بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
22 hadith
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ ثُمَّ سَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said two rak'ahs of the noon prayer and then gave salutation when a man from Band Sulaim came to him and said: Messenger of Allah. has the prayer been shortened, or have you forgotten? -and the rest of the hadith is the same
علی بن مبارک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو سلمہ نےحدیث سنائی ، کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی دور کعتیں پڑھائیں ، پھر سلام پھیر دیا تو بنو سلیم کا ایک آدمی آپ کے قریب آیا اور عرض یک : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟.......اور آگے ( سابقہ ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ تَطَوُّعِهِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ وَيَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلاً طَوِيلاً قَائِمًا وَلَيْلاً طَوِيلاً قَاعِدًا وَكَانَ إِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
Abdullah b. Shaqiq said:I asked 'A'isha about the Messenger of Allah's (ﷺ) voluntary prayers, and she replied: Before the noon prayer, he used to pray four rak'ahs in my house; then would go out and lead the people in prayer; then come in and pray two rak'ahs. He would then lead the people in the sunset prayer; then come in and pray two rak'ahs. Then he would lead the people in the 'Isha' prayer, and enter my house and pray two rak'ahs. He would pray nine rak'ahs during the night, including Witr. At night he would pray for a long time standing and for a long time sitting, and when he recited the Holy Qur'an while standing, he would bow and prostrate himself from the standing position, and when he recited while sitting, he would bow and prostrate himself from the sitting position, and when it was dawn he would pray two rak'ahs
خالد نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں سوال کیا؟تو انھوں نے جوابدیا : آپ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے ، پھر ( گھر سے ) نکلتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے ، پھر گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا فرماتے ۔ اور آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر گھر آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے ، اور لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر آتے اور دو رکعتیں پڑھتے ، ان میں وتر شامل ہوتے ، اور طویل رات کھڑے ہوکر اور طویل ر ات بیٹھ کر نماز ادا کرتے اور جب کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّهِ، جَرِيرٍ قَالَ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏"‏ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Jarir b. 'Abdullah that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) asked him on the occasion of the Farewell Pilgrimage to make the people silent and then said:Do not return to unbelief after me by striking the necks of one another
ابو زرعہ ( ہرم بن عمرو بن جریر بن عبد ا للہ البجلی ) نے اپنے دادا حضرت جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ نبی اکرمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا : ’’ لوگوں کو چپ کراؤ ۔ ‘ ‘ اس کے بعد آپ نے فرمایا : ’’ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَمُرُّوا بِجَنَازَتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ فَفَعَلُوا فَوُقِفَ بِهِ عَلَى حُجَرِهِنَّ يُصَلِّينَ عَلَيْهِ أُخْرِجَ بِهِ مِنْ بَابِ الْجَنَائِزِ الَّذِي كَانَ إِلَى الْمَقَاعِدِ فَبَلَغَهُنَّ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا ذَلِكَ وَقَالُوا مَا كَانَتِ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ ‏.‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لاَ عِلْمَ لَهُمْ بِهِ ‏.‏ عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلاَّ فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ ‏.‏
Abbad b. 'Abdullah b. Zubair reported on the authority of 'A'isha that when Sa'd b. Abu Waqqas died, the wives of the Messenger of Allah (ﷺ) sent message to bring his bier into the mosque so that they should offer prayer for him. They (the participants of the funeral) did accordingly, and it was placed in front of their apartments and they offered prayer for him. It was brought out of the door (known as) Bab al-Jana'iz which was towards the side of Maqa'id, and the news reached them (the wives of the Holy Prophet) that the people bad criticised this (i. e. offering of funeral prayer in the mosque) saying that it was not desirable to take the bier inside the mosque. This was conveyed to 'A'isha. She said:How hastily the people criticise that about which they know little. They criticise us for carrying the bier in the mosque. The Messenger of Allah (ﷺ) offered not the funeral prayer of Suhail b. Baida' but in the innermost part of the mosque
موسیٰ بن عقبہ نے عبدالواحد سے اور انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ ان کے جنازے کو مسجد میں سے گزار کرلے جائیں تا کہ وہ بھی ان کی نماز جنازہ ادا کرسکیں تو انھوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے ایسا ہی کیا ، اس جنازے کو ان کے حجروں کے سامنے روک ( کررکھ ) دیا گیا ( تاکہ ) وہ نماز جنازہ پڑھ لیں ۔ ( پھر ) اس ( جنازے ) کو باب الجنائز سے ، جو مقاعد کی طرف ( کھلتا ) تھا ، باہر نکالا گیا ۔ اس کے بعد ان ( ازواج ) کو یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے معیوب سمجھا ہے اور کہا ہے : جنازوں کو مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا ۔ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک پہنچی تو انھوں نے فرمایا : لوگوں نےاس کام کو معیوب سمجھنے میں کتنی جلدی کی جس کا انھیں علم نہیں!انھوں نے ہماری اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ جنازہ مسجد میں لایاجائے ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Abd al-Rahman b. Auf reported:I heard Mu'awiya b. Abu Sufyan saying in an address that he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: He to whom Allah intends to do good, He gives him insight into religion. And I am only the distributor while Allah is the Bestower
حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف نے کہا : میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ خطبہ دیتے ہو ئے کہہ رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے اللہ جس کے ساتھ بھلا ئی کا ارادہ فر ما تا ہے اسے دین کا گہرا فہم عطا فر ما دیتا ہے اور میں تو بس تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ - قَالَ - فَقَالَ فِي ذَلِكَ ‏ "‏ ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ ‏"‏ ‏.‏
Anas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was journeying (along with his Companions). Some of them had observed the fast whereas the others had broken it. Those who did not fast girded up their loins and worked, but the observers of the fast were too weak to work. Upon this he (the Messenger of Allah) said:Today the breakers of the fast have gone with the reward
ابو کریب ، حفص ، عاصم ، مورق ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ چھوڑدیا روزہ نہ رکھنے والے تو خدمت کے کام پر لگ گئے اور روزہ رکھنے والے خدمت کے کام میں کمزور پڑگئے راوی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ روزہ افطار کرنے والے اجر پاگئے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْمَاجِشُونِ ‏.‏ غَيْرَ أَنَّ حَمَّادًا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ فَكَانَ الْهَدْىُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا وَلاَ قَوْلُهَا وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعُسُ فَتُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We entered into the state of. Ihram for Hajj till we were at Sarif and I was in menses. The Messenger of Allah (ﷺ) came to me and I was weeping. The rest of the hadith is the same but (with this portion) that there were sacrificial animals with Allah's Apostle (ﷺ) and with Abu Bakr, Umar and with rich persons. And they pronounced Talbiya as they proceeded on. And there is no mention of this (too):" I was a girl of tender age and I dozed off and my face touched the bind part of the Haudaj
حماد ( بن سلمہ ) نے عبد الرحمٰن سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم نے حج کا تلبیہ پکا را جب ہم سرف مقام پر تھے میرے ایام شروع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رورہی تھی ( حماد نے ) اس سے آگے ماجثون کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر حماد کی حدیث میں یہ ( الفا ظ ) نہیں : قربانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ہی کے پاس تھی ۔ پھر جب وہ چلے تو انھوں نے تلبیہ پکارا ۔ اور نہ یہ قول ( ان کی حدیث میں ہے ) کہ میں نو عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آتی تو میرا سر ( بار بار ) پالان کی پچھلی لکڑی کو لگتا تھا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ، حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلاَقَهَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلاَّ مِثْلُ الْهُدْبَةِ وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا ‏.‏ قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَاحِكًا فَقَالَ ‏ "‏ لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ قَالَ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
A'isha (Allah be pleased with her), the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that Rifa'a al-Quraid (Allah be pleased with him) divorced his wife, making her divorce irrevocable. Afterwards she married Abd at-Rahman b. al-Zubair (Allah be pleased with him), She came to Allah'sApostle (may peace be upon him and said to Allah's messenger (ﷺ) that she had been the wife of Rifa'a (Allah be pleased with him) and he had divorced her by three pronouncements and afterwards she married 'Abd al-Rahman b. al-Zubair. By Allah, all he possesses is like the fringe of a garment, and she took hold of the fringe of her garment. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) laughed and said:Perhaps you wish to return to Rifa'a, (but you) cannot (do it) until he has tasted your sweetness and you have tasted his sweetness. Abu Bakr al-siddiq (Allah be pleased with him) was sitting at that time with Allah's Messenger (ﷺ) and Khalid b. Sa'id b. al-'As (Allah be pleased with him) was sitting at the door of his apartment and he was not permitted to (enter the room), and Kbalid called loudly saying: Abu Bakr, why don't you scold her for what she is saying loudly in the presence of Allah's Messenger (ﷺ)?
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور قطعی ( آخری ) طلاق دے دی ، تو اس عورت نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر ( قرظی ) سے شادی کر لی ، بعد ازاں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول! وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی ، اس نے اسے تین طلاق بھی دے دی ، تو میں اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی اور وہ ، اللہ کی قسم! اس کے پاس تو کپڑے کے کنارے کی جھالر کی مانند ہی ہے ، اور اس نے اپنی چادر کے کنارے کی جھالر پکڑ لی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : " شاید تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں! یہاں تک کہ وہ تمہاری لذت چکھ لے اور تم اس کی لذت چکھ لو ۔ " حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ حجرے کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ، انہیں ( ابھی اندر آنے کی ) اجازت نہیں ملی تھی ۔ کہا : تو خالد نے ( وہیں سے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارنا شروع کر دیا : آپ اس عورت کو سختی سے اس بات سے روکتے کیوں نہیں جو وہ بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہہ رہی ہے
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ ‏.‏
Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) forbidding selling of (produce) in advance for two years, and in the narmtion of Ibu Abd Shaiba (the words are):" Selling of the fruits (on the tree) in advance for two years
سعید بن منصور ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : پھلوں کی کئی سال کے لیے بیع سے ( منع فرمایا)
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas; (Allah be pleased with them) reported on the authority of Usama b. Zaid Allah's Messenger (ﷺ) as having said this:There is no element of interest when the money or commodity is exchanged hand to hand
طاوس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( مختلف چیزوں کے تبادلے میں ) جو دست بدست ہو اس میں سود نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَهُوَ يَنْضِحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ ‏.‏
A version of the tradition with a slightly different wording has been narrated by another chain of transmitters
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع اور محمد بن بشر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت بیان کی ، اس میں انہوں نے یہ کہا : تو وہ ( نبی علیہ السلام ) اپنی پیشانی سے خون پونچھتے جاتے تھے
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
This tradition has been handed down through a different chain of transmitter with the addition of the following words at the end:" Do you milk them on the day they arrive at the water? He replied: Yes
محمد بن یوسف نے اوزاعی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی مگر انہوں نے کہا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کرے گا " اور یہ اضافہ کیا ، آپ نے فرمایا : " جس دن اونٹنیاں پانی پینے کے لیے ( گھاٹ یا چشمے پر ) آتی ہیں تو کیا تم ( ضرورت مندوں ، مسکینوں ، مسافروں کو پلانے کے لیے ) ان کا دودھ دوہتے ہو؟ " اس نے کہا : ہاں ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ، بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ غَطُّوا الإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لاَ يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوْ سِقَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ إِلاَّ نَزَلَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Cover the vessels and tie the waterskin, for there is a night in a year when pestilence descends, and it does not pass an uncovered vessel or an untied waterskin but some of that pestilence descending into it
ہاشم بن قاسم نے کہا : " ہمیں لیث بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد لیثی نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے جعفر بن عبداللہ بن حکم سے ، انھوں نے قعقاع بن حکیم سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " برتن ڈھانک دو ، مشکیزے کامنہ باندھ دو ، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے ۔ پھر جس بھی ان ڈھکے برتن اور منہ کھلے مشکیزے کے پاس سے گزرتی ہے ۔ تو اس وبا میں سے ( کچھ حصہ ) اس میں اُتر جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَدْخُلُ الْمَلاَئِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Talha reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الأُمَمِ قَبْلَكُمْ ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الأُخْرَى فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلاَ يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏
Usama b. Zaid reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:This calamity or illness was a punishment with which were punished some of the nations before you. Then it was left upon the earth. It goes away once and comes back again. He who heard of its presence in a land should not go towards it, and he who happened to be in a land where it had broken out should not fly from it
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عامر بن سعد سے خبر دی ، انھوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ بیماری ( طاعون ایک ) عذاب ہے جو تم سے پہلے ایک امت کو ہوا تھا ۔ پھر وہ زمین میں رہ گیا ۔ کبھی چلا جاتا ہے ، کبھی پھر آتا ہے ۔ لہٰذا جو کوئی کسی ملک میں سنے کہ وہاں طاعون ہے ، تو وہ وہاں نہ جائے اور جب اس کے ملک میں طاعون نمودار ہو تو وہاں سے بھاگے بھی نہیں ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ قُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحَ الْوَجْهِ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ مَاتَ أَبُو الطُّفَيْلِ سَنَةَ مِائَةٍ وَكَانَ آخِرَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Jurairi reported:I said to Abu Tufail: Did you see Allah's Messenger (ﷺ)? He said: Yes, he had a white handsome face. Muslim b. Hajjaj said: Abu Tufail who died in 100 Hijra was the last of the Companions of Allah's Messenger (ﷺ)
خالد بن عبداللہ نے جریری سے ، انھوں نے حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ان ( ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو د یکھا؟انھوں نے کہا : ہاں ، آپ کا رنگ سفید تھا ، چہرے پر ملاحت تھی ۔ امام مسلم بن حجاج نے کہا : حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک سو ہجری میں فوت ہوئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سب سے آخر میں فوت ہوئے تھے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The excellence of 'A'isha over women is like the excellence of Tharid over all other foods
سلیمان بن بلال نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ، " عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسی کھا نوں پر ثرید کی فضیلت ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَبِيٍّ يَرْضَعُ فَبَالَ فِي حِجْرِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ‏.‏
A'isha reported:A suckling babe was brought to the Messenger of Allah (way peace be upon him) and he urinated in his tap. He (the Holy Prophet) sent for water and poured it over
جریر نے ہشام سے روایت کی ، انہو نے اپنے والد سے اور انہو ں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا کہ رسول ا للہ ﷺ کی خدمت میں ایک شیر خوار بچہ لایا گیا ، اس نے آپ کی گود میں پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:You will find the worst amongst the people one having double face. He comes to some people with one face and to the others with the other face
سعید بن مسیب اور ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں میں سے بدترین شخص اسے پاؤ گے جس کے دو چہرے ہیں ، ان کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور اُن کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ أَحَدُهُمَا رَأْىَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبْيَضُ وَالآخَرُ رَأْىَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ فَإِمَّا أَدْرَكَنَّ أَحَدٌ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا وَلْيُغَمِّضْ ثُمَّ لْيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَيَشْرَبَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ ‏"‏ ‏.‏
It was narrated that Hudhaifah said:The Messenger of Allah said: 'I know what the Dajjal will have with him. He will have two flowing rivers, one that appears to the eye to be clear water, and one that appears to the eye to be flaming fire. If anyone sees that, let him go to the river which he thinks is fire and close his eyes, then lower his head and drink from it, for it is cool water. The Dajjal has one blind eye, with a layer of thick skin over it, and between his eyes is written "disbeliever," which every believer will read, whether he is literate or illiterate
ابو مالک اشجعی نے ربعی بن حراش سے اور انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جوکچھ دجال کے ساتھ ہو گا اسے میں خود اس کی نسبت بھی زیادہ اچھی طرح جانتاہوں ۔ اس کے ساتھ دوچلتے ہوئے دریا ہوں گے ۔ دونوں میں سے ایک بظاہر سفید رنگ کاپانی ہوگا اور دوسرا بظاہربھڑکتی ہوئی آگ ہوگی ۔ اگر کوئی شخص اس کو پالے تو اس دریا کی طرف آئے جسے وہ آگ ( کی طرح ) دیکھ رہا ہے اور اپنی آنکھ بند کرے ۔ پھر اپنا سر جھکا ئے اور اس میں سے پیے تو وہ ٹھنڈا پانی ہو گا ۔ اور دجال بے نور آنکھ والا ہے اس کے اوپر موٹاناخونہ ( گوشت کاٹکڑا جو آنکھ میں پیدا ہوجاتاہے ) ہوگا ۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا ۔ : کافر ۔ اسےہر مومن لکھنے ( پڑھنے ) والاہویا نہ لکھنے ( پڑھنے ) والاپڑھ لے گا ۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِ رِوَايَةِ يُونُسَ ‏.‏
This hadith is narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters as transmitted by Yunus
۔ ابن شہاب کے ایک اور شاگرد صالح نے بھی اسی سند سے یونس کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔ 809 ۔ سفیان نے عمرو
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ رَفْعِهِمْ أَبْصَارَهُمْ عِنْدَ الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:People should avoid lifting their eyes towards the sky while supplicating in prayer, otherwise their eyes would be snatched away
۔ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نظریں آسمان کی طرف بلند کرنے سے لازما باز آ جائیں یا ( پھر ایسا ہو سکتا ہے کہ ) ان کی نظریں اچک لی جائیں ۔ ‘ ‘