وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي، مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الظُّهْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ .
Abu Huraira reported:I offered with the Messenger of Allah (ﷺ) the noon prayer and the Messenger of Allah (ﷺ) gave salutation after two rak'ahs. A person from Bani Sulaim stood up, and the rest of the hadith was narrated as mentioned above
شیبان نےیحییٰ سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نبی اکر ﷺ کے ساتھ ( اقتدا میں ) ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ، اس پر بنی سلیم کا ایک آدمی کھڑا ہوا .......آگے ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي لَيْلاً طَوِيلاً فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا .
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) would pray in the night for a long time, and when he prayed standing be bowed in a standing posture, and when he prayed sitting, he bowed in a sitting posture
حماد نے بدیل اورایوب سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو لمبا وقت نماز پڑھتے رہتے ، پس جب آپ کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے اور جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تو بیٹھے ہوئے رکوع کرتے ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
Abdullah b. Mu'adh narrated from the Apostle (may peace and blessings be upon him) a hadith like this on the authority on Ibn Umar
معاذ بن معاذ نے شعبہ سے ، انہوں نے واقد بن محمد سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، ا نہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سابقہ حدیث کے مطابق روایت کی ۔
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ، - يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ - عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ، لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتِ ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ . فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ابْنَىْ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ . قَالَ مُسْلِمٌ سُهَيْلُ بْنُ دَعْدٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَيْضَاءِ أُمُّهُ بَيْضَاءُ .
Abu Salama b. 'Abd al-Rahman reported on the authority ot 'A'isha that when Sa'd b. Abu Waqqas died she said:Bring it (the bier) into the mosque so that I offer prayer for him. But, this act of hers was disapproved. She said: By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) offered prayer in the mosque for the two sons of Baida', viz, for Suhail and his brother
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ جب حضر ت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ان کو مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی انکی نماز جنازہ ادا کرسکوں ۔ ان کی اس بات پر اعتراض کیا گیا تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی ( سہل ) رضوان اللہ عنھم اجمعین کا جنازہ مسجد میں ہی پڑھا تھا ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : سہیل بن دعد ، جو ابن بیضاء ہے ، اس کی ماں بیضاء تھیں ۔ ( بیضاء کا اصل نام دعد تھا ، سہیل کے والد کا نام وہب بن ربیعہ تھا ، اسے شرف صحبت حاصل نہ ہوا ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ " . قَالُوا فَمَا الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلاَ يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلاَ يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The poor man (miskin) is not the one who goes round to the people and is dismissed with one or two morsels. and one or two dates. They (the Prophet's Companions) said: Messenger of Allah, then who is miskin? He said: He who does not get enough to satisfy him, and he is not considered so (as to elicit the attention of the benevolent people), so that charity way be given to him. and he does not beg anything from people
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( اصل ) مسکین یہ گھومنے والا نہیں جو لو گوں کے پاس چکر لگا تا ہے پھر ایک دو لقمے یا ایک دوکھجور یں اسے واپس لوٹا دیتی ہیں ۔ " ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو مسکین کون ہے؟آپ نے فرمایا : " جو اتنی تونگری نہیں پاتا جو اسے ( سوال سے ) مستغنی کردے ، نہ ہی اس ( کے ضرورت مند ہونے ) کا پتہ چلتا ہے کہ اس کو صدقہ دیا جائے اور نہ ہی وہ لوگوں سے کوئی چیز مانگتا ہے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَزَعَةُ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ - رضى الله عنه - وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لاَ أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلاَءِ عَنْهُ . سَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ " . فَكَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلاً آخَرَ فَقَالَ " إِنَّكُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا " . وَكَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا ثُمَّ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ .
Qaza'a reported:I came to Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) and he was surrounded (by people), and when they dispersed I said to him: I am not going to ask you about what these people were asking. I ask you about fasting on a journey. Upon this he said: We travelled with the Messenger of Allah (ﷺ) towards Mecca and we had been observing fast. We halted at a place. There the Messenger of Allah (ﷺ) said: You are nearing your enemy and breaking of fast would give you greater strength, and that was a concession (given to us). But some of us continued to observe the fast and some of us broke it. We then got down at another place and he (the Holy Prophet) said: You are going to encounter the enemy in the morning and breaking of the fast would give you strength, so break the fast. As it was a point of stress, so we broke the fast. But subsequently we saw ourselves observing the fast with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey
محمد بن حاتم ، عبدالرحمان بن مہدی ، معاویہ بن صالح ، حضرت ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے قزعہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا تو لوگ ان سے علیحدہ ہوگئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ سے وہ نہیں پوچھوں گاجس کے بارے میں یہ پوچھ رہے ہیں ( راوی کہتے ہیں ) کہ میں نے سفر کے روزہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ تک سفر کیا ہے اور ہم روزہ کی حالت میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک جگہ اترےتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دشمن کے قریب ہوگئے ہو اور اب افطار کرنا ( روزہ نہ رکھنا ) تمھارے لئے قوت وطاقت کا باعث ہوگا تو روزہ کی رخصت تھی پھر ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا پھر جب ہم دوسری منزل تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم صبح کے وقت اپنے دشمن کے پاس گئے روزہ نہ رکھنے سے تمہارے اندر طاقت زیادہ ہوگی اس لئے روزہ نہ رکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ضروری تھا اس لئے ہم نے روزہ نہیں رکھا ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھتے رہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي خَالِي، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْرَدَ الْحَجَّ .
A'Isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) entered into the state of Ihram for Hajj Afrad
مالک نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلا حج ( افراد ) کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ . بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Rifa`a al Qurazi divorced his wife and afterwards `Abd al-Rahman b. al-Zubair married her. She came to Allah's Apostle (ﷺ) and said:Messenger of Allah, Rifa`a has divorced me by three pronouncements. (The rest of the hadith is the same)
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن بن زبیر نے اس عورت سے نکاح کر لیا ۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی : اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! رفاعہ نے اسے تین طلاقوں میں سے آخری طلاق بھی دے دی ہے ۔ ۔ جس طرح یونس کی حدیث ہے
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ، أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who has land should cultivate it or lend it to his brother, but if he refuses, he should retain his land
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عاریتا دے دے ، اگر وہ نہیں مانتا تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے ۔ " ( غلط طریقے سے بٹائی پر نہ دے)
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِقْلٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي، رَبَاحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ فِي الصَّرْفِ أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَلاَّ لاَ أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَأَمَّا كِتَابُ اللَّهِ فَلاَ أَعْلَمُهُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَلاَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ " .
Ata' b. Abu Rabah reported:Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with them) met Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) and said to him: What do you say in regard to the conversion (of commodities or money) did you hear it from Allah's Messenger (ﷺ), or is it something which you found In Allah's Book, Majestic and Glorious? Thereupon Ibn Abbas (Allah be pleated with them) said: I don't say that. So far at Allah's Massenger (ﷺ) is concerned, you know him better, and to far as the Book of Allah to concerned, I do not know it (more than you do), but 'Usama b. Zaid (Allah be pleased with him) narrated to me Allah's Messenger (ﷺ) as having said this: Beware, there can be an element of interest in credit
عطاء بن ابی رباح نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا : بیع صَرف ( نقدی یا سونے چاندی کے تبادلے ) کے حوالے سے آپ کی اپنے قول کے بارے میں کیا رائے ہے ، کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہ صؒی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان میں سے کوئی بات نہیں کہتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم مجھ سے زیادہ جاننے والے ہو اور رہی اللہ کی کتاب تو میں ( اس میں ) اس بات کو نہیں جانتا ، البتہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " متنبہ رہو! سود ادھار میں ہی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا هَذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " . وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
It has been narrated by Hammam b. Munabbih who said:This is what has been related to us by Abu Huraira from the Messenger of Allah (ﷺ). (With this introduction) he narrated a number of traditions. One of these was that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Great is the wrath of Allah upon a people who have done this to the Messenger of Allah (ﷺ), and he was at that time pointing to his front teeth. The Messenger of Allah (ﷺ) also said: Great is the wrath of Allah upon a person who has been killed by the Messenger of Allah (ﷺ) in the way of Allah, the Exalted and Glorious
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس قوم پر اللہ کا غضب شدید ہو گیا جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ کیا " آپ اس وقت اپنے رباعی دانت کی طرف اشارہ فرما رہے تھے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اس شخص پر سخت غضب ناک ہوتا ہے جس کو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں ( جہاد کرتے ہوئے ) قتل کر دے
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، بْنُ يَزِيدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ يَسْرِقْنَ وَلاَ يَزْنِينَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ " . وَلاَ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ . غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلاَمِ - قَالَتْ عَائِشَةُ - وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلاَّ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ " . كَلاَمًا .
It has been narrated on the authority of 'A'isha, the wife of the Prophet (ﷺ). She said:When the believing women migrated (to Medina) and came to the Messenger of Allah (ﷺ), they would be tested in accordance with the following words of Allah. the Almighty and Exalted:" O Prophet, when believing women come to thee to take the oath of fealty to thee that they will not associate in worship anything with God, that they will not steal. that, they will not commit adultery..." to the end of the verse (lx. 62). Whoso from the believing women accepted these conditions and agreed to abide by them were considered to have offered themselves for swearing fealty. When they had (formally) declared their resolve to do so, the Messenger of Allah (may peace he upon him) would say to them: You may go. I have confirmed your fealty. By God, the hand of the Messenger of Allah (ﷺ) never touched the hand of a woman. He would take the oath of fealty from them by oral declaration. By God, the Messenger of Allah (ﷺ) never took any vow from women except that which God had ordered him to take, and his palm never touched the palm of a woman. When he had taken their vow, he would tell them that he had taken the oath from them orally
یونس بن یزید نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : مسلمان عورتیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو اللہ کے اس فرمان کے مطابق ان کا امتحان لیا جاتا : "" اے نبی! جب آپ کے پاس مسلمان عورتیں آئیں ، آپ سے اس پر بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گی ، نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی "" آیت کے آخر تک ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مومن عورتوں میں سے جو عورت ان باتوں کا اقرار کر لیتی ، وہ امتحان کے ذریعے سے اقرار کرتی ( مثلا : ان سے سوال کیا جاتا : کیا تم شرک نہیں کرو گی؟ تو اگر وہ کہتیں : نہیں کریں گی ، تو یہی ان کا اقرار ہوتا ، آیت کے آخری حصے تک اسی طرح امتحان اور اقرار ہوتا ۔ ) اور جب وہ ان باتوں کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے : "" جاؤ ، میں تم سے بیعت لے چکا ہوں ۔ "" اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بات کر کے بیعت کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے علاوہ کسی چیز کا عہد نہیں لیا جن کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی کبھی کسی عورت کی ہتھیلی سے مَس نہیں ہوئی ، آپ جب ان سے بیعت لیتے تو زبانی فرما دیتے : "" میں نے تم سے بیعت لے لی ۔
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " فَإِنَّ فِي السَّنَةِ يَوْمًا يَنْزِلُ فِيهِ وَبَاءٌ " . وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ قَالَ اللَّيْثُ فَالأَعَاجِمُ عِنْدَنَا يَتَّقُونَ ذَلِكَ فِي كَانُونَ الأَوَّلِ .
This hadith is reported on the authority of Laith b. Sa'd with the same chain of transmitters, but with a slight variation in wording (and that is that) he (the Holy Prophet) said:There is a day in a year when descends the pestilence; at the end of the hadith Laith said that the non Arabs save themselves from it in Kanun Awwal (this is the month of December)
علی جہضمی نے کہا : ہمیں لیث بن سعد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انھوں نے اس ( حدیث ) میں یہ کہا؛ " سال میں ایک ایسا دن ہے جس میں وبانازل ہوتی ہے ۔ " ( علی نے ) حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا : لیث نے کہا : ہمارے ہاں کے عجمی لوگ کانون اول ( یعنی دسمبر ) میں اس وبا سے بچتے ہیں ( بچنے کے حیلے کرتے ہیں ۔)
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ " .
Abu Talha reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: Angels do not enter the house in which there is a dog or a statue
یو نس نے مجھے ابن شہا ب سے ، خبر دی انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سئے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chain of transmitters
معمر نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اسی ( یونس ) کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ رَجُلٌ رَآهُ غَيْرِي . قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَكَيْفَ رَأَيْتَهُ قَالَ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقَصَّدًا .
Abu Tufail reported:I saw Allah's Messenger (ﷺ) and there is one amongst the people of the earth who (are living at the present time and) had seen him except me. I said to him: How did you find him? He said: He had an elegant white color, and he was of an average height
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں جریری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اب زمین پر سوا میرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والوں میں کوئی نہیں رہا ۔ ( راوی حدیث جریری ) کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ ملاحت لیے ہوئے تھا ، میانہ قامت تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ - كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَفِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ .
This hadith has been narrated on the authority of Anas b. Malik through other chains of transmitters
اسماعیل بن جعفر اور عبد العزیز بن محمد دونوں نے عبد اللہ بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث روایت کی ۔ ان دونوں کی حدیث ( کی سند ) میں یہ الفاظ نہیں " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا " اور اسماعیل کی حدیث میں یہ الفا ظ ہیں : " انھوں نے انس بن مالک سے سنا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَكَانَتْ، مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ اللاَّتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ " لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَىْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ الْحَرْبُ وَالإِصْلاَحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا .
Humaid b. 'Abd al-Rahman b. 'Auf reported that his mother Umm Kulthum daughter of 'Uqba b. Abu Mu'ait, and she was one amongst the first emigrants who pledged allegiance to Allah's Apostle (ﷺ), as saying that she heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A liar is not one who tries to bring reconciliation amongst people and speaks good (in order to avert dispute), or he conveys good. Ibn Shihab said he did not hear that exemption was granted in anything what the people speak as lie but in three cases: in battle, for bringing reconciliation amongst persons and the narration of the words of the husband to his wife, and the narration of the words of a wife to her husband (in a twisted form in order to bring reconciliation between them)
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے خبر دی کہ ان کی والدہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی ۔ انہوں نے اسے ( اپنے بیٹے کو ) خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے : "" وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں میں صلح کرائے اور اچھی بات کہے اور اچھی بات پہنچائے ۔ "" ابن شہاب نے کہا : لوگ جو جھوٹی باتیں کرتے ہیں ، میں نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کے بارے میں نہیں سنا کہ ان کی اجازت دی گئی ہے : جنگ اور جہاد میں ، لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے اور خاوند کا اپنی بیوی سے ( اسے راضی کرنے کی ) بات اور عورت کی اپنے خاوند سے ( اسے راضی کرنے کے لیے ) بات ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ .
Hisham narrated the hadith like one transmitted by Ibn Numair (the above mentioned one) with the same chain of transmitters
ہشام کے ایک او رشاگرد عیسیٰ نے ہشام کی اسی سند سے ابن نمیر کی روایت ( : 662 ) کے مطابق روایت بیان
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِشَاةٍ مَطْرُوحَةٍ أُعْطِيَتْهَا مَوْلاَةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلاَّ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ " .
Ibn Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by a goat thrown (away) which had been in fact given to the freed slave-girl of Maimuna as charity. Upon this the Messenger of Allah (way peace he upon him) said: Why did they not get its skin? They had better tan it and make use of it
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو میمونہؓ کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہ اتارا ، وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلاَةِ " . قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ " مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ " . قَالَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ " أَلاَ تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلاَئِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا قَالَ " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الأُوَلَ وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ " .
Jabir b. Samura reported:The Messenger of Allah (ﷺ) came to us and said: "How is it that I see you lifting your hands like the tails of headstrong horses? Be calm in prayer." He (the narrator) said: He then again came to us and saw us (sitting) in circles. He said: "How is it that I see you in separate groups?" He (the narrator) said: He again came to us and said: "Why don't you draw yourselves up in rows as angels do in the presence of their Lord?" We said: Messenger of Allah, how do the angels draw themselves up in rows in the presence of their Lord? He (the Holy Prophet) said: "They make the first rows complete and keep close together in the row
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسیب بن رافع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز میں اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ ( ہاتھ اٹھا کر دائیں بائیں گھوڑے کی دم کی طرح کیوں ہلاتے ہو ۔ دیکھیے ، حدیث : 970 ۔ 971 ) نماز میں پرسکون رہو ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے اور ہمیں مختلف حلقوں میں بیٹھے دیکھا تو فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ تمہیں ٹولیوں میں ( بٹا ہوا ) دیکھ رہا ہوں؟ ‘ ‘ پھر ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے تو فرمایا : ’’ تم اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح بارگاہ الٰہی میں فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘