بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
22 hadith
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
A hadith like this has been narrated by AbuSalama on the authority of Abu Huraira
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی کی مانند روایت کی
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ قَالَتْ نَعَمْ بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ ‏.‏
Abdullah b. Shaqiq reported:I asked 'A'isha whether the Messenger of Allah (ﷺ) observed (Nafl) sitting. She said: Yes, when the people had made him old
سعید بن جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے؟انہوں نے کہا : ہاں ، جب لوگوں ( کے معاملات کی دیکھ بھال اورفکر مندی ) نے آپ کو بوڑھا کردیا ۔
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ‏.‏
Jabir b. Samura reported:(The dead body) of a person who had killed himself with a broad-headed arrow was brought before the Messenger of Allah (ﷺ), but he did not offer prayers for him
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے اپنے آپ کو ایک چوڑے تیر سے قتل کرڈالا تھا تو آپ نے ( خود ) اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔ ( دوسروں کو پڑھنے کا حکم دیا جس طرح ابتداء میں آپ دوسروں کو مقروض کا جنازہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے ۔)
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالَ مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلاَّ أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ ‏.‏ يَقُولُونَ الْكَوَاكِبُ وَبِالْكَوَاكِبِ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said:Don't you know what your Lord said? He observed: I have never endowed My bondsmen with a favor, but a section amongst them disbelieved it and said: Stars, it was due to the stars
عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نےحدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے رب عز وجل نے کیا فرمایا ؟ اس نے فرمایا : جو نعمت بھی میں بندوں کو دیتا ہوں تو ان میں سے ایک گروہ ( سے تعلق رکھنے والے لوگ ) اس ( نعمت ) کے سبب سے کفرکرنے والےہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں : فلاں ستارے ( نے یہ نعمت دی ہے ) یا فلاں فلاں ستاروں کے سبب سے ( ملی ہے ۔ ) ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ، أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَاللَّهِ لأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ ‏.‏
Qais b. Abu Hizam reported:We came to Abu Huraira and he told Allah's Messenger (ﷺ) having said this: By Allah, (it is better) that one among you should go and bring a load of firewood on his back and he should sell it, and the rest of the hadith was narrated (like the previous one)
اسماعیل نے کہا : مجھے قیس بن ابی حازم نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہم حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم!تم میں سے ایک صبح کو نکلے ، اپنی پیٹھ پر لکڑیاں لائے اور انھیں بیچے ۔ ۔ ۔ پھر بیان کی حدیث کے مانند حدیث سنائی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ نَاسًا، تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ بِصَائِمٍ ‏.‏ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ فَشَرِبَهُ ‏.‏
Umm al-Fadl bint- al-Harith reported that some people argued about the fasting of the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of 'Arafa. Some of them said that he had been fasting, whereas the others said that he had not been fasting. I sent a cup of milk to him while he was riding his camel at 'Arafa, and he drank it
یحییٰ بن یحییٰ ، مالک ، ابی نضر ، عمیر ، مولی ابن عباس ، حضرت ام الفضل بنت حارثہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں بات چیت کی ان میں سے کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں تھے اور کچھ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں نہیں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک پیالہ اس وقت بھیجا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر عرفہ کے دن سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پی لیا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ أَنْ يَحِلَّ - قَالَتْ - فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْىَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ الْهَدْىَ فَأَحْلَلْنَ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ - قَالَتْ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ ‏"‏ أَوَمَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ قُلْتُ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلاَّ حَابِسَتَكُمْ قَالَ ‏"‏ عَقْرَى حَلْقَى أَوَمَا كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ بَأْسَ انْفِرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ مُتَهَبِّطَةٌ وَمُتَهَبِّطٌ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) and we did not see but that he (intended to perform) Hajj (only), but when we reached Mecca we circumambulated the House; and the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that he who did not have with him a sacrificial animal should put off Ihram. She (A'isha) said: (And consequently) those who did not bring the sacrificial animals with them put off Ihram; and among his wives (too) who had not brought the sacrificial animals with them put off Ihram. A'isha said: I entered my period and could not (therefore) circumambulate the House. When it was the night of Hasba she said: Messenger of Allah, people are coming back (after having performed both) Hajj and'Umra, whereas I am coming back only with Hajj, whereupon he said: Did you not circumambulate (the Ka'ba) that very night we entered Mecca? She (A'isha) said: No, whereupon he said: Go along with your brother to Tan'im and put on the Ihram for Umra, and it is at such and such a place that you can meet (us). (In the meanwhile) Safiyya (the wife of the Holy Prophet) said: I think, I will detain you (since I have entered in the monthly) period and you shall have to wait for me for the farewell circuit). Thereupon he (the Holy Prophet) said: May you be wounded and your head shorn did you not circumambulate on the Day of Sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja)? She said: Yes. The Prophet (ﷺ) said: There is no harm. You should go forward. 'A'isha said: The Messenger of Allah (ﷺ) was going upwards to the side of Mecca, whereas I was coming down from it, or I was going upward, whereas he was coming down. Isbiq said: She was climbing down, and he was climbing down
منصور نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم اس کو حج ہی سمجھتے تھے ۔ جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لا یا وہ احرا م کھو ل دے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جتنے لو گ بھی قربانی ساتھ نہیں لا ئے تھے ۔ انھوں نے احرا م ختم کر دیا ۔ آپ کی ازواج بھی اپنے ساتھ قربانیا ں نہیں لا ئیں تھیں تو وہ بھی احرا م سے باہر آگئیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( لیکن ) میرے ایام شروع ہو گئے تھے اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب حصبہ کی رات آئی ، کہا : تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ حج اور عمرہ کر کے لو ٹیں اور میں صرف حج کر کے لو ٹو ں گی؟آپ نے فرمایا : "" جن راتوں ( تاریخوں ) میں ہم مکہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا ۔ جی نہیں آپ نے فر ما یا : "" تو پھر اپنے بھا ئی ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ساتھ مقام تنعیم تک چلی جا ؤ اور وہاں سے ( عمرے کا حرا م باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ پکارو ( اور عمرہ کر لو ) پھر تم فلاں مقام پر آملنا ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں : میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ میں ( بھی ) آپ کو روکنے والی ہوں گی ۔ آپ نے فرمایا : "" ( اپنی قوم کی زبان میں عقریٰ حلقٰی ( بے اولاد ، بے بال ، یہود حائضہ عورت کے لیے یہی لفظ بو لتے تھے ) کیا تم نے عید کے دن طواف نہیں کیا تھا ؟کہا : کیوں نہیں ( کیا تھا! ) آپ نے فر ما یا : "" ( تو پھر ) کو ئی بات نہیں ، اب چل پڑو ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : دوسری صبح ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ( اس وقت ) ملے جب آپ مکہ سے چڑھا ئی پر آرہے تھے اور میں مکہ کی سمت اتر رہی تھی ۔ ۔ ۔ یا میں چڑھا ئی پر جا رہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے ( واپس آرہے تھے ) ۔ ۔ ۔ اور اسحاق نے متهبطه ( اترنےوالی ) اور متهبط ( اترنے والے ) کے الفاظ کہے ۔ ( مفہوم وہی ہے)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ يَهُودَ، كَانَتْ تَقُولُ إِذَا أُتِيَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا ثُمَّ حَمَلَتْ كَانَ وَلَدُهَا أَحْوَلَ ‏.‏ قَالَ فَأُنْزِلَتْ ‏{‏ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ‏}‏
Jabir (b. Abdullah) (Allah be pleased with him) reported that the Jews used to say that when one comes to one's wife through the vagina, but being on her back, and she becomes pregnant, the child has a squint. So the verse came down:" Your wives are your ti'Ith; go then unto your tilth, as you may desire
ابوحازم نے محمد بن منکدر سے ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہود کہا کرتے تھے : جب عورت کے پیچھے کی طرف سے اس کی شرمگاہ میں مباشرت کی جائے ، پھر وہ حاملہ ہو تو اس کا بچہ بھینگا ہو گا ۔ کہا : اس پر ( یہ آیت ) نازل کی گئی : " تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، سو جس طرف سے چاہو اپنی کھیتی میں آؤ
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَكَانَ لاَ يُكْرِيهَا ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub and he made an addition in the hadith narrated by Ibn Ulayya in which he said:Ibn Umar abandoned it afterwards and he did not rent it (the land)
حماد بن زید اور اسماعیل ( ابن علیہ ) دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابن علیہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے ، کہا : اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور وہ اسے ( اپنی زمین کو ) کرائے پر نہیں دیتے تھے
وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، - يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ - عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا، يَقُولُ أَبْطَأَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ قَدْ وُدِّعَ مُحَمَّدٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَالضُّحَى * وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى * مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى‏}‏
It has been narrated on the authority of Aswad b. Qais who heard Jundub saying that Gabriel delayed his visit to the Messenger of Allah (ﷺ) The polytheists began to say that Muhammad has been forsaken. At this Allah, the Glorious and Exalted, revealed:" Wa'dd hd wa'l-laili iza saja, ma wadda'ka Rabbuka wa' ma qala" [By the glorious morning light, and by the night when it is still: thy Lord has not forsaken thee, nor is He displeased]
سفیان بن اسود بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے جندب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام کی آمد میں تاخیر ہو گئی ، مشرکین کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہہ دیا گیا ۔ تو اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا : " قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی ، اور قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے! ( اے نبی! ) آپ نے رب نے نہ آپ کو رخصت کیا اور نہ بیزار ہوا
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَالثَّقَفِيُّ، كُلُّهُمْ عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَالثَّقَفِيِّ ‏"‏ فَإِنِّي أَخَافُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَحَدِيثِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ‏"‏ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ ‏"‏ ‏.‏
The above hadith has been narrated through several other chains with slight differences of wording
اسماعیل بن علیہ ، سفیان اور ثقفی سب نے ایوب سے حدیث بیان کی ، ایوب اور ضحاک بن عثمان نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ابن علیہ اور ثقفی کی حدیث میں ہے : "" مجھے خوف ہے "" اور سفیان اور ضحاک بن عثمان کی حدیث میں ہے : "" اس خوف سے کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:Do not eat with your left hand, for the Satan eats with his left hand
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتاہے ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مُتَسَتِّرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) entered (my apartment) and I had hung (on the door of my apartment) a thin curtain having pictures on it. The colour of his face underwent a change. He then took hold of that curtain and tore it and then said:The most grievous torfnent for the people on the Day of Resurrection would be for those who try to imitate Allah in the act of creation
ابراہیم بن سعد نے زہری سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک موٹے سے کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا ، اس پر تصویر تھی تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا ۔ پھر آپ نے پردہ کو پکڑا اور پھاڑ دیا ، پھر فرمایا؛ " قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے لوگوں میں سے وہ ( بھی ) ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ( جاندار ) اشیاء کے جیسی ( مشابہ ) بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of 'Abdullah b. Harith with a slight variation of wording
یونس نے اسی سند کے ساتھ ابن شہاب سے خبر دی ، مگر انھوں نے کہا : بلاشبہ عبداللہ بن حارث نے انھیں حدیث سنائی اور " عبداللہ بن عبداللہ " نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ مِنْهُ بَيْضَاءَ وَوَضَعَ زُهَيْرٌ بَعْضَ أَصَابِعِهِ عَلَى عَنْفَقَتِهِ قِيلَ لَهُ مِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَبْرِي النَّبْلَ وَأَرِيشُهَا ‏.‏
Abu Juhaifa reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) having some whiteness (in hair) at this place, and Zuhair placed one of his fingers at his chin. Juhaifa was asked how old he had been at that time. He said: I made arrows and put feathers to them (i. e. I had passed my childhood)
زہیر نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ کی اس جگہ پر سفیدی تھی ، زہیر نے نچلے ہونٹ کے نیچے والے اپنے بالوں پر انگلی رکھ دی ، ان ( ابوجحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہاگیا : ان دنوں آپ ( حاضرین میں سے ) کس کی طرح ( کس عمرکے ) تھے ( آپ سب سے چھوٹے ہوں گے؟ ) انھوں نے کہا : میں تیروں کے پیکان اور ان کے پر لگاتا تھا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ‏"‏ ‏.‏
Miswar b. Makhramah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Fatima is a part of me. He in fact tortures me who tortures her
عمرو نے ابن ابی ملیکہ سے ، انھوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لاَ يُولَدُ لَهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لاَ يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ بِذَلِكَ وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Mas'ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Whom do you count as" Raqub" amongst you? They (his Companions) said: One who has no children (the children are born unto him but they do not survive). Thereupon he (the Holy Prophet) said: He is not a Raqub but Raqub is one who does not find his child as the forerunner (in Paradise). He then said: Whom do you count as a wrestler amongst you? We said: He who wrestles with persons. He said: No, it is not he but one who controls himself when in a fit of rage
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے حارث بن سوید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگ اپنے خیال میں رقوب کسے شمار کرتے ہو؟ ہم نے عرض کی : جس شخص کے بچے پیدا نہ ہوتے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : " یہ رقوب نہیں ہے ، بلکہ رقوب وہ شخص ہے جس نے ( آخرت میں ) کسی بچے کو آگے نہ بھیجا ہو ۔ " آپ نے فرمایا : " تم اپنے خیال میں پہلوان کسے سمجھتے ہو؟ " ہم نے کہا : جس کو لوگ پچھاڑ نہ سکیں ۔ آپ نے فرمایا : " پہلوان وہ نہیں ہے ، بلکہ پہلوان تو وہ شخص ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ أَيَغْسِلُهُ أَمْ يَغْسِلُ الثَّوْبَ فَقَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغَسْلِ فِيهِ ‏.‏
Amr b. Maimun said:I asked Sulaiman b. Yasar whether the semen that gets on to the garment of a person should be washed or not. He replied: A'isha told me: The Messenger of Allah (ﷺ) washed the semen, and then went out for prayer in that very garment and I saw the mark of washing on it
محمد بن بشر نے عمرو بن میمون سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے آدمی کے کپڑے کو لگ جانےوالی منی کے بارے میں پوچھا کہ انسان اس جگہ کو دھوئے یا ( پورے ) کپڑے کو دھوئے؟ تو انہوں نے ( سلیمان بن یسار ) نے کہا : مجھے عائشہ ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ( کپڑے سے ) منی کو دھوتے ، پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور میں اس میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ، مِنْ أَهْلِ مَرْوَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ فَيَقُولُونَ لَهُ أَيْنَ تَعْمِدُ فَيَقُولُ أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ - قَالَ - فَيَقُولُونَ لَهُ أَوَمَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا فَيَقُولُ مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ ‏.‏ فَيَقُولُونَ اقْتُلُوهُ ‏.‏ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ - قَالَ - فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَيَأْمُرُ الدَّجَّالُ بِهِ فَيُشَبَّحُ فَيَقُولُ خُذُوهُ وَشُجُّوهُ ‏.‏ فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا - قَالَ - فَيَقُولُ أَوَمَا تُؤْمِنُ بِي قَالَ فَيَقُولُ أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ - قَالَ - فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُؤْشَرُ بِالْمِئْشَارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ - قَالَ - ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ قُمْ ‏.‏ فَيَسْتَوِي قَائِمًا - قَالَ - ثُمَّ يَقُولُ لَهُ أَتُؤْمِنُ بِي فَيَقُولُ مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلاَّ بَصِيرَةً - قَالَ - ثُمَّ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لاَ يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ - قَالَ - فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ فَيُجْعَلَ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا فَلاَ يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلاً - قَالَ - فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Dajjal would come forth and a person from amongst the believers would go towards him and the armed men of the Dajjal would meet him and they would say to him: Where do you intend to go? He would say: I intend to go to this one who is coming forth. They would say to him: Don't you believe in our Lord? He would say: There is nothing hidden about our Lord. They would say: Kill him. Then some amongst them would say: Has your master (Dajjal) not forbidden you to kill anyone without (his consent)? And so they would take him to the Dajjal and when the believer would see him, he would say: O people. he is the Dajjil about whom Allah's Messenger (ﷺ) has informed (us). The Dajjal would then order for breaking his head and utter (these words): Catch hold of him and break his head. He would be struck even on his back and on his stomach. Then the Dajjal would ask him: Don't you believe in me? He would say: You are a false Masih. He would then order him to be torn (into pieces) with a saw from the parting of his hair up to his legs. After that the Dajjal would walk between the two pieces. He would then say to him: Stand, and he would stand erect. He would then say to him: Don't you believe in me? And the person would say: It has only added to my insight concerning you (that you are really the Dajjal). He would then say: O people, he would not behave with anyone amongst people (in such a manner) after me. The Dajjal would try to catch hold of him so that he should kill him (again). The space between his neck and collar bone would be turned into copper and he would find no means to kill him. So he would catch hold of him by his hand and feet and throw him (into the air) and the people would think as if he had been thrown in the Hell-Fire whereas he would be thrown in Paradise. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: He would be the most eminent amongst persons in regard to martyrdom in the eye of the Lord of the world
ابو وذاک نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دجال نکلےگا تو مومنوں میں سے ایک شخص اس کا رخ کرے گااسے اسلحہ بردارمحافظ یعنی دجال کے اسلحہ بردارمحافظ ملیں گے اور اس سے پوچھیں گے ۔ کہا : جانا چاہتے ہو؟وہ کہے گا ۔ میں اس شخص کی طرف جانا چاہتا ہوں جو ( اب ) نمودار ہوا ہے وہ اس سے کہیں گے ۔ کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے ؟وہ کہے گا ، ہمارے رب ( کی ربوبیت اور صفات ) میں کوئی پوشیدگی نہیں وہ ( اس کی بات پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے ) کہیں گے ۔ اس کو قتل کردو ۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے ۔ کیا ہمارے رب نے ہمیں منع نہیں کیا تھا کہ اس ( کے سامنے پیش کرنے ) سےپہلے کسی کو قتل نہ کرو ۔ وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے ۔ وہ مومن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا لوگو!یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا ۔ فرمایا : تودجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اس ( کے اعضاء ) کو کھینچ کر باندھ دیا جا ئے گا پھر وہ کہے گا ۔ اسے پکڑواور اس کاسر اور منہ توڑ دو ، تو ( مارمارکر ) اس کا پیٹ اور اس کی کمر چوڑی کردی جائے گی ۔ فرمایا : پھر وہ ( دجال ) کہے گا ۔ کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاؤگے؟فرمایا : " تو وہ کہے گا تم جھوٹے ( بناوٹی ) مسیح ہو ۔ فرمایا : " پھر اس کے بارے میں حکم دیا جا ئے گا ۔ تو اس کی پیشانی سے اسے آری کے ساتھ چیرا جائے گا ۔ یہاں تک کے اس کے دونوں پاؤں الگ الگ کر دیے جائیں گے ۔ فرمایا : " پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا ۔ پھر اس سےکہے گا ۔ کھڑے ہوجاؤچنانچہ وہ سید ھا کھڑا ہو جا ئے گا ۔ فرمایا : وہ پھر اس سے کہے گا کیا مجھ پر ایمان لاتے ہو؟وہ کہے گا ۔ ( اس سب کچھ سے ) تمھارے بارے میں میری بصیرت میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا ۔ فرمایا : پھر وہ شخص کہے گا لوگو!یہ ( دجال ) اب میرے بعد لوگوں میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا ۔ فرمایا : دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ( کاحصہ ) تانبے کا بنایا جا ئے گا وہ کسی طریقے سے ( اسے ذبح ) نہ کر سکے گا ۔ فرمایا ۔ تو وہ اس کے دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کراسے پھینکےگا ۔ لوگ سمجھیں گےاس ( دجال ) نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے جبکہ ( اصل میں وہ ) جنت میں ڈال دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شہادت میں رب العالمین کے سامنے یہ شخص سب لوگوں سے بڑا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، بِشْرٍ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلاَدَةً فَهَلَكَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاَةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ ‏.‏ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلاَّ جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً ‏.‏
A'isha reported she had borrowed from Asma' (her sister) a necklace and it was lost. The Messenger of Allah (ﷺ) sent men to search for it. As it was the time for prayer, they offered prayer without ablution (as water was not available there). When they came to the Messenger of Allah (ﷺ), they made a complaint about it, and the verses pertaining to tayammum were revealed. Upon this Usaid b. Hadair said (to 'A'isha):May Allah grant you a good reward! Never has been there an occasion when you were beset with difficulty and Allah did not make you come out of that and made it an occasion of blessing for the Muslims
ہشام کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء ؓ سے عاریتاً ہار لیا ، وہ گم ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا ۔ ان کی نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس بات کی شکایت کی ، ( اس پر ) تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ( حضرت عائشہؓ سے ) کہا : اللہ آپ کو بہترین جزا دے ، اللہ کی قسم! آپ کو کبھی کوئی مشکل معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی اور اسی میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھ کر دی ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ - عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَتِمُّوا الصُّفُوفَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ خَلْفَ ظَهْرِي ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Complete the rows, for I can see you behind my back
عبد العزیز نے ، جو صہیب کے بیٹے ہیں ، حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’صفیں پوری کرو ، میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘