at times) affected by seminal emission but find no water. He ('Umar) told him not to say prayer. 'Ammar then said. Do you remember,0 Commander of the Faithful, when I and you were in a military detachment and we had had a seminal emission and did not find water (for taking bath) and you did not say prayer, but as for myself I rolled in dust and said prayer, and (when it was mentioned before) the Apostle (ﷺ) said: It was enough for you to strike the ground with your hands and then blow (the dust) and then wipe your face and palms. Umar said: 'Ammar, fear Allah. He said: If you so like, I would not narrate it. A hadith like this has been transmitted with the same chain of transmitters but for the words: 'Umar said: We hold you responsible for what you claim
۔ یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے حکم نے ذر ( بن عبد اللہ بن زرارہ ) سے ، انہوں نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ تو انہوں نے جواب دیا : نماز نہ پڑھ ۔ اس پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں ، جب میں اور آپ ایک فوجی دستے میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا تو آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے ۔ ‘ ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے عمار! اللہ سے ڈرو ۔ ( عمار رضی اللہ عنہ نے ) جواب دیا : اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا ۔ حکم نے کہا : یہی روایت مجھے ( ذر کے واسطے کے بغیر ) ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ نے اپنے والد سے براہ راست بھی سنائی جو بعینہ ذر کی حدیث کی طرح تھی ۔ کہا : مجھے سلمہ نے ذر کے حوالے سے حکم کی بیان کردہ سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے جس چیز ( کی ذمہ داری ) کو اٹھا لیا ہے ہم اسے آپ ہی پر ڈالتے ہیں ( آپ اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہیں ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسَوِّي صُفُوفَنَا حَتَّى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى رَأَى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ يُكَبِّرُ فَرَأَى رَجُلاً بَادِيًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ فَقَالَ " عِبَادَ اللَّهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " .
Nu'man b. Bashir reported:The Messenger of Allah (may peace-be upon him) used to straighten our rows as it lie were straightening an arrow with their help until be saw that we had learnt it from him. One day he came out, stood up (for prayer) and was about to say: Allah is the Greatest, when he saw a man, whose chest was bulging out from the row, so he said: Servants of Allah, you hint straighten your rows or Allah would create dissension amongst you
ابو خیثمہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہﷺ ہماری صفوں کو ( اس قدر ) سیدھا اور برابر کراتے تھے ، گویا آپ ان کے ذریعے سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہیں ، حتیٰ کہ جب آپ کو یقین ہو گیا کہ ہم نے آپ سے ( اس بات کو ) اچھی طرح سمجھ لیا ہے تو اس کے بعد ایک دن آپ گھر سے نکل کر تشریف لائے اور ( نماز پڑھانے کی جگہ ) کھڑے ہو گئے اور قریب تھا کہ آپ تکبیر کہیں ( اور نماز شروع فرما دیں کہ ) آپ نے ایک آدمی کو دیکھا ، اس کا سینہ صف سے کچھ آگے نکلا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے بندو! تم لازمی طور پر اپنی صفوں کو سیدھا کرو ورنہ اللہ تمہارے رخ ایک دوسرے کے خلاف مور دے گا ۔ ‘ ‘