وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِمَّا زَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَايْمُ اللَّهِ مَا جَاءَ ذَاكَ إِلاَّ مِنْ قِبَلِي - قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ " لاَ " . قَالَ فَقُلْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ فَقَالَ " إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " . قَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
Abdullah reported:We prayed along with the Messenger of Allah (may peace he upon him) and he committed or omitted (something). Ibrahim said: By Allah, this is a misgiving of mine only. We said: Messenger of Allah, is there something new about the prayer? He (the Holy Prophet) said: No. We told him about what he had done. He (the Holy Prophet) said: When a man commits or omits (something in prayer), he should perform two prostrations, and he then himself performed two prostrations
زائدہ نے سلیمان ( اعمش ) سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے زیادہ پڑھا دی تھی یا کم ۔ ابراہیم نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ ( وہم ) میری طرف سے ہے ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیانماز میں کوئی نیا حکم آگیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نہیں ‘ ‘ تو ہم نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا اس سے آگا ہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ جب آدمی زیادتی یا کمی کر لے تو دو سجدے کر ے ۔ ‘ ‘ ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس کے بعد آپ نے دو سجدے کیے ۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ سَجْدَةً تَطَوُّعًا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
Nu'man b. Salim reported with the same chain of transmitters:He who observed twelve voluntary rak'ahs, a house will be built for him in Paradise
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں داود نے نعمان بن سالم سے اسی سندکے ساتھ یہ حدیث بیان کی ، " جس نے ایک دن میں بارہ رکعات نوافل پڑے اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ سَمِعَ أُذُنَاىَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ " مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الإِسْلاَمِ غَيْرَ أَبِيهِ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
It is reported on the authority of Sa'd b. Abi Waqqas:Both of my ears heard the Messenger of Allah saying this: He who claimed the fatherhood of anyone else besides his real father knowingly (committed a great sin) ;Paradise is forbidden to him. Abu Bakra asserted that he too heard it from the Messenger of Allah (may peace be upon him)
خالد نے ابو عثمان سےنقل کیا کہ جب زیاد کی نسبت ( ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی طرف ہونے ) کا دعویٰ کیا گیا تھا تو میں جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ سےملا اور پوچھا : یہ تم لوگوں نے کیا کیا ؟ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جس نے اسلام کی حالت میں اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کو باپ بنانے کادعویٰ کیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے ۔ ‘ ‘ اس پر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : خود میں نے بھی رسول اللہ رضی اللہ عنہ سےیہی سنا ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ح وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو، النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَهُ.
A hadith like this has been narrated by Suhail with the same chain of transmitters
عبدالعزیز اور سفیان دونوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت بیا ن کی ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ وَأَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ وَلاَ تُلاَمُ عَلَى كَفَافٍ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى "
Abu Umama reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:O son of Adam, it is better for you if you spend your surplus (wealth), but if you withhold it, it is evil for you. There is (however) no reproach for you (if you withhold means necessary) for a living. And begin (charity) with your dependents; and the upper hand is better than the lower hand
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " آدم کے بیٹے!بے شک تو ( ضرورت سے ) زائد مال خرچ کر دے یہ تیرے لیے بہتر ہے اور تو اسے رو ک رکھے تو یہ تیرے لیے برا ہے اور گزر بسر جتنا رکھنے پر تمھیں کو ئی ملا مت نہیں کی جا ئے گی اور خرچ کا آغاز ان سے کرو جن کے ( کےخرچ ) تم ذمہ دار ہو اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَحُسَيْنُ، بْنُ حُرَيْثٍ كُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ، - قَالَ سَعِيدٌ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، - عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهم - قَالاَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ فَلاَ يَعِيبُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ .
Abu Nadra reported Abu Sa'id al. Khudri and Jabir b. Abdullah as saying:We travelled with the Messenger of Allah (ﷺ). The observer of the fast observed it, and the breaker of the fast broke it, but none of them found fault with each other
سعید بن عمر ، سہل بن عثمان ، سوید بن سعید ، حسین بن حریث ، سعید ، مروان بن معاویہ ، عاصم ، ابا نضرۃ ، حضرت ابو سعید خدری ، جابر بن عبداللہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا اور افطار کرنے والا روزہ افطار کرلیتا تھا اور ان میں سے کوئی کسی کو ملامت نہیں کرتا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَافِينَ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَقَالَ فِيهِ قَالَ عُرْوَةُ فِي ذَلِكَ إِنَّهُ قَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا . قَالَ هِشَامٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْىٌ وَلاَ صِيَامٌ وَلاَ صَدَقَةٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) at the appearance of the new moon of Dhu'l-Hijja. There were amongst us those who had put on Ihram for Umra, and those also who had put on Ihram both for Hajj and Umra, and still those who had put on Ihram for Hajj (alone). I was one of those who had put on Ihram for. Umra (only). 'Urwa (one of the narrators) said: Allah enabled her (A'isha) to complete both Hajj and Umra (according to the way as mentioned above). Hisham (one of the narrators) said: She had neither the sacrificial animal nor (was she required to) fast, nor (was she obliged to give) alms
وکیع نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم ذوالحجہ کا چا ند نکلنے کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے مدینہ سے ) نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کا تلبیہ پکارا بعض نے حج کا ۔ اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پکارا تھا ۔ اور ( وکیع نے ) آگے ان دونوں ( عبدہ اور ابن نمیر ) کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور اس میں یہ کہا عروہ نے اس کے بارے میں کہا : بلا شبہ اللہ نے ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ) اس طرح عمرہ کرنے میں نہ کو ئی قر بانی تھی نہ روزہ اور نہ صدقہ ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِيَاءِ فَضَحِكَ فَقَالَ لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِيَاءِ . قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ أَبِي غَنِيًّا فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ
Sufyan reported:I said to Zuhri: Abu Bakr, what does this hadith mean:" The worst kind of food is at a wedding feast of the rich"? He laughed and said: The food served in the feast given by the rich is not worst (in itself). Sufyan said: My father was rich, so I felt disturbed when I heard this hadith, so I asked Zuhri who said: I heard from 'Abd al-Rahman al-Alraj that he heard Abu Huraira (Allah he pleased with him) say: The worst kind of food is that served at the wedding feast. The rest of the hadith is the same
سفیان ( بن عیینہ ) نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے امام زہری سے پوچھا : جنابِ ابوبکر! یہ حدیث کس طرح ہے : "" بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے "" ؟ وہ ہنسے ، اور جواب دیا : یہ ( حدیث ) اس طرح نہیں ہے کہ بدترین کھانا امیروں کا کھانا ہے ۔ سفیان نے کہا : میرے والد غنی تھے ، جب میں نے یہ حدیث سنی تھی تو اس نے مجھے گھبراہٹ میں ڈال دیا ، اس لیے میں نے اس کے بارے میں امام زہری سے دریافت کیا ، انہوں نے کہا : مجھے عبدالرحمٰن اعرج نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : بدترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے ۔ آگے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کی طرح بیان کیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَهَبْهَا أَوْ لِيُعِرْهَا " .
Jabir (Allah he pleased with him) reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying: He who has (surplus) land should donate it (to others), or lend it
ابو عوانہ نے ہمیں سلیمان ( اعمش ) سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوسفیان ( طلحہ بن نافع ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے کہ ) وہ اسے ہبہ کرے یا عاریتا دے دے
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي، نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ . فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ . قَالَ أَوَقَالَ ذَلِكَ إِنَّا سَنَكْتُبُ إِلَيْهِ فَلاَ يُفْتِيكُمُوهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ " كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا " . قَالَ كَانَ فِي تَمْرِ أَرْضِنَا - أَوْ فِي تَمْرِنَا - الْعَامَ بَعْضُ الشَّىْءِ فَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ . فَقَالَ " أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لاَ تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَكَ مِنْ تَمْرِكَ شَىْءٌ فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنَ التَّمْرِ " .
Abu Nadra reported:I asked Ibn Abbas (Allah be pleased with them) about the conversion (of gold and silver for silver and gold). We said: Is it hand to hand exchange? I said: Yes. whereupon he said: There is no harm in it. I informed Abu Sa'id about it, telling him that I had asked Ibn 'Abbas about it and he said: Is it hand to hand exchange? I said: Yes, whereupon he said: There is no harm in it. He (the narrator) said, or he said like it: We will soon write to him, and he will not give you this fatwa (religious verdict). He said: By Allah, someone of the boy-servants of Allah's Messenger (ﷺ) brought dates, but he refused to accept them (on the plea) that those did not seem to be of the dates of our land. He said: Something had happened to the dates of our land, or our dates. So I got these dates (in exchange by giving) excess (of the dates of our land), whereupon he said: You made an addition for getting the fine dates (in exchange) which tantamounts, to interest; don't do that (in future). Whenever you find some doubt (as regards the deteriorating quality of) your dates, sell them, and then buy the dates that you like
سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : کہا یہ دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔ میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو خبر دی ، میں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دینار و درہم یا سونے چاندی کے تبادلے کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا تھا : کیا دست بدست ہے؟ میں نے جواب دیا تھا : ہاں ، تو انہوں نے کہا تھا : اس میں کوئی حرج نہیں ( انہوں نے ایک ہی جنس کی صورت میں مساوات کی شرط لگائے بغیر اسے علی الاطلاق جائز قرار دیا ۔ ) انہوں ( ابوسعید ) نے کہا : کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ ہم ان کی طرف لکھیں گے تو وہ تمہیں ( غیر مشروط جواز کا ) یہ فتویٰ نہیں دیں گے ۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام سے کوئی کھجوریں لے کر آیا تو آپ نے انہیں نہ پہچانا اور فرمایا : " ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری سرزمین کی کھجوروں میں سے نہیں ہیں ۔ " اس نے کہا : اس سال ہماری زمین کی کھجوروں میں ۔ ۔ یا ہماری کھجوروں میں ۔ ۔ کوئی چیز ( خرابی ) تھی ، میں نے یہ ( عمدہ کھجوریں ) لے لیں اور بدلے میں کچھ زیادہ دے دیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم نے دوگنا دیں ، تم نے سود کا لین دین کیا ، اس کے قریب ( بھی ) مت جاؤ ، جب تمہیں اپنی کھجور کے بارے میں کسی چیز ( نقص وغیرہ ) کا شک ہو تو اسے فروخت کرو ، پھر کھجور میں سے تم جو چاہتے ہو ( نقدی کے عوج ) خرید لو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَمَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ كَانَ يَسْكُبُ الْمَاءَ . وَبِمَاذَا دُووِيَ جُرْحُهُ . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ وَجُرِحَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَكَانَ هُشِمَتْ كُسِرَتْ .
It has been reported on the authority of Abu Hazim who heard from Sahl b. Sa'd. The latter was asked about the injury of the Messenger of Allah (ﷺ). He said:By God, I know the person who washed the wound of the Messenger of Allah (ﷺ), who poured water on it and with what the wound was treated. Then Sahl narrated the same tradition as has been narrated by 'Abd al-'Azlz except that he added the words:" And his face was injured" and replaced the word" Hushimat" by" Kusirat" (i. e. it was broken)
یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابوحازم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے متعلق سوال کیا جا رہا تھا ، انہوں نے کہا : سنو! اللہ کی قسم! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم کون دھو رہا تھا اور پانی کون ڈال رہا تھا اور آپ کے زخم پر کون سی دوائی لگائی گئی ، پھر عبدالعزیز کی حدیث کی طرح بیان کیا ، مگر انہوں نے یہ اضافہ کیا : اور آپ کا چہرہ انور زخمی ہو گیا اور ۔ ۔ ( خود ) ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔ ۔ کی جگہ " ٹوٹ گیا " کہا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ " لاَ هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا " .
It has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said on the day of the Conquest of Mecca:There is no Hijra now, but (only) Jihad (fighting for the cause of Islam) and sincerity of purpose (have great reward) ; when you are asked to set out (on an expedition undertaken for the cause of Islam) you should (readily) do so
جریر نے منصور سے ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح کے دن جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اب ہجرت نہیں ہے ، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَحْوًا مِمَّا أَخْبَرَ عَطَاءٌ، إِلاَّ أَنَّهُ لاَ يَقُولُ " اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
This hadith has been narrated on the authority of Jabir b. Abdullah through another chain of transmitters
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا ، وہ اس طرح کہہ رہے تھے جس طرح عطاء نے بتایا ، البتہ انھوں نے یہ نہیں کہا؛ " اللہ عزوجل کا نام لو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لاَ يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ " .
Abu Horaira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The Jews and the Christians do not dye (their hair), so oppose them
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہود اوراور نصاریٰ ( بالوں کو ) رنگ نہیں لگا تے تم ان کی مخالفت کرو ( بالوں کو رنگ لگا ؤ ۔)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ، - وَنَسَبَهُ ابْنُ قَعْنَبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ - عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ، بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الطَّاعُونُ آيَةُ الرِّجْزِ ابْتَلَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَاسًا مِنْ عِبَادِهِ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فَلاَ تَدْخُلُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَفِرُّوا مِنْهُ " . هَذَا حَدِيثُ الْقَعْنَبِيِّ وَقُتَيْبَةَ نَحْوَهُ .
Usama b. Zaid reported that Allah's Messenger (ﷺ) had said:Plague is the sign of a calamity with which Allah, the Exalted and Glorious, affects people from His servants. So when you hear about it, don't enter there (where it has broken out), and when it has broken out in a land and you are there, then don't run away from it
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اورقتیبہ بن سعید نے کہا : ہمیں مغیرہ بن عبدالرحمان قرشی نے ابو نضرسے حدیث بیان کی ، انھوں نےعامر بن سعد بن ابی وقاص سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" طاعون عذاب کی علامت ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں کچھ لوگوں کو طاعون میں مبتلاکیا ، جب تم طاعون کے بارے میں سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب اس سرزمین میں طاعون واقع ہوجائے جہاں تم ہوتو وہاں سے مت بھاگو ۔ "" یہ قعنبی کی حدیث ہے ، قتیبہ نے بھی اس طرح بیا ن کیاہے ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَيْفَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَ شَعَرًا رَجِلاً لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلاَ السَّبِطِ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ .
Qatada reported:I asked Anas b. Malik: How was the hair of Allah's Messenger (ﷺ)? Thereupon he said: His hair was neither very curly nor very straight, and they hung over his shoulders and earlobes
جریر بن حازم نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کیسے تھے؟انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تقریباً سیدھے تھے ، بہت گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے ، آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان تک آتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ - قَالَتْ - فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ { مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} قَالَتْ فَظَنَنْتُهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ .
A'isha reported:I heard that never a prophet dies until he is given an option to opt the life of (this) world or that of the Hereafter. She further said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) say in his last illness in which he' died. I heard him saying in gruffness of the voice: Along with those persons upon whom Allah bestowed favours from amongst the Apostles, the testifiers of truth, the martyrs, the pious and goodly company are they (iv. 69). (It was on bearing these words) that I thought that he had been given choice (and he opted to live with these pious persons in the Paradise)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سعد بن ابرا ہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، فر ما یا : میں سناکرتی تھی ۔ کہ کو ئی نبی فوت نہیں ہو تا یہاں تک کہ اس کو دنیا آخرت کے درمیان اختیار دیا جا تا ہے کہا : تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں یہ فر ما تے ہو ئے سنا ۔ اس وقت آپ کی آواز بھا ری ہو گئی تھی آپ فر ما رہے تھے : " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعا لیٰ نے انعام فر ما یا : " یعنی انبیاء ، صدیقین شہداء اور صالحین ( کے ساتھ ) اور یہی بہترین رفیق ہیں ۔ " کہا : تو میں نے سمجھ لیا کہ اس وقت آپ کو اختیا ردے دیا گیا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعُوهُ وَلاَ تُزْرِمُوهُ " . قَالَ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ .
Anas reported:A Bedouin urinated in the mosque. Some of the persons stood up (to reprimand him or to check him from doing so), but the Messenger of Allah (ﷺ) said: Leave him alone; don't interrupt him. He (the narrator) said: And when he had finished, he called for a bucket of water and poured it over
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ ایک بدوی نے مسجد میں پیشاب ( کرنا شروع ) کر دیا ، بعض لوگ اٹھ کر اس کی طرف لپکے تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے چھوڑ دو ، اسے ( پیشاب کے ) درمیان میں مت روکو ۔ ‘ ‘ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا ۔ ( پانی کے ساتھ وہ پیشاب زمین کےاندر چلا گیا ۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ - قَالَ - فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ " اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ " . قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ - قَالَ - ثُمَّ قَالَ لِيَ " اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ " . قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ " لاَ أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ " . قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى قُلْتُ لأُمَيَّةَ مَا حَطَأَنِي قَالَ قَفَدَنِي قَفْدَةً .
Ibn Abbas reported:I was playing with children that Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by (us). I hid myself behind the door. He (the Prophet) came and patted my shoulders and said: Go and call Mu'awiya. I returned and said: He is busy in taking food. He again asked me to go and call Mu'awiya to him. I went (and came back) and said that he was busy in taking food, whereupon he said: May Allah not fill his belly! Ibn Muthanna, said: I asked Umm Umayya what he meant by the word Hatani. He said: It means "he patted my shoulders
محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا ، کہا : آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی ( مقصود پیار کا اظہار تھا ) اور فرمایا : " جاؤ ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ ۔ " میں نے آپ سے آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا : " جاؤ ، معاویہ کو بلا لاؤ ۔ " میں نے پھر آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ، تو آپ نے فرمایا : " اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلاَ أَوْ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي " .
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:The supplication of every one of you is granted if he does not grow impatient and says: I supplicated but it was not granted
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابوعبید سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کسی شخص کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلد بازی کرتے ہوئے یہ نہیں کہتا : میں نے دعا کی ، لیکن میرے حق میں قبول نہیں ہوتی ۔ ۔ یا نہیں ہوئی ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلاَ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَمَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر " .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:There is never a prophet who has not warned the Ummah of that one-eyed liar; behold he is one-eyed and your Lord is not one-eyed. On his forehead are the letters k f. r. (Kafir)
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی نبی نہیں ( گزرا مگر اس نے اپنی امت کوکانے کذاب سے ڈرایا ہے ۔ یاد رکھو ، وہ کا نا ہے جبکہ تمھارا عزت اور جلال والا رب کانا نہیں اس ( دجال ) کی دونوں آنکھوں کے درمیان " ک ف ر " لکھا ہوا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَجِدُ الشَّىْءَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ " لاَ يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ فِي رِوَايَتِهِمَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ .
Abbad b. Tamim reported from his uncle that a person made a complaint to the Apostle (ﷺ) that he entertained (doubt) as it something had happened to him breaking his ablution. He (the Holy Prophet) said:He should not return (from prayer) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind). Abu Bakr and Zuhair b. Harb have pointed out in their narrations that it was 'Abdullah b. Zaid
عمرو ناقد ، زہیر بن حرب اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) اور عباد بن تمیم سے اور انہوں نے ان ( عباد ) کے چچا سے روایت کی کہ نبیﷺ سے ایک آدمی کے حوالے سے شکایت کی گئی کہ اسے یہ خیال آتا رہتا ہے کہ وہ نماز کے دوران میں کوئی چیز محسوس کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( وہ نماز سے ) نہ ہٹے یہاں تک کہ کوئی آواز سنے یا کوئی بو محسوس کرے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور زہیر بن حرب نے اپنی روایت میں ( عباد بن تمیم کے چچا کے بارے میں ) بتایا کہ وہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں ۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ، - قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم " أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Does the man who lifts his head ahead of the Imam (from prostration) not fear that Allah may change his head into the head of an ass?
۔ حماد بن زید نے محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ محمدﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص امام سے پہلے ( رکوع وسجود سے ) سر اٹھاتا ہے کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سرکو گدھے کے سر جیسا بنا دے؟ ‘ ‘