حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ، مَعَ الإِمَامِ فَقَالَ لاَ قِرَاءَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَىْءٍ . وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم { وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى} فَلَمْ يَسْجُدْ .
ta' b. Yasar reported that he had asked Zaid b. Thabit about recital along with the Imam, to which he said:There should be no recital along with the Imam in anything, and alleged that he recited:" By the star when it sets" (Surah Najm) before the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not prostrate himself
عطاء بن یسار نے ( اپنے شاگرد ابن قسیط کو ) بتایا کہ انھوں نے امام کے ساتھ ( قرآن کی کسی سورت کی ) قراءت کرنے کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ؟ انھوں نے کہا : امام کے ساتھ ( فاتحہ کے سوا ) کچھ نہ پڑھے اور کہا : انھوں ( زید رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ( والنجم اذا ھویٰ ) پڑھی تو آپ نے سجدہ نہ کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً .
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in sitting position (while observing the Tahajjud prayer) and when he intended to bow, he would stand up and recite (for the duration in which) a man (ordinarily) recites forty verses
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے قراءت فرماتے ، پس جب رکوع کرناچاہتے تو اتنی دیر کے لئے کھڑے ہوجاتے جتنی دیر میں ایک انسان چالیس آیتیں پڑھ لیتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ وَابْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، - وَهُوَ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ - عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلاَّ فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " . قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ .
Ibn Buraida reported on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said:I forbade you to visit graves, but you may now visit them; I forbade you to eat the flesh of sacrificial animals after three days, but you way now keep it as along as you feel inclined; and I forbade you nabidh except in a water-skin, you may drink it from all kinds of water-skins, but you must not drink anything intoxicating
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور محمد بن مثنی نے ہمیں حدیث سنائی ۔ ۔ ۔ الفاظ ابو بکر اور ابن نمیر کے ہیں ۔ ۔ ۔ انھوں نے کہا : ہمیں محمد بن فضیل نے ابو سنان سے ، جو ضرار بن مرہ ہیں ، حدیث سنائی ، انھوں نے محارب بن دثار سے ، انھوں نے ابن بریدہ سے ، اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت بریرہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھاتو ( اب ) تم ان کی زیارت کیا کرو ۔ اور میں نے تمھیں تین دن سے اوپر قربانیوں کے گوشت ( رکھنے ) سے منع کیا تھا ( اب ) تم جب تک چاہو رکھ سکتے ہو اور میں نے تمھیں مشکیزوں کے سوا کسی اور برتن میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا ، اب تم ہر قسم کے برتنوں میں سے پی سکتے ہولیکن کوئی نشہ آورچیز نہ پیو ۔ "" ابن نمیر نے اپنی روایت میں کہا : عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ۔ ( انھوں نے ابن بریدہ کے نام ، عبداللہ کی صراحت کی ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ " .
Jarir b. Abdullah reported it from the Holy Prophet:When the slave runs away from his master, his prayer is not accepted
مغیرہ نے شعبی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کیا کرتے تھے : ’’ جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ ‘ ‘ ( جس طرح حرام کھانے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ، الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who begs the riches of others to increase his own is asking only for live coals, so let him ask a little or much
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے ، کم ( اکھٹے ) کرلے یا زیادہ کرلے ۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، - رضى الله عنه - قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ .
Abu Darda' (Allah be pleased with him) reported:We set out during the month of Ramadan with the Messenger of Allah (ﷺ) in such an intense heat that one of us would place his hand over his head (in order to protect himself) against the excessive heat, and none among us was observing the fast, except the Messenger of Allah (ﷺ) and 'Abdullah b. Rawaha
داود بن رشید ، ولید بن مسلم ، سعید بن عبدالعزیز ، اسماعیل ، عبیداللہ ، ام درداء ، حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں گرمی کے موسم میں ایک سفر میں نکلے یہاں تک کہ گرمی کی وجہ سے ہم میں سے کچھ لوگ اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیتے تھے اور ہم میں سے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ح وَعَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ قَالَ " انْتَظِرِي فَإِذَا طَهَرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي مِنْهُ ثُمَّ الْقَيْنَا عِنْدَ كَذَا وَكَذَا - قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ غَدًا - وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ - أَوْ قَالَ - نَفَقَتِكِ " .
AI-Qasim narrated from the Mother of the Believers (Hadrat 'A'isha) that she said:Messenger of Allah. the people return (from Mecca) having done two worships (both Hajj and Umra), but I am coming back with one (only). whereupon he said: You should wait and when the period of menses is over, you should go to Tan'im and put on lhram and then meet us at such and such time (and I think he said tomorrow) ; and (the reward of this Umra) is for you equal to your hardship or your spending
(ابرا ہیم نے اسود اور قاسم سے ان دونوں نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے عرض کی : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ ) حج اور عمرہ دودو مناسک ادا کر کے ( اپنے گھروں کو ) لو ٹیں گے اور میں صرف ایک منسک ( حج ) کر کے لو ٹوں گی؟آپ نے فرمایا : " تم ذرا انتظار کرو!جب تم پاک ہو جاؤ تو تنعیم ( کی طرف ) چلی جا نا اور وہاں سے ( احرا م باندھ کر عمرے کا ) تلبیہ پکا رنا پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا ۔ ۔ ۔ ابرا ہیم نے ) کہا : میرا خیال ہے آپ نے فرمایاتھا : کل ۔ ۔ ۔ اور ( فرمایا : ) لیکن وہ ( تمھا رے عمرے کا اجر ) ۔ ۔ ۔ تمھا ری مشقت یا فرمایا : خرچ ہی کے مطا بق ہو گا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنِ الثَّوْرِيِّ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ شُعْبَةَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ " بِاسْمِ اللَّهِ " . وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ " بِاسْمِ اللَّهِ " . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ مَنْصُورٌ أُرَاهُ قَالَ " بِاسْمِ اللَّهِ " .
This hadith is narrated through another chain of transmitters and there is no mention of (the words)" Bismillah" (In the name of Allah) in it
مضمون وہی ہے مگر شعبہ كی روایت میں بسم اللہ كا لفظ نہیں اور عبد الرزاق كی روایت میں ہے اور ابن نمیر كی روایت میں ہے كہ منصور نے كہا كہ خیال كرتا ہوں میں كہ انہوں نے بسم اللہ كہا ہے
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقَدْ مَنَعَنَا رَافِعٌ نَفْعَ أَرْضِنَا .
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported:Rafi forbade us from benefitting from our land (in the form of rent)
مجاہد سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رافع رضی اللہ عنہ نے ہماری زمین کا منافع ہم سے روک دیا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ، بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ نُعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِحِمْصَ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْحَلاَلُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ " . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَكَرِيَّاءَ عَنِ الشَّعْبِيِّ إِلَى قَوْلِهِ " يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ " .
Nu'man b. Bashir b. Sa'd, a Companion of Allah's Messenger (ﷺ) was heard delivering a sermon at Hims and was saying:I heard Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying: The lawful is evident and the unlawful is evident, the rest of the hadith is the same as related by Zakariya
نعمان بن بشیر بن سعد سے روایت ہے جو صحابی تھے رسول اﷲ ﷺ کے اور وہ خطبہ سناتے تھے لوگوں کو حمص میں ( ایک شہر کا نام ہے شام میں ) اور کہتے تھے میں نے سنا رسول اﷲ ﷺ سے آپ فرماتے تھے حلال کھلا ہوا ہے اور حرام کھلا ہوا ہے ۔ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری ۔ یوشک ان یقع فیہ تک ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَشَاهِدِ فَقَالَ " هَلْ أَنْتِ إِلاَّ إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ " .
It has been narrated on the authority of Jundub b. Sufyan who said:A finger of the Messenger of Allah (ﷺ) was wounded in one of the encounters He said: Thou art just a little finger which has bled, and what thou hast experienced is in the cause of Allah
ابوعوانہ نے اسود بن قیس سے ، انہوں نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ان جنگوں میں سے ایک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی خون آلود ہو گئی تو آپ نے فرمایا : "" تو ایک انگلی ہی ہے جو زخمی ہوئی اور تو نے جو تکلیف اٹھائی وہ اللہ کی راہ میں ہے
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ .
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) used to forbid that one should travel to the land of the enemy taking the Qur'an (with him) lest it should fall into the hands of the enemy
لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوف کی بنا پر کہ دشمن کے ہاتھ لگ جائے گا ، دشمن کی سرزمین میں قرآن مجید کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرماتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ - عَنِ ابْنِ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ لاَ مَبِيتَ لَكُمْ وَلاَ عَشَاءَ . وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ . وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ " .
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When a person enters his house and mentions the name of Allah at the time of entering it and while eating the food, Satan says (addressing himself: You have no place to spend the night and no evening meal; but when he enters without mentioning the name of Allah, the Satan says: You have found a place to spend the night, and when he does not mention the name of Allah while eating food, he (the Satan) says: You have found a place to spend the night and evening meal
ابو عاصم نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " کہ جب آدمی اپنے گھر میں جاتا ہے ، اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ جل جلالہ کا نام لیتا ہے ، تو شیطان ( اپنے رفیقوں اور تابعداروں سے ) کہتا ہے کہ نہ تمہارے یہاں رہنے کا ٹھکانہ ہے ، نہ کھانا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہیں رہنے کا ٹھکانہ تو مل گیا اور جب کھاتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہارے رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوا اور کھانا بھی ملا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سَتَّرْتُ عَلَى بَابِي دُرْنُوكًا فِيهِ الْخَيْلُ ذَوَاتُ الأَجْنِحَةِ فَأَمَرَنِي فَنَزَعْتُهُ .
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) came back from the journey and I had screened my door with a curtain having portraits of winged horses upon it. He commanded me and I pulled it away
ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے ، میں نےروئیں دار کپڑا دروازے کا پردہ بنایا ہوا تھا جس پر پروں والے گھوڑوں کی تصویریں تھیں تو آپ نے مجھے ( اتار نے کا ) حکم دیا تو میں نے اس کو اتاردیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ، الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ لِيَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ . فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لأَمْرٍ وَلاَ نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ . فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي . ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلاَفِهِمْ . فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي . ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ . فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلاَنِ فَقَالُوا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلاَ تُقْدِمْهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ . فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ . فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ - وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلاَفَهُ - نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطْتَ وَادِيًا لَهُ عِدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " . قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ .
Abdullah b. 'Abbas reported:Umar b. Khattab set out for Syria. As he came at Sargh (a town by the side of Hijaz on the way to Syria), there met him the commander of the forces, Abu Ubaida b. Jandb, and his companions. They informed him that a scourge had broken out in Syria. Ibn 'Abbas further reported that 'Umar said: Call to me tile earliest emigrants. So I called them. He (Hadrat 'Umar) sought their advice, and they told him that the scourge had broker, out in Syria. There was a difference of opinion (whether they should proceed further or go back to their homes in such a situation). Some of them said: You ('Umar) have set forth for a task, and, therefore, we would not advise you to go back, whereas some of them said: You have along with you the remnants (of the sacred galaxy) of men and (the blessed) Companions of Allah's Messenger (ﷺ), so we would not advise you to go forth towards this calamity (with such eminent persons and thus expose them deliberately to a danger). He (Hadrat 'Umar) said: You can now go away. He said: Call to me the Ansar. So I called them to him, and he consulted them, and they trod the same path as was trodden by the Muhajirin, and they differed in their opinions as they had differed. He said: Now, you can go. He again said: Call to me the old persons of the Quraish who had migrated before the Victory (that is the Victory of Mecca), so I called them (and Hadrat 'Umar consulted them) and not even two persons differed (from the opinion held by the earlier delegates). They said: Our opinion is that you better go back along with the people and do not make them go to this scourge, So 'Umar made announcement to the people: In the morning I would be on the back of my side. So they (set forth in the morning), whereupon Abu 'Ubaida b. Jarrah said: Are you going to run away from the Divine Decree? Thereupon 'Umar said: Had it been someone else to say this besides you! 'Umar (in fact) did not approve of his opposing (this decision) and he said: Yes, we are running from the Divine Decree (to the) Divine Decree. You should think if there had been camels for you and you happened to get down in a valley having two sides, one of them covered with verdure and the other being barren, would you not (be doing) according to the Divine Decree if you graze them in verdure? And in case you graze them in the barren land (even then you would be grazing them) according to the Divine Decree. There happened to come 'Abd al-Rahman b. 'Auf and he had been absent in connection with some of his needs. He said: I have with me a knowledge of it, that I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: If you hear of its presence (the presence of plague) in a land, don't enter it, but if it spreads in the land where you are, don't fly from it. Thereupon 'Umar b. Khattab praised Allah and then went back?
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبدالحمید بن عبدالرحمان بن زید بن خطاب سے ، انھوں نے عبداللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے ۔ جب ( تبوک کے مقام ) سرغ پر پہنچے تو لشکر گاہوں کے امراء میں سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے آپ سے ملاقات کی ۔ اور یہ بتایا کہ شام میں وبا پھیل گئی ہے ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے سامنے مہاجرین اوّلین کو بلاؤ ۔ ( مہاجرین اوّلین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہو ) میں نے ان کو بلایا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ لیا اور ان سے بیان کیا کہ شام کے ملک میں وبا پھیلی ہوئی ہے ۔ انہوں نے اختلاف کیا ۔ بعض نے کہا کہ آپ ایک اہم کام کے لئے نکلے ہوئے ہیں اس لئے ہم آپ کا لوٹنا مناسب نہیں سمجھتے ۔ بعض نے کہا کہ تمہارے ساتھ وہ لوگ ہیں جو اگلوں میں باقی رہ گئے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور ہم ان کو وبائی ملک میں لے جانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب تم لوگ جاؤ ۔ پھر کہا کہ انصار کے لوگوں کو بلاؤ ۔ میں نے ان کو بلایا تو انہوں نے ان سے مشورہ لیا ۔ انصار بھی مہاجرین کی چال چلے اور انہی کی طرح اختلاف کیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جاؤ ۔ پھر کہا کہ اب قریش کے بوڑھوں کو بلاؤ جو فتح مکہ سے پہلے یا ( فتح کے ساتھ ہی ) مسلمان ہوئے ہیں ۔ میں نے ان کو بلایا اور ان میں سے دو نے بھی اختلاف نہیں کیا ، سب نے یہی کہا کہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ لوگوں کو لے کر لوٹ جائیے اور ان کو وبا کے سامنے نہ کیجئے ۔ آخر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں منادی کرا دی کہ میں صبح کو اونٹ پر سوار ہوں گا ( اور مدینہ لوٹوں گا ) تم بھی سوار ہو جاؤ ۔ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا تقدیر سے بھاگتے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کاش یہ بات کوئی اور کہتا ( یا اگر اور کوئی کہتا تو میں اس کو سزا دیتا ) { اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ برا جانتے تھے ان کا خلاف کرنے کو } ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں ۔ کیا اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ایک وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سرسبز اور شاداب ہو اور دوسرا خشک اور خراب ہو اور تم اپنے اونٹوں کو سرسبز اور شاداب کنارے میں چراؤ تو اللہ کی تقدیر سے چرایا اور جو خشک اور خراب میں چراؤ تب بھی اللہ کی تقدیر سے چرایا ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس چرواہے پر کوئی الزام نہیں ہے بلکہ اس کا فعل قابل تعریف ہے کہ جانوروں کو آرام دیا ایسا ہی میں بھی اپنی رعیت کا چرانے والا ہوں تو جو ملک اچھا معلوم ہوتا ہے ادھر لے جاتا ہوں اور یہ کام تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ عین تقدیر الٰہی ہے ) ؟ اتنے میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے اور وہ کسی کام کو گئے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو اس مسئلہ کی دلیل موجود ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب تم سنو کہ کسی ملک میں وبا پھیلی ہے تو وہاں مت جاؤ اور اگر تمہارے ملک میں وبا پھیلے تو بھاگو بھی نہیں ۔ کہا : اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ پھر ( اگلےدن ) روانہ ہوگئے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated on the authority of Muthanna through the same chain of transmitters
عبدالصمد نے مثنیٰ ( بن سعید ) سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ، بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ . وَلَمْ يَشُكَّ وَقَالَ قَلِيلاَتُ الْمَسَارِحِ . وَقَالَ وَصِفْرُ رِدَائِهَا وَخَيْرُ نِسَائِهَا وَعَقْرُ جَارَتِهَا . وَقَالَ وَلاَ تَنْقُثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا . وَقَالَ وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ ذَابِحَةٍ زَوْجًا .
This hadith has been transmitted on the authority of Hisham b. 'Urwa but with a slight variation of wording
سعید بن سلمہ نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ بیان کی ، مگر ( ساتویں کے خاوندکے متعلق ) شک کے بغیر : " عاجز اور ماندہ ہے عقل پر حماقت کی تہیں لگی ہو ئی ہیں " کہا : اور ( دسویں کے خاوند کے متعلق ) کہا : ( اس کی اونٹنیاں ) چراگا ہوں میں کم بھیجی جا تی ہیں ( خدام باڑے میں چارہ مہیا کرتے ہیں ۔ ) اور ( ابو زرع کی بیٹی کےبارے میں ) کہا : اس کی اوڑھنے کی چادر خالی لگتی ہے ( اس کا پیٹ بڑھا ہوا نہیں ہے جبکہ ملء كسائهاسے مراد ہے کہ جسم کے باقی حصے لباس کو بھر دیتے ہیں ) قبیلے کی بہترین عورت ہے اور ( اپنی خوبصورتی اور وقار کی بناپر ) سوکن کے لیے نیزے کا زخم ( دردوتکلیف کا سبب ) ہے اور ( خادمہ کے بارے میں اس طرح ) کہا : " وہ ہمارا کھا نا ضائع نہیں کرتی ۔ " اور ( " وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا " کے بجائے ) وأعطاني من كل ذابحةٍ زوجاً ، ( اور مجھے ہر اعلیٰ درجے کی خوشبو دار چیز میں سے دگنا دگنا دیا ) کہا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا " .
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is obligatory for you to tell the truth, for truth leads to virtue and virtue leads to Paradise, and the man who continues to speak the truth and endeavours to tell the truth is eventually recorded as truthful with Allah, and beware of telling of a lie for telling of a lie leads to obscenity and obscenity leads to Hell-Fire, and the person who keeps telling lies and endeavours to tell a lie is recorded as a liar with Allah
ابومعاویہ اور وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق ( ابووائل ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم صدق پر قائم رہو کیونکہ صدق نیکی کے راستے پر چلاتا ہے اور نیکی جنت کے راستے پر چلاتی ہے ۔ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور کوشش سے سچ پر قائم رہتا ہے ، حتی کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ سے دور رہو کیونکہ جھوٹ کج روی کے راستے پر چلاتا ہے اور کج روی آگ کی طرف لے جاتی ہے ، انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، ح وَحَدَّثَنِي ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَمُغِيرَةَ، كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي حَتِّ الْمَنِيِّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ .
Qutaiba b. Sa'id, Ishaq b. Ibrahim, Ibn Abi 'Aruba, Abu Ma'shar, Abu Bakr b. Abu Shaiba, Mansur and Mughira have all transmitted from Ibrahim, who transmitted it on the authority of A'isha's narration pertaining to the scraping off of the (drop) of semen from the garment of the Messenger of Allah (ﷺ) like the hadith of Khalid on the authority of Abu Ma'shar
(خالد کی بجائے ) ابومعشر کے دوسرے شاگرد ہشام بن حسان اور ابن ابی عروبہ نے خالد کے ہم معنی روایت کی ۔ اسی طرح ابراہیم نخعی کےمتعدد دیگر شاگردوں مغیرہ ، واصل احدب اور منصور نے اپنی اپنی مختلف سندوں سے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے ابو اسود کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کھرچنے کی روایت حضرت عائشہ ؓ سے اسی طرح بیان کی جس طرح خالد کی ابو معشر سے روایت ( : 668 ) ہے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ وَالسِّيَاقُ لِعَبْدٍ - قَالَ حَدَّثَنِي وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلاً عَنِ الدَّجَّالِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا قَالَ " يَأْتِي وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَنْتَهِي إِلَى بَعْضِ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ - أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ - فَيَقُولُ لَهُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ فَيَقُولُونَ لاَ . قَالَ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الآنَ - قَالَ - فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلاَ يُسَلَّطُ عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ يُقَالُ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ .
Abu Sa'id al-Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) one day gave a detailed account of the Dajjal and in that it was also included:He would come but would not be allowed to enter the mountain passes to Medina. So he will alight at some of the barren tracts near Medina, and a person who would be the best of men or one from amongst the best of men would say to him: I bear testimony to the fact that you are Dajjal about whom Allah's Messenger (ﷺ) had informed us. The Dajjal would say: What is your opinion if I kill this (person), then I bring him back to life; even then will you harbour doubt in this matter? They would say: No. He would then kill (the man) and then bring him back to life. When he would bring that person to life, he would say: By Allah, I had no better proof of the fact (that you are a Dajjal) than at the present time (that you are actually so). The Dajjal would then make an attempt to kill him (again) but he would not be able to do that. Abu Ishaq reported that it was said: That person would be Khadir (Allah be pleased with him)
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہا : مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ دجال کے بارے میں لمبی گفتگو فرمائی ۔ اس میں آپ نے ہمارے سامنے جو بیان کیا اس میں ( یہ بھی ) تھا کہ آپ نے فرمایا : " وہ آئے گا اس پرمدینہ کے راستے حرام کردیےگئے ہوں گے ۔ وہ مدینہ سے متصل ایک نرم شوریلی زمین تک پہنچے گا اس کے پاس ایک آدمی ( مدینہ سے ) نکل کر جائے گا ۔ جولوگوں میں سے بہترین یا بہترین لوگوں میں سے ایک ہو گا اور اس سے کہے گا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو میں ہمیں بتایا تھا ۔ تودجال ( اپنے ساتھ موجود لوگوں سے ) کہے ) گا تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اس شخص کو قتل کردوں اور پھر اسے زندہ کردوں تو کیا اس معاملے میں تمھیں کوئی شک ( باقی ) رہے گا؟وہ کہیں گے نہیں ۔ وہ اس شخص کو قتل کرے گا اور دوبارہ زندہ کردے گا ۔ جب وہ اس شخص کو زندہ کرے گاتو وہ اس سے کہے گا ۔ اللہ کی قسم!تمھارے بارے میں مجھے اب سے پہلے اس سے زیادہ بصیرت کبھی حاصل نہیں تھی ۔ فرمایا : دجال اسے قتل کرنا چاہے گا لیکن اسے اس شخص پر تسلط حاصل نہیں ہو سکے گا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَعْلَةَ السَّبَئِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ فَيَأْتِينَا الْمَجُوسُ بِالأَسْقِيَةِ فِيهَا الْمَاءُ وَالْوَدَكُ فَقَالَ اشْرَبْ . فَقُلْتُ أَرَأْىٌ تَرَاهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " دِبَاغُهُ طَهُورُهُ " .
Ibn Wa'la al-Saba'i reported:I asked 'Abdullah b. 'Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions. The Magians come to us with skins full of water and fat. He said: Drink. I said to him: Is it your own opinion? Ibn Abbas said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Tanning purifies it (the skin)
۔ جعفر بن ربیعہ نے ابو خیر سے روایت کی ، کہا : مجھ سے ابن وعلہ سبائی نے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو مجوسی ہمارے پاس پانی اور چربی کے مشکیزے لاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : پی لیا کرو ۔ میں نے پوچھا : کیا آپ اپنی رائےبتا رہے ہیں؟ ابن عباسؓ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سناے : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، وَصَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلاَمِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ - ثَلاَثًا - وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الأَسْوَاقِ " .
Abdullah b. Mas'ud reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Let those who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them (saying it tliree tinies), and beware of the tumult of the markets
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے اور دانش مند کھڑے ہوں ، پھر وہ جو ( اس میں ) ان کے قریب ہوں ( پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ) تین بار فرمایا : اور تم بازاروں کے گڈ مڈ گروہ ( بننے ) سے بچو ۔ ‘ ‘