بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
22 hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَرَأَ لَهُمْ ‏{‏ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ‏}‏ فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ فِيهَا ‏.‏
Abu Salama b. 'Abual-Rahman reported:Abu Huraira recited before them:" hen the heaven burst asunder" (al-Qur'an, lxxxiv. 1) and performed prostration. After completing (the prayer) he informed them that the Messenger of Allah (ﷺ) has prostrated himself at it (this verse)
اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان کے سامنے سورۃ ( اذاالسمآ ء النشقت ) پڑھی اور ا س میں سجدہ کیا ، پھر جب سلام پھیرا تو انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الرَّكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَتْ كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ ‏.‏
Alqama b. Waqqas reported:I asked 'A'isha how the Messenger of Allah (ﷺ) did in the two rak'ahs as he (observed them) sitting. She said: He would recite (the Qur'an) in them, and when he intended to bow, he would stand up and then bowed
علقمہ بن وقاص سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے تو کیا کرتے تھے؟انھوں نے جواب دیا : آپ ان میں قراءت کرتے رہتے ، جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوجاتے پھر ر کوع کرتے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، - الشَّكُّ مِنْ أَبِي خَيْثَمَةَ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح . وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح . وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كُلُّهُمْ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ ‏.‏
This hadith has been narrated through another chain of transmitters
ابو خیثمہ نے زبید الیامی سے ، انھوں نے محارب بن دثار سے ، انھوں نے ابن بریدہ سے ، انھوں نے ، میرا خیال ہے اپنے والدسےشک ابو خیثمہ کی طرف سے ہے ۔ ۔ ۔ اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ( اسی طرح ) سفیان نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ( اسی طرح ) معمر نے عطاء خراسانی سے روایت کی ، انھو ں نے کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ان سب ( زبید ، سفیان اور معمر ) نے ابو سنان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ السَّمَاءِ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ ‏.‏ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Zaid b. Khalid al-Juhani:The Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) led the morning prayer at Hudaybiya. There were some marks of the rainfall during the night. At the conclusion of prayer he turned towards people and observed: Do you know what your Lord has said? They replied: Allah and His Messenger know best. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: He (Allah) said: Some of My bondsmen entered the morning as My believers and some as unbelievers. He who said: We have had a rainfall due to the Blessing and Mercy of Allah, he is My believer and a disbeliever of stars, and who said: We have had a rainfall due to the rising of such and such (star) disbelieved Me and affirmed his faith in the stars
حضرت زید بن جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر رات کو ہونے والی بارش کے بعد ، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ ‘ ‘ انہوں نےجواب دیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( آج ) میرے بندوں میں سے کوئی مجھ پر ایمان لانےو الا اور ( کوئی میرےساتھ ) کفر کرنے والا ہو گیا ۔ جس نے یہ کہا ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کےفضل اور رحمت سےبارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستارے کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے ( کےغروب و طلوع ہونے ) کی وجہ سے بارش ہوئی ہے تو وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ، أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ بِهِ وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ مِنَ النَّاسِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلاً أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira is reported to have heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:It is better for one among you to bring a load of firewood on his back and give charity out of it (and satisfy his own need) and be independent of people, than that he should beg from people, whether they give him anything or refuse him. Verily the upper hand is better than the lower hand, and begin (charity) with your dependents
بیان بن ابی بشر نے قیس بن ابی حازم سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کوئی شخص صبح کو نکلے اپنی پشت پر لکڑیاں اکھٹی کر لائےاور اس سے صدقہ کرے اور لوگوں ( کے عطیوں ) سے بے نیاز ہوجائے ، وہ اس سے بہترہے کہ کسی آدمی سے مانگے ، وہ ( چاہے تو ) اسےدے یا ( چاہے تو ) محروم رکھے ، بلاشبہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے اور ( خرچ کرے کی ) ابتدا ان سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ، الدِّمَشْقِيِّ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا مِنَّا أَحَدٌ صَائِمٌ إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ‏.‏
Abu Darda' reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on some of his journeys on an intensely hot day so much so that a person would place his hand on his head (in order to protect himself) against excessive heat, and none amongst us was fasting but the Messenger of Allah (ﷺ) and Abdullah b. Rawaha
عبداللہ بن مسلمۃ ، ہشام بن سعید ، عثمان ابن حیان ، دمشقی ، حضرت ام درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمیوں کے دنوں میں بعض سفروں میں دیکھاکہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کو اپنے سروں پر رکھ لیتے ہیں اور ہم میں سے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحۃ کے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَإِبْرَاهِيمَ، - قَالَ لاَ أَعْرِفُ حَدِيثَ أَحَدِهِمَا مِنَ الآخَرِ - أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - رضى الله عنها - قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ ‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Ibn al-Muththanna reported on the authority of Ibn Abu'Adi who transmitted on the authority of Ibn'Aun who narrated from al-Qasim and Ibrahim having said:I cannot differentiate the hadith of one from the other (Qasim and Ibrahim) that the Mother of the Believers (Allah be pleased with her) said this: Messenger of Allah, people have come back with two acts of worship. The rest of the hadith is the same
ابن ابی عدی نے ابن عون سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قاسم اور ابرا ہیم سے روایت کی ( ابن عون نے ) کہا : میں ان میں سے ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث سے الگ نہیں کر سکتا ۔ ام المومنین ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !لوگ دومنسک ( حج اور عمرہ ) کر کے لو ٹیں ۔ اور آگے ( اسی طرح ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابرًا يَقُولُ كَانَتِ الْيَهُودُ تَقُولُ إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَنَزَلَتْ ‏{‏ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ‏}‏
Jabir (Allah be pleased with him) declared that the Jews used to say:When a man has intercourse with his wife through the vagina but being on her back. the child will have squint, so the verse came down:" Your wives are your tilth; go then unto your tilth as you may desire" (ii)
سفیان نے ہمیں ابن منکدر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ، یہود کہا کرتے تھے : اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پیچھے کی طرف سے اس کی شرم گاہ میں مجامعت کرے تو بچہ بھینگا ( پیدا ) ہو گا ۔ اس پر ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ، سو اپنی کھیتی میں آؤ جس طرف سے چاہو
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ مُعَاوِيَةَ حَتَّى بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلاَفَةِ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ فِيهَا بِنَهْىٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ ‏.‏ فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ ‏.‏ وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا بَعْدُ قَالَ زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهَا ‏.‏
Nafi reported that Ibn Umar (Allah be pleased with them) rented his land during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and during the caliphate of Abu Bakr and that of Umar and that of Uthman (Allah be pleased with them) and during the early period of Muawiya's caliphate until at the end of Muawiya's reign, it reached him (Ibn 'Umar) that Rafi b. Khadij (Allah be pleased with him) narratted (a hadith) in which (there was a decree) of prohibition by Allah's Apostle (ﷺ). He (Ibn 'Umar) went to him (Rafi b. Khadij) and I was with him and he asked him, whereupon he said:Allah's Messenger (ﷺ) used to forbid the renting of land. So Ibn Umar (Allah be pleased with them) abandoned it, and subsequently whenever he was asked about it, he said: Rafi b. Khadij (Allah be pleased with him) alleged that Allah's Messenger (ﷺ) forbade it
یزید بن زریع نے ہمیں ایوب سے خبر دی اور انہوں نے نافع سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور حضرت ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دور امارت میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی ایام تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی زمینوں کو بٹائی پر دیتے تھے حتی کہ حضرت معاویہ کی خلافت کے آخری ایام میں انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت بیان کرتے ہیں ، چنانچہ وہ ان کے پاس گئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ، انہوں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں کو بٹائی پر دینے سے منع فرماتے تھے ۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ بعد ازیں جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے : رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ قَالَ فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ قَالَ ‏"‏ بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لاَ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ بِعْنِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلاَنَهُ إِلَى أَهْلِي فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَقَالَ ‏"‏ أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لآخُذَ جَمَلَكَ خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that he was travelling on his camel which had grown jaded, and he decided to let it off. When Allah's Apostle (ﷺ) met him and prayed for him and struck it, so it trotted as it had never trotted before. He said:Sell it to me for an 'uqaya. I said: No. He again said: Sell it to me. So I sold it to him for an 'uqaya, but made the stipulation that I should be allowed to ride back to my family. Then when I came to (my place) I took the camel to him and he paid me its price in ready money. I then went back and he sent: (someone) behind me (and as I came) he said: Do you see that I asked you to reduce price for buying your camel. Take your camel and your coins; these are yours
جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے وہ جارہے تھے ایک اونٹ پر جو تھک گیا تھا انہوں نے چاہا اس کو آزاد کردینا ( یعنی چھوڑ دینا جنگل میں ) جابرؓ نے کہا رسول اﷲ ﷺ مجھ سے آن کر ملے او رمیرے لیے دعا کی اور اونٹ کو مارا پھر وہ ایسا چلا کہ وہ ایسا کبھی نہیں چلا تھا ( یہ آپ کا معجزہ تھا ) ۔ آپ نے فرمایا اس کو میرے ہاتھ بیچ ڈال ایک اوقیہ پر ( دوسری روایت میں پانچ اوقیہ ہیں اور ایک اوقیہ زیادہ دیا اور ایک روایت میں دو اوقیہ اور ایک درم یا دو درم ہیں اور ایک روایت میں سونے کا ایک اوقیہ اور ایک روایت میں چار دینار اور بخاری نے ایک روایت میں آٹھ سو درم اور ایک روایت میں بیس دینرا او رایک روایت میں چار اوقیہ نقل کیے ہیں ) ۔ میں نے کہا نہیں پھر آپ نے فرمایا اس کو میرے ہاتھ بیچ ڈال ۔ میں نے ایک اوقیہ پر آپ ﷺ کے ہاتھ بیچ ڈالا اور شرط کی اس پر سواری کی اپنے گھر تک ۔ جب میں اپنے گھر پہنچا تو اونٹ آپ کے پاس لے کر آیا آپ نے اس کی قیمت میرے حوالے کی ۔ میں لوتا پھر آپ نے مجھ کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا میں تجھ سے قیمت کم کراتا تھا تیرا اونٹ لینے کے لیے اپنا اونٹ لے جا او رروپیہ بھی تیرا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَارٍ فَنُكِبَتْ إِصْبَعُهُ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Aswad b. Qais who said:The Messenger of Allah (ﷺ) was in a cave (or raid) when his finger was hurt
ابن عیینہ نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر میں تھے اور ( وہاں ) آپ کی انگلی زخمی ہو گئی
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَإِنِّي لاَ آمَنُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ فَقَدْ نَالَهُ الْعَدُوُّ وَخَاصَمُوكُمْ بِهِ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Do not take the Qur'an on a journey with you, for I am afraid lost it should fall into the hands of the enemy. Ayyub (one of the narrators in the chain of transmitters) said: The enemy may seize it and may quarrel with you over it
حماد نے ایوب سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قرآن کے ساتھ سفر نہ کرو ، کیونکہ مجھے اس بات پر اطمینان نہیں کہ وہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا ۔ "" ایوب نے کہا : قرآن مجید دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو وہ قرآن مجید کے ذریعے سے ( اسے آڑ بنا کر ) تمہارے ساتھ مقابلہ کرے گا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ طَعَامِهِ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Jabir b. Abdullah through the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئےسنا ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئےسنا ۔ ابوعاصم کی حدیث کے مانند ، البتہ انھوں نے یہ کہا : " اور اگر اس نے اپنے کھانے کے وقت اللہ کا نام نہ لیا اور اگر اس نے داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدَةَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ‏.‏
This hadith has been narrpted on the authority of Waki' with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
عبدہ اور وکیع نے اسی سند کے ساتھ ہمیں ( ہشام بن عروہ سے ) حدیث بیان کی ، عبدہ کی حدیث میں " آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے " کے الفاظ نہیں ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ وَقَالَ لَهُ أَيْضًا أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَى الْجَدْبَةَ وَتَرَكَ الْخَصْبَةَ أَكُنْتَ مُعَجِّزَهُ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَسِرْ إِذًا ‏.‏ قَالَ فَسَارَ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَحِلُّ ‏.‏ أَوْ قَالَ هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Ma'mar with the same chain of transmitters but with this addition:" Do you think that he would graze in the barren land but would abandon the green land? Would you not attribute it to be a failing on his part? He said: Yes. He said: Then proceed. And he moved on until he came to Medina. And he said to me: This is the right place, or he said: That is the destination if Allah so wills
معمر نے ہمیں اسی سند کے ساتھ مالک کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور معمر کی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے ، کہا : اور انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان ( ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے یہ بھی کہا : آپ کا کیا حال ہے کہ اگر وہ ( اونٹ ) بنجر کنارے پر چرے اور سرسبز کنارے کو چھوڑ دے تو کیا آپ اسے اس کے عجز اور غلطی پر محمول کریں گے؟انھوں نے کہا : ہاں ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : تو پھر چلیں ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : وہ چل کر مدینہ آئے اور کہا : ان شاء اللہ! یہی ( کجاوے ) کھولنے کی ، یاکہا : یہی اترنے کی جگہ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، سَمِعَ أَبَا إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا شَانَهُ اللَّهُ بِبَيْضَاءَ ‏.‏
Anas (b. Malik) was asked about the old age of Allah's Apostle (ﷺ). He said:Allah did not blemish him with white hair
خلید بن جعفر نے ابو ایاس سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں سنا ، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں سوال کیا گیا ، انھوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سفید بالوں کے ساتھ آپ کے جمال میں کمی نہیں کی تھی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ، أَنَّحَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلاَ آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لاَ آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لاَ آذَنُ لَهُمْ إِلاَّ أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا ‏"‏ ‏.‏
Miswar b. Makhramali reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) say, as he sat on the pulpit:The sons of Hisham b. Mughira have asked my permission to marry their daughter with 'Ali b. Abi Talib (that refers to the daughter of Abu Jahl for whom 'All had sent a proposal for marriage). But I would not allow them, I would not allow them, I would not allow them (and the only alternative possible is) that 'Ali should divorce my daughter (and then marry their daughter), for my daughter is part of me. He who disturbs her in fact disturbs me and he who offends her offends me
لیث بن سعد نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ قرشی تیمی نے حدیث بیان کی کہ حضرت مسوربن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث سنائی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر یہ سنا ، آپ فر ما رہت تھے : " بنو ہشام بن مغیرہ نےمجھ سے اجازت چا ہی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی بن ابی طالب سے کردیں ، میں انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا ، پھر میں انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا ، پھر میں انھیں اس کی اجازت نہیں دیتا ، الایہ کہ ابن ابی طالب پسند کرے تو میری بیٹی کو طلا ق دے دے اور ان کی بیٹی سے شادی کر لے کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے جو چیز اسے پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے ۔ جو چیز اس کو ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ عِيسَى ‏"‏ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ ‏"‏ حَتَّى يَكْتُبَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and no mention is made in the hadith transmitted on the authority of 'Isa (of these words):" He who endeavours to tell the truth and endeavours to tell a lie," and in the hadith transmitted on the authority of Mushir (the words are):" Until Allah records it
ابن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، انہوں نے عیسیٰ کی روایت میں : " صدق کا قصد کرتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ اور ابن مسہر کی روایت میں ( " اللہ کے نزدیک " کے بجائے ) " حتی کہ اللہ اس کو لکھ لیتا ہے " کے الفاظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
Hammam narrated the hadith from A'isha like the (above-mentioned) traditions
ابن عیینہ نے منصور سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے ہمام سے ، انہوں نے حضرت عائشہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ - أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ - انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالُوا أَلاَ تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِالنَّاسِ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ‏.‏ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ‏.‏ قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا ‏.‏ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ - وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ - مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ ‏.‏
A'isha reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) on one of his journeys and when we reached the place Baida' or Dhat al-jaish, my necklace was broken (and fell somewhere). The Messenger of Allah (way peace be upon him) along with other people stayed there for searching it. There was neither any water at that place nor was there any water with them (the Companions of the Holy Prophet). Some persons came to my father Abu Bakr and said: Do you see what 'A'isha has done? She has detained the Messenger of Allah (ﷺ) and persons accompanying him, and there is neither any water here or with them. So Abu Bakr came there and the Messenger of Allah (ﷺ) was sleeping with his head on my thigh. He (Abu Bakr) said: You have detained the Messenger of Allah (ﷺ) and other persons and there is neither water here nor with them. She ('A'isha) said: Abu Bakr scolded me and uttered what Allah wanted him to utter and nudged my hips with his hand. And there was nothing to prevent me from stirring but for the fact that the messenger of Allah (ﷺ) was lying upon my thigh. The Messenger of Allah (ﷺ) slept till it was dawn at a waterless place. So Allah revealed the verses pertaining to tayammum and they (the Prophet and his Companions) performed tayammum. Usaid b. al-Hudair who was one of the leaders said: This is not the first of your blessings,0 Family to Abu Bakr. 'A'isha said: We made the came) stand which was my mount and found the necklace under it
۔ عبد الرحمان بن قاسم ( بن محمد ) نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہﷺ کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے ، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، رسول اللہﷺ اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے ، صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ بھی آپ کے ساتھ رک گئے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی ( بچا ہوا ) تھا ۔ لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں ، عائشہؓ نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھ ( دوسرے ) لوگوں کو روک رکھا ہے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تشریف لائے ( اس وقت ) رسول اللہﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا : تم نے رسول اللہﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ عائشہؓ نے فرمایا : حضرت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور رتھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے ، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسو ل اللہﷺ کا سر میری ران پر تھا ، رسول اللہﷺ سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے تیمم کیا ۔ اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ، جو نقباء میں سے تھے ، کہا : اے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا : ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Straighten your rows. for the straightening of a row is a part of the perfection of prayer
قتادہ نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اپنی صفوں کو برابر کیا کرو کیونکہ صفوں کا برابر کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے <ہیڈنگ 2> </ہیڈنگ 2>