وَحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَزَادَ أَوْ نَقَصَ - قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَالْوَهْمُ مِنِّي - فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ فَقَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " . ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ .
Abdullah (b. Mas'ud) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said prayer and he omitted or committed (something). Ibrahim (one of the narrators of this hadith) said: It is my doubt, and it was said: Messenger of Allah, has there been any addition to the prayer? He (the Holy Prophet) said: Verily I am a human being like you. I forget just as you forget so when any one of you forgets, he must perform two prostrations, and he (the Holy Prophet) was sitting and then the Messenger of Allah (ﷺ) turned (his face towards the Qibla) and performed two prostrations
(علی ) بن مسہر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے اور انھوں نے حضر عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور اس میں کچھ اضافہ کر دیا ۔ ابراہیم نے کہا کہ یہاں وہم مجھے ہوا ہے ، علقمہ کو نہیں ۔ عرض کی گئی : اللہ کے رسول ! کیا نماز مین اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ میں تمھاری طرح انسان ہی ہوں ، میں بھی بھولتا ہوں ، جیسے تم بھولتے ہو ، اس لیے جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے رخ ( قبلہ کی طرف ) پھیرا اور دو سجدے کیے ۔
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ . بِمِثْلِ حَدِيثِ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ .
This hadith has been transmitted by another chain of narrators
عیسی بن یونس نے عثمان بن حکیم سے اسی سندکے ساتھ مروان فزاری کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلاَّ كَفَرَ وَمَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ دَعَا رَجُلاً بِالْكُفْرِ أَوْ قَالَ عَدُوَّ اللَّهِ . وَلَيْسَ كَذَلِكَ إِلاَّ حَارَ عَلَيْهِ " .
It is reported on the authority of Abu Dharr that he heard the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) saying:No person who claimed knowingly anyone else as his father besides (his own) committed nothing but infidelity, and he who made a claim of anything, which (in fact) did not belong to him, is not amongst us; he should make his abode in Fire, and he who labeled anyone with unbelief or called him the enemy of Allah, and he was in fact not so, it rebounded on him
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے سنا : ’’ جس شخص نے دانستہ اپنے والد کے بجائے کسی اور ( کابیٹا ہونے ) کا دعویٰ کیا تو اس نے کفر کیا اور جس نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا جواس کی نہیں ہے ، وہ ہم میں سے نہیں ، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔ اور جس شخص نے کسی کو کافر کہہ کر پکارا یا اللہ کا دشمن کہا ، حالانکہ وہ ایسا نہیں ہے تو یہ ( الزام ) اسی ( کہنے والے ) کی طرف لوٹ جائے گا ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نُهِيَ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ، .
Jabir said that he was forbidden to plaster graves
ایوب نے ابو زبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : قبروں کوچونا لگانے سے منع کیا گیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، - قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ - أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ - عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ".
Hakim b. Hizam reported Allah's Messenger (ﷺ) having said this:The most excellent Sadaqa or the best of Sadaqa is that after giving which the (giver) remains rich and the upper hand is better than the lower hand, and begin from the members of your household
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سب سے افضل صدقہ ۔ ۔ ۔ یا سب سے اچھا صدقہ ۔ ۔ وہ ہے جس کے پیچھے ( دل کی ) تو نگری ہو اور اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے اور ( دینے کی ) ابتدا اس سے کرو جس کی تم کفا لت کرتے ہو ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَمَا يُعَابُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمُهُ وَلاَ عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارُهُ .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported:We went out on an expedition with the Messenger of Allah (ﷺ) during Ramadan and neither the observer of the fast was found fault with for his fasting, nor the breaker of the fast for breaking it
نصر بن علی جہضمی ، بشر ( ابن مفضل ) ابی مسلمہ ، ابی نضرۃ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو کوئی بھی روزہ رکھنے والے کے روزہ پر تنقید نہیں کرتاتھا اور نہ ہی روزہ کے افطار کرنے والے پر کوئی تنقید کرتا تھا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مُوَافِينَ لِهِلاَلِ ذِي الْحِجَّةِ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلاَ أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " . قَالَتْ فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ - قَالَتْ - فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " . قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ - وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا - أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْىٌ وَلاَ صَدَقَةٌ وَلاَ صَوْمٌ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:We went with the Messenger of Allah (ﷺ) (in his) Farewell Pilgrimage near the time of the appearance of the new moon of Dhul-Hijja. The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who amongst you intends to put on Ihram for `Umra may do so; had I not brought sacrificial animals along with me, I would have put on Ihram for `Umra. She (further said). There were some persons who put on Ihram for `Umra, and some persons who put on Ihram for Hajj, and I was one of those who put on Ihram for `Umra. We went on till we reached Mecca, and on the day of `Arafa I found myself in a state of menses, but I did not put off the Ihram for `Umra. I told about (this state of mine) to the Messenger of Allah (ﷺ), whereupon he said: Abandon your `Umra, and undo the hair of your head and comb (them), and put on Ihram for Hajj. She (`A'isha) said: I did accordingly. When it was the night at Hasba and Allah enabled us to complete our Hajj, he (the Holy Prophet) sent with me `Abd al-Rahman b. Abu Bakr, and he mounted me behind him on his camel and took me to Tan`im and I put on Ihram for `Umra, and thus Allah enabled us to complete our Hajj and `Umra and (we were required to observe) neither sacrifice nor alms nor fasting
عبدہ بن سلمیان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عرو ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے جو صرف عمرے کے لیے تلبیہ کہنا چا ہے کہے ۔ اگر یہ بات نہ ہو تی کہ میں قر بانی ساتھ لا یا ہوں تو میں بھی عمرے کا تلبیہ کہتا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا اور کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔ ہم نکل پڑے حتی کہ مکہ آگئے میرے لیے عرفہ کا دن اس طرح آیا کہ میں ایا م میں تھی اور میں نے ( ابھی ) عمرے ( کی تکمیل کر کے اس ) کا احرا م کھو لا نہیں تھا میں نے اس ( بات ) کا شکوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اپنا عمرہ چھوڑدو اپنے سرکی مینڈھیاں کھول دو کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ کہنا شروع کر دو ۔ انھوں نے کہا : میں نے یہی کیا جب حصبہ کی رات آگئی اور اللہ تعا لیٰ نے ہمارا حج مکمل فر ما دیا تھا تو ( آپ نے ) میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا انھوں نے نجھے ساتھ بٹھا یا اور مجھے لے کر تنعیم کی طرف نکل پڑے وہاں سے میں نے عمرے کا تلبیہ کہا ۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج پورا کرادیا اور عمرہ بھی ۔ ( ہشام نے کہا : اس ( الگ عمرے ) کے لیے نہ قر بانی کا کو ئی جا نور ( ساتھ لا یا گیا ) تھا نہ صدقہ تھا اور نہ روزہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان میں سے کو ئی کا م کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ
Abu Haraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If any one of you is invited, he should accept (the invitation). In case he is fasting, he should pray (in order to bless the inmates of the house), and if he is not fasting he should eat
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے ۔ اگر وہ روزہ دار ہے تو دعا کرے اور اگر روزے کے بغیر ہے تو کھانا کھائے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنُصِيبُ مِنَ الْقِصْرِيِّ وَمِنْ كَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ فَلْيُحْرِثْهَا أَخَاهُ وَإِلاَّ فَلْيَدَعْهَا" .
Jabir b. 'Abdullah reported:We used to cultivate land on rent during the lifetime of Allah's Apostle (ﷺ) and we got a share out of the grain left in the ears after threshing them and something unspecified. Allah's Messenger (ﷺ) said: He who has land should cultivate it or let his brother till it, otherwise he should leave it
زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین بٹائی پر دیتے اور ( باقی ساری پیداوار میں سے حصے کے علاوہ ) گاہے جانے کے بعد خوشوں میں بچ جانے والی گندم اور اس طرح کی چیزیں ( پانی کی گزرگاہوں کے ارد گرد ہونے والی پیداوار ) وصول کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو کاشت کاری کے لیے ( عاریتا ) دے دے ورنہ اسے ( خالی ) پڑا دہنے دے
وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، الْبَاهِلِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَمْرٍ فَقَالَ " مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا " . فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا الرِّبَا فَرُدُّوهُ ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا " .
Abu Sa'id (Allah be pleased with him) reported:Dates were brought to Allah's Messenger (ﷺ), and he said: These dates are not like our dates, whereupon a man said: We sold two sa's of our dates (in order to get) one sa', of these (fine dates), whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: That is interest; so return (these dates of fine quality), and get your (inferior dates) ; then sell our dates (for money) and buy for us (with the help of money) such (fine dates)
ابونضرہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لائی گئی تو آپ نے فرمایا : " یہ کھجور ہماری کھجور میں سے نہیں ۔ " اس پر ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول! ہم نے اپنی کھجور کے دو صاع اس کھجور کے ایک صاع کے عوض بیچے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ سود ہے ، اسے واپس کرو ، پھر ہماری کھجور ( نقدی کے عوض ) فروخت کرو اور ( اس کی قیمت سے ) ہمارے لیے یہ کھجور خریدو ۔
وَحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَثَابِتٍ، الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُفْرِدَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ " . فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ رَهِقُوهُ أَيْضًا فَقَالَ " مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ " . فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِصَاحِبَيْهِ " مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا " .
It has been reported on the authority of Anas b. Malik that (when the enemy got the upper hand) on the day of the Battle of Uhud, the Messenger of Allah (ﷺ) was left with only seven men from the ansar and two men from the Quraish. When the enemy advanced towards him and overwhelmed him, he said:Whoso turns them away from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Ansar came forward and fought (the enemy) until he was killed. The enemy advanced and overwhelmed him again and he repeated the words: Whoso turns them away, from us will attain Paradise or will be my Companion in Paradise. A man from the Arsar came forward and fought until he was killed. This state continued until the seven Ansar were killed (one after the other). Now, the Messenger of Allah (ﷺ) said to his two Companions: We have not done justice to our Companions
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، انصار کے سات اور قریش کے دو آدمیوں ( سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبیداللہ تیمی رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ( لشکر سے الگ کر کے ) تنہا کر دیے گئے ، جب انہوں نے آپ کو گھیر لیا تو آپ نے فرمایا : " ان کو ہم سے کون ہٹائے گا؟ اس کے لیے جنت ہے ، یا ( فرمایا : ) وہ جنت میں میرا رفیق ہو گا ۔ " تو انصار میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور اس وقت تک لڑتا رہا ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا ، انہوں نے پھر سے آپ کو گھیر لیا ، آپ نے فرمایا : " انہیں کون ہم سے دور ہٹائے گا؟ اس کے لیے جنت ہے ، یا ( فرمایا : ) وہ جنت میں میرا رفیق ہو گا ۔ " پھر انصار میں سے ایک شخص آگے بڑھا وہ لڑا حتی کہ شہید ہو گیا ، پھر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ وہ ساتوں انصاری شہید ہو گئے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ( ان قریشی ) ساتھیوں سے فرمایا : " ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا
وَحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ . قَالَ " قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ بِأَهْلِهَا " . قُلْتُ فَبِأَىِّ شَىْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ " عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ " . قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ فَقَالَ صَدَقَ .
It has been reported on the authority of Mujashi' b. Mas'ud who said:I brought my brother Abu Ma'bad to the Messenger of Allah (may peace he upon him) after the conquest of Mecca and said: Messenger of Allah, allow him to swear his pledge of migration at your hand. He said: The period of migration is over with those who had to do it (and now nobody can get this meritorious distinctions) I said: For what actions will you allow him to bind himself in oath? He said: (He can do so) for serving the cause of Islam, for fighting in the way of Allah and for fighting in the cause of virtue. Abd Uthman said: I met Abd Ma'bad and told him what I had heard from Mujashi'. He said: He has told the truth
علی بن مسہر نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی ، کہا : مجھے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، کہا : میں اپنے بھائی ابومعبد کے ساتھ فتح ( مکہ ) کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے ، آپ نے فرمایا : "" ہجرت والوں کے ساتھ ہجرت ( کا مرحلہ ) گزر گیا ۔ "" میں نے عرض کی : پھر آپ کس بات پر اس سے بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا : "" اسلام ، جہاد اور خیر پر ۔ "" ابو عثمان نے کہا : میری حضرت ابو معبد رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : اس نے سچ کہا ہے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَقَالَ " وَالْفُوَيْسِقَةُ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ " .
This hadith has been reported on the authority of Jabir through another chain of transmitters but with a slight variation of words:" The mouse may set the house on fire over its inhabitants
سفیان نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کے مانند روایت کی اور فرمایا؛ " چوہیا گھر والوں کے اوپر گھر کو جلا دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ أَوْ جَاءَ عَامَ الْفَتْحِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ مِثْلُ الثَّغَامِ أَوِ الثَّغَامَةِ فَأَمَرَ أَوْ فَأُمِرَ بِهِ إِلَى نِسَائِهِ قَالَ " غَيِّرُوا هَذَا بِشَىْءٍ " .
Jabir reported that when Abu Qubafa (father of Abu Bakr) came in the yeu of Victory or on the Day of Victory (to the Prophet to pledge his allegiance to him) his head and his beard were white like hyssop. He (the Holy Prophet) commaded or the women were commanded by him that they should change this with something (that the colour of his hair should be changed)
ابوخیثمہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح مکہ کے سال یا فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایاگیا ، وہ آئے اور ان کے سر اور داڑھی کےبال ثغام یا ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کی عورتوں کوحکم دیا ، یا ان کے بارے میں ( ان کےگھر کی عورتوں کو ) حکم دیا گیا ، فرمایا : " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز ( اور رنگ ) سے بدل د یں ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ - عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أَخِي عَرِبَ بَطْنُهُ . فَقَالَ لَهُ " اسْقِهِ عَسَلاً " . بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ .
This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters but with a slight variation of wording
سعید نے قتادہ سے انھوں نے ابو متوکل ناجی سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے بھا ئی کا پیٹ خراب ہو گیا ہے ، آپ نے فر ما یا : " اس کو شہد پلا ؤ ۔ " ( آگے ) شعبہ کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے ۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلاَ بِالْقَصِيرِ . قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ لَهُ شَعَرٌ .
Al-Bara' reported:Never did I see anyone more handsome than Allah's Apostle (ﷺ) in the red mantle. His hair had been hanging down on the shoulders and his shoulders were very broad, and he was neither very tall nor short-statured. Ibn Kuraib said he had hair
عمرو ناقد اور ابو کریب نے کہا : ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو اسحاق سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے کسی د راز گیسوؤں والے شخص کو سرخ جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا ، آپ کے بال کندھوں کو چھوتے تھے ، آپ کے دونوں کندھوں کے د رمیان فاصلہ تھا ، قد بہت لمبا تھا نہ بہت چھوٹا تھا ۔ ابو کریب نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایسے تھے ( جو کندھوں کو چھوتے تھے ۔)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَى صَدْرِهَا وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ " .
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) at the time of breathing his last was reclining against her chest and she was leaning over him and listening to him as he was saying:O Allah, grant me pardon, show mercy to me, enjoin me to companions (on High)
مالک بن انس نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبتایا کہ انھوں نے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے فرمارہے تھے اور آپ ان کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور انھوں نے کان لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی ، آپ فرمارہے تھے : " اللہ!مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق ( اعلیٰ ) کے ساتھ ملادے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْهُ " .
Hammam b. Munabbih said:Of the ahadith narrated to us by Abfi Huraira from Muhammad the Messenger of Allah (ﷺ) one is this: The Messenger or Allah (ﷺ) said: You should not urinate in standing water, that is not flowing, then wash in it
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد ﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے کچھ احادیث سنائیں ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کھڑے ہوئے پانی میں ، جو چل نہ رہا ہو ، پیشاب نہ کرو کہ پھر تم اس میں نہاؤ ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ، مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا " .
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Allah is pleased with His servant who says: Al-Hamdu lillah while taking a morsel of food and while drinking
ابواسامہ اور محمد بن بشر نے زکریا بن ابی زائدہ سے ، انہوں نے سعید بن ابی بُردہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بات پر ( اپنے ) بندے سے راضی ہوتا ہے کہ وہ ایک کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی حمد کرے یا پینے کی کوئی چیز ( پانی ، دودھ وغیرہ ) پیے اور اس پر اللہ کی حمد کرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ، اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَىِ النَّاسِ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ . أَلاَ وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ " .
Ibn Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ). made a mention of Dajjal in the presence of the people and said:Allah is not one-eyed and behold that Dajjal is blind of the right eye and his eye would be like a floating grape
عبید اللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : " اللہ تبارک وتعالیٰ کانانہیں ہے سن رکھو!بلاشبہ مسیح دجال داہنی آنکھ سے کاناہے ۔ اس کی آنکھ اس طرح ہے جیسے ابھراہواانگورکادانہ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَأَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ قَالَ " إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ وَإِنْ شِئْتَ فَلاَ تَوَضَّأْ " . قَالَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ قَالَ " نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ " . قَالَ أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ " نَعَمْ " . قَالَ أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ قَالَ " لاَ " .
Jabir b. Samura reported:A man asked the Messenger of Allah (may peace he upon him) whether he should perform ablution after (eating) mutton. He (the Messenger of Allah) said: Perform ablution it you so desire, and if you do not wish, do not perform it. He (again) asked: Should I perform ablution (after eating) camel's flesh? He said: Yes, perform ablution (after eating) camel's flesh. He (again) said: May I say prayer in the sheepfolds? He (the Messenger of Allah) said: Yes. He (the narrator) again said: May I say prayer where camels lie down? He (the Holy Prophet) said: No
ابو کامل فضیل بن حسین جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے عثمان بن عبد اللہ بن موہب سے حدیث سنائی ، انہوں نے جعفر بن ابی ثور سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : کیا میں بکری کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : چاہو تو وضو کر لو اور چاہو تو نہ کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹ کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، اونٹ کے گوشت سے وضو کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹوں کے بٹھانے ک جگہ میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ، لأَبِي بَكْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاَةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلاَ تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلاَ بِالسُّجُودِ وَلاَ بِالْقِيَامِ وَلاَ بِالاِنْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي - ثُمَّ قَالَ - وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " . قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ " .
Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) one day led us in the prayer. and when he completed the Prayer he turned his face towards us and said: 0 People, I am your Imam, so do not precede me in bowing and prostration and in standing and turning (faces, i. e. In pronouncing salutation), for I see you in front of me and behind me, and then said: By Him in Whose hand Is the life of Muhammad, if you could see what I see, you would have laughed little and wept much more. They said: What did you see, Messenger of Allah? He replied: (I saw) Paradise and Hell
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے فوراً ہی بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ اس لئے مجھ سے پہلے رکوع، سجدہ، قومہ اور سلام نہ پھیرو۔ میں آگے اور پیچھے سے تم کو دیکھتا ہوں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو چیزیں میں دیکھتا ہوں اگر تم انہیں دیکھ لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ ارشاد ہوا ”میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔“