وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلاَمِ وَالْكَلاَمِ .
Abdullah b. Mas'ud reported:The Apostle of Allah (ﷺ) performed two prostrations for forgetfulness after salutation and talking
حفص اور ابو معاویہ نے اعمش سے باقی ماندہ اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی ﷺ نے سلام اور گفتگو کےبعد سہو کے دو سجدے کیے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ - عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِحَدِيثٍ يُتَسَارُّ إِلَيْهِ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ صَلَّى اثْنَتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ عَنْبَسَةُ فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ أُمِّ حَبِيبَةَ . وَقَالَ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَنْبَسَةَ . وَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ .
Umm Habiba (the wife of the Holy Prophet) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A house will be built in Paradise, for anyone who prays in a day and a night twelve rak'ahs; and she added: I have never abandoned (observing them) since I heard it from the Messenger of Allah (ﷺ). Some of the other narrators said the same words: I have never abandoned (observing them) since I heard (from so and so)
ابو خالد سلیمان بن حیان نے داود بن ابی سند سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نعمان بن سالم سے اور انھوں نے عمرہ بن اوس سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عنبسہ بن ابی سفیان نے اپنے مرض الموت میں ایک ایسی حدیث سنائی جس سے انتہائی خوشی حاصل ہوتی ہے ، کہا : میں نے ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا "" جس نے ایک دن اور ایک رات میں بارہ رکعات ادا کیں اس کے لئے ان کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیاجاتا ہے ۔ "" ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ عنبسہ نے کہا : جب سے میں نے ان کے بارے میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ عمرو بن اوس نے کہا : جب سے میں نے ان کے بارے میں عنبسہ سے سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔ نعمان بن سالم نے کہا : جب سے میں نے عمرو بن اوس سے ان کے بارے میں سنا ، میں نے انھیں کبھی ترک نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ " .
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:Do not detest your fathers; he who detested his father committed infidelity
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے آباء سے بے رغبتی نہ کرو ، چنانچہ جس شخص نے اپنے والد سے انحراف کیا تویہ ( عمل ) کفر ہے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 2> </ہیڈنگ 2>
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It is better that one of you should sit on live coals which would burn his clothing and come in contact with his skin than that he should sit on a grave
جریری نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے اور انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی انگارے پر ( اس طرح ) بیٹھ جائے کہ وہ اس کے کپڑوں کو جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے ، اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
Hakim b. Hizam reported:I begged the Messenger of Allah (ﷺ), and he gave me. I again begged, he again gave me. I again begged, he again gave me, and then said: This property is green and sweet; he who receives it with a cheerful heart is blessed in it, and he who receives it with an avaricious mind would not be blessed in it, he being like one who eats without being satished, and the upper hand is better thad the lower hand
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ما نگا تو آپ نے مجھے عطا فر ما یا میں نے ( دوبارہ ) مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا میں نے پھر آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے دیا پھر فر ما یا : " یہ ما ل شاداب ( آنکھوں کو لبھا نے والا ) اور شیریں ہے جو تو اسے حرص و طمع کے بغیر لے گا اس کے لیے اس میں برکت عطا کی جا ئے گی اور جو دل کے حرص سے لے گا ، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جا ئے گی ، وہ اس انسان کی طرح ہو گا جو کھا تا ہے لیکن سیر نہیں ہو تا اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلاَ يَجِدُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ وَيَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَإِنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:We went out on an expedition with the Messenger of Allah (ﷺ) during Ramadan. Some of us observed the fast and some of us broke it. Neither the observer of the fast had any grudge against one who broke it, nor the breaker of the fast had any grudge against one who had fasted They knew that he who had strength enough (to bear its rigour) fasted and that was good, and they also found that he who felt weakness (and could not bear the burden) broke it, and that was also good
۔ عمرو ناقد ، اسماعیل بن ابراہیم ، جریری ، ابی نضرۃ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں ایک غزوہ میں تھے تو ہم میں سے کوئی روزہ دار ہوتا اور کوئی افطار ہوتا تو نہ تو روزہ دار افطار کرنے والے پر تنقید کرتا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی طاقت رکھتا ہے تو روزہ رکھ لے تو یہ اس کے لئے اچھا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتے اگر کوئی ضعف پاتا ہے ۔ تو وہ افطار کرلے تو یہ اس کے لئے اچھا ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مُوَافِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ لاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ " . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدَةَ .
A'isha (Allah be pleased with her) said:We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) just at the appearance of the new moon of Dhul- Hijja. We had no other intention but that of performing the Hajj, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: He who among you intends to put on Ihram for `Umra should do so for `Umra. The rest of the hadith is the same
ابن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب ( حج کے لیے ) نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج ہی تھا ۔ ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو عمرے کا تلبیہ پکارنا چاہے وہ ( اکیلے ) عمرے کا تلبیہ پکا رے ۔ پھر عبد ہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى إِلَيْهِ الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ فَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) used to say:The worst kind of food is the wedding feast to which the rich are invited and the poor are ignored. He who does not come to the feast, he in fact disobeys Allah and His Messenger (ﷺ)
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ کہا کرتے تھے : اُس ولیمے کا کھانا بُرا کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جائے اور جس نے ( بلانے کے باوجود ) دعوت میں شرکت نہ کی ، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، - قَالَ ابْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، - حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَأْخُذُ الأَرْضَ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ فَقَالَ " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَلْيُمْسِكْهَا " .
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported:We used to get land (on rent) during the lifetime of Allah's Messeuge, (ﷺ) with a share of one-third or one-fourth (of the produce from the land irrigated) with the help of canals. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) stood up (to address) and said: HRe who has land should cultivate it, and if he does not cultivate it, he should lend it to his brother, and if he does not lend it to his brother, he should then retain it
ہشام بن سعد نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوزبیر مکی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض ، نالوں ( کے کناروں کی پیداوار ) کے عوض زمین لیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے ۔ " اگر وہ خود اسے کاشت نہیں کرتا تو اپنے بھائی کوعاریتا دے دے ، اگر وہ اسے اپنے بھائی کو بھی نہیں دیتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لے
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ فَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ صَاعَىْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلاَ صَاعَىْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلاَ دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ " .
Abu Sa'id (Allah be pleased with him) reported:We were given to eat, during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), dates of different qualities mixed together, and we used to sell two sa's of these for one sa, (of fine quality of dates). This reached Allah's Messenger (ﷺ), whereupon he said: There should be no exchange of two sa's of (inferior) dates for one sa (of fine dates) and two sa's of (inferior) wheat for one sa' of (fine) wheat. and one dirham for two dirharms
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں ( ہمارے حصے میں ) عام کھجور دی جاتی تھی اور وہ ملی جلی کھجور ہوتی تھی تو ہم اس کے دو صاع کے عوض ایک صاع کا سودا کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : " کھجور کے دو صاع ایک صاع کے عوض ( جائز ) نہیں ، گندم کے دو صاع ایک صاع کے عوض ( جائز ) نہیں اور نہ ایک درہم دو درہموں کے عوض ( جائز ہے ۔)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يُسْأَلُ عَنْ جُرْحِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ جُرِحَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ فَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَغْسِلُ الدَّمَ وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَسْكُبُ عَلَيْهَا بِالْمِجَنِّ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لاَ يَزِيدُ الدَّمَ إِلاَّ كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا ثُمَّ أَلْصَقَتْهُ بِالْجُرْحِ فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ .
It has been narrated on the authority of Abd-ul-'Aziz b. Abu Hazim, who learnt from his father (Abu Hazim). The latter heard it from Sahl b. Sa'd who was asked about the injury which the Messenger of Allah (ﷺ) got on the day of the Battle of Uhud. He said:The face of the Messenger of Allah (ﷺ) was injured, his front teeth were damaged and his helmet was crushed. Fatima, the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), was washing the blood (from his head), and 'Ali b. Abu Talib was pouring water on it from a shield. When Fatima saw that the bleeding had increased on account of (pouring) water (on the wound), she took a piece of mat and burnt it until it was reduced to ashes. She put the ashes on the wound and the bleeding stopped
ابوحازم کے بیٹے عبدالعزیز نے اپنے والد سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے جنگ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے متعلق سوال کیا جا رہا تھا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا تھا اور سامنے ( ثنایا کے ساتھ ) کا ایک دانت ( رباعی ) ٹوٹ گیا تھا اور خود سر مبارک پر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاجزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ( آپ کے چہرے سے ) خود دھو رہی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ڈھال سے اس ( زخم ) پر پانی ڈال رہے تھے ، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون نکلنے میں اضافہ ہو رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا وہ راکھ ہو گیا ، پھر اس کو زخم پر لگا دیا تو خون رک گیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ فَلَقِيتُ أَخَاهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ . وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا مَعْبَدٍ .
Another version of the tradition transmitted on the authority of Asim has the same wording but does not mention the name of Abu Ma'bad
محمد بن فضیل نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کے بھائی سے ملا ، انہوں نے کہا : اس نے سچ کہا ، ابومعبد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ - أَوْ أَمْسَيْتُمْ - فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَخَلُّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ " .
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:When the wings of the night (spread) or it is night, restrain your children (from going out), for the Satan is abroad at that time, and when a part of the night is passed, free them and shut the doors. making mention of God's name, for the Satan does not open a closed door; and tighten the (mouths of waterskins and mention the name of Allah, cover your utensils and mention the name of Allah even though you should just put something on them, and extinguish your lamps)
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عطاء نے بتایا کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : جب رات ہو جائے یا فرمایا کہ تم شام کرو تو اپنے بچوں کو ( گھروں میں ) روک لو کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ۔ پھر جب کچھ رات گذر جائے تو بچوں کو چھوڑ دو اور اللہ کا نام لے دروازے بند کر دو کیونکہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا ۔ اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا بندھن باندھ دو اور اپنے برتنوں کو ڈھانک لو اللہ کا نام لے کر ۔ ( اگر برتن ڈھانکنے کے لئے اور کچھ نہ ملے سوا اس کہ ) ان برتنوں کے اوپر کوئی چیز چوڑائی میں رکھو ( تو وہی رکھ دو ) اور اپنے چراغوں کو بجھا دو ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غَيِّرُوا هَذَا بِشَىْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ " .
Jabir b. 'Abdullah reported that Abu Qubafa was led (to the andience of the Holy Prophet) on the day of the Conquest of Mecca and his head and beard were white like hyssop, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Change it with something but avoid black
ابن جریج نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح کہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایا گیا ، ان کے سر اورداڑھی کے بال سفیدی میں ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز سے تبدیل کردو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَأَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " . وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ " لاَ يُخْرِجُكُمْ إِلاَّ فِرَارٌ مِنْهُ " .
Amir b. Sa'd b. Abu Waqqas reported on the authority of his father that he asked Usama b. Zaid:What have you heard from Allah's Messenger (ﷺ) about plague? Thereupon Usama said: Allah's Messenger (ﷺ) said: Plague is a calamity which was sent to Bani Isra'il or upon those who were before you. So when you hear that it has broken out in a land, don't go to it, and when it has broken out in the land where you are, don't run out of it. In the narration transmitted on the authority of Abu Nadr there is a slight variation of wording
امام مالک نے محمد بن منکدر اور عمربن عبید اللہ کے آزاد کردہ غلام ابو نضر سے ، انھوں نے عامر بن ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ انھوں نے سنا کہ وہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھ رہے تھے ۔ آپ نے طاعون کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ، ؟اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" طاعون ( اللہ کی بھیجی ہو ئی ) آفت یا عذاب ہے جو بنی اسرا ئیل پر بھیجا گیا یا ( فرما یا ) تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا گیا جب تم سنو کہ وہ کسی سر زمین میں ہے تو اس سر زمین پر نہ جاؤ اور اگر وہ ایسی سر زمین میں واقع ہو جا ئے جس میں تم لو گ ( مو جو د ) ہو تو تم اس سے بھا گ کر وہاں سے نکلو ۔ "" ابو نضر نے ( یہ جملہ ) کہا : "" تمھیں اس ( طاعون ) سے فرار کے علاوہ کو ئی اور بات ( اس سر زمین سے ) نہ نکا ل رہی ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ، يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا وَأَحْسَنَهُمْ خَلْقًا لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الذَّاهِبِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ .
Al-Bara' reported that Allah's Messenger (ﷺ) had the most handsome face amongst men and he had the best disposition and he was neither very tall nor short-statured
یوسف نے ابو اسحاق سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سب لوگوں سے زیادہ حسین تھا اور ( باقی تمام اعضاء کی ) ساخت میں سب سے زیادہ حسین تھے ، آپ کا قد بہت زیادہ لمبا تھا نہ بہت چھوٹا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ، نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters
ابواسامہ ، عبداللہ بن نمیر اورعبدہ بن سلیمان ، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، - قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، - أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَغْتَسِلُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ " . فَقَالَ كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلاً .
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) saying:None of you must wash in standing water when he is in a state of Junub. And Abu Huraira was asked how it was to be done; he said: It was to be taken out in handfuls
بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ ہشام بن زہرہ کے آزادکردہ غلام ابو سائب نے انہیں حدیث سنائی کہ انہو ں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ۔ ‘ ‘ ( ابو سائب نے ) کہا : اے ابو ہریرہ ! وہ کیا کرے ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ ( اس میں سے ) پانی لے لے ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ، بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْيَتِيمَةَ فَقَالَ " آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ كَبِرْتِ لاَ كَبِرَ سِنُّكِ " . فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ قَالَتِ الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَىَّ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَكْبَرَ سِنِّي فَالآنَ لاَ يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا - أَوْ قَالَتْ قَرْنِي - فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " . فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي قَالَ " وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ " . قَالَتْ زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لاَ يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلاَ يَكْبَرَ قَرْنُهَا - قَالَ - فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ تَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَقَالَ أَبُو مَعْنٍ يُتَيِّمَةٌ . بِالتَّصْغِيرِ فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلاَثَةِ مِنَ الْحَدِيثِ .
Anas b. Malik reported that there was an orphan girl with Umm Sulaim (who was the mother of Anas). Allah's Messenger (ﷺ) saw that orphan girl and said:O, it is you; you have grown young. May you not advance in years! That slave-girl returned to Umm Sulaim weeping. Umm Sulaim said: O daughter, what is the matter with you? She said: Allah's Apostle (ﷺ) has invoked curse upon me that I should not grow in age and thus I would never grow in age, or she said, in my (length) of life. Umm Sulaim went out wrapping her head-dress hurriedly until she met Allah's Messenger (ﷺ). He said to her: Umm Sulaim, what is the matter with you? She said: Allah's Apostle, you invoked curse upon my orphan girl. He said: Umm Sulaim, what is that? She said: She (the orphan girl) states you have cursed her saying that she might not grow in age or grow in life. Allah's Messenger (ﷺ) smiled and then said: Umm Sulaim, don't you know that I have made this term with my Lord. And the term with my Lord is that I said to Him: 1 am a human being and I am pleased just as a human being is pleased and I lose temper just as a human being loses temper, so for any person from amongst my Ummah whom I curse and he in no way deserves it, let that, O Lord, be made a source of purification and purity and nearness to (Allah) on the Day of Resurrection
زہیر بن حرب اور ابومعن رقاشی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ اور الفاظ زہیر کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عمر بن یونس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسحق بن ابی طلحہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہی ( ام سلیم رضی اللہ عنہا ) ام انس بھی کہلاتی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا : "" تو وہی لڑکی ہے ، تو بڑی ہو گئی ہے! تیری عمر ( اس تیزی سے ) بڑی نہ ہو "" وہ لڑکی روتی ہوئی واپس حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا : بیٹی! تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا فرما دی ہے کہ میری عمر زیادہ نہ ہو ، اب میری عمر کسی صورت زیادہ نہ ہو گی ، یا کہا : اب میرا زمانہ ہرگز زیادہ نہیں ہو گا ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے نکلیں ، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : "" ام سلیم! کیا بات ہے؟ "" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری ( پالی ہوئی ) یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے؟ آپ نے پوچھا : "" یہ کیا بات ہے؟ "" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : وہ کہتی ہے : آپ نے دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو ، اور اس کا زمانہ لمبا نہ ہو ، ( حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے ، پھر فرمایا : "" ام سلیم! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے پختہ عہد لیا ہے ، میں نے کہا : میں ایکبشر ہی ہوں ، جس طرح ایک بشر خوش ہوتا ہے ، میں بھی خوش ہوتا ہوں اور جس طرح بشر ناراض ہوتے ہیں میں بھی ناراض ہوتا ہوں ۔ تو میری امت میں سے کوئی بھی آدمی جس کے خلاف میں نے دعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اس دعا کو قیامت کے دن اس کے لیے پاکیزگی ، گناہوں سے صفائی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے ۔ "" ابو معن نے کہا : حدیث میں تینوں جگہ ( یتیمہ کے بجائے ) تصغیر کے ساتھ يتيمة ( چھوٹی سی یتیم بچی کا لفظ ) ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
This hadith is reported through Ishaaq bin Yusuf Al-Azraq from Zakariyya bin Abi Za'ida through the same chain
اسحٰق بن یوسف ازرق نے کہا : ہمیں زکریا بن ابی زائدہ نے سعید بن ابی بُردہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ( آگے ) اسی کے مانند ( ہے ۔)
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters
ایوب اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، ح وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، كُلُّهُمْ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ .
This hadith is also narrated by another chain of transmitters
سماک ، عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور اشعث بن ابی شعثاء سب نے جعفر بن ابی ثور سے ، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابو عوانہ سے ابو کامل نے روایت کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، جَمِيعًا عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ " وَلاَ بِالاِنْصِرَافِ " .
This hadith is narrated by Anas with another chain of transmitters, and in the hadith transmitted by Jarir there is no mention of" turning (faces)
۔ ( علی بن مسہر کے بجائے ) جریر اور ابن فضیل دونوں نے اپنی اپنی سند سے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ، جریر کی حدیث میں ’’نہ سلام پھیرنے میں ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ۔