بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
22 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ رُبَّمَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنَ فَيَمُرُّ بِالسَّجْدَةِ فَيَسْجُدُ بِنَا حَتَّى ازْدَحَمْنَا عِنْدَهُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِيَسْجُدَ فِيهِ فِي غَيْرِ صَلاَةٍ ‏.‏
Ibn 'Umar reported:Sometimes the Messenger of Allah (ﷺ) recited the Qur'an, and would pass by (recite) the verse of sajda and performed prostration and he did this along with us, but we were so crowded in his company that none of us could find a place for performing prostration. (and it was done on occasions) other than prayer
محمد بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نےنافع سے حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھو ں نے کہا : بسا اوقات رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھتے ہوئے سجدے ( والی آیت ) سے گزرتے تو ہمارے ساتھ سجدہ کرتے ، آپ کے پاس ہماری بھیٹر لگ جاتی حتی کہ ہم میں سے بعض کو سجدہ کرنے کےلیے جگہ نہ ملیتی ( یہ سجدہ ) نماز کے علاوہ ہوتا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي شَىْءٍ مِنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلاَثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهُنَّ ثُمَّ رَكَعَ ‏.‏
A'isha reported:I did not see the Messenger of Allah (ﷺ) reciting (the Qur'an) in the night prayer in a sitting position, till he grew old and then he recited (it) in a sitting position, but when thirty or forty verses were left out of the Surah, he would then stand up, recite them and then bowed
ہشام بن عروہ سے روایت ہے ، کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا کہ آپ نے رات کی نماز کے کسی حصے میں بیٹھ کر قراءت کی ہو یہاں تک کہ جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ بیٹھ کر قراءت کرتے اور جب سورت کی تیس یا چالیس آیتیں ر ہ جاتیں تو کھڑے ہوکر انھیں پڑھتے پھر رکوع کرتے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger, (ﷺ) as saying:I sought permission to beg forgiveness for my mother, but He did not grant it to me. I sought permission from Him to visit her grave, and He granted it (permission) to me
مروان بن معاویہ نے یزید ، یعنی ابن کیسان سے ، انھوں نے ابو حازم سےاور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کے استغفار کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی اور میں نے اس سے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ - عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ ‏ "‏ أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مَنْصُورٌ قَدْ وَاللَّهِ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يُرْوَى عَنِّي هَا هُنَا بِالْبَصْرَةِ ‏.‏
It is narrated on the authority of Jarir that he heard (the Holy Prophet) saying, The slave who fled from his master committed an act of infidelity as long as he would not return to him. Mansur observed:By God, this hadith was narrated from the Apostle (may peace and blessings be upon him), but I do not like that this should be narrated on my authority here in Basra
منصور بن عبدالرحمٰن نے شعبی سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو کہتے ہوئے سنا : ’’ جو غلام اپنے مالکوں سے بھاگ گیا ، اس نےکفر کا ارتکاب کیا یہاں تک کہ ان کی طرف لوٹ آئے ۔ ‘ ‘ ( نہ یہ کہ دوبارہ مسلمان ہو ۔ ) منصور نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ حدیث نبی اکرمﷺ سے روایت کی گئی ہے لیکن میں ناپسند کرتا ہوں کہ یہاں ( بصرہ میں ) مجھ سےیہ ( اس طرح مرفوعاً ) روایت کی جائے ۔ ( کیونکہ بصرہ کےخارجی اس سے مطلق کفر کا استدلال کریں گے ۔)
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ مُزْعَةُ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of the brother of Zuhri with the same chain of transmitters, but no mention has been made of the word" muz'a" (piece)
اسماعیل بن ابراہیم نے معمر سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی اور اس میں ( گوشت کے ) ٹکڑے کے الفاظ نہیں ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ حَمْزَةَ، قَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters that Hamza said:I am a person much used to fasting. Should I fast during the journey? (The rest of the hadith is the same)
ابو بکر بن ابی شیبہ ابو کریب ، ابن نمیر ، ابو بکر عبداالرحیم بن سلیمان ، حضرت ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں ایک روزے دار آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلاَ نُرَى إِلاَّ أَنَّهُ الْحَجُّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقِيِلَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ ‏.‏
Umra reported:I heard A'isha (Allah be pleased with her) as saying: We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) five days before the end of Dhi Qa'dah, and we did see but that he intended to perform Hajj (only), but as we came near Mecca the Messenger of Allah (ﷺ) commanded that he who did not have the sacrificial animal with him should put off Ihram after circumambulating the House and running between al-Safa and aI-Marwa (and thus convert his Ihram from that of Hajj to 'Umra). 'A'isha (Allah be pleased with her) said: The flesh of cow was sent to us on the Day of Sacrifice (10th of Dhu'I-Hijja). I said. What is this? It was said: The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed (the cow) on behalf of his wives. Yahya said: I made a mention of this hadith (what has been stated by Umra) to Qasim b. Muhammad, whereupon be said: By Allah, she has rightly narrated it to you
یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ فرما رہی تھیں : ذوالعقدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے ، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا ۔ جب ہم مکہ کہ قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فر مایا : "" "" جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لے تو احرا م کھول دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : عید کے دن ہمارے پاس گا ئے گو شت لا یا گیا ۔ میں نے پوچھا : یہ کیا ہے؟بتا یا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ( یہ گا ئے ) ذبح کی ہے یحییٰ نے کہا : میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد بن قاسم کے سامنے پیش کی تو ( انھوں نے ) فر ما یا : اللہ کی قسم اس ( عمرہ ) نے تمھیں یہ حدیث بالکل صحیح صورت میں پہنچا ئی ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the same chain of transmitters by 'A'isha (Allah be pleased with her)
عبداللہ بن نمیر اور یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، اور عبیداللہ سے روایت کردہ یحییٰ کی حدیث میں ہے : ہمیں قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ كُنَّا لاَ نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامُ أَوَّلَ فَزَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهُ ‏.‏
Zaid b. Amr reported:I heard Ibn Umar (Allah be pleased with them) say: We did not see any harm in renting of the land, but as the first year was over Rafi' alleged Allah's Apostle (ﷺ) having forbidden that
حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتی کہ وہ پہلا سال آیا جس میں ( یزید کی امارت کے لیے بیعت لی گئی ) تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zakariya with the same chain of transmitters
وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے زکریا سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ فَدَعَا عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ‏.‏ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ ‏.‏ قَدْ غَيَّرَتْهُمُ الشَّمْسُ وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'Abdullah that, the Messenger of Allah (ﷺ) turned his face towards the Ka'ba and invoked God's imprecations upon six men of the Quraish, amorig whom were Abu Jahl. Umayya b. Khalaf, Utba b. Rabi'a, Shaiba b. Rabi'a and 'Uqba b. Abu Mu'ait I swear by God that I saw them lying slain in the battlefield of Badr. It being a hot day, their complexion had changed (showing signs of decay)
زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابواسحاق نے عمرو بن میمون سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے قریش کے چھ آدمیوں کے خلاف بد دعا کی ، ان میں ابوجہل ، امیہ بھی خلف ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط تھے ۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں : میں نے ان کو بدر ( کے میدان ) میں اوندھے پڑے ہوئے دیکھا ، دھوپ نے ان ( کے لاشوں ) کو متغیر کر دیا تھا اور وہ ایک گرم دن تھا
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ، سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي الثَّقَفِيَّ - جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَاسْتَصْغَرَنِي ‏.‏
This tradition has been handed down through a different chain Of transmitters with the following change in the wording:" I was fourteen years old and he thought me too young (to participate in the fight)
عبداللہ بن ادریس ، عبدالرحیم بن سلیمان اور عبدالوہاب ثقفی سن نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر ان کی حدیث میں ہے : " اور جب میں چودہ سال کا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کم سن قرار دیا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ الأَرْحَبِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ كُنَّا إِذَا دُعِينَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى طَعَامٍ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَقَالَ ‏"‏ كَأَنَّمَا يُطْرَدُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْجَارِيَةِ ‏"‏ كَأَنَّمَا تُطْرَدُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدَّمَ مَجِيءَ الأَعْرَابِيِّ فِي حَدِيثِهِ قَبْلَ مَجِيءِ الْجَارِيَةِ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ ثُمَّ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ وَأَكَلَ ‏.‏
Hudhaifa b. al-Yaman reported:When we were invited to a dinner with Allah's Messenger (ﷺ) ; the rest of hadith is the same but there is a slight variation of wording (and the variation is) that in that hadith the desert Arab precedes the arrival of that girl, and at the conclusion there is an addition (to this effect):" He (the Holy Prophet) then mentioned the name of Allah and ate
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں اعمش نے خیثمہ بن عبدالرحمان سے خبر دی ، انھوں نے ابو حذیفہ ارحبی سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی دعوت دی جاتی ، پھر ابومعاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، اورکہا : جیسے اس ( بدو ) کو پیچھے سے زور سے دھکیلا جارہا ہو ۔ اورلڑکی کے بارے میں کہا : جیسے اسے پیچھے سے زور دے دھکیلا جارہا ہو ، انھوں نے ا پنی حدیث میں بدو کے آنے کا ذکرپہلے کیا اور لڑکی کے آنے کا بعد میں اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا : " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھی اور تناول فرمایا ۔
حَدَّثَنَا إِسْح��اقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ تَمَاثِيلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ تَمَاثِيلُ ‏"‏ ‏.‏ فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ ذَلِكَ فَقَالَتْ لاَ وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ فَأَخَذْتُ نَمَطًا فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَىَّ ‏.‏
Abu Talha Ansari reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Angels do not enter the house in which there is a picture or portraits. I came to 'A'isha and said to her: This is a news that I have received that Allah's Apostle (ﷺ) had said: Angels do not enter the house in which there is a picture or a dog, (and further added) whether she had heard Allah's Messenger (ﷺ) making a mention of it. She said: No (I did not hear this myself), but I narrate to you what I saw him doing. I bear testimony to the fact that he (the Holy Prophet) set out for an expedition. I took a carpet and screened the door with it. When he (the Holy Prophet) came back he saw that carpet and I perceived signs of disapproval on his face. He pulled it until it was torn or it was cut (into pieces) and he said: God has not commanded us to clothe stones and clay. We cut it (the curtain) and prepared two pillowa out of it by stuffing them with the fibre of date-palms and he (the Holy Prophet) did not find fault with it
بنو نجار کے آزاد کردہ غلا م ابو حباب سعید بن یسار نے حضرت زید بن خالد جہنی سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے " اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ، نہ ( اس میں جہاں ) مجسمے ہوں ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، كِلاَهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعْدٌ جَالِسَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ فَقَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
Ibrahim b. Sa'd b. Abu Waqqas reported:Usama b. Zaid and Sa'd had been sitting and they had been conversing and they said this hadith
اعمش نے حبیب سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ، کہا : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہو ئے احادیث بیان کررہے تھے ۔ تو ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ، جس طرح ان سب کی حدیث ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهِ فَعَلْتُ ‏.‏ وَقَالَ لَمْ يَخْتَضِبْ وَقَدِ اخْتَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَاخْتَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ بَحْتًا ‏.‏
Thabit reported that Anas b. Malik was asked about the dyeing (of the hair of) Allah's Apostle (ﷺ). Thereupon he said.:(They were so few) that if I so liked I could count their number in his head, and he further said: (That is) he did not dye. Abu Bakr, however, dyed them and so did 'Umar dye them with pure henna
ثابت نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے خضاب کے بارے میں سوال کیاگیا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں جو سفید بال موجود تھے ، اگر میں انھیں گننا چاہتا تو گن لیتا ۔ انھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو رنگ نہیں لگایا اورحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہندی اور کتم کو ملا کر بالوں کو رنگ لگایا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالص مہندی کا رنگ لگایا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏.‏ قَالَتْ وَهُوَ يَرَى مَا لاَ أَرَى ‏.‏
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:'A'isha, here is Gabriel offering you greetings. She said: 1 made a reply: Let there be peace and blessings of Allah upon him, and added: He sees what I do not see
زہری نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اے عائش رضی اللہ تعالیٰ عنہا !یہ جبرا ئیل علیہ السلام ہیں تمھیں سلام کہہ رہے ہیں ۔ " میں نے کہا : ( وعليه السلام ورحمة الله ) ( اور ان پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو! ) ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : آپ وہ کچھ دیکھتے تھے جو میں نہیں دیکھتی تھی ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا ‏"‏ ‏.‏
Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Truth leads one to Paradise and virtue leads one to Paradise and the person tells the truth until he is recorded as truthful, and lie leads to obscenity and obscenity leads to Hell, and the person tells a lie until he is recorded as a liar
جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابووائل ( شقیق ) سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سچ نیکی اور اچھائی کے راستے پر لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے ، ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور ( جہنم کی ) آگ کی طرف لے جاتا ہے اور ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، أَنَّ رَجُلاً، نَزَلَ بِعَائِشَةَ فَأَصْبَحَ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّمَا كَانَ يُجْزِئُكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ فَإِنْ لَمْ تَرَ نَضَحْتَ حَوْلَهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرْكًا فَيُصَلِّي فِيهِ ‏.‏
Alqama and Aswad reported:A person stayed in the house of A'isha and in the morning began to wash his garment. A'isha said: In case you saw it (i. e. drop of semen), it would have served the purpose (of purifying the garment) if you had simply washed that spot; and in case you did not see it, it would have been enough to sprinkle water around it, for when I saw that on the garment of the Messenger of Allah (ﷺ). I simply scraped it off and he offered prayer, while putting that on
خالد نے ابومعشر سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عائشہ ؓ کے پاس ٹھہرا ، صبح کو وہ اپنا کپڑا دھو رہا تھا توعائشہ ؓ نے فرمایا : تیرے لیے کافی تھا کہ اگر تو نے کچھ دیکھا تھا تو اس کی جگہ کو دھودیتا اور اگر تو نے اسے نہیں دیکھا تو اس کے اردگرد ( تک ) پانی چھڑک دیتا ۔ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ میں اسے ( مادہ منویہ کو ) رسول اللہ ﷺ کےکپڑے سے اچھی طرح کھرچتی تھی ، پھر آپ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ، قَاضِي حِمْصَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ، جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلاَبِيَّ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ، نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالاً يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ ‏"‏ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلاَةُ يَوْمٍ قَالَ ‏"‏ لاَ اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ ‏"‏ كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَىْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ ‏.‏ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلاً مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأَسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ فَلاَ يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلاَّ مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لاَ يَدَانِ لأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ ‏.‏ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ‏.‏ وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهُمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الأَرْضِ فَلاَ يَجِدُونَ فِي الأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلاَّ مَلأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لاَ يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ ‏.‏ فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ ‏"‏ ‏.‏
An-Nawwas b. Sam`an reported that Allah's Messenger (ﷺ) made a mention of the Dajjal one day in the morning. He (ﷺ) sometimes described him to be insignificant and sometimes described (his turmoil) as very significant (and we felt) as if he were in the cluster of the date-palm trees. When we went to him (to the Holy Prophet) in the evening and he read (the signs of fear) in our faces, he (ﷺ) said:What is the matter with you? We said: Allah's Messenger, you made a mention of the Dajjal in the morning (sometimes describing him) to be insignificant and sometimes very important, until we began to think as if he were present in some (near) part of the cluster of the date-palm trees. Thereupon he (ﷺ) said: I harbor fear in regard to you in so many other things besides the Dajjal. If he comes forth while I am among you, I shall contend with him on your behalf, but if he comes forth while I am not amongst you, a man must contend on his own behalf and Allah would take care of every Muslim on my behalf (and safeguard him against his evil). He (Dajjal) would be a young man with twisted, contracted hair, and a blind eye. I compare him to `Abd-ul-`Uzza b. Qatan. He who amongst you would survive to see him should recite over him the opening verses of Sura Kahf (xviii). He would appear on the way between Syria and Iraq and would spread mischief right and left. O servant of Allah! adhere (to the path of Truth). We said: Allah's Messenger, how long would he stay on the earth? He (ﷺ) said: For forty days, one day like a year and one day like a month and one day like a week and the rest of the days would be like your days. We said: Allah's Messenger, would one day's prayer suffice for the prayers of day equal to one year? Thereupon he (ﷺ) said: No, but you must make an estimate of time (and then observe prayer). We said: Allah's Messenger, how quickly would he walk upon the earth? Thereupon he (ﷺ) said: Like cloud driven by the wind. He would come to the people and invite them (to a wrong religion) and they would affirm their faith in him and respond to him. He would then give command to the sky and there would be rainfall upon the earth and it would grow crops. Then in the evening, their pasturing animals would come to them with their humps very high and their udders full of milk and their flanks stretched. He would then come to another people and invite them. But they would reject him and he would go away from them and there would be drought for them and nothing would be left with them in the form of wealth. He would then walk through the waste land and say to it: Bring forth your treasures, and the treasures would come out and collect (themselves) before him like the swarm of bees. He would then call a person brimming with youth and strike him with the sword and cut him into two pieces and (make these pieces lie at a distance which is generally) between the archer and his target. He would then call (that young man) and he will come forward laughing with his face gleaming (with happiness) and it would be at this very time that Allah would send Jesus, son of Mary, and he will descend at the white minaret in the eastern side of Damascus wearing two garments lightly dyed with saffron and placing his hands on the wings of two Angels. When he would lower his head, there would fall beads of perspiration from his head, and when he would raise it up, beads like pearls would scatter from it. Every non-believer who would smell the odor of his self would die and his breath would reach as far as he would be able to see. He would then search for him (Dajjal) until he would catch hold of him at the gate of Ludd and would kill him. Then a people whom Allah had protected would come to Jesus, son of Mary, and he would wipe their faces and would inform them of their ranks in Paradise and it would be under such conditions that Allah would reveal to Jesus these words: I have brought forth from amongst My servants such people against whom none would be able to fight; you take these people safely to Tur. And then Allah would send Gog and Magog and they would swarm down from every slope. The first of them would pass the lake of Tiberias and drink out of it. And when the last of them would pass, he would say: There was once water there. Jesus and his companions would then be besieged here (at Tur, and they would be so much hard pressed) that the head of the ox would be dearer to them than one hundred dinars and Allah's Apostle, Jesus, and his companions would supplicate Allah, Who would send to them insects (which would attack their necks) and in the morning they would perish like one single person. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then come down to the earth and they would not find in the earth as much space as a single span which is not filled with their putrefaction and stench. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then again beseech Allah, Who would send birds whose necks would be like those of Bactrian camels and they would carry them and throw them where God would will. Then Allah would send rain which no house of clay or (the tent of) camels' hairs would keep out and it would wash away the earth until it could appear to be a mirror. Then the earth would be told to bring forth its fruit and restore its blessing and, as a result thereof, there would grow (such a big) pomegranate that a group of persons would be able to eat that, and seek shelter under its skin and milch cow would give so much milk that a whole party would be able to drink it. And the milch camel would give such (a large quantity of) milk that the whole tribe would be able to drink out of that and the milch sheep would give so much milk that the whole family would be able to drink out of that and at that time Allah would send a pleasant wind which would soothe (people) even under their armpits, and would take the life of every Muslim and only the wicked would survive who would commit adultery like asses and the Last Hour would come to them
ابو خیثمہ زہیر بن حراب اور محمد بن مہران رازی نے مجھے حدیث بیان کی ۔ الفاظ رازی کے ہیں ۔ کہا : ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبد الرحمٰن بن یزید بن جابر نے یحییٰ بن جابرقاضی حمص سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر ہے ۔ انھوں نےاپنے والد جبیر بن نفیرسے اور انھوں نے حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا ۔ آپ نے اس ( کے ذکر کے دوران ) میں کبھی آواز دھیمی کی کبھی اونچی کی ۔ یہاں تک کہ ہمیں ایسے لگا جیسے وہ کھجوروں کے جھنڈمیں موجود ہے ۔ جب شام کو ہم آپ کے پاس ( دوبارہ ) آئے تو آپ نے ہم میں اس ( شدید تاثر ) کو بھانپ لیا ۔ آپ نے ہم سے پوچھا " تم لوگوں کو کیا ہواہے؟ " ہم نے عرض کی اللہ کے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !صبح کے وقت آپ نے دجال کا ذکر فرمایاتو آپ کی آوازمیں ( ایسا ) اتارچڑھاؤتھا کہ ہم نے سمجھاکہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " مجھے تم لوگوں ( حاضرین ) پر دجال کے علاوہ دیگر ( جہنم کی طرف بلانے والوں ) کا زیادہ خوف ہےاگر وہ نکلتا ہے اور میں تمھارے درمیان موجود ہوں تو تمھاری طرف سے اس کے خلاف ( اس کی تکذیب کے لیے ) دلائل دینے والا میں ہوں گااور اگر وہ نکلا اور میں موجودنہ ہوا تو ہر آدمی اپنی طرف سے حجت قائم کرنے والاخود ہو گا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ ( خود نگہبان ) ہوگا ۔ وہ گچھے دار بالوں والاایک جوان شخص ہے اس کی ایک آنکھ بے نور ہے ۔ میں ایک طرح سے اس کو عبد العزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں تم میں سے جو اسے پائے تو اس کے سامنے سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے وہ عراق اور شام کے درمیان ایک رستے سے نکل کر آئے گا ۔ وہ دائیں طرف بھی تباہی مچانے والا ہو گا اور بائیں طرف بھی ۔ اے اللہ کے بندو!تم ثابت قدم رہنا ۔ " ہم نے عرض ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !زمین میں اس کی سرعت رفتار کیا ہو گی؟آپ نے فرمایا : " بادل کی طرح جس کے پیچھے ہوا ہو ۔ وہ ایک قوم کے پاس آئے گا انھیں دعوت دے گا وہ اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی باتیں مانیں گے ۔ تو وہ آسمان ( کے بادل ) کو حکم دے گا ۔ وہ بارش برسائے گا اور وہ زمین کو حکم دے گا تو وہ فصلیں اگائےگی ۔ شام کے اوقات میں ان کے جانور ( چراگاہوں سے ) واپس آئیں گے تو ان کے کوہان سب سے زیادہ اونچےاور تھن انتہائی زیادہ بھرے ہوئے اور کوکھیں پھیلی ہوئی ہوں گی ۔ پھر ایک ( اور ) قوم کے پاس آئے گا اور انھیں ( بھی ) دعوت دے گا ۔ وہ اس کی بات ٹھکرادیں گے ۔ وہ انھیں چھوڑ کر چلا جائے گا تووہ قحط کا شکار ہو جائیں گے ۔ ان کے مال مویشی میں سے کوئی چیز ان کےہاتھ میں نہیں ہوگی ۔ وہ ( دجال ) بنجر زمین میں سے گزرے گا تو اس سے کہےگا اپنے خزانے نکال تو اس ( بنجر زمین ) کے خزانے اس طرح ( نکل کر ) اس کے پیچھےلگ جائیں گے ۔ جس طرح شہد کی مکھیوں کی رانیاں ہیں پھر وہ ایک بھر پور جوان کو بلائے گا اور اسے تلوار ۔ مار کر ( یکبارگی ) دوحصوں میں تقسیم کردے گا جیسے نشانہ بنایا جانے والا ہدف ( یکدم ٹکڑے ہوگیا ) ہو ۔ پھر وہ اسے بلائے گا تو وہ ( زندہ ہوکر دیکھتےہوئے چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آئے گا ۔ وہ ( دجال ) اسی عالم میں ہو گا جب اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو معبوث فرمادے گا ۔ وہ دمشق کے حصے میں ایک سفید مینار کے قریب دوکیسری کپڑوں میں دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے ۔ جب وہ اپنا سر جھکا ئیں گے تو قطرے گریں گے ۔ اور سر اٹھائیں گے تو اس سے چمکتے موتیوں کی طرح پانی کی بوندیں گریں گی ۔ کسی کافر کے لیے جو آپ کی سانس کی خوشبو پائے گا مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا ۔ اس کی سانس ( کی خوشبو ) وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی ۔ آپ علیہ السلام اسے ڈھونڈیں گے تو اسے لُد ( Lyudia ) کےدروازے پر پائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے ۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس وہ لوگ آئیں گے جنھیں اللہ نے اس ( دجال کےدام میں آنے ) سے محفوظ رکھا ہو گاتووہ اپنے ہاتھ ان کے چہروں پر پھیریں گے ۔ اور انھیں جنت میں ان کے درجات کی خبردیں گے ۔ وہ اسی عالم میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائےگا میں نے اپنے ( پیدا کیے ہوئے ) بندوں کو باہر نکال دیا ہے ان سے جنگ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں ۔ آپ میری بندگی کرنے والوں کو اکٹھا کر کے طور کی طرف لے جائیں اور اللہ یاجوج ماجوج کو بھیج دے گا ، وہ ہر اونچی جگہ سے امڈتے ہوئے آئیں گے ۔ ان کے پہلے لوگ ( میٹھے پانی کی بہت بڑی جھیل ) بحیرہ طبریہ سے گزریں گے اور اس میں جو ( پانی ) ہوگا اسے پی جائیں گے پھر آخری لوگ گزریں گے تو کہیں گے ۔ " کبھی اس ( بحیرہ ) میں ( بھی ) پانی ہوگا ۔ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی محصورہوکر رہ جائیں گے ۔ حتیٰ کہ ان میں سے کسی ایک کے لیے بیل کا سراس سے بہتر ( قیمتی ) ہوگا جتنےآج تمھارے لیے سودینارہیں ۔ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی گڑ گڑاکر دعائیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان ( یاجوج ماجوج ) پر ان کی گردنوں میں کپڑوں کا عذاب نازل کر دے گا تو وہ ایک انسان کے مرنے کی طرح ( یکبارگی ) اس کا شکار ہوجائیں گے ۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اترکر ( میدانی ) زمین پر آئیں گے تو انھیں زمین میں بالشت بھر بھی جگہ نہیں ملے گی ۔ جوان کی گندگی اور بد بو سے بھری ہوئی نہ ہو ۔ اس پرحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ کے سامنے گڑگڑائیں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کے جیسی لمبی گردنوں کی طرح ( کی گردنوں والے ) پرندے بھیجے گا جو انھیں اٹھائیں گے اور جہاں اللہ چاہے گا جاپھینکیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش بھیجے گا جس سے کو ئی گھر اینٹوں کا ہو یا اون کا ( خیمہ ) اوٹ مہیا نہیں کر سکے گا ۔ وہ زمین کو دھوکر شیشےکی طرح ( صاف ) کر چھوڑےگی ۔ پھر زمین سے کہاجائے گا ۔ اپنے پھل اگاؤاوراپنی برکت لوٹالاؤ تو اس وقت ایک انار کو پوری جماعت کھائےگی اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گی اور دودھ میں ( اتنی ) برکت ڈالی جائے گی کہ اونٹنی کا ایک دفعہ کا دودھ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہو گا اور گائے کاایک دفعہ کا دودھ لوگوں کے قبیلےکو کافی ہو گا اور بکری کا ایک دفعہ کا دودھ قبیلے کی ایک شاخ کو کافی ہوگا ۔ وہ اسی عالم میں رہ رہے ہوں گے ۔ کہ اللہ تعالیٰ ایک عمدہ ہوا بھیجے گا وہ لوگوں کو ان کی بغلوں کے نیچے سے پکڑے گی ۔ اور ہر مومن اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے وہ وہ گدھوں کی طرح ( برسرعام ) آپس میں اختلاط کریں گےتو انھی پر قیامت قائم ہوگی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn 'Abbas by another chain of transmitters
سفیان بن عیینہ ، عبد العزیز بن محمد اور سفیان ثوری نے مختلف سندوں کے ساتھ زید بن اسلم کی سابقہ سند کے ساتھ نبیﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی ، یعنی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کی طرح ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلاَةِ وَيَقُولُ ‏ "‏ اسْتَوُوا وَلاَ تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلاَمِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلاَفًا ‏.‏
Abu Mas'ud reported:The Messenger of Allah (may peace he upon him) used to touch our shoulders in prayer and say: Keep straight, don't be irregular, for there would be dissension in your hearts. Let those of you who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them, then those who are next to them. Abu Mas'ud said: Now-a-days there is much dissension amongst you
عبد اللہ بن ادریس ، ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے روایت کی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر تیمی سے ، انہوں نے ابو معمر سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نماز میں ( ہمیں برابر کھڑا کرنے کے لیے ) ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر فرماتے : ’’برابر ہو جاؤ اور جدا جدا کھڑے نہ ہو کہ اس سے تمہارے دل باہم مختلف ہو جائیں ، میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے دانش مند ( کھڑے ) ہوں ، ان کے بعد وہ جو ( دانش مندی میں ) ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ۔ ‘ ‘ ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : آج تم ایک دوسرے سے شدید ترین اختلاف رکھتے ہو ۔