بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
21 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الأَسْوَدَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَرَأَ ‏{‏ وَالنَّجْمِ‏}‏ فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا ‏.‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا ‏.‏
Abdullah (b. 'Umar) reported:The Apostle of Allah (ﷺ) recited (Surat) al Najm and performed prostration during its recital and all those who were along with him also prostrated themselves except one old man who took a handful of pebbles or dust in his palm and lifted it to his forehead and said: This is sufficient for me. 'Abdullah said: I saw that he was later killed in a state of unbelief
حضرت عبداللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ آپ ﷺ نے سورۃ نجم کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ جتنے لوگ تھے سب نے سجدہ کیا ، مگر ایک بوڑھے ( امیہ بن خلف ) نے کنکریوں یا مٹی کی ایک مٹھی بھر کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور کہا : میرے لیے یہی کافی ہے ۔ عبداللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے کہا : میں نےبعد میں دیکھا ، اسے کفر کی حالمت میں قتل کیا گیا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلاَثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray while sitting (when he grew old) and he recited in this position and when the recitation equal to thirty or forty verses was left, he would then stand up and recite (for this duration) in a standing position and then bowed himself and then prostrated himself and did the same in the second rak'ah
ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ( بھی ) نماز پڑھتے تھے ، آپ بیٹھے ہوئے قراءت فرماتے جب آپ کی قراءت سے اتنا حصہ بچ جاتا جتنی تیس یا چالیس آیتیں ہوتی ہیں تو آپ کھڑ ے ہوجاتے اور کھڑے ہوئے ان کی قراءت فرماتے پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے ، پھر دوسری رکعت میں ایسا ہی کرتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ زَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ ‏ "‏ اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Apostle of Allah (ﷺ) visited the grave of his mother and he wept, and moved others around him to tears, and said: I sought permission from my Lord to beg forgiveness for her but it was not granted to me, and I sought permission to visit her grave and it was granted to me so visit the graves, for that makes you mindful of death
محمد بن عبید نے یزید بن کیسان سے ، انھوں نے ابو حازم سے اور اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی ، آپ روئے اور اپنے اردگرد والوں کو بھی رلایا ، پھر فرمایا : " میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں ان کے لئے بخشش کی طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں دی گئی اور میں نے اجازت مانگی کہ میں ان کی قبر کی زیارت کروں تو اس نے مجھے اجازت دے دی ، پس تم بھی قبروں کی زیارت کیاکرو کیونکہ وہ تمھیں موت کی یاددلاتی ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Jarir that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:The slave who fled from his master, responsibility with regard to him was absolved
داؤد نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو غلام بھگوڑا ہو گیا تو اس ( کے تحفظ ) سے ( اسلامی معاشرے اور حکومت کی ) ذمہ داری ختم ہو گئی ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏
Hamza b. 'Abdullah b. Umar heard his father say that the Messenger of Allah (ﷺ) had said:The person would continue begging from people till he would come on the Day of Resurrection and there would be no flesh on his face
عبیداللہ بن ابی جعفر نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت کی کہ انھوں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے ( مانگنا اس کی عادت بن جاتا ہے ) یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا وَقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ، - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ هِيَ رُخْصَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مِنَ اللَّهِ ‏.‏
Hamza b. 'Amr al-Aslami (Allah be pleased with him) said:Messenger of Allah, I find strength in me for fasting on a journey; is there any sin upon me (in doing it)? Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: It is a concession from Allah. He who took advantage of it, it is good for him, and he who preferred to observe fast, there is no sin upon him. Harun (one of the narrators) in his narration said: 'lt is a concession, and he made no mention of" from Allah
ابو طاہر ، ہارون بن سعید ، ہارون ، ابو طاہر ، ابن وہب ، عمرو بن حارث ، ابی اسود ، عروۃ بن زبیر ، ابی مرواح ، حضرت حمزہ بن عمراسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سفر میں روزے رکھنے کی طاقت ر کھتا ہوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک رخصت ہے تو جس نے اس رخصت پر عمل کیا تو اس نے اچھاکیا اور جس نے روزہ رکھنا پسند کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہارون نے اپنی حدیث میں رخصۃ کا لفظ کہا ہے اور من اللہ کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها ح. وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadlth has been narrated by Yahya through the same chain of transmitters
عبد الوہاب اور سفیان بن عیینہ نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ،
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا ‏"‏‏.‏
Ibn" Abbas (Allah be pleased with thern) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:If anyone amongst you intends to go to his wife he should say: In the name of Allah,0 Allah protect us against Satan and keep away the Satan from the one that you have bestowed upon us, and if He has ordained a male child for them, Satan will never be able to do any harm to him
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، نیز ابن نمیر اور عبدالرزاق نے ثوری سے ( اور ثوری اور شعبہ ) دونوں نے منصور سے جریر کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ، لیکن شعبہ کی حدیث میں " اللہ کے نام سے " کا ذکر نہیں ، اور ثوری سے روایت کردہ عبدالرزاق کی روایت میں " اللہ کے نام سے " ( کا جملہ ) ہے ۔ اور ابن نمیر کی روایت میں ہے : منصور نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ کے نام سے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ، بْنُ دِينَارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ فَتَرَكْنَاهُ مِنْ أَجْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Amr b. Dinar with the same chain of transmitters but (in) the hadith transmitted on the authority of 'Uyainah (the words are):" We abandoned it (renting) on account of that
سفیان ( بن عیینہ ) ، ایوب اور سفیان ( ثوری ) سب نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ابن عیینہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : تو ہم نے ان ( رافع رضی اللہ عنہ ) کی وجہ سے ( احتیاطا ) اسے چھوڑ دیا
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، وَأَبِي، فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ زَكَرِيَّاءَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَأَكْثَرُ ‏.‏
AI-Nu'man b. Bashir reported it from Allah's Apostle (ﷺ). The hadith narrated by Zakariya is, however, more complete and lengthy than the other ones
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے ۔ لیکن زکریا کی حدیث ان سب سے زیادہ مکمل ہے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلاَلٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلاَّ بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ قَالَ فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ وَسَلَّمَ عَلَىَّ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ فَمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الأَخْشَبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلاَبِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏
It has been narrated on the authority of `A'isha, the wife of the Prophet (ﷺ), who said to the Messenger of Allah (may peace he upon him):Messenger of Allah, has there come upon you a day more terrible than the day of Uhud. He said: I have experienced from thy people and the hardest treatment I met from them was what I received from them on the day of `Aqaba. I betook myself to Ibn `Abd Yalil b. `Abd Kulal with the purpose of inviting him to Islam, but he did not respond to me as I desired. So I departed with signs of (deep) distress on my face. I did not recover until I reached Qarn al-Tha`alib. Where I raised my head, lo! near me was a cloud which had cast its shadow on me. I looked and lo! there was in it the angel Jibril who called out to me and said: God, the Honoured and Glorious, has heard what thy people have said to thee, and how they have reacted to thy call. And He has sent to thee the angel in charge of the mountains so that thou mayest order him what thou wishest (him to do) with regard to them. The angel in charge of the mountains (then) called out to me, greeted me and said: Muhammad, God has listened to what thy people have said to thee. I am the angel in charge of the mountains, and thy Lord has sent me to thee so that thou mayest order me what thou wishest. If thou wishest that I should bring together the two mountains that stand opposite to each other at the extremities of Mecca to crush them in between, (I would do that). But the Messenger of Allah (may peace he upon him) said to him: I rather hope that God will produce from their descendants such persons as will worship Allah, the One, and will not ascribe partners to Him
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا جو اُھد کے دن سے زیادہ شدید ہو؟ آپ نے فرمایا : " مجھے تمہاری قوم سے بہت تکلیف پہنچی ، جب میں خود کو ابن عبد یالیل بن عبد کلال کے سامنے لے گیا ( یعنی اس کو دعوتِ اسلام دی ) لیکن جو میں چاہتا تھا اس نے میری بات نہ مانی ، میں غمزدہ ہو کر چل پڑا اور قرن ثعالب پر پہنچ کر ہی میری حالت بہتر ہوئی ، میں نے سر اٹھایا تو مجھے ایک بادل نظر آیا ، اس نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا ، میں نے دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے ، انہوں نے مجھے آواز دے کر کہا : اللہ عزوجل نے جو کچھ آپ نے اپنی قوم سے کہا وہ اور انہوں نے جو آپ کو جواب دیا وہ سب سن لیا ، اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ ان کفار کے متعلق اس کو جو چاہیں حکم دیں ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور سلام کیا ، پھر کہا : اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کو دیا گیا جواب سن لیا ، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اور مجھے آپ کے رب نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں ، اگر آپ چاہیں تو میں ان دونوں سنگلاخ پہاڑوں کو ا ( ٹھا کر ) ان کے اوپر رکھ دوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : بلکہ میں یہ امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے لوگ نکالے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar who said:The Messenger of Allah (ﷺ) forbade that one should travel to the land of the enemy taking the Qur'an with him
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے ملک میں قرآن مجید کو ساتھ لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَدَّمَ مَجِيءَ الْجَارِيَةِ قَبْلَ مَجِيءِ الأَعْرَابِيِّ ‏.‏
This hadith is reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور لڑکی کا آنا ، اعرابی کے آنے سے پہلے بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي الطَّحَّانَ - عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَبِيبِ، بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
This hadith has been transmitted by Ibrahim b. Sa'd b. Malik on the authority of his father
شیبانی نے حبیب بن ابی ثابت سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن سعد بن مالک سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی بیان کردہ حدیث کے مطا بق روایت کی ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ يُكْرَهُ أَنْ يَنْتِفَ الرَّجُلُ، الشَّعْرَةَ الْبَيْضَاءَ مِنْ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ - قَالَ - وَلَمْ يَخْتَضِبْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّمَا كَانَ الْبَيَاضُ فِي عَنْفَقَتِهِ وَفِي الصُّدْغَيْنِ وَفِي الرَّأْسِ نَبْذٌ ‏.‏
Anas b. Malik did not like that a person should pick out his white hair from his head or beard, and Allah's Messenger (ﷺ) did not dye, and there was some whiteness in his hair at his chin, on his temples and very little on his head
علی جہضمی نے کہا : ہمیں مثنیٰ بن سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ سر اور داڑھی کے سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی داڑھی میں جو نیچے کے ہونٹ تلے ہوتی ہے ، کچھ سفیدی تھی ، اور کچھ کنپٹیوں پر اور سر میں کہیں کہیں سفید بال تھے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عِيسَى، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حُجْرٍ - حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لاَ يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا قَالَتِ الأُولَى زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٌّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ وَعْرٍ لاَ سَهْلٌ فَيُرْتَقَى وَلاَ سَمِينٌ فَيُنْتَقَلَ ‏.‏ قَالَتِ الثَّانِيَةُ زَوْجِي لاَ أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لاَ أَذَرَهُ إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ ‏.‏ قَالَتِ الثَّالِثَةُ زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ ‏.‏ قَالَتِ الرَّابِعَةُ زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لاَ حَرٌّ وَلاَ قُرٌّ وَلاَ مَخَافَةَ وَلاَ سَآمَةَ ‏.‏ قَالَتِ الْخَامِسَةُ زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ وَلاَ يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ ‏.‏ قَالَتِ السَّادِسَةُ زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ وَلاَ يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ ‏.‏ قَالَتِ السَّابِعَةُ زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلاًّ لَكِ ‏.‏ قَالَتِ الثَّامِنَةُ زَوْجِي الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ ‏.‏ قَالَتِ التَّاسِعَةُ زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِي ‏.‏ قَالَتِ الْعَاشِرَةُ زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا مَالِكٌ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ قَلِيلاَتُ الْمَسَارِحِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ ‏.‏ قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ فَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَىَّ وَمَلأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَىَّ وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَىَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشَقٍّ فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلاَ أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ ‏.‏ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ‏.‏ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجِعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ ‏.‏ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا ‏.‏ جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لاَ تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا وَلاَ تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا وَلاَ تَمْلأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا ‏.‏ قَالَتْ خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلاً سَرِيًّا رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَىَّ نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا ‏.‏ قَالَ كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَىْءٍ أَعْطَانِي مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لأُمِّ زَرْعٍ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that (one day) there sat together eleven women making an explicit promise amongst themselves that they would conceal nothing about their spouses. The first one said:My husband is a sort of the meat of a lean camel placed at the top of a hill, which it is difficult to climb up, nor (the meat) is good enough that one finds in oneself the urge to take it away (from the top of that mountain). The second one said: My husband (is so bad) that I am afraid I would not be able to describe his faults-both visible and invisible completely. The third one said: My husband is a long-statured fellow (i. e. he lacks intelligence). If I give vent to my feelings about him, he would divorce me, and if I keep quiet I would be made to live in a state of suspense (neither completely abandoned by him nor entertained as wife). The fourth one said: My husband is like the night of Tihama (the night of Hijaz and Mecca), neither too cold nor hot, neither there is any fear of him nor grief. The fifth one said: My husband is (like) a leopard as he enters the house, and behaves like a lion when he gets out, and he does not ask about that which he leaves in the house. The sixth one said: So far as my husband is concerned, he eats so much that nothing is left back and when he drinks he drinks that no drop is left behind. And when he lies down he wraps his body and does not touch me so that he may know my grief. The seventh one said: My husband is heavy in spirit, having no brightness in him, impotent, suffering from all kinds of conceivable diseases, heaving such rough manners that he may break my head or wound my body, or may do both. The eighth one said: My husband is as sweet as the sweet-smelling plant, and as soft as the softness of the hare. The ninth one said: My husband is the master of a lofty building, long-statured, having heaps of ashes (at his door) and his house is near the meeting place and the inn. The tenth one said: My husband is Malik, and how fine Malik is, much above appreciation and praise (of mine). He has many folds of his camel, more in number than the pastures for them. When they (the camels) hear the sound of music they become sure that they are going to be slaughtered. The eleventh one said: My husband is Abu Zara'. How fine Abu Zara' is! He has suspended in my ears heavy ornaments and (fed me liberally) that my sinews and bones are covered with fat. So he made me happy. He found me among the shepherds living in the side of the mountain, and he made me the owner of the horses, camels and lands and heaps of grain and he finds no fault with me. I sleep and get up in the morning (at my own sweet will) and drink to my heart's content. The mother of Abu Zara', how fine is the mother of Abu Zara'! Her bundles are heavily packed (or receptacles in her house are filled to the brim) and the house quite spacious. So far as the son of Abu Zara' is concerned, his bed is as soft as a green palm-stick drawn forth from its bark, or like a sword drawn forth from its scabbard, and whom just an arm of a lamb is enough to satiate. So far as the daughter of Abu Zara' is concerned, how fine is the daughter of Abu Zara', obedient to her father, obedient to her mother, wearing sufficient flesh and a source of jealousy for her co-wife. As for the slave-girl of Abu Zara', how fine is she; she does not disclose our affairs to others (outside the four walls of the house). She does not remove our wheat, or provision, or take it forth, or squander it, but she preserves it faithfully (as a sacred trust). And she does not let the house fill with rubbish. One day Abu Zara' went out (of his house) when the milk was churned in the vessels, that he met a woman, having two children like leopards playing with her pomegranates (chest) under her vest. He divorced me (Umm Zara') and married that woman (whom Abu Zara') met on the way. I (Umm Zara') later on married another person, a chief, who was an expert rider, and a fine archer: he bestowed upon me many gifts and gave me one pair of every kind of animal and said: Umm Zara', make use of everything (you need) and send forth to your parents (but the fact) is that even if I combine all the gifts that he bestowed upon me, they stand no comparison to the least gift of Abu Zara'. 'A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to me: I am for you as Abu Zara' was for Umm Zara
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے بھائی عبداللہ بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہیں کہ گیارہ عورتیں بیٹھیں اور ان سب نے یہ اقرار اور عہد کیا کہ اپنے اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہ چھپائیں گی ۔ پہلی عورت نے کہا کہ میرا خاوند گویا دبلے اونٹ کا گوشت ہے ، جو ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو ۔ نہ تو وہاں تک صاف راستہ ہے کہ کوئی چڑھ جائے اور نہ وہ گوشت موٹا ہے کہ لایا جائے ۔ دوسری عورت نے کہا کہ میں اپنے خاوند کی خبر نہیں پھیلا سکتی میں ڈرتی ہوں کہ اگر بیان کروں تو پورا بیان نہ کر سکوں گی کیونکہ اس میں ظاہری و باطنی عیوب بہت زیادہ ہیں ۔ ( اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ میں ڈرتی ہوں کہ اگر بیان کروں گی تو اس کو چھوڑ دوں گی ۔ یعنی وہ خفا ہو کر مجھے طلاق دے گا اور اس کو چھوڑنا پڑے گا ) ۔ تیسری عورت نے کہا کہ میرا خاوند لمبا قد اور احمق ہے ، اگر میں اس کی برائی بیان کروں تو مجھے طلاق دیدے گا اور جو چپ رہوں تو اسی طرح معلق رہوں گی ( یعنی نہ نکاح کے مزے اٹھاؤں گی نہ بالکل محروم رہوں گی ) ۔ چوتھی نے کہا کہ میرا خاوند تو ایسا ہے جیسے تہامہ ( حجاز اور مکہ ) کی رات ۔ نہ گرم ہے نہ سرد ہے ( یعنی معتدل المزاج ہے ) نہ ڈر ہے نہ رنج ہے ( یہ اس کی تعریف کی یعنی اس کے اخلاق عمدہ ہیں اور نہ وہ میری صحبت سے ملول ہوتا ہے ) ۔ پانچویں عورت نے کہا کہ میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتا ہے ( یعنی پڑ کر سو جاتا ہے اور کسی کو نہیں ستاتا ) اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر ہے ۔ اور جو مال اسباب گھر میں چھوڑ جاتا ہے اس کو نہیں پوچھتا ۔ چھٹی عورت نے کہا کہ میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب ختم کر دیتا ہے اور پیتا ہے تو تلچھٹ تک نہیں چھوڑتا اور لیٹتا ہے تو بدن لپیٹ لیتا ہے اور مجھ پر اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا کہ میرا دکھ درد پہچانے ( یہ بھی ہجو ہے یعنی سوا کھانے پینے کے بیل کی طرح اور کوئی کام کا نہیں ، عورت کی خبر تک نہیں لیتا ) ۔ ساتویں عورت نے کہا کہ میرا خاوند نامرد ہے یا شریر نہایت احمق ہے کہ کلام کرنا نہیں جانتا ، سب دنیا بھر کے عیب اس میں موجود ہیں ۔ ایسا ظالم ہے کہ تیرا سر پھوڑے یا ہاتھ توڑے یا سر اور ہاتھ دونوں مروڑے ۔ آٹھویں عورت نے کہا کہ میرا خاوند بو میں زرنب ہے ( زرنب ایک خوشبودار گھاس ہے ) اور چھونے میں نرم جیسے خرگوش ( یہ تعریف ہے یعنی اس کا ظاہر اور باطن دونوں اچھے ہیں ) ۔ نویں عورت نے کہا کہ میرا خاوند اونچے محل والا ، لمبے پرتلے والا ( یعنی قد آور ) اور بڑی راکھ والا ( یعنی سخی ہے ) اس کا باورچی خانہ ہمیشہ گرم رہتا ہے تو راکھ بہت نکلتی ہے اس کا گھر قوم کے مل بیٹھ کر مشورہ کرنے کی جگہ ( ڈیرہ وغیرہ ) ( یعنی سردار اور صاحب الرائے ہے ) ۔ دسویں عورت نے کہا کہ میرے خاوند کا نام مالک ہے ۔ اور مالک کیا خوب ہے ۔ مالک میری اس تعریف سے افضل ہے ۔ اس کے اونٹوں کے بہت سے شترخانے ہیں اور کم تر چراگاہیں ہیں ( یعنی ضیافت میں اس کے یہاں اونٹ بہت ذبح ہوا کرتے ہیں ، اس سبب سے شترخانوں سے جنگل میں کم چرنے جاتے ہیں ) جب اونٹ باجے کی آواز سنتے ہیں تو اپنے ذبح ہونے کا یقین کر لیتے ہیں ( ضیافت میں راگ اور باجے کا معمول تھا ، اس سبب سے باجے کی آواز سن کر اونٹوں کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو جاتا تھا ) ۔ گیارھویں عورت نے کہا کہ میرے خاوند کا نام ابوذرع ہے سو واہ کیا خوب ابوذرع ہے ۔ اس نے زیور سے میرے دونوں کان جھلائے اور چربی سے میرے دونوں بازو بھرے ( یعنی مجھے موٹا کیا اور مجھے بہت خوش کیا ) ، سو میری جان بہت چین میں رہی مجھے اس نے بھیڑ بکری والوں میں پایا جو پہاڑ کے کنارے رہتے تھے ، پس اس نے مجھے گھوڑے ، اونٹ ، کھیت اور ڈھیریوں / خرمن کا مالک کر دیا ( یعنی میں نہایت ذلیل اور محتاج تھی ، اس نے مجھے باعزت اور مالدار کر دیا ) ۔ میں اس کی بات کرتی ہوں تو وہ مجھے برا نہیں کہتا ۔ سوتی ہوں تو فجر کر دیتی ہوں ( یعنی کچھ کام نہیں کرنا پڑتا ) اور پیتی ہوں تو سیراب ہو جاتی ہوں ۔ اور ابوزرع کی ماں ، پس ابوزرع کی ماں بھی کیا خوب ہے ۔ اس کی بڑی بڑی گٹھڑیاں اور کشادہ گھر ہیں ۔ ابوزرع کا بیٹا ، پس ابوزرع کا بیٹا بھی کیا خوب ہے ۔ اس کی خواب گاہ جیسے تلوار کا میان ( یعنی نازنین بدن ہے ) ، اس کو ( بکری ) حلوان کا ہاتھ آسودہ ( سیر ) کر دیتا ہے ( یعنی کم خور ہے ) ۔ ابوزرع کی بیٹی ، پس ابوزرع کی بیٹی بھی کیا خوب ہے ۔ اپنے والدین کی تابعدار اور اپنے لباس کو بھرنے والی ( یعنی موٹی ہے ) اور اپنی سوتن کی رشک ( یعنی اپنے خاوند کی پیاری ہے ، اس لئے اس کی سوتن اس سے جلتی ہے ) ۔ اور ابوزرع کی لونڈی ، ابوزرع کی لونڈی بھی کیا خوب ہے ۔ ہماری بات ظاہر کر کے مشہور نہیں کرتی اور ہمارا کھانا اٹھا کر نہیں لیجاتی اور ہمارا گھر کچرے سے آلودہ نہیں رکھتی ۔ ابوزرع باہر نکلا جب کہ مشکوں میں دودھ ( گھی نکالنے ) کے لئے بلوایا جا رہا تھا ۔ پس وہ ایک عورت سے ملا ، جس کے ساتھ اس کے دو لڑکے تھے جیسے دو چیتے اس کی گود میں دو اناروں سے کھیلتے ہوں ۔ پس ابوزرع نے مجھے طلاق دی اور اس عورت سے نکاح کر لیا ۔ پھر میں نے اس کے بعد ایک سردار مرد سے نکاح کیا جو ایک عمدہ گھوڑے کا سوار اور نیزہ باز ہے ۔ اس نے مجھے چوپائے جانور بہت زیادہ دئیے اور اس نے مجھے ہر ایک مویشی سے جوڑا جوڑا دیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ اے ام زرع! خود بھی کھا اور اپنے لوگوں کو بھی کھلا ۔ پس اگر میں وہ چیزیں جمع کروں جو مجھے دوسرے شوہر نے دیں ، تو وہ ابوزرع کے چھوٹے برتن کے برابر بھی نہ پہنچیں ( یعنی دوسرے خاوند کا احسان پہلے خاوند کے احسان سے نہایت کم ہے ) ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں تیرے لئے ایسا ہوں جیسے ابوزرع ام زرع کے لئے تھا ۔ ( لیکن نہ تجھے طلاق دی ہے اور نہ دوں گا ) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abdullah b. Mas'ud reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Telling of truth is a virtue and virtue leads to Paradise and the servant who endeavours to tell the truth is recorded as truthful, and lie is obscenity and obscenity leads to Hell-Fire, and the servant who endeavours to tell a lie is recorded as a liar. Ibn Abu Shaiba reported this from Allah's Apostle (ﷺ)
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہناد بن سری نے کہا : ہمیں ابواحوص نے منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور بندہ پوری کوشش سے سچ ہی کا قصد کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ کج روی ہے اور کج روی جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور بندہ جھوٹ بولنے کا قصد ہوتا رہتا ہے حتی کہ اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔ "" ابن ابی شیبہ کی روایت میں ( "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" کے بجائے ) "" نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے "" کے الفاظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، وَهَمَّامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي الْمَنِيِّ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Al-Aawad and Hammam reported A'isha as saying:I used to scrape off the (drop of) semen from the garment of the Messenger of Allah (ﷺ)
اعمش نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود اور ہمام سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے مادہ منویہ کے بارے میں روایت کی ، کہا : میں اسے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے کھرچ دیتی تھی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ - قَالَ ابْنُ حُجْرٍ دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي حَدِيثِ الآخَرِ - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ مَا ذَكَرْنَا وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ‏"‏ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ثُمَّ يَسِيرُونَ حَتَّى يَنْتَهُوا إِلَى جَبَلِ الْخَمَرِ وَهُوَ جَبَلُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيَقُولُونَ لَقَدْ قَتَلْنَا مَنْ فِي الأَرْضِ هَلُمَّ فَلْنَقْتُلْ مَنْ فِي السَّمَاءِ ‏.‏ فَيَرْمُونَ بِنُشَّابِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرُدُّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ نُشَّابَهُمْ مَخْضُوبَةً دَمًا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ ‏"‏ فَإِنِّي قَدْ أَنْزَلْتُ عِبَادًا لِي لاَ يَدَىْ لأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Jabir with the same chain of transmitters but with this addition that Gog and Magog would walk until they would reach the mountain of al-Khamar and it is a mountain of Bait-ul-Maqdis and they would say:We have killed those who are upon the earth. Let us now kill those who are In the sky and they would throw their arrows towards the sky and the arrows would return to them besmeared with blood. And in the narration of Ibn Hujr (the words are):" I have sent such persons (Gog and Magog) that none would dare fight against them
علی بن حجر سعدی نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن یزید بن جابر اور ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی ( علی ) ابن حجر نے کہا : ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث میں شامل ہو گئی ہے ۔ انھوں نے عبد الرحمان بن یزید بن جابر سے اسی کی سندکے ساتھ جس طرح ہم نے ذکر کیااسی کے مطابق بیان کیا ۔ اور اس جملے کے بعد " اس میں کبھی پانی تھا " مزید بیان کیا " پھر وہ ( آگے ) چلیں گے ) یہاں تک کہ وہ جبل خمرتک پہنچیں گےاور وہ بیت المقدس کا پہاڑ ہے تو جو کوئی بھی زمین میں تھا ہم نے اسے قتل کردیا آؤ!اب اسے قتل کریں جو آسمان میں ہے پھر وہ اپنے تیروں ( جیسے ہتھیاروں ) کو آسمان کی طرف چاہیں گے ۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے ہتھیاروں کو خون آلود کرکے انھی کی طرف واپس بھیج دے گا ۔ اور ابن حجر کی روایت میں ہے " میں نے اپنے ( پیدا کیے ہوئے ) بندوں کو اتاراہے کسی ایک کے پاس بھی ان سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَئِيِّ فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ فَقَالَ مَا لَكَ تَمَسُّهُ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ وَنَحْنُ لاَ نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَيَأْتُونَا بِالسِّقَاءِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ دِبَاغُهُ طَهُورُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu al-Khair reported:I saw Ibn Wa'la al-Saba'i wear a fur. I touched it. He said: Why do you touch it? I asked Ibn 'Abbas saying: We are the inhabitants of the western regions, and there (live) with us Berbers and Magians. They bring with them rams and slaughter them, but we do not eat (the meat of the animals) slaughtered by them, and they come with skins full of fat. Upon this Ibn 'Abbas said: We asked the Messenger of Allah (ﷺ) about this and he said: Its tanning makes it pure
۔ یزید بن ابی حبیب نے ابو خیر سے روایت کی کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی کو ایک پوستین ( چمڑے کا کوٹ ) پہنے ہوئے دیکھا ، میں نے اسے چھوا تو اس نے کہا : اسے کیوں چھوتے ہو؟ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا تھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربر اور مجوسی ہوتے ہیں ، ہمارے پاس مینڈھا لایا جاتا ہے جسے انہوں نے ذبح کیا ہوتا ہے اور ہم ان کے ذبح کیے ہوئے جانور نہیں کھاتے ، وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں ۔ تو ابن عباسؓ نے جواب دیا : ہم نے رسول اللہﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith is narrated by Ibn Uyaina with the same chain of transmitters
جریر ، عیسیٰ بن یونس اور سفیان بن عیینہ نے ( اعمش سے ) باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔