بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
22 hadith
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي ثَلاَثِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدَيْهِ طُولٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ ‏.‏ وَخَرَجَ غَضْبَانَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏ "‏ أَصَدَقَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَصَلَّى رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ‏.‏
Imran b. Husain reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said the afternoon prayer and gave the salutation. at the end of three rak'ahs and then went into his house. A man called al-Khirbaq, who bad long aims, got up and went to him, and addressed him as Messenger of Allah and mentioned to him what he had done. He came out angrily trailing his mantle, and when he came to the people he said: Is this man telling the truth? They said: Yes. He then said one rak'ah and then gave salutation and then performed two prostrations and then gave salutation
اسماعیل بن ابراہیم نے خالد ( حذاء ) سے ، انھوں نے ابو قلابہ سے ، انھوں نے ابو مہلب سے اور انھوں نے حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نےعصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعات پر سلام پھیر دیا ، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے تو ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ لمبے تھے ، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہواا ور آپ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! پھر آپ ﷺ سے جو ( سہو ) ہوا تھا اس کا آپ کے سامنے تذکرہ کیا ، آپ غصے کی حالت میں ، چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے حتی کہ لوگوں کے پا س آ پہنچے اور پوچھا : ’’ کیا یہ سچ کہہ رہا ہے ؟ ‘ ‘ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! توآپ نے ایک رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر سہو کے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لَيْلاً طَوِيلاً قَائِمًا ‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Abdullah b. Shaqiq reported:I fell ill in Persia and therefore, prayed in a sitting posture, and I asked 'A'isha about it and she said: The Messenger of Allah (ﷺ) prayed for a long time in the night sitting
شعبہ نے بدیل سے حدیث سنائی انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں فارس ( ایران ) میں بیمار تھا ، اس لئے بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا ۔ میں نے اس کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو لمباوقت کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد ( اسی طرح ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏ "‏ وَيْحَكُمْ - أَوْ قَالَ وَيْلَكُمْ - لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abdullah b. Umar that the Apostle (may peace and blessings be upon him) observed on the occasion of the Farewell Pilgrimage Woe unto you distress unto you! Don't turn back as unbelievers after me by striking the necks of one another
محمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے واقد بن محمد بن زید سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کرتے تھے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا : ’’ تم پر افسوس ہوتا ہے ( یا فرمایا : تمہارے لیے تباہی ہو گی ) تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي نَمِرٍ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ ‏"‏ وَأَتَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported (that whenever it was her turn for Allah's Messenger [may peace be upon him] to spend the night with her) he would go out towards the end of the night to al-Baqi' and say:Peace be upon you, abode of a people who are believers. What you were promised would come to you tomorrow, you receiving it after some delay; and God willing we shall join you. O Allah, grant forgiveness to the inhabitants of Baqi' al-Gharqad. Qutaiba did not mention his words:" would come to you
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی ، یحییٰ بن ایوب اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث سنائی ۔ ۔ ۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہمیں حدیث سنائی ۔ ۔ ۔ اسماعیل بن جعفر نے شریک سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے کہا : ۔ ۔ ۔ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے پاس ہوتی تو ۔ ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع ( کے قبرستان میں ) تشریف لے جاتے اور فرماتے : " اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے!تم پر اللہ کی سلامتی ہو ، کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا ، وہ تم تک پہنچ گیا ۔ تم کو ( قیامت ) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی ، اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں ۔ اے اللہ!بقیع غرقد ( میں رہنے ) والوں کو بخش دے ۔ " قتیبہ نے ( اپنی روایت ) میں " واتاكم " ( تم تک پہنچ گیا ) نہیں کہا ۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلاَ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ ‏{‏ لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Miskin is not he who is dismissed with one or two dates, and with one morsel or two morsels. (In fact) miskin is he who abstains (from begging). Read if you so desire (the verse):" They beg not of men importunately)" (ii)
اسماعیل نے جو ابن جعفر ( بن ابی کثیر ) ہیں ، کہا : مجھے شریک نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے خبردی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اصل ) مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیتے ہیں ، اصل مسکین سوال سے بچنے والا ہے ، چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : " وہ لوگوں سے چمٹ کر ( اصرار سے ) نہیں مانگتے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ ‏"‏ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Hamza b. 'Amr al-Aslami asked the Messenger of Allah (ﷺ) about fasting on a journey, and he (the Holy Prophet) said:Fast if you like and break it if you like
۔ قتیبہ بن سعید ، لیث ، ہشام بن عروۃ ، سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ بن عمر اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزے رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر توچاہے تو روزہ افطار کرلے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ مِنْكُمْ هَدْىٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلاَ ‏"‏ ‏.‏ فَمِنْهُمُ الآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ سَمِعْتُ كَلاَمَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا لَكِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لاَ أُصَلِّي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ يَضُرُّكِ فَكُونِي فِي حَجِّكِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَتَطَهَّرْتُ ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ ‏"‏ اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ لْتَطُفْ بِالْبَيْتِ فَإِنِّي أَنْتَظِرُكُمَا هَا هُنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ فَرَغْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We proceeded with the Messenger of Allah (ﷺ) putting on the Ihram for Hajj during the months of Hajj and the night of Hajj till we encamped at Sarif. He (the Holy Prophet) went to his Companions and said: He who has no sacrificial animal with him, in his case I wish that he should perform Umra (with this Ihram), and he who has the sacrificial animal with him should not do it. So some of them performed Hajj whereas others who had no sacrificial animals with them did not do (Hajj, but performed only 'Umra). The Messenger of Allah (ﷺ) had a sacrificial animal with him and those too who could afford it (performed) Hajj). The Messenger of Allah (ﷺ) came to me (i. e. A'isha) while I was weeping, and he said: What makes you weep? I said: I heard your talk with Companions about Umra. He said: What has happened to you? I said: I do not observe prayer (due to the monthly period), whereupon he said: It would not harm you; you should perform (during this time) the rituals of Hajj (which you can do outside the House). Maybe Allah will compensate you for this. You are one among the daughters of Adam and Allah has ordained for you as He has ordained for them. So I proceeded on (with the rituals of Hajj) till we came to Mina. I washed myself and then circumambulated the House, and the Messenger of Allah (ﷺ) encamped at Muhassab and called, Abd al-Rahman b. Abu Bakr. and said: Take out your sister from the precincts of the Ka'ba in order to put on Ihram for Umra and circumambulate the House. and I shall wait for you here. She said: So I went out and put on Ihram and then circumambulated the House, and (ran) between al-Safa and al-Marwa, and then we came to the Messenger of Allah (ﷺ) and he was in his house in the middle of the night. He said: Have you completed your (rituals)? I said: Yes. He then announced to his Companions to march on. He came out, and went to the House and circumambulated it before the dawn prayer and then proceeded to Medina
افلح بن حمید نے قاسم سے انھوں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے حج کے مہینوں میں حج کی حرمتوں ( پابندیوں ) میں اور حج کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں روانہ ہو ئے حتی کہ سرف کے مقا م پر اترے ۔ ( وہاں پہنچ کر ) آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس تشریف لے گئے اور فر ما یا : "" تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ہے ۔ اور وہ اپنے حج کو عمرے میں بدلنا چاہتا ہے توا یسا کر لے اور جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہیں وہ ( ایسا ) نہ کرے ۔ ان میں سے کچھ نے جن کے پاس قربانی نہیں تھی اس ( عمرے ) کو اختیار کر لیا اور کچھ لوگوں نے رہنے دیا ۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بعض صاحب استطاعت صحابہ کے ساتھ قربانیاں تھیں ۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لا ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیوں روتی ہو؟ میں نے جواب دیا میں نے آپ کی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ گفتگو سنی ہے اور عمرے کے متعلق بھی سن لیا ہے میں عمرے سے روک دی گئی ہوں ۔ آپ نے پو چھا : ( کیوں ) تمھیں کیا ہے ؟میں نے جواب دیا : میں نماز ادا نہیں کر سکتی ۔ آپ نے فر ما یا : "" یہ ( ایام عمرے حج میں ) تمھارے لیے نقصان دہ نہیں تم اپنے حج میں ( لگی ) رہو امید ہے کہ اللہ تعا لیٰ تمھیں یہ ( عمرے کا ) اجر بھی دے گا تم آدم ؑکی بیٹیوں میں سے ہو ۔ اللہ تعا لیٰ نے تمھارے لیے بھی وہی کچھ لکھ دیا ہے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے کہا ( پھر ) میں احرا م ہی کی حا لت میں ) اپنے حج کے سفر میں نکلی حتیٰ کہ ہم منیٰ میں جا اترے اور ( تب ) میں ایام سے پاک ہو گئی پھر ہم سب نے بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ ڈالا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( میرے بھا ئی ) کو بلا یا اور ان سے ) فر ما یا : "" اپنی بہن کو حرم سے باہر ( تنعیم ) لے جاؤ تا کہ یہ ( احرام باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ کہے اور ( عمرے کے لیے بیت اللہ ( اور صفامروہ ) کا طواف کر لے ۔ میں ( تمھا ری واپسی تک ) تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ہم نکل پڑے میں نے ( احرا م باندھ کر ) بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا ۔ ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت اپنی منزل ہی پر تھے ۔ آپ نے ( مجھ سے ) پو چھا : "" کیا تم ( عمرے سے ) فارغ ہو گئی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں کو چ کے اعلان کا حکم دیا ۔ آپ ( وہاں سے ) نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف ( وداع ) کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلاً فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الأَوَّلِ قَالَ ‏ "‏ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا ‏"‏‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Messenger (ﷺ) was asked about a woman whom a man married and then divorced her, and then she married (another) person, and she was divorced before sexual intercourse with her, whether it was lawful for her first husband (to marry her in this state). He (the Holy Prophet) said:No, until he has tasted her sweetness
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس سے کوئی آدمی نکاح کرے ، پھر وہ اسے طلاق دے دے ، اس کے بعد وہ کسی اور آدمی سے نکاح کر لے اور وہ اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال ( ہو جاتی ) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، حتیٰ کہ وہ ( دوسرا خاوند ) اس کی لذت چکھ لے
وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ نُعَيْمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْحُقُولِ ‏.‏ فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَابَنَةُ الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ ‏.‏ وَالْحُقُولُ كِرَاءُ الأَرْضِ ‏.‏
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) forbidding Muzabana, and Huqul. Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) said: Muzabana means the selling of fruits for dry dates and Huqul is the renting of land
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ مزابنہ اور حُقول سے منع فرما رہے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مزابنہ سے مراد ( کھجور پر لگے ) پھل کی خشک کھجور سے بیع ہے اور حقول سے مراد زمین کو ( اس کی پیداوار کے متعین حصے کے عوض ) بٹائی پر دینا ہے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ سَأَلَ شِبَاكٌ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنَا عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ قَالَ إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا ‏.‏
Abdullah (b. Mas'ud) (Allah be pleased with him) said that Allah's Messenger (ﷺ) cursed the one who accepted interest and the one who paid it I asked about the one who recorded it, and two witnesses to it. He (the narrator) said:We narrate what we have heard
علقمہ نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کی ۔ کہا : میں نے پوچھا : اس کے لکھنے والے اور دونوں گواہوں پر بھی؟ انہوں نے کہا : ہم صرف وہ حدیث بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ وَقَدْ نُحِرَتْ جَزُورٌ بِالأَمْسِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى سَلاَ جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُهُ فِي كَتِفَىْ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَأَخَذَهُ فَلَمَّا سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ قَالَ فَاسْتَضْحَكُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَمِيلُ عَلَى بَعْضٍ وَأَنَا قَائِمٌ أَنْظُرُ ‏.‏ لَوْ كَانَتْ لِي مَنَعَةٌ طَرَحْتُهُ عَنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْطَلَقَ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَ فَاطِمَةَ فَجَاءَتْ وَهِيَ جُوَيْرِيَةُ فَطَرَحَتْهُ عَنْهُ ‏.‏ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَشْتِمُهُمْ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ رَفَعَ صَوْتَهُ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِمْ وَكَانَ إِذَا دَعَا دَعَا ثَلاَثًا ‏.‏ وَإِذَا سَأَلَ سَأَلَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا سَمِعُوا صَوْتَهُ ذَهَبَ عَنْهُمُ الضِّحْكُ وَخَافُوا دَعْوَتَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ‏"‏ ‏.‏ وَذَكَرَ السَّابِعَ وَلَمْ أَحْفَظْهُ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ سَمَّى صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ غَلَطٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ibn Mas'ud who said:While the Messenger of Allah (ﷺ) was saying his prayer near the Ka'ba and Abu Jahl with his companions was sitting (near by), Abu Jahl said, referring to the she-camel that had been slaughtered the previous day: Who will rise to fetch the foetus of the she-camel of so and so, and place it between the shoulders of Muhammad when he goes down in prostration (a posture in prayer). The one most accursed among the people got up, brought the foetus and, when the Prophet (ﷺ) went down in prostration, placed it between his shoulders. Then they laughed at him and some of them leaned upon the others with laughter. And I stood looking. If I had the power, I would have thrown it away from the back of the Messenger of Allah (ﷺ). The Prophet (ﷺ) had bent down his head in prostration and did not raise it, until a man went (to his house) and informed (his daughter) Fatima, who was a young girl (at that time) (about this ugly incident). She came and removed (the filthy thing) from him. Then she turned towards them rebuking them (the mischief-mongers). When the Prophet (ﷺ) had finished his prayer, he invoked God's imprecations upon them in a loud voice. When he prayed, he prayed thrice, and when he asked for God's blessings, he asked thrice. Then he said thrice: O Allah, it is for Thee to deal with the Quraish. When they heard his voice, laughter vanished from them and they feared his malediction. Then he said: O God, it is for Thee to deal with Abu Jahl b. Hisham, 'Utba b. Rabi'a, Shaiba b. Rabi'a. Walid b. Uqba, Umayya b. Khalaf, Uqba b. Abu Mu'ait (and he mentioned the name of the seventh person. which I did not remember). By One Who sent Muhammad with truth, I saw (all) those he had named lying slain on the Day of Badr. Their dead bodies were dragged to be thrown into a pit near the battlefield. Abu Ishiq had said that the name of Walid b. 'Uqba has been wrongly mentioned in this tradition
زکریا ( بن ابی زائدہ ) نے ابواسحاق سے ، انہوں نے عمرو بن میمون اودی سے ، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے ، ابوجہل اور اس کے ساتھی بھی بیٹھے ہوئے تھے ، اور ایک دن پہلے ایک اونٹنی ذبح ہوئی تھی ۔ ابوجہل نے کہا : تم میں سے کون اٹھ کر بنی فلاں کے محلے سے اونٹنی کی بچے والی جھلی ( بچہ دانی ) لائے گا اور محمد سجدے میں جائیں تو اس کو ان کے کندھوں کے درمیان رکھ دے گا؟ قوم کا سب سے بدبخت شخص ( عقبہ بن ابی معیط ) اٹھا اور اس کو لے آیا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس نے وہ جھلی آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا ، پھر وہ آپس میں خوب ہنسے اور ایک دورے پر گرنے لگے ۔ میں کھڑا ہوا دیکھ رہا تھا ، کاش! مجھے کچھ بھی تحفظ حاصل ہوتا تو میں اس جھلی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اٹھا کر پھینک دیتا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے ۔ اپنا سر مبارک نہیں اٹھا رہے تھے ، حتی کہ ایک شخص نے جا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی ، وہ آئیں ، حالانکہ وہ اس وقت کم سن بچی تھیں ، انہوں نے وہ جھلی اٹھا کر آپ سے دور پھینکی ۔ پھر وہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور انہیں سخت سست کہا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بآزاو بلند ان کے خلاف دعا کی ، آپ جب کوئی دعا کرتے تھے تو تین مرتبہ دہراتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کچھ مانگتے تو تین بار مانگتے تھے ، پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا : "" اے اللہ! قریش پر گرفت فرما ۔ "" جب قریش نے آپ کی آواز سنی تو ان کی ہنسی جاتی رہی اور وہ آپ کی بددعا سے خوف زدہ ہو گئے ۔ آپ نے پھر بددعا فرمائی : اے اللہ! ابوجہل بن ہشام پر گرفت فرما اور عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عقبہ ، امیہ بن خلف ، عقبہ بن ابی معیط پر گرفت فرما ۔ "" ۔ ۔ ( ابواسحاق نے کہا : ) انہوں ( عمرو بن میمون ) نے ساتویں شخص کا نام بھی لیا تھا لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہا ( بعد ازاں ابواسحاق کو ساتویں شخص عمارہ بن ولید کا نام یاد آ گیا تھا ، صحیح البخاری ، حدیث : 520 ) ۔ ۔ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : ) اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! جن کا آپ نے نام لیا تھا میں نے بدر کے دن ان کو مقتول پڑے دیکھا ، پھر ان سب کو گھسیٹ کر کنویں ، بدر کے کنویں کی طرف لے جایا گیا اور انہیں اس میں ڈال دیا گیا ۔ ابواسحاق نے کہا : اس حدیث میں ولید بن عقبہ ( کا نام ) غلط ہے ۔ ( صحیح ولید بن عتبہ ہے)
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ عَنْ بَيْعَةِ النِّسَاءِ، قَالَتْ مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ امْرَأَةً قَطُّ إِلاَّ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ قَالَ ‏ "‏ اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'Urwa that 'A'isha described to him the way the Prophet (ﷺ) took the oath of fealty from women. She said:The Messenger of Allah (ﷺ) never touched a woman with his hand. He would only take a vow from her and when he had taken the (verbal) vow, he would say: You may go. I have accepted your fealty
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں عورتوں کی بیعت کے متعلق بتایا ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی عورت کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوا ، البتہ آپ ان سے ( زبانی ) عہد لیتے تھے اور جب وہ عہد کر لیتیں تو آپ فرماتے : " جاؤ ، میں نے تم سے بیعت لے لی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ ‏"‏ ‏.‏
Salim, on the authority of his father, reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:Do not leave the fire burning in your houses when you go to sleep
سالم نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : " جب تم سونے لگو تواپنے گھروں میں ( جلتی ہوئی ) آگ نہ چھوڑا کرو ( اسے پوری طرح بجھا دیا کرو ۔)
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ وَذِكْرِهِ الأَخْبَارَ فِي الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یو نس کی حدیث کے مانند اور سند میں خبر دینے کی صرا حت کرتے ہو ئے روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَبَلَغَنِي أَنَّ الطَّاعُونَ قَدْ وَقَعَ بِالْكُوفَةِ فَقَالَ لِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ وَغَيْرُهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ فَوَقَعَ بِهَا فَلاَ تَخْرُجْ مِنْهَا وَإِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ عَمَّنْ قَالُوا عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهِ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالُوا غَائِبٌ - قَالَ - فَلَقِيتُ أَخَاهُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ شَهِدْتُ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أَوْ بَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ قَبْلِكُمْ فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا وَإِذَا بَلَغَكُمْ أَنَّهُ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَبِيبٌ فَقُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ آنْتَ سَمِعْتَ أُسَامَةَ يُحَدِّثُ سَعْدًا وَهُوَ لاَ يُنْكِرُ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
Shu'ba reported from Habib:While we were in Medina we heard of plague having broken out in Kufa. 'Ata b. Yasir and others said to me that Allah's Messenger (ﷺ) had said. If you are in a land where it (this scourge) has broken out, don't get out of it, and if you were to know that it had broken (in another land, then don't enter it. I said to him: From whom (did you hear it)? They said: 'Amir b. Sa'd has narrated it. So I came to him. They said that he was not present there. So I met his brother Ibrahim b. Sa'd and asked him. He said: I bear testimony to the fact that Usama narrated it to Sa'd saying: I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying that it is a God-sent punishment from the calamity or from the remnant of the calamity with which people were afflicted before you. So when it is in a land and you are there, don't get out of it, and if (this news reaches you) that it has broken out in a land, then don't enter therein. Habib said: I said to Ibrahim: Did you hear Usama narrating it to Sa'd and he was not denying it. He said: Yes
ابن ابی عدی نے شعبہ سے انھوں نے حبیب ( بن ابی ثابت اسدی ) سے روایت کی ، کہا : ہم مدینہ میں تھے تو مجھے خبر پہنچی کہ کو فہ میں طاعون پھیل گیا ہے تو عطاء بن یسار اور دوسرے لو گوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا تھا : جب تم کسی سر زمین میں ہوا ور وہاں طاعون پھیل جا ئے تو تم اس سر زمین سے مت نکلواور جب تم کو یہ خبر پہنچے کہ وہ کسی سر زمین میں پھیل گیا ہے تو تم اس میں مت جاؤ ۔ "" کہا : میں نے پو چھا : ( حدیث ) کس سے روایت کی گئی ؟ ان سب نے کہا : عامر بن سعد سے وہی یہ حدیث بیان کرتے تھے ۔ کیا : تو میں ان کے ہاں پہنچا ، ان کے ( گھر کے ) لوگوں نے کہا : وہ موجود نہیں ، تو میں ان کے بھا ئی ابرا ہیم بن سعد سے ملا اور ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا : میں اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مو جو د تھا جب وہ ( میرے والد ) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کررہے تھے ۔ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : "" یہ بیماری سزا اور عذاب ہے یاعذاب کا بقیہ حصہ ہے جس میں تم سے پہلے کے لو گوں کو مبتلا کیا گیا تھا ۔ تو جب یہ کسی سر زمین میں پھیل جائے اور تم وہیں ہو تو وہاں سے باہر مت نکلواور جب تمھیں خبر پہنچے کہ یہ کسی سر زمین میں ہے تو اس میں مت جاؤ ۔ "" حبیب نے کہا : میں نے ابرا ہیم ( بن سعد ) سے کہا : کیا آپ نے ( خود ) اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا وہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حدیث سنا رہے تھے اور وہ اس کا انکا ر نہیں کر رہے تھے؟انھوں نے کہا : ہاں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الأَوْدِيُّ، - عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ رَأَى مِنَ الشَّيْبِ إِلاَّ - قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ كَأَنَّهُ يُقَلِّلُهُ - وَقَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ‏.‏
Ibn Sirin reported:Anas b. Malik was asked whether Allah's Messenger (ﷺ) dyed his hair. He said: He had not become old enough to have white hair. Ibn Idris said that he had a few white hair. Abu Bakr and Umar, however, dyed hair with hina' (henna)
ابن ادریس نے ہشام سے ، انھوں نے سیرین سے روایت کی ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کبھی ) بالوں کو رنگاتھا : کہا : انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال نہیں دیکھے تھے ، سوائے ( چند ایک کے ) ۔ ابن ادریس نے کہا : گویا وہ ان کی بہت ہی کم تعداد بتارہے تھے ۔ جبکہ حضرت ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مہندی اور کَتَم ( کو ملاکر ان ) سے رنگتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا ‏ "‏ إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) said to her:Gabriel offered you greetings and I said: So there should be peace and mercy of Allah upon him
عبد الرحیم بن سلیمان اور یعلیٰ بن عبید نے زکریا سے حدیث بیان کی ، انھوں نےس ( عامر ) شعبی سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے انھوں نےحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ان ( ابو سلمہ ) کو بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر مایا : " جبرا ئیل تم کو سلام کہتے ہیں ۔ " کہا : تو میں نے ( جواب میں ) کہا : وعليه السلام ورحمة الله " اور ان پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّفِي حَدِيثِ صَالِحٍ وَقَالَتْ وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَىْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ ‏.‏ بِمِثْلِ مَا جَعَلَهُ يُونُسُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording
صالح نے کہا : ہمیں محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر صالح کی حدیث میں ہے : اور ( ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : میں نے آپ سے نہیں سنا کہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں آپ نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کی اجازت دی ہو ۔ ( آگے ) اسی کے مانند جس طرح یونس نے ابن شہاب کا قول بتایا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ - قَالَ - فَلَمْ يَزِدْ عَلَى أَنْ نَضَحَ بِالْمَاءِ ‏.‏
Umm Qais daughter of Mihsan reported that she came to the Messenger of Allah (ﷺ) with her child. who was not yet weaned, and she placed him in his lap; and he urinated in his (Holy Prophet's) lap. He (the Holy Prophet) did nothing more than spraying water over it
لیث نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حضرت ام قیس بنت محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ وہ اپنے بچے کو ، جس نے ابھی کھانا شروع نہ کیا تھا ، لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا تو اس نے پیشاب کر دیا ، آپ نے اس پر پانی چھڑکنے سے زیادہ کچھ نہ کیا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ، بْنِ حِرَاشٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الدَّجَّالِ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ وَإِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَاءً فَنَارٌ تُحْرِقُ وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَارًا فَمَاءٌ بَارِدٌ عَذْبٌ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَارًا فَإِنَّهُ مَاءٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُقْبَةُ وَأَنَا قَدْ، سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا، لِحُذَيْفَةَ ‏.‏
Uqba b. 'Amr Abu Mas'ud al-Ansari reported:I went to Hudhaifa b. Yaman and said to him: Narrate what you have heard from Allah's Messenger (ﷺ) pertaining to the Dajjal. He said that the Dajjal would appear and there would be along with him water and fire and what the people would see as water that would be fire and that would burn and what would appear as fire that would be water and any one of you who would see that should plunge in that which he sees as fire for it would be sweet, pure water, and 'Uqba said: I also heard it, testifying Hudhaifa
حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، مُنْذُ حِينٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ دَاجِنَةً كَانَتْ لِبَعْضِ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَاتَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَلاَّ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn'Abbas reported on the authority of Maimuna that someone amongst the wives of the Messenger of Allah (ﷺ) had a domestic animal and it died. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said:Why did you not take off its skin and make use of that?
ابن جریج نے عمرو بن دینار سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ حضرت میمونہؓ نے انہیں بتایا کہ ایک بکری ، جو رسول اللہﷺ کی ایک بیوی کی تھی ، مر گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تم نے اس کا چمڑا اتار کر اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا! ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters
وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے ( اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے ) کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث بیان کی