وَحَدَّثَنَاهُ عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَمْسًا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ " وَمَا ذَاكَ " . قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا . قَالَ " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ " . ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ .
Abdullah (b. Mas'ud) reported:The Messenger of Allah (ﷺ) led us five (rak'ahs in prayer). We said: Messenger of Allah, has the prayer been extended? He said: What is the matter? They said: You have said five (rak'ahs). He (the Holy Prophet) said: Verily I am a human being like you. I remember as you remember and I forget just as you forget. He then performed two prostrations as (compensation of) forgetfulness
عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد سے ، انھوں نےحضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھا دیں تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ کیا ؟ ‘ ‘ صحابہ نے کہا : آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میں تمھاری طرح انسان ہوں ، میں بھی اسی طرح یا د رکھتا ہوں ، جس طرح تم یاد رکھتے ہو اور میں ( بھی ) اسی طرح بھو ل جاتا ہوں ، جس طرح تم بھول جاتے ہو ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے سہو کے دو سجدے کیے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ { قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} وَالَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ { تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ}
Ibn 'Abbas reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in the two (supererogatory) rak'ahs of the dawn prayer:" Say: We believed in Allah and what was revealed to us" and that which is found in Surah Al-i-'lmran:" Come to that word (creed) which is common between you and us" (iii)
ابو خالد احمر نے عثمان بن حکیم سے ، انھوں نے سعید بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعتوں میں ( قرآن مجید میں سے ) ( قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا ) ( والا حصہ ) اور جو سورہ آل عمران میں ہے ( تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ) ( والاحصہ ) پڑھا کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لأَخِيهِ يَا كَافِرُ . فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ وَإِلاَّ رَجَعَتْ عَلَيْهِ " .
It is reported on the authority of Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said:Any person who called his brother: "O unbeliever" (has in fact done an act by which this unbelief) would return to one of them. If it were so, as he asserted (then the unbelief of man was confirmed but if it was not true), then it returned to him (to the man who labeled it on his brother Muslim)
عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اپنے بھائی سے کہا : اے کافر ! تو دونوں میں سے ایک ( کفرکی ) اس ( نسبت ) کے ساتھ لوٹے گا ۔ اگر وہ ایسا ہی ہے جس طرح اس نےکہا ( تو ٹھیک ) ورنہ یہ بات اسی ( کہنے والے ) پر لوٹ آئے گی ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ، اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ .
A hadith like this has been transmitted on the authority of Jabir b. 'Abdullah
حجاج بن محمد اور عبدالرزاق نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ ۔ ۔ آگے اس ( پچھلی حدیث ) کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ " .
Abdullah b. Umar reported that as Allah's Messenger (ﷺ) was sitting on the pulpit and talking about Sadaqa and abstention from begging, he said:The upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower one which begs
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا جبکہ آپ منبر پر تھے اور صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے : " اوپر والا ہا تھ نیچے والے ہا تھ سے بہتر ہے اور اوپر والا ہا تھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . نَحْوَ حَدِيثِ هَمَّامٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ وَعُمَرَ بْنِ عَامِرٍ وَهِشَامٍ لِثَمَانَ عَشْرَةَ خَلَتْ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ فِي ثِنْتَىْ عَشْرَةَ . وَشُعْبَةَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ .
A hadith like this has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters by different narrators (except this difference) that in the hadith transmitted by Taimi and Umar b. Amir and Hisham (the date of setting out is) 18th, and in the hadith transmitted by Sa'id it is the 12th, and in the one transmitted by Shu'ba it is the 17th or 19th
محمد بن ابی بکر مقدمی ، یحییٰ بن سعید تیمی ، محمد بن مثنیٰ ، ابن مہدی ، شعبہ ، ابو عامر ، ہشام ، سالم بن نوح ، عمر ( ابن عامر ) ابو بکر بن ابی شیبہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہمام کی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ تیمی اور عمر بن عامر اور ہشام کی روایت میں اٹھارہ تاریخ اور سعید کی حدیث میں بارہ تاریخ اور شعبہ کی حدیث میں سترہ یا انیس تاریخ ذکر کی گئی ہے ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ " . قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحَجٍّ وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ مَعَهُ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِعُمْرَةٍ وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ .
A'isha (Allah be pleased with her) reported:'We went with the Messenger of Allah (ﷺ) (to Mecca). He said: He who intended among you to put on Ihram for Hajj and `Umra should do so. And he who intended to put on Ihram for Hajj may do so. And he who intended to put on Ihram for `Umra only may do so. `A'isha (Allah be pleased with her) said: The Messenger of Allah (ﷺ) put on Ihram for Hajj and some people did that along with him. And some people put on Ihram for `Umra and Hajj (both), and some persons put on Ihram for `Umra only, and I was among those who put on Ihram for `Umra (only)
سفیان نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج کے لیے ) نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو اکٹھے عمرے اور حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکا رے ۔ جو ( صرف ) حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکارے اور جو ( صرف ) عمرے کے لیے پکا رنا چاہے وہ ایسا کر لے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے تلبیہ پکارا اور آپ کے ساتھ کئی لوگوں نے ( اکیلے حج کے لیے ) تلبیہ کہا کئی لوگوں نے عمرے اور حج ( دونوں ) کے لیے تلبیہ کہا اور کئی لوگوں نے صرف عمرے کے لیے کہا اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
A hadith like this has been narrated on the authority of Abd Zubair with the same chain of transmitters
ابن جُریج نے ابوزبیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ، حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلاَ تَبِيعُوهَا " . فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ مَا قَوْلُهُ وَلاَ تَبِيعُوهَا يَعْنِي الْكِرَاءَ . قَالَ نَعَمْ .
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) heard Allah's Messenger (ﷺ) say:He who has surplus of land should either cultivate it himself, or let his brother cultivate it, an should not sell it. I (the narrator) said to Sa'id: What does his statement" do not sell it" mean? Does it imply" rent"? He said: Yes
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس فالتو زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے ( استفادے کے لیے ) فروخت نہ کرو ۔ " میں ( سلیم بن حیان ) نے سعید سے پوچھا : " اسے فروخت نہ کرو " سے کیا مراد ہے؟ کیا آپ کی مراد کرایہ پر دینے سے تھی؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - أَخْبَرَنِي يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ، يَقُولُ جَاءَ بِلاَلٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنْ أَيْنَ هَذَا " . فَقَالَ بِلاَلٌ تَمْرٌ كَانَ عِنْدَنَا رَدِيءٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِكَ " أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لاَ تَفْعَلْ وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ فَبِعْهُ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ " . لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ سَهْلٍ فِي حَدِيثِهِ عِنْدَ ذَلِكَ .
Abd Sa'id reported:Bilal (Allah be pleased with him) came with fine quality of dates. Allah's Messenger (ﷺ) said to him: From where (you have brought them)? Bilal said: We had inferior quality of dates and I exchanged two sa's (of inferior quality) with one sa (of fine quality) as food for Allah's Apostle (ﷺ), whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Woe! it is in fact usury; therefore, don't do that. But when you intend to buy dates (of superior quality), sell (the inferior quality) in a separate bargain and then buy (the superior quality). And in the hadith transmitted by Ibn Sahl there is no mention of" whereupon
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں یحییٰ بن صالح وحاظی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے حدیث سنائی ۔ نیز محمد بن سہیل تمیمی اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے ۔ ۔ الفاظ دونوں کے یہی ہیں ۔ ۔ دونوں نے مجھے یحییٰ بن حسان سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معاویہ بن سلام نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : حضرت بلال رضی اللہ عنہ برنی کھجور لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : "" یہ کہاں سے لائے ہو؟ "" تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمارے پاس ردی کھجور تھی ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے لیے اُسے دو صاع کے عوض ( اِس کے ) ایک صاع سے بیچ دیا ۔ تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے افسوس ہوا! تو یہ عین سود ہے ، ایسا نہ کرو بلکہ جب تم کھجور خریدنا چاہو تو اسے ( ردی کھجور کو ) دوسری ( نقدی وغیرہ کے عوض کی گئی ) بیع کے ذریعے سے بیچ دو ، پھر اس ( کی قیمت ) سے ( دوسری قسم ) خرید لو ۔ "" ابن سہل نے اپنی حدیث میں "" اس وقت "" کے الفاظ بیان نہیں کیے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَاتَلْتُ مَعَهُ وَأَبْلَيْتُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنْتَ كُنْتَ تَفْعَلُ ذَلِكَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الأَحْزَابِ وَأَخَذَتْنَا رِيحٌ شَدِيدَةٌ وَقُرٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ رَجُلٌ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ " أَلاَ رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ " أَلاَ رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَهُ اللَّهُ مَعِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَسَكَتْنَا فَلَمْ يُجِبْهُ مِنَّا أَحَدٌ فَقَالَ " قُمْ يَا حُذَيْفَةُ فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ " . فَلَمْ أَجِدْ بُدًّا إِذْ دَعَانِي بِاسْمِي أَنْ أَقُومَ قَالَ " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلاَ تَذْعَرْهُمْ عَلَىَّ " . فَلَمَّا وَلَّيْتُ مِنْ عِنْدِهِ جَعَلْتُ كَأَنَّمَا أَمْشِي فِي حَمَّامٍ حَتَّى أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَصْلِي ظَهْرَهُ بِالنَّارِ فَوَضَعْتُ سَهْمًا فِي كَبِدِ الْقَوْسِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْمِيَهُ فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَلاَ تَذْعَرْهُمْ عَلَىَّ " . وَلَوْ رَمَيْتُهُ لأَصَبْتُهُ فَرَجَعْتُ وَأَنَا أَمْشِي فِي مِثْلِ الْحَمَّامِ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَفَرَغْتُ قُرِرْتُ فَأَلْبَسَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فَضْلِ عَبَاءَةٍ كَانَتْ عَلَيْهِ يُصَلِّي فِيهَا فَلَمْ أَزَلْ نَائِمًا حَتَّى أَصْبَحْتُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قَالَ " قُمْ يَا نَوْمَانُ " .
It has been narrated by Ibrahim al-Taimi on the authority of his father who said:We were sitting in the company of Hudhaifa. A man said: If I were in the time of the Messenger of Allah (ﷺ), I would have fought by his side and would have striven hard for his causes. Hudhaifa said: You might have done that, (but you should not make a flourish of your enthusiasm). I was with the Messenger of Allah (ﷺ) on the night of the Battle of Abzib and we were gripped by a violent wind and severe cold. The Messenger of Allah (may peace be him) said: Hark, the man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgment by Allah (the Glorious and Exalted). We all kept quiet and none of us responed to him. (Again) he said: Hark, a man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgment by Allah (the Glorious and Exalted). We kept quiet and none of us responded to him. He again said: Hark, a man who (goes reconnoitring and) brings me the news of the enemy shall be ranked with me on the Day of Judgtuent by Allah (the Glorious and Exalted) Then he said: Get up Hudhaifa, bring me the news of the enemy. When he called me by name I had no alternative but to get up. He said: Go and bring me information about the enemy, and do nothing that may provoke them against me. When I left him, I felt warm as if I were walking in a heated bath untill I reached them. I saw Abu Sufyan warming his back against fire I put an arrow in the middle of the bow. intending to shoot at him, when I recalled the words of the Messenger of Allah (ﷺ)" Do not provoke them against me." Had I shot at him, I would have hit him. But I returned and (felt warm as if) I were walking in a heated bath (hammam). Presenting myself before him, I gave him information about the enemy. When I had done so, I began to feel cold, so the Messenger of Allah (ﷺ) wrapped me in a blanket that he had in excess to his own requirement and with which he used to cover himself while saying his prayers. So I continued to sleep until it was morning. When it was morning he said: Get up, O heavy sleeper
ابراہیم تیمی کے والد ( یزید بن شریک ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، ایک آدمی نے کہا : اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کو پا لیتا تو آپ کی معیت میں جہاد کرتا اور خوب لڑتا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم ایسا کرتے؟ میں نے غزوہ احزاب کی رات ہم سب کو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہمیں تیز ہوا اور سردی نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا کوئی ایسا مرد ہے جو مجھے ( اس ) قوم ( کے اندر ) کی خبر لا دے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو میرے ساتھ رکھے! " ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : " کوئی شخص ہے جو میرے پاس ان لوگوں کی خبر لے آئے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو میرے ساتھ رکھے! " ہم خاموش رہے اور ہم میں سے کسی نے کوئی جواب نہ دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : " ہے کوئی شخص جو ان لوگوں کی خبر لا دے؟ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو میری رفاقت عطا فرمائے! " ہم خاموش رہے ، ہم میں سے کسی نے کوئی جواب نہ دیا ، آپ نے فرمایا : " حذیفہ! کھڑے ہو جاؤ اور تم مجھے ان کی خبر لا کے دو ۔ " جب آپ نے میرا نام لے کر بلایا تو میں نے اُٹھنے کے سوا کئی چارہ نہ پایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ ان لوگوں کی خبریں مجھے لا دو اور انہیں میرے خلاف بھڑکا نہ دینا ۔ " ( کوئی ایسی بات یا حرکت نہ کرنا کہ تم پکڑے جاؤ ، اور وہ میرے خلاف بھڑک اٹھیں ) جب میں آپ کے پاس سے گیا تو میری حالت یہ ہو گئی جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں ، ( پسینے میں نہایا ہوا تھا ) یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچا ، میں نے دیکھا کہ ابوسفیان اپنی پشت آگ سے سینک رہا ہے ، میں نے تیر کو کمان کی وسط میں رکھا اور اس کو نشانہ بنا دینا چاہا ، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ " انہیں میرے خلاف بھڑکا نہ دینا " ( کہ جنگ اور تیز ہو جائے ) اگر میں اس وقت تیر چلا دیتا تو وہ نشانہ بن جاتا ، میں لوٹا تو ( مجھے ایسے لگ رہا تھا ) جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں ، پھر جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو ان لوگوں کی ( ساری ) خبربتائی اور میں فارغ ہوا تو مجھے ٹھنڈ لگنے لگی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( اپنی اس ) عبا کا بچا ہوا حصہ اوڑھا دیا جو آپ ( کے جسم اطہر ) پر تھی ، آپ اس میں نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں ( اس کو اوڈھ کر ) صبح تک سوتا رہا ، جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا : " اے خوب سونے والے! اُٹھ جاو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، حَدَّثَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ " إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ مَضَتْ لأَهْلِهَا وَلَكِنْ عَلَى الإِسْلاَمِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ " .
It has been reported on the authority of Mujashi' b. Mas'ud as-Sulami who said:I came to the Prophet (ﷺ) to offer him my pledge of migration. He said: The period of migration has expired (and those who wereto get the reward for this great act of devotion have got it). You may now give your pledge to serve the cause of Islam, to strive in the way of Allah and to follow the path of virtue
اسماعیل بن زکریا نے عاصم احول سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے روایت کی ، کہا : مجھے حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہجرت کی بیعت کرنے والوں کا وقت گزر گیا ، البتہ اسلام ، جہاد اور خیر پر بیعت ( جائز ) ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَغْلِقُوا الْبَابَ " . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَخَمِّرُوا الآنِيَةَ " . وَقَالَ " تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ ثِيَابَهُمْ " .
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Shut the doors; the rest of the hadith is the same but with a slight variation of wording: Cover the utensils, and further said: It (the mouse) may set fire to the clothes of the residents of the house
زہیر نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دروازہ بند کردو " پھر لیث کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ انھوں نے کہا؛ " اور برتنوں کو ڈھانک دو " اور ی کہا : " وہ ( چوہیا ) گھر والوں پر ان کے کیڑے جلا دیتی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade that a person should (wear) clothes dyed in saffron
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو زعفرانی رنگ ( پہننے ) سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْقِهِ عَسَلاً " . فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ إِنِّي سَقَيْت��هُ عَسَلاً فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا . فَقَالَ لَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ فَقَالَ " اسْقِهِ عَسَلاً " . فَقَالَ لَقَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلاَّ اسْتِطْلاَقًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ " . فَسَقَاهُ فَبَرَأَ .
Abu Sa'id Khudri reported that a person came to Allah's Apostle (ﷺ) and told him that his brother's bowels were loose. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said:Give him honey. So he gave him that and then came and said: I gave him honey but it has only made his bowels more loose. He said this three times; and then he came the fourth time, and he (the Holy Prophet) said: Give him honey. He said: I did give him, but it has only made his bowels more loose, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Allah has spoken the truth and your brother's bowels are in the wrong. So he made him drink (honey) and he was recovered
شعبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو متوکل سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کی : میرے بھا ئی کا پیٹ چل پڑا ہے ( دست لگ گئے ۔ ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس کو شہد پلا ؤ ۔ اس نے اسے شہد پلا یا ، وہ پھر آیا اور کہا : میں نے اسے شہد پلا یاہے ، اس سے ( دستوں کی تیزی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اس سے وہی فرما یا ( شہد پلاؤ ) جب وہ چوتھی بار آیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے شہد پلاؤ ۔ " اس نے کہا : میں نے اسے شہد پلا یا ہے اس سے دستوں میں اضافے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " اللہ نے سچ فر مایا ہے ( کہ شہد میں شفا ہے ) اور تمھا رے بھا ئی کا پیٹ جھوٹ بول رہا ہے ۔ " اس نے اسے ( اور ) شہد پلا یا وہ تندرست ہو گیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ عَظِيمَ الْجُمَّةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ صلى الله عليه وسلم .
Al-Bara' reported that Allah's Messenger (ﷺ) was of medium height, having broad shoulders, with his hair hanging down on the lobes of his ears. He put on a red mantle over him, and never have I seen anyone more handsome than Allah's Apostle (ﷺ)
شعبہ نے کہا : میں نے ابو اسحاق سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے آدمی تھے ، دونوں شانوں کے درمیان بہت فاصلہ تھا ، بال بڑے تھے جو کانوں کی لوتک آتے تھے ، آپ پرسرخ جوڑاتھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کبھی کوئی خوبصورت نہیں دیکھا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَتَفَقَّدُ يَقُولُ " أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ أَيْنَ أَنَا غَدًا " . اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ . قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي .
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) during his last illness) inquired:Where I would be tomorrow, where I would be tomorrow (thinking, that the turn of 'A'isha was not very near) and when it was my turn, Allah called him to his Heavenly Home and his head was between my neck and chest
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بیماری کے دوران میں ) دریافت کرتے فرماتے تھے : " آج میں کہاں ہوں؟کل میں کہاں ہوں گا؟ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لگتا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی باری کا دن آہی نہیں رہا ۔ انھوں نےکہا : جب میری باری کا دن آیاتو اللہ نے آپ کو اس طرح اپنے پاس بلایا کہ آپ میرے سینے اور حلق کے درمیان ( سر رکھے ہوئے ) تھے ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ " .
Abu Huraira reported:the Messenger of Allah (ﷺ) said: None amongst you should urinate in standing water, and then wash in it
ابن سیرین نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’تم سے کوئی ہرگز ساکن پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر اس میں سے نہائے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ كَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I have held covenant with Thee which Thou wouldst not break, so for any believer whom I curse or beat, make that an expiation on the Day of Resurrection
ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ ( دعا کرتے ہوئے ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! میں نے تیرے حضور پختہ عہد لیا ہے جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ کوئی بھی مومن جسے میں نے تکلیف پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے سے مارا ہو ، اسے تو قیامت کے دن اس کے لیے ( گناہوں کا ) کفارہ بنا دینا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي، سُلَيْمَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، .
This hadith has been narrated on the authority of Safwan b. 'Abdullah b. Safwan with the same chain of transmitters
یزید بن ہارون نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، اور کہا : صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، - يَعْنِي ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ - حَدَّثَنَا ابْنُ، عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ نَافِعٌ يَقُولُ ابْنُ صَيَّادٍ . قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقِيتُهُ مَرَّتَيْنِ - قَالَ - فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ هَلْ تَحَدَّثُونَ أَنَّهُ هُوَ قَالَ لاَ وَاللَّهِ - قَالَ - قُلْتُ كَذَبْتَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بَعْضُكُمْ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالاً وَوَلَدًا فَكَذَلِكَ هُوَ زَعَمُوا الْيَوْمَ - قَالَ - فَتَحَدَّثْنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ - قَالَ - فَلَقِيتُهُ لَقْيَةً أُخْرَى وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ - قَالَ - فَقُلْتُ مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى قَالَ لاَ أَدْرِي - قَالَ - قُلْتُ لاَ تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاكَ هَذِهِ . قَالَ فَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُ - قَالَ - فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِيَ حَتَّى تَكَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ - قَالَ - وَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ قَالَ " إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبْعَثُهُ عَلَى النَّاسِ غَضَبٌ يَغْضَبُهُ " .
Nafi' reported that Ibn 'Umar said:I met lbn Sayyad twice and said to some of them (his friends): You state that it was he (the Dajjal). He said: By Allah, it is not so. I said: You have not told me the truth; by Allah some of you informed me that he would not die until he would have the largest number of offspring and huge wealth and it is he about whom it is thought so. Then Ibn Sayyad talked to us. I then departed and met him again for the second time and his eye had been swollen. I said: What has happened to your eye? He said: I do not know. I said: This is in your head and you do not know about it? He said: If Allah so wills He can create it (eye) in your staff. He then produced a sound like the braying of a donkey. Some of my companions thought that I had struck him with the staff as he was with me that the staff broke into pieces, but, by Allah, I was not conscious of it. He then came to the Mother of the Faithful (Hafsa) and narrated it to her and she said: What concern you have with him? Don't you know that Allah's Apostle (ﷺ) said that the first thing (by the incitement of which) he would come out before the public would be his anger?
ابن عون نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، کہا : نافع کہاکرتے تھے کہ ابن صیاد ۔ ( اسکے بارے میں ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ۔ میں اس سے دوبارہ ملاہوں ۔ ایک بار ملا تو میں نے لوگوں سے کہا کہ تم کہتے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے؟ ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم ۔ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! تم نے مجھے جھوٹا کیا ۔ تم میں سے بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ نہیں مرے گا ، یہاں تک کہ تم سب میں زیادہ مالدار اور صاحب اولاد ہو گا ، تو وہ آج کے دن ایسا ہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں پھر ابن صیاد نے ہم سے باتیں کیں ۔ پھر میں ابن صیاد سے جدا ہوا ۔ کہتے ہیں کہ جب دوبارہ ملا تو اس کی آنکھ پھولی ہوئی تھی ۔ میں نے کہا کہ یہ تیری آنکھ کب سے ایسے ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ میں نے کہا کہ آنکھ تیرے سر میں ہے اور تجھے معلوم نہیں؟ وہ بولا کہ اگر اللہ چاہے تو تیری اس لکڑی میں آنکھ پیدا کر دے ۔ پھر ایسی آواز نکالی جیسے گدھا زور سے کرتا ہے ۔ انھوں نے کہا : میرےساتھیوں میں سے ایک سمجھتا ہے کہ میرے پاس جو ڈنڈا تھا میں نے اسے اس کے ساتھ اتنا مارا کہ وہ ڈنڈا ٹوٹ گیا لیکن میں ، واللہ!مجھے کچھ پتہ نہ چلا ۔ نافع نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ام المؤمنین ( حفصہ رضی اللہ عنہا ) کے پاس گئے اور ان سے یہ حال بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن صیاد سے تیرا کیا کام تھا؟ کیا تو نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اول چیز جو دجال کو لوگوں پر بھیجے گی ، وہ اس کا غصہ ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ حَلْحَلَةَ وَفِيهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، شَهِدَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ صَلَّى وَلَمَ يَقُلْ بِالنَّاسِ .
This hadith is narrated by Muhammad b. 'Amr b. Ata' with these words:I was with Ibn 'Abbas, and Ibn 'Abbas saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing like this, and it is also said that the words are: He (the Holy Prophet) offered prayer; and the word" people" is not mentioned
امام مسلم نے ایک دوسری سند سے ولید بن کثیر کے واسطے سے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا .... اس کے بعد انہوں نے ابن حلحلہ کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عباس ؓ موجود تھے اور یہ کہ انہوں نے ( ابن عباس ) نے صلى بالناس ( آپﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ) کے بجائے صلى ( آپﷺ نے نماز پڑھی ) کہا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ - حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ " . وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ " إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ " .
Anas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: Complete the bowing and prostration well. By Allah, I see you behind my back as to how you bow and prostrate or when you bow and prostrate
قتادہ سے ( شعبہ کے بجائے دستوائی والے ) ہشام اور سعید نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ کو مکمل کرو ، اللہ کی قسم! جب بھی تم رکوع کرتے ہو اور جب بھی تم سجدہ کرتے ہو تو میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور سعید کی روایت میں ( إذا ما ركعتم وإذا ما سجدتم کے بجائے ) إذا ركعتم وسجدتم ’’جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو ۔ ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔ یعنی سعید کی روایت میں اذا کے بعد دونوں جگہ ما کا لفظ نہیں ہے ۔