بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
23 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى صَلاَتَىِ الْعَشِيِّ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us in one of the evening prayers. And this hadith was narrated like one transmitted by Sufyan
(سفیان کے بجائے ) حماد نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں ایوب نے محمد بن سیرین سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو پہر کے بعد کی دو نمازو ں میں سے ایک نماز پڑھائی ......آگے سفیان ( بن عیینہ ) کے ہم معنی حدیث ( سنائی ۔)
وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى لِلَّهِ كُلَّ يَوْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
Umm Habiba reported the Messenger of Allah (ﷺ) having said:If any Muslim servant (of Allah) performed ablution, and performed it well, and then observed every day, the rest of the hadith is the same
بہز نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سندکے ساتھ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس بھی مسلمان بندے نے اہتمام کے ساتھ مکمل وضو کیا ، پھر اللہ کی رضا کی خاطر ہر روز ( نفل ) نماز پڑھی ۔ ۔ ۔ " اور اسی کے مطابق روایت کی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، وَعَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زُبَيْدٌ فَقُلْتُ لأَبِي وَائِلٍ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ ‏.‏ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَوْلُ زُبَيْدٍ لأَبِي وَائِلٍ ‏.‏
It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Mas'ud that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:Abusing a Muslim is an outrage and fighting against him is unbelief. Zubaid said: I asked Abu Wa'il: Did you hear it from Abdullah narrating if from the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him)? He replied: Yes. But there is mention of the talk between Zubaid and Abu Wa'il in the hadith narrated by Shu'ba
محمد بن طلحہ ، سفیان اور شعبہ تینوں نے زبید سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔ ‘ ‘ زبید نے کہا : میں نے ابو وائل سے پوچھا : کیا آپ نے عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے خود سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ شعبہ کی روایت میں زبید کے ابو وائل سے پوچھنے کا ذکر نہیں ہے ۔
وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ وَلاَ تَجْلِسُوا عَلَيْهَا‏"‏ ‏.‏
Abu Marthad al-Ghanawi reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not pray facing towards the graves, and do not sit on them
ابو ادریس خولانی نے حضرت و اثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اور حضرت ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قبروں کی طرف ( رخ کرکے ) نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، هَمَّامٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ لاَ يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ ‏"‏ ‏.‏
Mu'awiya reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not press in a matter, for I swear by Allah, none of you who asks me for anything and manages to get his request while I disdain it, will he be blessed in that which I give him
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیا ن کی انھوں نے وہب بن منبہ سے انھوں نے اپنے بھا ئی ہمام سے اور انھوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مانگنے میں اصرار نہ کرو اللہ کی قسم !ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم میں سے کو ئی شخص مجھ سے کچھ مانگے میں اسے ناپسند کرتا ہوں پھر بھی اس کا سوال مجھ سے کچھ نکلوالے تو جو میں اس کو دوں اس میں بر کت ہو ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ خَرَجْتُ فَصُمْتُ فَقَالُوا لِي أَعِدْ ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنِي أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يُسَافِرُونَ فَلاَ يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ‏.‏ فَلَقِيتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ فَأَخْبَرَنِي عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - بِمِثْلِهِ ‏.‏
Abu Khalid al-Ahmar narrated from Humaid who said:I went out and was fasting; they said to me: Break (lit. go back, repeat). He said that Anas reported that the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) used to set out on a journey and neither the observer of the fast found fault with the breaker of the fast, nor the breaker of the fast found fault with the observer of the fast. (One of the narrators Humaid said): I met Ibn Abi Mulaika who informed me the same thing on the authority of 'A'isha
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو خالد احمر ، حضرت حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ فرمایا کہ میں نکلا اور میں نے روزہ رکھ لیا تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تم دوبارہ روزہ رکھو میں نے کہا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سفر کرتے تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والا روزہ چھوڑنے والے کی ملامت نہیں کرتا تھا اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والا روزہ رکھنے والے کی ملامت کرتاتھا پھر میں نے ابن ابی ملیکہ سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے اس طرح کی خبر دی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ، عُيَيْنَةَ - قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ نُرَى إِلاَّ الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ أَنَفِسْتِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْحَيْضَةَ ‏.‏ - قَالَتْ - قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا شَىْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَغْتَسِلِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) said:We proceeded with the Messenger of Allah (ﷺ) with no other intention but that of performing the Hajj. As I was at Sarif or near it, I entered in the state of menses. The Apostle of Allah (ﷺ) came to me and I was weeping, whereupon he said: Are you in a state of menses? I said. Yes. whereupon he said: This is what Allah has ordained for all the daughters, of Adam. Do whatever the pilgrim does. except that you should not circumambulate the House till you have washed yourself (at the end of the menses period). And the Messenger of Allah (ﷺ) offered sacrifice of a cow on behalf of his wives
قاسم نے اپنے والد ( محمد بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر حج کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ جب ہم مقام سرف یاس کے قریب پہنچے تو مجھے ایام شروع ہو گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اور مجھے روتا ہوا پا یا ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیا تمھا رے ایام شروع ہو گئے ہیں ؟ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" بلا شبہ یہ چیز اللہ تعا لیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ ( کر مقدر کر ) دی ہے تم ( سارے ) کا م ویسے ہی سر انجا م دو جیسے حاجی کرتے ہیں سوائے یہ کہ جب تک غسل نہ کر لو بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا ( اس حج میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قربانی کی ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا، الأَعْرَجَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Haraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying. The worst kind of food is at the wedding feast from which one who comes is turned away, and he who refuses it is invited, and he who did not accept the invitation disobeyed Allah and His Messenger (ﷺ)
ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند حدیث روایت کی
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ بُكَيْرٌ وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ كُنَّا نُكْرِي أَرْضَنَا ثُمَّ تَرَكْنَا ذَلِكَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ‏.‏
Jabir b. `Abdullah (Allah be pleased with them) reportedthat Allah's Messenger (ﷺ) had forbidden renting of land. Bukair (one of the narrators) said:Nafi` reported to me that he heard Ibn `Umar (Allah be pleased with them) saying: We usedto give land on rent; we then abandoned this practice when we heard the hadith of Rafi` b. Khadij
بکیر نے حدیث بیان کی کہ انہیں عبداللہ بن ابی سلمہ نے نعمان بن ابی عیاش سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو ( ممنوعہ طریقے سے ) کرائے پر دینے سے منع فرمایا ۔ بکیر نے کہا : مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم اپنی زمینیں بٹائی پر دیتے تھے ، پھر جب ہم نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث سنی تو اسے ترک کر دیا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ، عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلاً بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا ‏.‏ فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَىْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ أَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Salih reported:I heard Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) said: Dinar (gold) for gold and dirham for dirham can be (exchanged) with equal for equal; but he who gives more or demands more in fact deals in interest. I sald to him: Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) says otherwise, whereupon he said: I met Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) and said: Do you see what you say; have you heard it from Allah's Messenger (ﷺ), or found it in the Book of Allah, the Glorious and Majestic? He said: I did not hear it from Allah's Messenger (ﷺ). and I did not find it in the Book of Allah (Glorious and Majestic), but Usama b. Zaid narrated it to me that Allah's Apostle (ﷺ) said: There can be an element of interest in credit
ابوصالح سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : دینار کے بدلے دینار اور درہم کے بدلے درہم مثل بمثل ہو ، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا ، اس نے سود کا معاملہ کیا ۔ میں نے ان سے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ تو اس سے مختلف بات کہتے ہیں ، تو انہوں نے کہا : میں نے خود ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا : آپ کی کیا رائے ہے ، یہ جو آپ کہتے ہیں کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے یا اللہ کی کتاب میں پائی ہے؟ تو انہوں نے کہا : نہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی نہ کتاب اللہ میں پائی ، بلکہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سود ادھار میں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ فِي رَأْسِهِ فَجَعَلَ يَسْلُتُ الدَّمَ عَنْهُ وَيَقُولُ ‏"‏ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ‏}‏
It has been narrated on the authority of Anas that the Messenger of Allah (ﷺ) had his front teeth damaged on the day of the Battle of Uhud, and got a wound on his head. He was wiping the blood (from his face) and was saying:How will these people attain salvation who have wounded their Prophet and broken his tooth while he called them towards God? At this time, God, the Exalted and Glorious, revealed the Verse:" Thou hast no authority" (iii)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ( ثنائیہ کے ساتھ والا ) رباعی دانت ٹوٹ گیا اور آپ کے سر اقدس میں زخم لگا ، آپ اپنے سر سے خون پونچھتے تھے اور فرماتے تھے : " وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے سر میں زخم لگایا اور اس کا رباعی کا دانت توڑ دیا ، اور وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا ۔ " اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : " اس معاملے میں آپ کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں ( کہ وہ اللہ ان کی طرف توجہ فرمائے یا ان کو عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي، ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ ‏ "‏ لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about migration, whereupon he said:There is no migration after the Conquest (of Mecca), but Jihad and sincere intention. When you are asked to set out (for the cause of Islam), you should set out
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا گیا ، آپ نے فرمایا : " فتح ( مکہ ) کے بعد ہجرت نہیں ہے ، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم کو جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْبَعِثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Do not let your animals and children go out when the sun sets until the first and the darkest part of the night is over, for the Satan is let loose with the sinking of the sun until the darkest part of the night is over
ابو خثیمہ ( زہیر ) نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " سورج غروب ہونے لگے تو اپنے پھیل جانے والے جانوروں اور بچوں کو باہرنہ بھیجو یہاں تک کہ عشاء کی تک کی آمد جھٹپٹا رخصت ہوجائے ، کیونکہ سورج غروب ہونے کے بعد عشاء کی آمد کا جھٹپٹا ختم ہونے تک شیطانوں کو چھوڑا جاتا ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَبِي، حَازِمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ جِبْرِيلَ، وَعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتِيَهُ ‏.‏ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُطَوِّلْهُ كَتَطْوِيلِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hazim with the same chain of transmitters that Gabriel had promised Allah's Messenger (ﷺ) that he would come; the rest of the hadith is the same, but it is not so lengthy as the other one
ہمیں وہب نے اسی سند کے ساتھ ابو حازم سے حدیث سنا ئی کہ جبرا ئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے پھر حدیث بیان کی اور ابو حازم کے بیٹے کی طرح لمبی تفصیل نہیں بتا ئی ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو، بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ الطَّاعُونِ، فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هُوَ عَذَابٌ أَوْ رِجْزٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ نَاسٍ كَانُوا قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَدْخُلُوهَا عَلَيْهِ وَإِذَا دَخَلَهَا عَلَيْكُمْ فَلاَ تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا ‏"‏ ‏.‏
Amir b. Sa'd reported that a person asked Sa'd b. Abu Waqqas about the plague, whereupon Usama b. Zaid said:I would inform you about it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: It is a calamity or a disease which Allah sent to a group of Bani Isra'il, or to the people who were before you; so when you hear of it in land, don't enter it and when it has broken out in your land, don't run away from it
ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ عامر بن سعد نے انھیں خبر دی کہ کسی شخص نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے طاعون کے بارے میں سوال کیا تو ( وہاں موجود ) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں تمھیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ ایک عذاب یاسزا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا تھا ، یا ( فرمایا : ) ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے ، لہذا تم جب کسی سرزمین میں اس کے ( پھیلنے کے ) متعلق سنو تو اس میں اس کے ہوتے ہوئے داخل نہ ہونا اور جب یہ تم پر وار د ہوجائے تو اس سےبھاگ کروہاں سے نہ نکلنا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ ‏.‏
Anas reported that the hair of Allah's Apostle (ﷺ) reached half of the earlobe
حمید نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کانوں کے وسط تک تھے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ ‏"‏ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ إِذًا لاَ يَخْتَارُنَا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ ‏"‏ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْلَهُ ‏"‏ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى ‏"‏ ‏.‏
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported that he used to say:Never a prophet dies in a state that he is not made to see his abode in Paradise, and then given a choice. 'A'isha said that when Allah's Messenger (ﷺ) was about to leave the world, his head was over her thigh and he had fallen into swoon three times. When he felt relief his eyes were fixed at the ceiling. He then said: O Allah, along with the high companions (i. e. along with the Apostles who live in the most elevated place of the Paradise). (On hearing these words), I then said (to myself) He is not going to opt us and I remembered a hadith which he had narrated to us as he was healthy and in which he said: No prophet dies until he sees his abode in Paradise, he is then given a choice. 'A'isha said: These were the last words which Allah's Messenger (ﷺ) spoke (the words are): O Allah, with companions on High
ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے اہل علم لوگوں کی مو جو دگی میں خبردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تندرستی کے زمانے میں فرما یا کرتے تھے ۔ "" کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جا تی ۔ یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا مقام دکھا دیا جا تا ہے ، پھر اس کو اختیا ر دیا جا تا ہے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا وقت آیا اور اس وقت آپ کاسر میرے زانو پر تھا ۔ آپ کچھ دیر غشی طاری رہی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے چھت کی طرف نگا ہیں اٹھا ئیں ، پھر فر ما یا : "" اے اللہ !رفیق اعلیٰ! "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے ( دل میں ) ) کہا : اب آپ ہمیں نہیں چنیں گے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : اور میں نے وہ حدیث پہچان لی جو آپ ہم سے بیان فر ما یا کرتے تھے ۔ وہ آپ کےاپنے الفاظ میں بالکل صحیح تھی : کسی نبی کو اس وقت تک کبھی موت نہیں آئی یہاں تک کہ اسے جنت میں اس کا ٹھکا نا دکھایا جا تا ہے اور اسے ( موت کو قبول کرنے یا مؤخرکرانے کا ) اختیار دیا جا تا ہے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فر ما ن : "" اے اللہ !رفیق اعلیٰ ! "" وہ آخری بات تھی جو آپ نے کہی ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، - وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاقَ - قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَهْ مَهْ ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ ‏.‏ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لاَ تَصْلُحُ لِشَىْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَلاَ الْقَذَرِ إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّلاَةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ فَأَمَرَ رَجُلاً مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ ‏.‏
Anas b. Malik reported:While we were in the mosque with Allah's Messenger (ﷺ), a desert Arab came and stood up and began to urinate in the mosque. The Companions of Allah's Messenger (ﷺ) said: Stop, stop, but the Messenger of Allah (ﷺ) said: Don't interrupt him; leave him alone. They left him alone, and when he finished urinating, Allah's Messenger (ﷺ) called him and said to him: These mosques are not the places meant for urine and filth, but are only for the remembrance of Allah, prayer and the recitation of the Qur'an, or Allah's Messenger said something like that. He (the narrator) said that he (the Holy Prophet) then gave orders to one of the people who brought a bucket of water and poured It over
اسحاق بن ابی طلحہ نے روایت کی ، کہا : مجھ سے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےبیان کیا ، وہ اسحاق کےچچا تھے ، کہا : ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران میں ایک بدوی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں نےکہا : کیا کر رہے ہو ؟ کیاکر رہے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( درمیان میں ) مت روکو ، اسے چھوڑ دو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نےاسے چھوڑ دیا حتی کہ اس نے پیشاب کر لیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایااور فرمایا : ’’یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں ، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں ۔ ‘ ‘ یا جو ( بھی ) الفاظ رسول اللہ ﷺ نے فرمائے ۔ ( انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک کو حکم دیا ، وہ پانی کا ڈول لایا اور اسے اس پر بہا دیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The worst amongst the people is the double-faced one; he comes to some people with one face and to others with the other face
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدترین انسانوں میں سے دو رخا شخص ( بھی ) ہوتا ہے ۔ وہ ان لوگوں سے ایک چہرے کے ساتھ ملتا ہے اور ان لوگوں سے دوسرے چہرے کے ساتھ ملتا ہے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لاَ يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الاِسْتِعْجَالُ قَالَ ‏"‏ يَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ أَرَ يَسْتَجِيبُ لِي فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُّعَاءَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The supplication of the servant is granted in case he does not supplicate for sin or for severing the ties of blood, or he does not become impatient. It was said: Allah's Messenger, what does:" If he does not grow impatient" imply? He said: That he should say like this: I supplicated and I supplicated but I did not find it being responded. and theu he becomes frustrated and abandons supplication
ابوادریس خولانی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور قبولیت کے معاملے میں جلد بازی نہ کرے ، اس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے ۔ " عرض کی گئی : اللہ کے رسول! جلد بازی کرنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ کہے : میں نے دعا کی اور میں نے دعا کی اور مجھے نظر نہیں آتا کہ وہ میرے حق میں قبول کرے گا ، پھر اس مرحلے میں ( مایوس ہو کر ) تھک جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ تَهَجَّاهَا ك ف ر ‏"‏ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Dajjal is blind of one eye and there is written between his eyes the word" Kafir". He then spelled the word as k. f. r., which every Muslim would be able to read
شعیب بن جنحاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دجال بے نورآنکھ والاہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہےکافر ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہجے کیے ۔ ک ف ر ۔ " اس کو ہر مسلمان پڑھ لے گا ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تُصُدِّقَ عَلَى مَوْلاَةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ هَلاَّ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ مَيْمُونَةَ رضى الله عنها ‏.‏
The freed slave-girl of Maimuna was given a goat in charity but it died. The Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by that (carcass). Upon this be said:Why did you not take off its skin? You could put it to use, after tanning it. They (the Companions) said: It was dead. Upon, this he (the Messenger of Allah) said: Only its eating is prohibited. Abu bakr and Ibn Umar in their narrations said: It is narrated from Maimuna (may Allah be pleased with her)
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ، جَمِيعًا عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ‏ "‏ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ وَجْهَهُ وَجْهَ حِمَارٍ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated by Abu Huraira by another chain of transmitters except for the words narrated by Rabi' b. Muslim:" Allah may make his face like the face of an ass
۔ ربیع بن مسلم ، شعبہ اور حماد بن سلمہ سب نے مختلف سندوں سے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی اور انہوں نے یہی روایت نبیﷺ سے بیان کی ۔ ( ان راویوں میں سے ) ربیع بن مسلم کی حدیث میں ( اس کی صورت بدل دے کے بجائے ) ’’اور اللہ اس کا چہرہ گدھے کا چہرہ بنا دے ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔