وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَبُوهُ، عُثْمَانُ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ .
This hadith is transmitted by Muhammad b. Hatim on the authority of Abu Ayyub Ansari
محمد بن عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور ان کے والد عثمان دونوں موسیٰ بن طلحہ سے سنا وہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے سابقہ حدیث کی مانند بیان کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَىٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ . فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ - قَالَ - فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ - قَالَ - فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ " يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا " . قَالُوا لاَ وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ . قَالَ أَنَسٌ فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ كَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَخِرَبٌ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فُسُوِّيَتْ - قَالَ - فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً - قَالَ - فَكَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ إِنَّهُ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
Anas b. Malik reported:The Messenger of Allah (ﷺ) came to Medina and stayed in the upper part of Medina for fourteen nights with a tribe called Banu 'Amr b 'Auf. He then sent for the chiefs of Banu al-Najir, and they came with swords around their inecks. He (the narrator) said: I perceive as if I am seeing the Messenger of Allah (ﷺ) on his ride with Abu Bakr behind him and the chiefs of Banu al-Najjar around him till he alighted in the courtyard of Abu Ayyub. He (the narrator) said: The Messenger of Allah (ﷺ) said prayer when the time came for prayer, and he prayed in the fold of goats and sheep. He then ordered mosques to be built and sent for the chiefs of Banu al-Najjar, and they came (to him). He (the Holy Prophet) said to them: O Banu al-Najjar, sell these lands of yours to me. They said: No, by Allah. we would not demand their price, but (reward) from the Lord. Anas said: There (in these lands) were trees and graves of the polytheists, and ruins. The Messenger of Allah (may peace he upon him) ordered that the trees should be cut, and the graves should be dug out, and the ruins should be levelled. The trees (were thus) placed in rows towards the qibla and the stones were set on both sides of the door, and (while building the mosque) they (the Companions) sang rajaz verses along with the Messenger of Allah (ﷺ): O Allah: there is no good but the good of the next world, So help the Ansar and the Muhajirin
۔ عبد الوارث بن سعید نے ہمیں ابو تیاح صبعی سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں اس قبیلے میں فروکش ہوئے جنہیں بنو عمرو بن عوف کہا جاتا تھا اور وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا ، پھر آپ نے بنو نجار کے سرداروں کی طرف پیغام بھیجا تو وہ لوگ ( پورے اہتمام سے ) تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : گویا میں رسول اللہﷺ کو آپ کی سواری پر دیکھ رہا ہوں ، ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپ کے ارد گرد ہیں یہاں تک کہ آپ نے سواری کا پالان ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے آنگن میں ڈال دیا ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ( اس وقت تک ) رسول اللہﷺ کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا آپ وہیں نماز ادا کر لیتے تھے ۔ آپ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے ۔ پھر آپﷺ کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : چنانچہ آپ نے بنو نجار کے لوگوں کی طرف پیغام بھیجا ، وہ حاضر ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اے بنی نجار! مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت طے کرو ۔ ‘ ‘ انہوں نے جواب دیا : نہیں ، اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس جگہ وہی کچھ تھا جو میں تمہیں بتا رہا ہوں ، اس میں کجھوروں کے کچھ درخت ، مشرکوں کی چند قبریں اور ویرانہ تھا ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے حکم دیا ، کجھوریں کاٹ دی گئیں ، مشرکوں کی قبریں اکھیڑی گئیں اور ویرانے کو ہموار کر دیا گیا ، اور لوگوں نے کجھوروں ( کے تنوں ) کو ایک قطار میں قبلے کی جانب گاڑ دیا اور دروازے کے ( طور پر ) دونوں جانب پتھر لگا دیے گئے ۔ ( انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اور لوگ ( صحابہ ) رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور رسول اللہﷺ ان کے ساتھ تھے ، وہ کہتے تھے : اے اللہ! بے شک آخرت کی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں ، اس لیے تو انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ .
Anas b. Malik is reported to have said:I observed four rak'ahs in the noon prayer with the Messenger of Allah (ﷺ) at Medina, and said two rak'ahs in the afternoon prayer at Dhu'l-Hulaifa
محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ دونوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور آ پ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حَقٌّ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ " .
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said. it is the right of Allah upon every Muslim that he should take a bath (at least) on one day (Friday) during the seven days (of the week) and he should wash his head and body
طاوس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فر ما یا : ہر مسلمان پر اللہ تعا لیٰ کا حق ہے کہ وہ ہر سات دنوں میں ( کم سے کم ) ایک بار نہائے اپنا سر اور اپنا جسم دھوئے ۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ . وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فَرَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَمَزَّقُ كَأَنَّهُ الْمُلاَءُ حِينَ تُطْوَى .
Ubaidullah b. Anas b. Malik heard (his father) Anas b. Malik as saying:A bedouin came to the Messenger of Allah (ﷺ) on Friday as he was (delivering the sermon on his) pulpit; and the rest of the hadith is the same but with this addition:" I saw the cloud clearing just as a sheet is folded
حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک نے بیان کیاکہ انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : جمعے کے دن ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ منبر پر تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے مذکورہ بالاحدیث کے مانند ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں نے بادل کو دیکھاوہ اس طرح چھٹ رہا تھا جیسے وہ ایک بڑی چادر ہوجب اسے لپیٹا جارہا ہو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ آيَةٌ قَالَتْ نَعَمْ . فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْىُ فَأَخَذْتُ قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَى جَنْبِي فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي أَوْ عَلَى وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ - قَالَتْ - فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " أَمَّا بَعْدُ مَا مِنْ شَىْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ - لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ - لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَأَطَعْنَا . ثَلاَثَ مِرَارٍ فَيُقَالُ لَهُ نَمْ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنَّكَ لَتُؤْمِنُ بِهِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ - لاَ أَدْرِي أَىَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ - فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ " .
Asma' reported:The sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ). As I went to 'A'isha who was busy in prayer. I said: What is the matter with the people that they are praying (a special prayer)? She ('A'isha) pointed towards the sky with her head. I said: Is it (an unusual) sign? She said: Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) stood up for prayer for such a long time that I was about to faint. I caught hold of a waterskin lying by my side, and began to pour water over my head, or (began to sprinkle water) on my face. The Messenger of Allah (ﷺ) then finished and the sun had brightened. The Messenger of Allah (ﷺ) then addressed the people, (after) praising Allah and lauding Him, and then said: There was no such thing as I did not see earlier, but I saw it at this very place of mine. I ever saw Paradise and Hell. It was also revealed to me that you would be tried in the graves, as you would he tried something like the turmoil of the Dajjal. Asma' said: I do not know which word he actually used (qariban or mithl), and each one of you would be brought and it would be said: What is your knowledge about this man? If the person is a believer, (Asma' said: I do not know whether it was the word al-Mu'min or al-Mu'qin) he would say: He is Muhammad and he is the Messenger of Allah. He brought to us the clear signs and right guidance. So we responded and obeyed him. (He would repeat this three times), and it would be said to him: You should go to sleep. We already knew that you are a believer in him. So the pious man would go to sleep. So far as the hypocrite or sceptic is concerned (Asma' said: I do not know which word was that: al-Munafiq (hypocrite) or al-Murtad (doubtful) he would say: I do not know. I only uttered whatever I heard people say
ہمیں ( عبداللہ ) ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ہشام نے ، انھوں نے ( اپنی بیوی ) فاطمہ ( بنت منذر بن زبیر بن عوام ) سے اور انھوں نے ( اپنی دادی ) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کوگرہن لگ گیا ، چنانچہ میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں آئی اور وہ ( ساتھ مسجد میں ) نماز پڑھ رہی تھیں ، میں نے پوچھا : لوگوں کو کیا ہوا وہ ( اس وقت ) نماز پڑھ رہے ہیں؟انھوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ تو میں نے پوچھا : کوئی نشانی ( ظاہر ہوئی ) ہے؟انھوں نے ( اشارے سے ) بتایا : ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کو بہت زیادہ لمبا کی حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی ، میں نے اپنے پہلو میں پڑی مشک اٹھائی اور اپنے سریا اپنے چہرے پر پانی ڈالنےلگی ۔ کہا : رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے توسورج روشن ہوچکا تھا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے خطاب فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور اس کی ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " اما بعد ( حمد وثنا کے بعد ) ! کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں نے مشاہدہ نہیں کیا تھا مگر اب میں نے اپنی اس جگہ سے اس کا مشاہدہ کر لیا ہے حتی ٰ کہ جنت اور دوزخ بھی دیکھ لی ہیں ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ عنقریب ہے کہ عنقریب قبروں میں تمھاری مسیح دجال کی آزمائش کے قریب یا س جیسی آزمائش ہوگی ۔ ۔ ( فاطمہ نے کہا ) مجھے پتہ نہیں ، حضر ت اسما رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کون سا لفظ کہا ۔ اور تم میں سے ہر ایک کے پاس ( فرشتوں کی ) آمد ہو گی اور پوچھا جائے گا : تم اس آدمی کے بارے میں کیاجانتے ہو ؟ تومومن یا یقین رکھنے والا ۔ مجھے معلوم نہیں حضرت اسما رضی اللہ عنہا نے کون سا لفظ کہا ۔ ۔ کہنے گا : وہ محمد ہیں ، وہ اللہ کے رسول ہیں ، ہمارےپاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے ، ہم نے ان ( کی بات ) کوقبول کیا اور اطاعت کی ، تین دفعہ ( سوال وجواب ) ہوگا ۔ پھراُس سے کہاجائے گا : سوجاؤ ، ہمیں معلوم تھا کہ تم ان پر ایمان رکھتےہو ۔ ایک نیک بخت کی طرح سوجاؤ ۔ اور رہامنافق یا وہ جوشک وشبہ میں مبتلا تھا ۔ معلوم نہیں حضرت اسما رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کو ن سا لفظ کہا ۔ تو وہ کہے گا : میں نہیں جانتا ، میں نے لوگوں کو کچھ کہتےہوئے سناتھا تو وہی کہہ دیا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ إِحْدَى بَنَاتِهِ تَدْعُوهُ وَتُخْبِرُهُ أَنَّ صَبِيًّا لَهَا - أَوِ ابْنًا لَهَا - فِي الْمَوْتِ فَقَالَ لِلرَّسُولِ " ارْجِعْ إِلَيْهَا فَأَخْبِرْهَا إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " فَعَادَ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا . قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمْ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنَّةٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
Usama b. Zaid reported:While we were with the Messenger of Allah (ﷺ), one of his daughters sent to him (the Messenger) to call him and inform him that her child or her son was dying. The Messenger of Allah (ﷺ) told the messenger to go back and tell her that what Allah had taken belonged to Him, and to him belonged what He granted; and He has an appointed time for everything. So you (the messenger) order her to show endurance and seek reward from Allah. The messenger came back and said: She adjures him to come to her. He got up to go accompanied by Sa'd b. 'Ubada, Mu'adh b. Jabal, and I also went along with them. The child was lifted to him and his soul was feeling as restless as if it was in an old (waterskin). His (Prophet's) eyes welled up with tears. Sa'd said: What is this, Messenger of Allah? He replied: This is compassion which Allah has placed in the hearts of His servants, and God shows compassion only to those of His servants who are compassionate
حماد بن زید نے عاصم احول سے ، انھوں نے ابو عثمان نہدی سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کی بیٹیوں میں سے ایک نے آپ کو بلاتے ہوئے اور اطلاع دیتے ہوئے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کابچہ ۔ ۔ ۔ یااس کا بیٹا ۔ ۔ ۔ موت ( کے عالم ) میں ہے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیام لانے والےسے فرمایا : " ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اوراسی کا ہے ۔ جو اس نے دیا تھا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے ، اور ان کو بتادو کہ وہ صبر کریں اور اجر وثواب کی طلب گار ہوں ۔ " پیام رساں دوبارہ آیا اور کہا : انھوں نے ( آپ کو ) قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور تشریف لائیں ۔ کہا : اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا ، آپ کے سامنے بچے کو پیش کیا گیا جبکہ اس کا سانس اکھڑا ہواتھا ، ( جسم اس طرح مضطرب تھا ) جیسے اس کی جان پرانے مشکیزے میں ہوتو آپ کی آنکھیں بہہ پڑیں ، اس پر حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا؛ " یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں ہی پر رحم فرماتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، كُلُّهُمْ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been narrated by Abu Huraira through another chain of transmitters
خثیم بن عراک بن مالک نے اپنے والد ( عراک بن ما لک ) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الأَشْيَبُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month may consist of twenty-nine days
ابو سلمہ نے مجھے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا : " مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَقُتَيْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ . قَالَ " فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ وَكَذَا فَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا " .
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) specified Dhu'l-Hulaifa, for the people of Medina; Juhfa for the people of Syria; Qarn al-Manazil, for the people of Najd; Yalamlam for the people of Yemen (the Mawaqit) and those (Mawaqit) are also meant for those who live at these (places) and for those too who come from without towards them for the sake of Hajj or 'Umra. And those who live within them (within the bounds of these places) or in the suburbs of Mecca or within Mecca, they should enter upon the state of Ihram at these very places
عمرو بن دینا ر نے طاوس سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والو ں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( چاروں میقات ) ان جگہوں ( پر رہنے والے ) اور وہاں نہ رہنے والے ۔ وہاں تک پہنچنے والے ایسے لوگوں کے لیے ہیں جو حج اور عمرے کا ارادہ کریں اور جوان ( مقامات ) کے اندر ہو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے جو اس سے زیادہ حرم کے قریب ہو وہ اسی طرح کرے حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرا م باندھیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ، وَابْنُ، بِشْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا أَلاَ نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} .
Abdullah (b. Mas'ud) reported:We were on an expedition with Allah's Messenger (ﷺ) and we had no women with us. We said: Should we not have ourselves castrated? He (the Holy Prophet) forbade us to do so He then granted us permission that we should contract temporary marriage for a stipulated period giving her a garment, and 'Abdullah then recited this verse: 'Those who believe do not make unlawful the good things which Allah has made lawful for you, and do not transgress. Allah does not like trangressers" (al-Qur'an, v)
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے کہا : میرے والد نے اور وکیع اور ابن بشیر نے ہمیں اسماعیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قیس سے روایت کی ، کہا : میں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہیں ہوتی تھیں ، تو ہم نے ( آپ سے ) دریافت کیا : کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ آپ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا ، پھر آپ نے ہمیں رخصت دی کہ ہم کسی عورت سے ایک کپڑے ( یا ضرورت کی کسی اور چیز ) کے عوض مقررہ وقت تک نکاح کر لیں ، پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( یہ آیت ) تلاوت کی : " اے لوگو جو ایمان لائے! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہراؤ جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو ، بے شک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عِرَاكِ، بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَ عَلَىَّ أَفْلَحُ بْنُ قُعَيْسٍ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ، لَهُ فَأَرْسَلَ إِنِّي عَمُّكِ أَرْضَعَتْكِ امْرَأَةُ أَخِي . فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ عَمُّكِ " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:Aflah b. Qu'ais sought permission from me (to enter the house), but I refused to grant him the permission, and he sent me (the message saying): I am your uncle (in the sense) that the wife of my brother has suckled you, (but still) I refused to grant him permission. There came the Messenger of Allah (ﷺ) and I made a mention of it to him, and he said: He can enter (your house), for he is your uncle
حکم نے عراک بن مالک سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : قعیس کے بیٹے افلح نے میرے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ، انہوں نے پیغام بھیجا : میں آپ کا چچا ہوں ، میرے بھائی کی بیوی نے آپ کو دودھ پلایا ہے ، اس پر بھی میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس واقعے کا ذکر کیا ، آپ نے فرمایا : " وہ تمہارے سامنے آ سکتا ہے وہ تمہارا چچا ہے
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ، سِيرِينَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا ثُمَّ تَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا . قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ أَتَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ فَمَهْ أَوَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ
Yunus b. Jubair reported:I said to Ibn'Umar (Allah be pleased with them): A person divorcedhis wife while she was in the state of menses, whereupon he said: Do you know 'Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them), for he divorced his wife in the state of menses. 'Umar (Allah be pleased with him) came to Allah's Apostle (ﷺ) and asked him, and he (the Holy Prophet) commanded him that he should take her back, and she started her 'Idda. I said to him: When a person divorces his wife, and she is in the state of menses, should that pronouncement of divorce be counted? He said: Why not, was he hopless or foolish?
یونس نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نے یونس بن جبیر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی : ایک آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ہے؟ تو انہوں نے کہا : کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ اس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے دریافت کیا تو آپ نے اسے ( ابن عمر کو ) حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کرے ، پھر وہ ( عورت اگر اسے دوسرے طہر میں مجامعت کیے بغیر طلاق دی جائے تو وہاں سے ) آگے عدت شمار کرے ۔ کہا : میں نے ان ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے پوچھا : اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے تو کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ کہا : انہوں نے کہا : تو ( اور ) کیا؟ اگر وہ خود ہی ( صحیح طریقہ اختیار کرنے سے ) عاجز رہا اور اس نے حماقت سے کام لیا ( تو کیا طلاق شمار نہ ہو گی)
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ . فَقَالَ " اللَّهُمَّ افْتَحْ " . وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ { وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ} هَذِهِ الآيَاتُ فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلاَعَنَا فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ فَذَهَبَتْ لِتَلْعَنَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَهْ " . فَأَبَتْ فَلَعَنَتْ فَلَمَّا أَدْبَرَا قَالَ " لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا " . فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا.
Abdullah reported:We were on the night of Friday staying in the mosque when a person from the Ansar came there and said: If a person finds hiswoman along with a man, and he speaks about it, you would lash him, and if he kills, you will kill him, and if he keeps quiet he shall have to consume anger. By Allah, I will definitely ask about him from Allah's Mescenger (ﷺ). On the following day he came to Allah's Messenger (ﷺ) and asked him thus: If a man were to find with his wife a man and if he were to talk about it, you would lash him; and if he killed, you would kill him, and if he were to keep quiet. he would consume anger, whereupon he (the Holy Prophet) said: Allah, solve (this problem), and he began to supplicate (before Him), and then the verses pertaining to li'an were revealed:" Those who accuse their wives and have no witnesses except themselves" (xxiv. 6). The person was then put to test according to these verses in the presence of the people. There came he and his wife in the presence of Allah's Messenger (ﷺ), and they invoked curses (in order to testify their claim). The man swore four times in the name of Allah that he was one of the truthful and then invoked curse for the fifth time saying: Let there be curse of Allah upon him if he were among the liars. Then she began to invoke curse. Allah's Messenger (ﷺ) said to her: just wait (and curse after considering over it), but she refused and invoked curse and when she turned away, he (Allah's Apostle) said: It seems that this woman shall give birth to a curly-haired black child, And so she did gave birth to a curly-haired black child
عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے میں جمعہ کی رات کو مسجد میں تھا اتنے میں ایک مرد انصاری آیا اور بولا اگر کوئی اپنی جورو کے پاس کسی مرد کو پائے او رمنہ سے نکالے تو تم اس کو کوڑے لگاؤ گے ( حد قذف کے ) اگر مار ڈالے تو تم اس کو مار ڈالوگے ( قصاص میں ) اگر چپ رہے تو اپنا غصہ پی کر چپ رہے قسم اﷲ کی میں جناب رسول اﷲ ﷺ سے پوچھوں گا اس مسئلے کو جب دوسرا دن ہوا تو جناب رسول اﷲ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا اس نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی کو پائے پھر منہ سے نکالے تو تم کوڑے لگاؤگے اگر مار ڈالے تو تم اس کو بھی مار ڈالوگے اگر چپ رہے تو اپنا غصہ کھا کر چپ رہے ( یہ بھی نہیں ہوسکتا ) جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اﷲ کھول دے ( اس مشکل کو ) اور دعا کرنے لگے تب لعان کی آیت اتری ۔ والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم ۔ اخیر تک پھر اس مرد کا امتحان لیا گیا لوگوں کے سامنے اور وہ اس کی جورو دونوں رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے اور لعان کیا پہلے مرد نے گواہی دی چار بار کہ وہ سچا ہے پھر پانچویں بار لعنت کرکے کہا اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر لعنت ہے خداتعالیٰ کی پھر عورت چلی لعان کرنے کو آپ نے فرمایا ٹھہر ( اوراگر خاوند کی بات سچ ہے تو تو اپنے قصور کا اقرار کر ) لیکن اس نے نہ مانا اور لعان کیا جب پیٹھ موڑ کر چلے تو آپ نے فرمایا اس عورت کا بچہ شاید کالے رنگ کا گھرنگریالے بالوں والا پیدا ہوگا ( اس شخص کی صورت پر جس کا خاوند کو گمان تھا ) ۔ پھر ویسا ہی کالا گھونگریالے بالوں والا پیدا ہوا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، . أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ . وَاشْتَرَطُوا الْوَلاَءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْوَلاَءُ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ " . وَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا وَأَهْدَتْ لِعَائِشَةَ لَحْمًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ صَنَعْتُمْ لَنَا مِنْ هَذَا اللَّحْمِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ . فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
A'isha (Allah's be pleased with her) reported that she had bought Barira from the people of Ansar, but they laid down the condition that the right of inheritance (would vest in them), whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:The right of inheritance vests with one who shows favour (who emancipates) and Allah's Messenger (may peacebe upon him) gave her the choice (either to retain) her matrimonial alliance or break it). Her husband was a slave. She (Barira also) gave 'A'isha some meat as gift. Allah's Messenger (ﷺ) said: I wish you could prepare (cook) for us out of this meat. 'A'isha said, It has been given as charity to Barira, whereupon he said: That is charity for her and gift for us
سماک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو انصار کے لوگوں سے خریدا ، انہوں نے ولاء کی شرط لگائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ولاء ( کا حق ) اسی کے لیے ہے جس نے ( آزادی کی ) نعمت کا اہتمام کیا ۔ " اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا جبکہ اس کا شوہر غلام تھا ۔ اور اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت ہدیہ کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم ہمارے لیے اس گوشت سے ( سالن ) تیار کرتیں؟ " حضرت عائشہ نے کہا : یہ ( گوشت ) بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا : " وہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے ہدیہ ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A Muslim should not purchase (in opposition) to his brother
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں علاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مسلمان کسی مسلمان کے سودے پر سودا بازی نہ کرے
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ نَخْلاً لأُمِّ مُبَشِّرٍ - امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ " . قَالُوا مُسْلِمٌ . بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ .
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle (ﷺ) visited the date-palms of Umm Mubashshir (Allah be pleased with her), a lady from the Ansar, and said:Who planted this palm-a Muslim or an unbelievers The rest of the hadith is the same
ابان بن یزید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی ایک عورت ام مبشر رضی اللہ عنہا کے نخلستان میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کھجور کے درخت کس نے لگائے ہیں ، کسی مسلمان نے یا کسی کافر نے؟ " ان لوگوں نے کہا : مسلمان نے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ان سب کی حدیث کی طرح ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ { يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ}
Al-Bara' (Allah be pleased with him) reported that the last verse revealed in the Holy Qur'an is:" They ask thee for a religious verdict; say: Allah gives you a religious verdict about Kalala (the person who has neither parents nor children)" (iv)
ابن ابی خالد نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء ( بن عازب ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : قرآن کی آخری آیت جو نازل ہوئی ( یہ تھی ) ( يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ ) " وہ آپ سے فتویٰ مانگتے ہیں ، کہہ دیجئے : اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ ثَلاَثَةٍ، مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ قَالُوا مَرِضَ سَعْدٌ بِمَكَّةَ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ . بِنَحْوِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ .
Humaid b. Abd al-Rahmin al-Himayri reported on the authority of the three of the sons of Sa'd:They said: Sa'd fell ill in Mecca. Allah's Messenger (ﷺ) visited him to inquire after his health. The rest of the hadith is the same
ہمیں حماد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ایوب نے عمرو بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان حمیری سے اور انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے تین بیٹوں سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت سعد رضی اللہ عنہ مکہ میں بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے ہاں تشریف لائے ۔ ۔ آگے ثقفی کی حدیث کے ہم معنی ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح. وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَىَ شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ " مَا بَالُ هَذَا " . قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ . قَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ " . وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ .
Anas reported that Allah's Apostle (ﷺ) saw an old man being supported between his two sons. He (the Holy Prophet) said:What is the matter with him? They said: He had taken the vow to walk (on foot to the Ka'ba). Thereupon he (Allah's Apoitle) said: Allah is indifferent to his inflicting upon himself chastisement, and he commanded him to ride
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا وہ اپنے دو بیٹیوں کے سہارے چلا کر لے جایا جا رہا تھا ، آپ نے پوچھا : " اس کا کیا معاملہ ہے؟ " لوگوں نے کہا : اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے ۔ آپ نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے ۔ " اور ( اس کے پاس پیدل چل کر جانے کی استطاعت ہی نہ تھی ، اس لیے ) آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، وَالْقَاسِمِ، التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَىِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Musa al-Ash'ari with a slight variation of words
عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جَرم کے قبیلے اور اشعریوں کے درمیان محبت و اخوت کا رشتہ تھا ، ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، انہیں کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا ۔ ۔ آگے اسی کے ہم معنی بیان کیا
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، مَوْلَى أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، أَنَّ نَفَرًا، مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعُوهُ عَلَى الإِسْلاَمِ فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ وَسَقُمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ " أَلاَ تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا " . فَقَالُوا بَلَى . فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَصَحُّوا فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَطَرَدُوا الإِبِلَ فَبَلغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسُمِرَ أَعْيُنُهُمْ ثُمَّ نُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا . وَقَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ فِي رِوَايَتِهِ وَاطَّرَدُوا النَّعَمَ . وَقَالَ وَسُمِّرَتْ أَعْيُنُهُمْ .
Anas reported:Eight men of the tribe of 'Ukl came to Allah's Messenger (ﷺ) and swore allegiance to him on Islam, but found the climate of that land uncogenial to their health and thus they became sick, and they made complaint of that to Allah's Messenger (ﷺ), and he said: Why don't you go to (the fold) of our camels along with our shepherd, and make use of their milk and urine. They said: Yes. They set out and drank their (camels') milk and urine and regained their health. They killed the shepherd and drove away the camels. This (news) reached Allah's Messenger (ﷺ) and he sent them on their track and they were caught and brought to him (the Holy Prophet). He commanded about them, and (thus) their hands and feet were cut off and their eyes were gouged and then they were thrown in the sun, until they died. This hadith has been narrated on the authority of Ibn al-Sabbah with a slight variation of words
ابوجعفر محمد بن صباح اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ ابوبکر کے ہیں ، کہا : ہمیں ابن علیہ نے حجاج بن ابی عثمان سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو رجاء مولیٰ ابی قلابہ نے ابو قلابہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عُکل ( اور عرینہ ) کے آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی ، انہوں نے اس سرزمین کی آب و ہوا کو ناموافق پایا اور ان کے جسم کمزور ہو گئے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : "" تم ہمارے چرواہے کے ساتھ ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ لے کر اسی مشترکہ چراگاہ کی طرف جا رہا تھا جہاں بیت المال کے اونٹ بھی چرتے تھے : فتح الباری : 1/338 ) اونٹوں میں کیوں نہیں چلے جاتے تاکہ ان کا پیشاب اور دودھ پیو؟ "" انہوں نے کہا : کیوں نہیں! چنانچہ وہ نکلے ، ان کا پیشاب اور دودھ پیا اور صحت یاب ہو گئے ، پھر انہوں نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ) چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ بھی بھگا لے گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے ( ایک دستہ ) روانہ کیا ، انہیں پکڑ لیا گیا اور ( مدینہ میں ) لایا گیا تو آپ نے ان کے بارے میں ( قرآن کی سزا پر عمل کرتے ہوئے ) حکم دیا ، اس پر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے ، ان کی آنکھیں گرم سلاخوں سے پھوڑ دی گئیں ، پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا گیا حتی کہ وہ مر گئے ۔ ابن صباح نے اپنی روایت میں ( کے بجائے ) اور ( کے بجائے ) کے الفاظ کہے ( معنی وہی ہے ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنَ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا، أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " . ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ " إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ " .
A'isha reported that the Quraish had been anxious about the Makhzumi woman who had committed theft, and said:Who will speak to Allah's Messenger (ﷺ) about her? They said: Who dare it, but Usama, the loved one of Allah's Messenger (ﷺ)? So Usama spoke to him. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Do you intercede regarding one of the punishments prescribed by Allah? He then stood up and addressed (people) saying: O people, those who have gone before you were destroyed, because if any one of high rank committed theft amongst them, they spared him; and it anyone of low rank committed theft, they inflicted the prescribed punishment upon him. By Allah, if Fatima, daughter of Muhammad, were to steal, I would have her hand cut off. In the hadith transmitted on the authority of Ibn Rumh (the words are):" Verily those before you perished
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : ہمیں لیث نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ قریش کو ایک مخزومی عورت ، جس نے چوری کی تھی ، کے معاملے نے فکر مند کر دیا ، انہوں نے کہا : اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ہی اس کی جراءت کر سکتے ہیں؟ چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا تم حدود اللہ میں سے ایک حد ( کو ساقط کرنے ) کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، خطبہ دیا اور فرمایا : "" اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے تباہ کر ڈالا کہ جب ان کا کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے ۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔ "" ابن رمح کی حدیث میں : "" تم سے پہلے لوگ تباہ ہو گئے "" کے الفاظ ہیں
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلاَثًا . وَلَمْ يَذْكُرْ وَلاَ تَفَرَّقُوا .
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters, but with a slight variation of words
ابوعوانہ نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے ( ناپسند کرتا ہے کی جگہ ) " ناراض رہتا ہے " کہا اور انہوں نے " فرقوں میں نہ بٹو " ( کا جملہ ) بیان نہیں کیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ إِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ فَلاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ " .
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:None (of you) should milk the animal of another, but with his permission. Does any one of you like that his chamber be raided, and his vaults be broken, and his foodstuff be removed? Verily the treasures for them (those who keep animals) are the udders of the animals which feed them. So none of you should milk the animal of another but with his permission
عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی تم میں سے دوسرے کے جانور کا دودھ نہ دھوئے مگر اس کی اجازت سے۔ کیا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کی کوٹھری میں کوئی آئے اور اس کا خزانہ توڑ کر اس کے کھانے کا غلہ نکال لے جائے؟ اسی طرح جانوروں کے تھن ان کے خزانے ہیں کھانے کو تو کوئی نہ دوھوہے کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے۔ ( مگر جو مرتا ہو مارے بھوک کے وہ بقدر ضرورت کے دوسرے کا کھانا بعیر اجازت کے کھا سکتا ہے۔ لیکن اس پر قیمت لازم ہوگی اور بعض سلف اور محدثین کے نزدیک لازم نہ ہوگی۔ اگر مردار بھی موجود ہو تو اس میں اختلاف ہے۔ بعضوں کے نزدیک مردار کھالے اور بعضوں کے نزدیک غیر کا کھانا۔)
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
Ibn Umar reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:There will be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment
عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ حَضَرْتُ أَبِي حِينَ أُصِيبَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ وَقَالُوا جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا . فَقَالَ رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ قَالُوا اسْتَخْلِفْ فَقَالَ أَتَحَمَّلُ أَمْرَكُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّي مِنْهَا الْكَفَافُ لاَ عَلَىَّ وَلاَ لِي فَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي - يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ - وَإِنْ أَتْرُكْكُمْ فَقَدْ تَرَكَكُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ .
It has been narrated on the authority of 'Abdullah b. 'Umar who said:I was present with my father when he was wounded. People praised him and said: May God give you a noble recompense! He said: I am hopeful (of God's mercy) as well as afraid (of His wrath) People said: Appoint anyone as your successor. He said: Should I carry the burden of conducting your affairs in my life as well as in my death? (So far as Caliphate is concerned) I wish I could acquit myself (before the Almighty) in a way that there is neither anything to my credit nor anything to my discredit. If I would appoint my successor, (I would because) one better than me did so. (He meant Abu Bakr.) If I would leave You alone, (I would do so because) one better than me, i. e. the Messenger of Allah (ﷺ), did so. 'Abdullah says: When he mentioned the Messenger of Allah (ﷺ) I understood that he would not appoint anyone as Caliph
ہشام کے والد ( عروہ ) نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب میرے والد ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) زخمی ہوئے تو میں ان کے پاس موجود تھا ، لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا : "" اللہ آپ کو اچھی جزا دے! "" انہوں ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں ( بیک وقت ) رغبت رکھنے والا اور ڈرنے والا ہوں ۔ لوگوں نے کہا : آپ کسی کو اپنا ( جانشیں ) بنا دیجیے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں زندگی میں بھی تمہارے معاملات کا بوجھ اٹھاؤں اور مرنے کے بعد بھی؟ مجھے صرف یہ خواہش ہے کہ ( قیامت کے روز ) اس خلافت سے میرے حصے میں یہ آ جاے کہ ( حساب کتاب ) برابر سرابر ہو جائے ۔ نہ میرے خلاف ہو ، نہ میرے حق میں ( چاہے انعام نہ ملے ، مگر سزا سے بچ جاؤں ) اگر میں جانشیں مقرر کروں تو انہوں نے مقرر کیا جو مجھ سے بہتر تھے ، یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اگر میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دوں تو انہوں نے تمہیں ( جانشیں مقرر کیے بغیر ) چھوڑ دیا جو مجھ سے ( بہت زیادہ ) بہتر تھے ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو میں نے جان لیا کہ وہ جانشیں مقرر نہیں کریں گے
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، كِلاَهُمَا عَنْ حَيْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ .
This hadith has been narrated on the authority of Haiwa with the same chain of transmitters, but with a slight variation of words
زہیر بن وہب اور مقری دونوں نے حیوہ سے اسی سند کے ساتھ ابن مبارک کی حدیث کی طرح روایت کی ، البتہ ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کاذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، - يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ - حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ، بْنُ عَازِبٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ نَحْرٍ فَقَالَ " لاَ يُضَحِّيَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ " . قَالَ رَجُلٌ عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ قَالَ " فَضَحِّ بِهَا وَلاَ تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " .
Al-Bara' b. 'Azib reported:Allah's Messenger (ﷺ) addressed us on the day of Nahr and said: None should sacrifice the animal unless he has completed the ('Id) prayer. A person said: I have a milch goat of less than one year, better than two fat goats. Thereupon he said: Sacrifice it, and no goat of less than a year of age will be accepted as sacrifice after you
عاصم احول نے شعبی سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرما یا : " کو ئی شخص نماز پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے ۔ " ایک شخص نے کہا : میرے پاس ایک سالہ دودھ پینے والی ( کھیری ) بکری ہے جو گوشت والی دوبکریوں سے بہترہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم اس کی قربانی کردو ، تمھا رے بعد ایک سالہ بکری کسی کے لیے کا فی نہ ہو گی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، - يَعْنِي الْحَنَفِيَّ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ لَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ الآيَةَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ فِيهَا الْخَمْرَ وَمَا بِالْمَدِينَةِ شَرَابٌ يُشْرَبُ إِلاَّ مِنْ تَمْرٍ .
Anas b. Malik reported:Allah revealed the verse in which Allah prohibited the use of liquor. In those days no other liquor was drunk but that prepared from dates
عبدالحمید بن جعفر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل فرمائی جس میں اس نے شراب کو حرام کیا تو اس وقت مدینہ میں کھجور کے علاوہ اور ( کسی چیز کی بنی ہوئی ) شراب نہیں پی جاتی تھی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، . بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَإِسْنَادِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ . غَيْرُ مُعَاذٍ وَحْدَهُ إِنَّمَا قَالُوا إِنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى.
This hadith has been narrated on the authority of Shu`ba through another chain of transmitters. But there is no mention of "I personally saw him" in this hadith
وکیع محمد بن جعفر ابن ابی عدی اور بہز ، ان سب نے شعبہ سے معاذ کی حدیث کے مانند انھی کی سند کے ساتھ حدیث روایت کی اور اکیلے معاذ کے سوا ، ان میں سے کسی نے حدیث میں " میں نے حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا " کے الفا ظ نہیں کہے ۔ سب نے یہی کیا : حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلاَّ وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً . وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلاَتِنَا هَذِهِ - قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهَا الْعَصْرَ - فَقَالَ " مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَىْءٍ أَوْ أَسْكُتُ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلاَّ كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا " .
Humran b. Aban reported:I used to fetch water for 'Uthman for his purification. Never was there a day that he did not take a bath with a small quantity of water. And Uthman said: The Messenger of Allah (ﷺ) at the time of our returning from our prayer told us (certain things pertaining to purification). Mis'ar said: I find that it was afternoon prayer. He said: I do not know whether I should tell you a thing or keep quiet. We said: Messenger of Allah, tell us if it is good and if it is otherwise, Allah and His Apostle know better. Upon this he said: A Muslim who purifies (himself) and completes purification as enjoined upon him by Allah and then offers the prayers, that will be expiation (of his sins he committed) between these (prayers)
مسعر نےابو صخرہ جامع بن شداد سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں نےحمران بن ابان سے سنا ، انہوں نےکہا : میں عثمان رضی اللہ عنہ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا ( پانی ) اپنے اوپر نہ بہا لیتے ( ہلکا سا غسل نہ کر لیتے ، ایک دن ) عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس نماز سے ( مسعر کا قول ہے : میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے ) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی ، آپ نے فرمایا : ’’میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول!اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے ، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اس کو مکمل طریقے سے کرتا ہے پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي فَقَالُوا إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا . فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ " .
Mughira b. Shu'ba reported:When I came to Najran, they (the Christians of Najran) asked me: You read" O sister of Harun" (i. e. Hadrat Maryam) in the Qur'an, whereas Moses was born much before Jesus. When I came back to Allah's Messenger (ﷺ) I asked him about that, whereupon he said: The (people of the old age) used to give names (to their persons) after the names of Apostles and pious persons who had gone before them
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں نجران میں آیا ، تو وہاں کے ( انصاری ) لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا کہ تم پڑھتے ہو کہ ( آیت ) ( ”اے ہارون کی بہن“ ( مریم : 28 ) ( یعنی مریم علیہا السلام کو ہارون کی بہن کہا ہے ) حالانکہ ( سیدنا ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے اور ) موسیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام سے اتنی مدت پہلے تھے ( پھر مریم ہارون علیہ السلام کی بہن کیونکر ہو سکتی ہیں؟ ) ، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( یہ وہ ہارون تھوڑی ہیں جو موسیٰ کے بھائی تھے ) بنی اسرائیل کی عادت تھی ( جیسے اب سب کی عادت ہے ) کہ وہ پیغمبروں اور اگلے نیکوں کے نام پر نام رکھتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ . قَالَ " وَعَلَيْكُمْ " . قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَةُ لاَ تَكُونِي فَاحِشَةً " . فَقَالَتْ مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا فَقَالَ " أَوَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِي قَالُوا قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ " .
A'isha reported that some Jews came to Allah's Apostle (ﷺ) and they said:Abu'l-Qasim (the Kunya of the Holy Prophet), as-Sam-u-'Alaikum, whereupon he (the Holy Prophet) said: Wa 'Alaikum. A'isha reported: In response to these words of theirs, I said: But let there be death upon you and disgrace also, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: 'A'isha, do not use harsh words. She said: Did you hear what they said? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Did I not respond to them when they said that; I said to them: Wa 'Alaikum (let it be upon you)
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم سے انھوں نے مسروق سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود میں سے کچھ لو گ آئے ، انھوں نے آکر کہا : ( السام عليك يا أبا القاسم ) ( ابو القاسم !آپ پر موت ہو ) کہا آپ نے فر ما یا : " وَ عَلَيكُم ( تم لوگوں پر ہو! ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : " بلکہ تم پر موت بھی ہو ذلت بھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !زبان بری نہ کرو ۔ انھوں ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : آپ نے نہیں سنا ، انھوں نے کیا کہا تھا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " انھوں نے جو کہا تھا میں نے ان کو لوٹا دیا ، میں نے کہا : تم پر ہو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي . كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلاَمِي وَجَارِيَتِي وَفَتَاىَ وَفَتَاتِي " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None of you should say: My bondman and my slave-girl, for all of you are the bondmen of Allah, and all your women are the slave-girls of Allah; but say: My servant, my girl, and my young man and my young girl
لا ء کے والد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے ، تم سب اللہ کے بندے ہواور تمھا ری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں ۔ البتہ یو ں کہہ سکتا ہے ۔ میرا لڑکا میری لڑکی ، میرا جوان ، خادم ، مری خادمہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
Ubada b. as-Samit reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The vision of a believer is the forty-sixth part of Prophecy
محمد بن جعفر ، ابو داود عبد الرحمٰن بن مہدی اور معاذ عنبری ۔ الفاظ انھی کے ہیں ۔ ان سب نے شعبہ سے روایت کی ، انھوں نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے عباد د بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ایک مو من کا رؤیا نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي، سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ فَأَدْرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ شَجَرَةٍ فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا - قَالَ - وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ - قَالَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ رَجُلاً أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَأَخَذَ السَّيْفَ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي فَلَمْ أَشْعُرْ إِلاَّ وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ فَقَالَ لِي مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ قُلْتُ اللَّهُ . ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قَالَ قُلْتُ اللَّهُ . قَالَ فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ " . ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Jabir b. Abdullah reported:We went along with Allah's Messenger (ﷺ) on an expedition towards Najd and Allah's Messenger (ﷺ) found us in a valley abounding in thorny trees. Allah's Messenger (ﷺ) stayed for rest under a tree and he suspended his sword by one of its branches under which he was taking rest. The persons scattered in the valley and they also began to take rest under the shade of trees, and Allah's Messenger (ﷺ) said: A person came to me while I was asleep and he took hold of the sword. I woke up and found him standing upon my head and I had hardly become alert (and saw) that the sword was in his hand. And he said: Who can protect you from me? I said: Allah. He again said: Who can protect you from me? I said: Allah. He put his sword in the sheath (and you can see) this man sitting here. Allah's Messenger (ﷺ) did not in any way touch him
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز محمد بن جعفر بن زیاد نے ۔ الفاظ انھی کے ہیں ۔ ابراہیم بن سعد سے ، انھوں نے سنان بن ابی سنان دؤلی سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کو گئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وادی میں پایا جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار ایک شاخ سے لٹکا دی اور لوگ اس وادی میں الگ الگ ہو کر سایہ ڈھونڈھتے ہوئے پھیل گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص میرے پاس آیا ، میں سو رہا تھا کہ اس نے تلوار اتار لی اور میں جاگا تو وہ میرے سر پر کھڑا ہوا تھا ۔ مجھے اس وقت خبر ہوئی جب اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار آ گئی تھی ۔ وہ بولا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ! پھر دوسری بار اس نے یہی کہا تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ۔ یہ سن کر اس نے تلوار نیام میں کر لی ۔ وہ شخص یہ بیٹھا ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ بھی نہ کہا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا . قَالَ " فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا . قَالَ " فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا . قَالَ " فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Who amongst you is fasting today? Abu Bakr said: I am. He (again) said: Who amongst you followed a funeral procession today? Abu Bakr said: I did. He (the Prophet) again said: Who amongst you served food to the needy? Abu Bakr said: I did. He (again) said: Who amongst you has today visited the sick? Abu Bakr said: I did. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Anyone in whom (these good deeds) are combined will certainly enter paradise
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریا فت کیا : " آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟ " حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " آج تم میں سے کون جنازے میں شامل ہوا ۔ ؟ " ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " آج تم میں سے کس شخص نے کسی مسکین کو کھا نا کھلا یا ؟ " حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ۔ آپ نے فر ما یا : " آج تم میں سے کس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی ہے ۔ ؟حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کسی آدمی میں یہ سب اوصاف اکٹھے ہو تے ہیں تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ فَقُلْنَا لَهُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّهُمُ الأَعْرَابُ وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ " .
Ibn Dinar reported that a desert Arab met Abdullah b. 'Umar on the way to Mecca. 'Abdullah greeted him and mounted him upon the donkey on which he had been riding and gave him the turban that he had on his head. Ibn Dinar (further) reported:We said to him ('Abdullah b. 'Umar): May Allah do good to you, these are desert Arabs and they are satisfied even with meagre (things). Thereupon Abdullah said: His father was loved dearly by 'Umar b. Khattib and I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The finest act of goodness on the part of a son is to treat kindly the loved ones of his father
ولید بن ولید نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کو مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک بدوی شخص ملا ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کیا اور جس گدھے پر خود سوار ہوتے تھے اس پر اسے بھی سوار کر لیا اور اپنے سر پر جو عمامہ تھا وہ اتار کر اس کے حوالے کر دیا ۔ ابن دینار نے کہا : ہم نے ان سے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو ہر نیکی کی توفیق عطا فرمائے! یہ بدو لوگ تھوڑے دیے پر راضی ہو جاتے ہیں ۔ تو حضرت عبداللہ ( بن عمر ) رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس شخص کا والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محبوب دوست تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " والدین کے ساتھ بہترین سلون ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ہے جن کے ساتھ اس کے والد کو محبت تھی ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الآنَ فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلاَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ قَالَ " لاَ . بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلاَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ " . قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ زُهَيْرٌ ثُمَّ تَكَلَّمَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِشَىْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَسَأَلْتُ مَا قَالَ فَقَالَ " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " .
Jabir reported that Suriqa b. Malik b. Ju'shuin came and said:Allah's Messenger, explain our religion to us (in a way) as if we have been created just now. Whosoever deeds we do today, is it because of the fact that-the pens have dried (after recording them) and the destitiles have began to operate or these have effects in future? Thereupon he said: The pens have dried tmd destinies have begun to operate. (Suraqa b. Malik) said: If it Is so, then what is the use of doing good deeds? Zuhair said: Then Abu Zubair said something but I could not understand that and I said. What did he say? Thereupon he said: Act, for everyone is facilitated what he intends to do
ابوخیثمہ زہیر ( بن حرب ) نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے دین کو اس طرح بیان کیجئے ، گویا ہم ابھی پیدا کیے گئے ہیں ، آج کا عمل ( جو ہم کر رہے ہیں ) کس نوع میں آتا ہے؟ کیا اس میں جسے ( لکھنے والی ) قلمیں ( لکھ کر ) خشک ہو چکیں اور جو پیمارنے مقرر کیے گئے ہیں ان کا سلسلہ جاری ہو چکا ہے ( ہم بس انہی کے مطابق عمل کیے جا رہے ہیں؟ ) یا اس میں جو ہم از سر نو کر رہے ہیں ( پہلے سے ان کے بارے میں کچھ طے نہیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ، بلکہ جسے لکھنے والی قلمیں ( لکھ کر ) خشک ہو چکیں اور جن کے مقرر شدہ پیمانوں کے مطابق عمل شروع ہو چکا ۔ "" انہوں نے کہا : تو پھر عمل کس لیے ( کیا جائے؟ ) زہیر نے کہا : پھر اس کے بعد ابوزبیر نے کوئی بات کی جو میں نہیں سمجھ سکا ، تو میں نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : ( آپ نے فرمایا : ) "" تم عمل کرو ، ہر ایک کو سہولت میسر کی گئی ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ وَعَبْدَةَ لاَ يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
This hadith has been transmitted on the authority of Anas b. Malik through another chain of narrators, but with a slight variation of wording
محمد بن بشر ، عبدہ اور ابواسامہ ، ان سب نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کی ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ابن بشر اور عبدہ کی حدیث میں ہے : میرے بعد یہ حدیث تمہیں کوئی نہیں سنائے گا ۔ میں نے ( خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، پھر اسی ( شعبہ کی حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي، خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ فِي بَطْنِهِ فَقَالَ لَوْمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ .
Abu Hazim reported:I visited Khabbab who had seven cauteries on his stomach and he said: Had Allah's Messenger (ﷺ) not forbidden us to call for death, I would have done so
عبداللہ بن ادریس نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اس وقت ان کے پیٹ پر ( علاج کے لئے ) سات جگہ ( تپتی ہوئی دھات سے ) داغ لگائے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا : اگر یہ نہ ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے منع فرمایا تھا ، تو میں اس ( موت ) کی دعا کرتا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كَامِلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ " . فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ . فَقَالَ " إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ " فَنَاوَلَتْهُ .
Abu Huraira reported:While the Messenger of Allah (ﷺ) was in the mosque, he said: O 'A'isha, get me that garment. She said: I am menstruating. Upon this he remarked: Your menstruation is not in your hand, and she, therefore, got him that
حضرت ابو ہریرہ ﷺ سے روایت ہے ، انہو ں نے کہا : ایک بار رسول اللہ ﷺ مسجد میں موجود تھے تو آپ نے فرمایا : ’’اے عائشہ ! مجھے ( نماز کا ) کپڑا پکڑا دو ۔ ‘ ‘ تو انہوں نے کہا : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ انہوں نے آپ کو کپڑا پکڑا دیا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، - يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ أَبَا ضَمْرَةَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " بَيْنَمَا ثَلاَثَةُ نَفَرٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْظُرُوا أَعْمَالاً عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ فَادْعُوا اللَّهَ تَعَالَى بِهَا لَعَلَّ اللَّهَ يَفْرُجُهَا عَنْكُمْ . فَقَالَ أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَامْرَأَتِي وَلِيَ صِبْيَةٌ صِغَارٌ أَرْعَى عَلَيْهِمْ فَإِذَا أَرَحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَىَّ فَسَقَيْتُهُمَا قَبْلَ بَنِيَّ وَأَنَّهُ نَأَى بِي ذَاتَ يَوْمٍ الشَّجَرُ فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ فَجِئْتُ بِالْحِلاَبِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَىَّ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ . فَفَرَجَ اللَّهُ مِنْهَا فُرْجَةً فَرَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ . وَقَالَ الآخَرُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ وَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَتَعِبْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ فَجِئْتُهَا بِهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَفْتَحِ الْخَاتَمَ إِلاَّ بِحَقِّهِ . فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً . فَفَرَجَ لَهُمْ . وَقَالَ الآخَرُ اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ أَعْطِنِي حَقِّي . فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَقَهُ فَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا فَجَاءَنِي فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَظْلِمْنِي حَقِّي . قُلْتُ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا . فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَسْتَهْزِئْ بِي . فَقُلْتُ إِنِّي لاَ أَسْتَهْزِئُ بِكَ خُذْ ذَلِكَ الْبَقَرَ وَرِعَاءَهَا . فَأَخَذَهُ فَذَهَبَ بِهِ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مَا بَقِيَ . فَفَرَجَ اللَّهُ مَا بَقِيَ .
Abdullah b. 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Three persons set out on a journey. They were overtaken by rain and they had to find protection in a mountain cave where at its mouth there fell a rock of that mountain and thus blocked them altogether. One of them said to the others: Look to your good deeds that you performed for the sake of Allah and then supplicate Allah, the Exalted, that He might rescue you (from this trouble). One of them said: 0 Allah, I had my parents who were old and my wife and my small children also. I tended the flock and when I came back to them in the evening, I milked them (the sheep, goats, cows, etc.) and first served that milk to my parents. One day I was obliged to go out to a distant place in search of fodder and I could not come back before evening and found them (the parents) asleep. I milked the animals as I used to milk and brought milk to them and stood by their heads avoiding to disturb them from sleep and I did not deem it advisable to serve milk to my children before serving them. My children wept near my feet. I remained there in that very state and my parents too until it was morning. And (0 Allah) if Thou art aware that I did this in order to seek Thine pleasure, grant us riddance from this trouble. (The rock slipped a bit) that they could see the sky. The second one said: 0 Allah, I had a female cousin whom I loved more than the men love the women. I wanted to have sexual intercourse with her; she refused but on the condition of getting one hundred dinirs. It was with very great difficulty that I could collect one hundred dinirs and then paid them to her and when I was going to have a sexual intercourse with her, that she said: Servant of Allah, fear Allah and do not break the seal (of chastity) but by lawful means. I got up. 0 Allah, if Thou art aware that I did this in order to seek Thine pleasure, rid us from this trouble. The situation was somewhat eased for them. The third one said: Allah, I employed a workman for a measure of rice. After he had finished his work I gave him his dues (in the form of) a measure of rice, but he did not accept them. I used these rice as seeds, and that gave a bumper crop and I became rich enough to have cows and flocks (in my possession). He came to me and said: Fear Allah, and commit no crueltv upon me in regard to my dues. I said to him: Takeaway this flock of cows and sheep. He said: Fear Allah and do not make a fun of me. I said: I am not making a fun of you. You take the cows and the flocks. So he took them. 0 Allah, if Thou art aware that I did it for Thine pleasure, case the situation for us. And Allah relieved them from the rest of the trouble
انس بن عیاض ابو ضمرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ نے فرمایا : "" تین آدمی پیدال چلے جا رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا ، انہوں نے پہاڑ میں ایک غار کی پناہ لی ، تو ( اچانک ) ان کے گار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان آ گری اور ان کے اوپر آ کر انہیں ڈھانک دیا ، انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : تم اپنے ان نیک اعمال پر نظر ڈالو جو تم نے ( صرف اور صرف ) اللہ کے لیے کیے ہوں اور ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، شاید وہ اس بندش اور قید سے تمہیں آزاد کر دے ۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا ، اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین ، بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کی میں نگہداشت کرتا ہوں ۔ جب شام کو میں اپنے جانور ( چرانے کے بعد انہیں ) ان کے پاس واپس آتا ، ان کا دودھ دوہتا تو آغاز اپنے والدین سے کرتا اور اپنے بچوں سے پہلے انہیں پلاتا تھا ۔ ایک دن ( مویشیوں کے چرنے کے قابل ) درختوں کی تلاش مجھے بہت دور لے گئی ، میں رات سے پہلے گھر نہ پہنچ سکا ۔ میں نے انہیں پایا کہ وہ دونوں سو چکے ہیں ۔ میں جس طرح 0ہر روز ) دودھ نکالا کرتا تھا نکالا اور وہ ڈوبا ہوا دودھ لے کر ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا ۔ مجھے یہ بھی ناپسند تھا کہ ان کو نیند سے جگاؤں اور یہ بھی گوارا نہ تھا کہ ان سے پہلے بچوں کو پلاؤں ، بچے بھوک کی شدت سے بلکتے ہوئے میرے قدموں میں لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ، میں اسی حال میں ( کھڑا ) رہا اور وہ بھی اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح طلوع ہو گئی ۔ ( اے اللہ! ) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا ہے تو اس ( غار کے بند منہ ) میں اتنا سوراخ کر دے کہ ہم آسمان کو دیکھ لیں ۔ اللہ نے اس میں ایک سوراخ کر دیا کہ وہ آسمان کو دیکھنے لگے ۔ اور دوسرا ( ساتھی ) کہنے لگا : اے اللہ! میری ایک چچا زاد تھی ، میں اس سے وہی شدید محبت کرتا تھا جو ایک مرد عورت سے کرتا ہے ۔ میں نے اس سے اپنے لیے ( خود ) اسی کو مانگا ۔ اس نے اس وقت تک ( میری بات ماننے سے ) انکار کر دیا ، یہاں تک کہ میں اسے ( سونے کے ) سو دینار لا کر دوں ۔ میں انہیں حاصل کرنے میں لگ گیا یہاں تک کہ سو دینار اکٹھے کر لیے ، پھر جب میں ان کے دونوں قدموں کے درمیان پہنچا تو وہ کہنے لگی : اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور حق ( نکاح ) کے بغیر مہر ( بکارت ) نہ توڑ ۔ تو ( تیرا نام سن کر ) میں اس سے ( الگ ہو کر ) کھڑا ہو گیا ۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تجھے راضی کرنے کے لیے کیا تھا تو اس میں ( اور زیادہ ) سوراخ کر دے ( اللہ نے ) ان کے لیے ( اور زیادہ ) سوراخ کر دیا ۔ اور تیسرے نے ( دعا کرتے ہوئے ) کہا : اے اللہ! میں نے ایک مزدور کو چاولوں کے ایک فرق ( تین صاع ، تقریبا ساڑھے سات کلو گرام ) کی اجرت کے عوض کام پر لگایا ۔ جب اس نے اپنا کام پورا کر لیا تو کہا : میرا حق ( اجرت ) ادا کرو ۔ میں نے اسے اس کا فرق ( تین صاع چاول ) پیش کیا ۔ وہ ( اسے کم قرار دیتے ہوئے ) اس کو چھوڑ کر چلا گیا ۔ میں مسلسل اس ( تین صاع چاولوں ) کو کاشت کرنے لگا ، یہاں تک کہ میں نے اس ( کی آمدنی ) سے گائے ( کے بہت سے ریوڑ ) اور ان کو چرانے والے ( غلام ) اکٹھے کر لیے ۔ پھر ( مدت بعد ) وہ میرے پاس ( واپس ) آیا اور کہا : اللہ سے ڈرو ، میرے حق میں مجھ پر ظلم نہ کرو ۔ میں نے کہا : ان گایوں ( کے ریوڑوں ) اور انہیں چرانے والے ( غلاموں ) کی طرف جاؤ اور انہیں لے لو ۔ اس نے کہا : اللہ سے ڈرو! میرے ساتھ مذاق تو نہ کرو ۔ میں نے کہا : میں مذاق نہیں کر رہا ، یہ سب گائیں اور ان کو چرانے والے ( غلام ) لے جاؤ ، وہ انہیں لے کر چلا گیا ۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تجھے راضی کرنے کے لیے کیا تھا تو جو حصہ باقی رہ گیا ہے ، اسے بھی کھول دے ۔ اللہ نے باقی حصہ بھی کھول دیا ( اور وہ آزاد ہو کر غار سے باہر نکل آئے ۔)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:By Him in Whose Hand is my life, if you were not to commit sin, Allah would sweep you out of existence and He would replace (you by) those people who would commit sin and seek forgiveness from Allah, and He would have pardoned them
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ( لوگ ) گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تم کو ( اس دنیا سے ) لے جائے اور ( تمہارے بدلے میں ) ایسی قوم کو لے آئے جو گناہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگیں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ قُلْنَا لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتَ قِتَالَكُمْ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ فَإِنَّ الرَّأْىَ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ أَوْ عَهْدًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً . وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي أُمَّتِي " . قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ . وَقَالَ غُنْدَرٌ أُرَاهُ قَالَ " فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لاَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلاَ يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ سِرَاجٌ مِنَ النَّارِ يَظْهَرُ فِي أَكْتَافِهِمْ حَتَّى يَنْجُمَ مِنْ صُدُورِهِمْ " .
Qais b. 'Ubad reported:We said to 'Ammar: Was your fighting (on the side of 'Ali in the Battle of Siffin) a matter of your own choice or you got its hints from Allah's Messenger (ﷺ) for it, is likely for one to err in one's own discretion or was it because of any covenant that Allah's Messenger (ﷺ) got from you? He said: It was not because of any covenant that Allah's Messenger (ﷺ) got from us which he did get from other people, and he further said that Allah's Messenger (ﷺ) said:" In my Ummah." And I think that Hudhaifa reported to me and according to Ghundar (the words are) that he said: In my Ummah, there would be twelve hypocrites and they would not be admitted to Paradise and they would not smell its odour, until the camel would pass through a needle's hole. Dubaila (ulcer) would be enough to (torment them) -a kind of flame of Fire which would appear in their shoulders and it would protrude from their chest
محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا؛ ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم لوگوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں ) اپنی جنگ کو کیسے دیکھتے ہیں ، کیا یہ ایک رائے ہے جو آپ نے غوروفکر سے اختیار کی ہے؟ تو رائے غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی ، یا کوئی ذمہ داری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی ایسی ( خصوصی ) ذمہ داری نہیں دی تھی جو تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" بےشک میری امت میں ۔ ۔ ۔ "" شعبہ نے کہا : اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کہا تھا : مجھے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ( یہ ) حدیث سنائی ۔ اور غندر نے کہا : مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے کہا : "" میری امت میں بارہ منافق ہیں ، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے ، جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے ۔ ان میں سے آٹھ ایسے ہیں ( کہ ان کے شر سے بچاؤ کے لیے ) تمہاری کفایت ایک ایسا پھوڑا کرے گا جو آگ کے جلتے ہوئے دیے کی طرح ( اوپر سے سرک ) ہو گا ، ان کے کندھوں میں طاہر ہو گا یہاں تک کہ ان کے سینوں سے نکل آئے گا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تَكُونُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَكْفَؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ كَمَا يَكْفَأُ أَحَدُكُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلاً لأَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالَ فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَارَكَ الرَّحْمَنُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ " بَلَى " . قَالَ تَكُونُ الأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً - كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ " بَلَى " . قَالَ إِدَامُهُمْ بَالاَمُ وَنُونٌ . قَالُوا وَمَا هَذَا قَالَ ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْكُلُ مِنْ زَائِدَةِ كَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا .
Abu al-Sa'id Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying that the earth would turn to be one single bread on the Day of Resurrection and the Almighty would turn it in His hand as one of you turns a loaf while on a journey. It would be a feast arranged in the honour of the people of Paradise. He (the narrator) further narrated that a person from among the Jews came and he said:Abu al-Qasim, may the Compassionate Lord be pleased with you! May I inform you about the feast arranged in honour of the people of Paradise on the Day of Resurrection? He said: Do it, of course. He said: The earth would become one single bread. Then Allah's Messenger (ﷺ) looked towards us and laughed until his molar teeth became visible. He then again said: May I inform you about that with which they would season it? He said: Do it, of course. He said: Their seasoning would be balim and fish. The Companions of the Prophet (ﷺ) said: What is this balam? He said: Ox and fish from whose excessive livers seventy thousand people would be able to eat
عطاءبن یسار نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن یہ زمین ایک ہی روئی بن جائے گی ۔ جبار ( اللہ تعالیٰ ) اہل جنت کی مہمانی کے لیے اسے اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرروئی کی طرح بنا دے گا جس طرح تم میں سے کو ئی شخص سفر میں روئی کو الٹ پلٹ کرتا ہے ۔ ( حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اتنے میں یہودیوں میں سے ایک شخص آگیا اس نے کہا : ابو القاسم الرحمٰن آپ پر برکت نازل فرمائے !کیا میں آپ کو قیامت کے روز اہل جنت کی ضیافت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟آپ نے ارشاد فرمایا : " کیوں نہیں ! ( بتاؤ ) اس نے کہا : زمین ایک ( بڑی سی ) روئی بن جا ئے گی ۔ جس طرح ( اس کی آمد سے قبل خود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ ( ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا پھر آپ ہنسے حتی کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک نظر آنے لگے ۔ اس نے ( پھر ) کہا : کیامیں آپ کو ان کے سالن کے بارے میں نہ بتاؤں ؟آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں ( بتاؤ ) " اس نے کہا " ان کا سالن بالام اور نون ہو گا یہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا وہ کیا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیل اور مچھلی یہ اس کے جگر کے چھوٹے سے اضافی حصے کو ( جوا صل جگر کے ساتھ ایک طرف موجود ہو تا ہے ) ستر ہزار لوگ کھائیں ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ مِنَ الأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تِلْكَ مَنَازِلُ الأَنْبِيَاءِ لاَ يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ . قَالَ " بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ " .
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The inmates of Paradise would see the inmates of the apartment over them just as you see the shining planets which remain in the eastern and the western horizon because of the superiority some have over others. They said: Allah's Messenger, would in these abodes of Apostles others besides them not be able to reach? He said: Yes, they will, by Him, in Whose hand is my life, those who believe in God and acknowledge the Truth, will reach them
وہیب نے ابو حازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ، الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفُهُ وَمَنْ وَجَدَ فِيهَا مَلْجَأً فَلْيَعُذْ بِهِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There will be soon a period of turmoil in which the one who sits will be better than one who stands and the one who stands will be better than one who walks and the one who walks will be better than one who runs. He who would watch them will be drawn by them. So he who finds a refuge or shelter against it should make it as his resort
ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " عنقریب فتنے ہوں گے ، ان میں بیٹھا رہنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا اور ان میں کھڑا ہونے والا چلنے و الے سے بہتر ہوگااور ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا جو ان کی طرف جھانکے گا بھی وہ اسے اوندھا کردیں گے اور جس کو ان ( کے دوران ) میں کوئی پناہ گاہ مل جائے وہ اس کی پناہ حاصل کرلے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ سَوَاءً .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters
معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، بالکل ابو زناد کی حدیث کے مانند ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، وَغَيْرِهِمَا، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَىَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لاَ تَنْبَغِي إِلاَّ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ " .
Abdullah b. Amr b. al-As reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When you hear the Mu'adhdhin, repeat what he says, then invoke a blessing on me, for everyone who invokes a blessing on me will receive ten blessings from Allah; then beg from Allah al-Wasila for me, which is a rank in Paradise fitting for only one of Allah's servants, and I hope that I may be that one. If anyone who asks that I be given the Wasila, he will be assured of my intercession
۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی ۔ ‘ ‘