بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
22 hadith
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏"‏ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاَةِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in the 'Asr prayer and gave salutation after two rak'ahs. Dhu'l-Yadain (the possessor of long arms) stood up and said: Messenger of Allah, has the prayer been shortened or have you forgotten? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Nothing like this has happened (neither the prayer has been shortened nor have I forgotten). He (Dhu'l-Yadain) said: Messenger of Allah, something has definitely happened. The Messenger of Allah (ﷺ) turned towards people and said: Is Dhu'l-Yadain true (in his assertion)? They said: Messenger of Allah, he is true. Then the Messenger of Allah (ﷺ) completed the rest of the prayer. and then performed two prostrations while he was sitting after salutation
ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابو سفیان سے روایت ہے کہ اس نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں میں سلام پھیر دیا ۔ ذوالیدین ( نامی شخص ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ایسا کوئی کام نہیں ہوا ۔ ‘ ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کوئی ایک کام تو ہوا ہے ۔ تب رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : ’’ کیا ذوالیدین نے سچ کہا؟ ‘ ‘ انھوں کہا : جی ہاں ! اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ ﷺ نے جو نماز رہ گئی تھی پوری کی ، پھر بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ فَأَمَّا الْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ وَالْجُمُعَةُ فَصَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِهِ ‏.‏
Ibn 'Umar reported:I prayed along with Allah's Messenger (ﷺ) two rak'ahs before and two rak'ahs after the noon prayer, two rak'ahs after the sunset prayer and two rak'ahs after the 'Isha' prayer and two rak'ahs after the Friday prayer; and so far as the sunset, 'Isha' and Friday prayers are concerned, I observed (them) along with the Messenger of Allah (ﷺ) in his house
حضرت ابن عمر سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہےلے دورکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے بعد دورکعتیں اور عشاء کے بعد دورکعتیں اور جمعے کے بعد دو رکعتیں ادا کیں ۔ جہاں تک مغرب ، عشاء اور جمعے ( کی سنتوں ) کا تعلق ہے ، وہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
Abu Bakr b. Abu Shaiba narrated a hadith like this from the Apostle (may peace and blessings be upon him) on the authority of Abdullah
منصور اور اعمش دونوں نے ابووائل سے ، انہون نے حضرت عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہون نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - قَالَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَمَرَتْ أَنْ يُمَرَّ، بِجَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْمَسْجِدِ فَتُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ مَا نَسِيَ النَّاسُ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ إِلاَّ فِي الْمَسْجِدِ ‏.‏
Abbad b. 'Abdullah b. Zubair reported that 'A'isha ordered the bier of Sa'd b. Abu Waqqas to be brought into the mosque so that she should pray for him. The people disapproved this (act) of hers. She said:How soon the people have forgotten that the Messenger of Allah (ﷺ) offered not the funeral prayer of Suhail b al-Baida' but in a mosque
عبدالعزیز بن محمد نے عبدالواحد بن حمزہ سے اور انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حکم دیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد میں سے گزارا جائے ( تاکہ ) وہ بھی ان کا جنازہ ادا کرسکیں ۔ آپ کی بات پر لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : لوگ کس قدر جلد بھول گئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بدری صحابی ) سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا کی تھی ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ، مُنَبِّهٍ - وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي دَارِهِ بِصَنْعَاءَ فَأَطْعَمَنِي مِنْ جَوْزَةٍ فِي دَارِهِ - عَنْ أَخِيهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
Amr b. Dinar reported from Wahb b. Munabbih:I went to his house in San'a' and he offered me nuts grown in his house to eat. And his brother said: I heard Mu'awiya b. Abu Sufyan saying that he had heard the Messenger of Allah (ﷺ) as saying, and then he made a mention (of a hadith) like one mentioned above
ابن ابی عمر مکی نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو بن دینار سے حدیث سنا ئی کہا : مجھے وہب بن منبہ نے ۔ ۔ ۔ جب میں صنعاء میں ان کے پا س ان کے گھر گیا اور انھوں نے مجھے اپنے گھر کے درخت سے اخروٹ کھلا ئے ۔ ۔ ۔ اپنے بھا ئی سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے کہا : میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو یہ کہتے ہو ئے سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( پچھلی ) حدیث کے مطا بق بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ - قَالَ - فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَكْثَرُنَا ظِلاًّ صَاحِبُ الْكِسَاءِ وَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ - قَالَ - فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الأَبْنِيَةَ وَسَقَوُا الرِّكَابَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ ‏"‏ ‏.‏
Anas (Allah be pleased with him) reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. Some of us had been observing the fast and some of us had not been fasting. We got down at a place on a hot day. Most of us had the cloth for shelter. There were also those amongst us who sheltered (themselves against the rays of the) sun with the help of their hands. The observers of the fast fell down (on account of weakness). Those who had not observed it got up and pitched tents and watered the mounts. Thereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: The breakers of the fast have taken away the reward today
ابو بکر بن ابی شیبۃ ، ابو معاویہ ، عاصم ، مورق ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم میں کچھ روزہ دار تھے اور کچھ روزہ چھوڑے ہوئے تھے راوی نے کہا کہ ہم ایک جگہ سخت گرمی کے موسم میں اترے اور ہم میں سب سے زیادہ سایہ حاصل کرنےو الا وہ آدمی تھا کہ جس کے پاس چادر تھی ہم میں سے کچھ اپنے ہاتھوں سے دھو پ سے بچ رہے تھے راوی نے کہا کہ روزہ رکھنے والے تو گر گئے اور روزہ چھوڑنے والے قائم رہے انہوں نے خیمے لگائے اور اونٹوں کو پانی پلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن روزہ چھوڑنے والے اجر حاصل کرگئے ۔
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ، بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ نَذْكُرُ إِلاَّ الْحَجَّ حَتَّى جِئْنَا سَرِفَ فَطَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ قَالَ ‏"‏ مَا لَكِ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَذَا شَىْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمْتُ مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِهِ ‏"‏ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً ‏"‏ ‏.‏ فَأَحَلَّ النَّاسُ إِلاَّ مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْىُ - قَالَتْ - فَكَانَ الْهَدْىُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا - قَالَتْ - فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَفَضْتُ - قَالَتْ - فَأُتِينَا بِلَحْمِ بَقَرٍ ‏.‏ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالُوا أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ ‏.‏ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ قَالَتْ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ - قَالَتْ - فَإِنِّي لأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعُسُ فَتُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ حَتَّى جِئْنَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ جَزَاءً بِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) with no other aim but that of Hajj till we came (to the place known as) Sarif; and there I entered in the state of menses. The Messenger of Allah (ﷺ) came to me while I was weeping. He said: What makes you weep? I said: Would that I had not come (for Pilgrimage) this year. He (the Holy Prophet) said: What has happened to you? You have perhaps entered the period of menses. I said: Yes. He said: This is what has been ordained for the daughters of Adam. Do what a pilgrim does except that you should not circumambulate the House, till you are purified (of the menses). She ('A'isha) said: When I came to Mecca, the Messenger of Allah (ﷺ) said to his companions: Make this (Ihram) the Ihram for 'Umra. So the people put off Ihram except those who had sacrificial animals with them. She ('A'isha) said: The Apostle of Allah (ﷺ) had the sacrificial animal with him, and so had Abu Bakr, 'Umar and other persons of means. They (those who had put off Ihram again) put on Ihram (for Hajj) when they marched (towards Mina), and it was the 8th of Dhu'l-Hijja. She ('A'isha) said: When it was the day of sacrifice (10th of Dhu'l-Hijja), I was purified, and the Messenger of Allah (ﷺ) commanded me and I did the circumambulation of Ifada. She said that the flesh of cow was sent to us. I said: What is it? They said: The Messenger of Allah (ﷺ) has offered a cow as sacrifice on behalf of his wives. When it was the night at Hasba, I said: Messenger of Allah, people are coming back from Hajj and Umra, where as I am coming back from Hajj (alone). She (A'isha) reported: He (the Holy Prophet) commanded" Abd al-Rahman b. Abu Bakr to mount me upon his camel behind him. She ('A'isha) said: I was very young and I well remember that I dozed off and my face touched the hind part of the haudaj (camel litter) till we came to Tan'im, and entered into the state of Ihram in lieu of Umra (which I for the time being abandoned) and which the people had performed
عبد الرحمٰن ابن سلمہ ماجثون نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ ( انھوں نے ) کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور حج ہی کا ذکر کر رہے تھے ۔ جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے ایام شروع ہو گئے ۔ ( اس اثنا میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ( حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : تمھیں کیا رلا رہا ہے ؟میں نے جواب دیا اللہ کی قسم ! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی ۔ آپ نے پو چھا : تمھا رے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمھیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : "" یہ چیز تو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے ۔ تم تمام کا م ویسے کرتی جاؤ جیسے ( تمام ) حا جی کریں مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۔ انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے فر ما یا : "" تم اسے ( حج کی نیت کو بدل کر ) عمرہ کر لو ۔ جن کے پاس قربانیا ں تھیں ان کے علاوہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اسی کے مطا بق عمرے کا ) تلبیہ پکارنا شروع کر دیا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا اور قربانیاں ( صرف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور ( بعض ) اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ( ہی ) کے پاس تھیں ۔ جب وہ چلے تو انھوں نے ( حج ) کا تلبیہ پکارا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب قر بانی کا دن آیا تو میں پاک ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے طواف ( افاضہ ) کر لیا ۔ ( انھوں نے ) کہا : ہمارے پاس گا ئے کا گو شت لا یا گیا میں نے پو چھا : یہ کیا ہے ؟ انھوں ( لا نے والوں ) نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قر بانی دی ہے ۔ جب ( مدینہ کے راستے منیٰ کے فوراً بعد کی منزل ) محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ حج اور عمرہ ( دونوں ) کر کے لو ٹیں اور میں ( اکیلا ) حج کر کے لوٹوں ؟ کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھا یا ۔ انھوں نے ) کہا : مجھے یا د پڑ تا ہے کہ میں ( اس وقت نو عمر لرکی تھی ( راستے میں ) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ ( بار بار ) کجا وے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے ۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا ( اور میں اس سے محروم رہ گئی تھی ) عمرے کا ( احرا م باند ھ کر ) تلبیہ پکا را
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى يَا أَبَا بَكْرٍ أَلاَ تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
A'isha (Allah he pleased with her) reported:There came the wife of Rifa'a to Allah's Apostle (ﷺ) and said: I was married to Rifa'a but he divorced me, making may divorce irrevocable. Afterwards I married Abd al-Rahman b. al-Zubair, but all he possesses is like the fringe of a garment (i. e. he is sexually weak). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) smiled, and said: Do you wish to return to Rifa'a. (You) cannot (do it) until you have tasted his sweetness and he ('Abd al-Rahman) has tasted your sweetness. Abu Bakr was at that time near him (the Holy Prophet) and Khalid (b. Sa'id) was at the door waiting for the permission to be granted to him to enter), He (Khalid) said; Abu Bakr, do you hear what she is saying loudly in the presence of Allah's Messenger (ﷺ)?
سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رفاعہ ( بن سموءل قرظی ) کی بیوی ( تمیمہ بنت وہب قرظیہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : میں رفاعہ کے ہاں ( نکاح میں ) تھی ، اس نے مجھے طلاق دی اور قطعی ( تیسری ) طلاق دے دی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر ( بن باطا قرظی ) سے شادی کر لی ، مگر جو اس کے پاس ہے وہ کپڑے کی جھالر کی طرح ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : "" کیا تم دوبارہ رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟ نہیں ( جا سکتی ) ، حتی کہ تم اس ( دوسرے خاوند ) کی لذت چکھ لو اور وہ تمہاری لذت چکھ لے ۔ "" ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے اور خالد رضی اللہ عنہ ( بن سعید بن عاص ) دروازے پر اجازت ملنے کے منتظر تھے ، تو انہوں نے پکار کر کہا : ابوبکر! کیا آپ اس عورت کو نہیں سن رہے جو بات وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونچی آواز سے کہہ رہی ہے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ‏.‏
Jabir (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) forbidding the selling (renting of) uncultivated land for two years or three
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی زمین کی دو یا تین سالوں کے لیے بیع کرنے سے منع فرمایا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ، اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ‏"‏ ‏.‏
Ubaidullah b. Abu Yazid heard Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) as saying:Usama b. Zaid reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying: There can be an element of interest in credit (when the payment is not equal)
عبیداللہ بن ابی یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی ، آپ نے فرمایا : " ( اگر جنسیں مختلف ہوں تو ) سود ادھار میں ہی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ ‏ "‏ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of 'Abdullah who said:It appeared to me as if I saw the Messenger of Allah (ﷺ) (and heard him) relate the story of a Prophet who had been beaten by his people, was wiping the blood from his face and was saying. My Lord, forgive my people, for they do not know
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں ، آپ انبیاء میں سے ایک نبی کا واقعہ بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا ، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور ( یہ ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! میری قوم کو معاف کر دے ، وہ نہیں جانتے ( کہ وہ کیا کر رہے ہیں)
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ لَشَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تُؤْتِي صَدَقَتَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abu Sa'id al-Khudari that a Bedouin asked the Messenger of Allah (ﷺ) about Migration. He replied:Do you talk of Hijra? The affair of Hijra is very difficult. But have you got camels? The bedouin said: Yes. He asked: Do you pay the poor-rate payable on their account? He replied: Yes. He (the Holy Prophet) said: Go on doing good deeds (across the seas), for surely God will not leave any of your deeds unrewarded
ولید بن مسلم نے کہا : ہمیں عبدلرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابن شہاب زہری نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے عطاء بن یزید لیثی نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ان سب کو حدیث سنائی ، کہا : ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا : " تم پر افسوس! ہجرت کا معاملہ تو بہت مشکل ہے ، کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟ " اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : " کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : " پانیوں ( چشموں ، دریاؤں ، سمندروں وغیرہ ) کے پار ( رہتے ہوئے ) عمل کرتے رہو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کو ہرگز رائیگاں نہیں کرے گا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ ‏.‏
Jabir b. Abdullah reported this hadith through another chain of transmitters
سفیان بن ابو زبیر سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زہیر کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَجَلْ وَلَكِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ ‏.‏ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ ‏.‏
Maimuna reported that one morning Allah's Messenger (ﷺ) was silent with grief. Maimuna said:Allah's Messenger, I find a change in your mood today. Allah's Messenger (ﷺ) said: Gabriel had promised me that he would meet me tonight, but he did not meet me. By Allah, he never broke his promises, and Allah's Messenger (ﷺ) spent the day in this sad (mood). Then it occurred to him that there had been a puppy under their cot. He commanded and it was turned out. He then took some water in his hand and sprinkled it at that place. When it was evening Gabriel met him and he said to him: you promised me that you would meet me the previous night. He said: Yes, but we do not enter a house in which there is a dog or a picture. Then on that very morning he commanded the killing of the dogs until he announced that the dog kept for the orchards should also be killed, but he spared the dog meant for the protection of extensive fields (or big gardens)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے بتا یا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فکر مندی کی حالت میں صبح کی ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آج دن ( کے آغاز ) سے آپ کی حالت معمول کے خلا ف دیکھ رہی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے ۔ بات یہ ہے کہ انھوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلا فی نہیں کی ، " کہا : تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا ۔ جو ہمارے ( ایک بستر کے نیچے بن جا نے والے ) ایک خیمہ ( نما حصے ) میں تھا ۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکا ل دیا گیا ، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا ۔ جب شام ہو ئی تو جبرائیل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟انھوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں ادا خل نہیں ہو تے جس میں کتا یا تصویر ہو ۔ پھر جب صبح ہو ئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آوارہ یا بے کا ر ) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا ، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی ( جورکھوالی نہیں کر سکتا ) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے ۔ ( ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پو ری کرتے ہیں)
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ، دِينَارٍ بِإِسْنَادِ ابْنِ جُرَيْجٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij through another chain of transmitters
حماد بن زید اور سفیان بن عینیہ دونوں نے عمرو بن دینار سے ابن جریج کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کےمانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنِ مَنْهُوسَ الْعَقِبَيْنِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لِسِمَاكٍ مَا ضَلِيعُ الْفَمِ قَالَ عَظِيمُ الْفَمِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ قَالَ طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا مَنْهُوسُ الْعَقِبِ قَالَ قَلِيلُ لَحْمِ الْعَقِبِ ‏.‏
Jabir b. Samura reported that Allah's Messenger (ﷺ) had a broad face with reddish (wide) eyes, and lean heels. Shu'ba reported:I said to Simak: What does this dali-ul-fam mean? And he said: This means broad face. I said: What does this ashkal mean? He said: Long in the slit of the eye. I said: What is this manhus-ul-aqibain? He said: It implies little flesh at the heels
سماک بن حرب نےکہا : میں نے حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن کشادہ تھا آنکھوں میں سرخ ڈورے چھوٹے ہوئے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں ۔ سماک سے ( شعبہ نے ) پوچھا کہ ”ضلیع الفم“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ بڑا چہرہ ۔ پھر ( شعبہ ) نے کہا ”اشکل العین“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا دراز شگاف آنکھوں کے ( لیکن سماک کا یہ کہنا غلط ہے اور صحیح وہی ہے کہ سفیدی میں سرخی ملی ہوئی ) شعبہ نے کہا ”منہوس العقبین“ کیا ہے تو انہوں نے کہا ایڑی پر کم گوشت والے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ مَعَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ أَلاَ تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ قَالَتْ بَلَى ‏.‏ فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَارَ مَعَهَا حَتَّى نَزَلُوا فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَغَارَتْ فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَهَا بَيْنَ الإِذْخِرِ وَتَقُولُ يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَىَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي رَسُولُكَ وَلاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا ‏.‏
A'isha reported that when Allah's Messenger (ﷺ) set ont on a journey, he used to cast lots amongst his wives. Once this lot came out in my favour and that of Hafsa. They (Hafsi, and 'A'isha) both went along with him and Allah's Messenger (ﷺ) used to travel (on camel) when it was night along with 'A'isha and talked with her. Hafsa said to 'A'isha:Would you like to ride upon my camel tonight and allow me to ride upon your camel and you would see (what you do not generally see) and I would see (what I do not see) generally? She said: Yes. So 'A'isha rode upon the camel of Hafsa and Hafsa rode upon the camel of 'A'isha and Allah's Messenger (ﷺ) came near the camel of 'A'isha. (whereas) Hafsa had been riding over that. He greeted her and then rode with her until they came down. She ('A'isha) thus missed (the company of the Holy Prophet) and when they sat down, 'A'isha felt jealous. She put her foot in the grass and said: O Allah, let the scorpion sting me or the serpent bite me. And so far as thy Messenger is concerned, I cannot say anything about him
قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جا تے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ، ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےنام قرعہ نکلا ، وہ دونوں آپ کے ساتھ سفر پر نکلیں ، جب را ت کا وقت ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ باتیں کرتے تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : آج رات تم میرے اونٹ پر کیوں نہیں سوار ہو جا تیں ۔ اور میں تمھا رے اونٹ پر سوار ہو جا تی ہوں ، پھر تم بھی دیکھو اور میں بھی دیکھتی ہوں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کیوں نہیں !پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اونٹ کے پاس آئے تو اس پر حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( سوار ) تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے حتی کہ منزل پر اتر گئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہیں پا یا تو انھیں سخت رشک آیا ، جب سب لوگ اترے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے پاؤں اذخر ( کی گھاس ) میں مار مارکر کہنے لگیں : یارب! مجھ پر کو ئی بچھو یا سانپ مسلط کردے جو مجھے ڈس لے وہ تیرے رسول ہیں اور میں انھیں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّكُهُمْ فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ بَوْلَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ ‏.‏
A'isha, the wife of the Apostle (ﷺ) said:Babies were brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and he blessed them, and after having chewed (something, e. g. dates or any other sweet thing) he rubbed there with their soft palates. A baby was brought to him and he passed water over him (over his garment), so he asked water to be brought and sprinkled it, but he did not wash it
عبداللہ بن نمیر نےہشام سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروج بن زبیر ) سے اور انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ ( اپنی خالہ ) حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا ، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کو گھٹی دیتے ۔ آپ کے پاس ایک بچہ لایا گیا ، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے ( رگڑ کر ) دھویا نہیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The worst amongst people is one with the double face. He comes to some people with one face and to others with the other face
اعراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " لوگوں میں سے بدترین شخص دو چہروں والا ہوتا ہے ، جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرے سے آتا ہے اور اُن لوگوں کے پاس دوسرے چہرے سے آتا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى جُفَالُ الشَّعَرِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ ‏"‏ ‏.‏
Hudhaifa reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Dajjal is blind of left eye with thick hair and there would be a garden and fire with him and his fire would be a garden and his garden would be fire
شقیق نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دجال کی بائیں آنکھ ( بھی ) عیب دار ہوگی اور بال گھنے گچھے دارہوں گے اس کے ہمراہ ایک جنت ہوگی اور ایک دوزخ ہوگی ۔ اس کی دوزخ ( حقیقت میں ) جنت ہو گی اور اس کی جنت اصل میں دوزخ ہو گی ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلاَةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلاَّ انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas said:The Messenger of Allah (ﷺ) saw a dead goat, which had been given in charity to the freed slave-girl of Maimuna. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Why don't you make use of its skin? They (the Companions around the Holy Prophet) said: It is dead. Upon this he said: It is the eating (of the dead animal) which is prohibited
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلاَةِ أَوْ لاَ تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. Samura reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The people who lift their eyes towards the sky in Prayer should avoid it or they would lose their eyesight
حضرت جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جو لوگ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں وہ ہر صورت ( اپنی اس حرکت سے ) باز آ جائیں ورنہ ( ہو سکتا ہے ان کی نظر ) ان کی طرف نہ لوٹے ( سلب کر لی جائے ۔ ) ‘ ‘