بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
23 hadith
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا ‏.‏
Alqama reported:He (the Holy Prophet) had led them five rak'ahs in prayer
ابن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن ادریس نے حسن بن عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابراہیم ( بن سوید ) سے اور انھوں نے علقمہ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے انھیں پانچ رکعات پڑھائیں ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ، - هُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ‏{‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ‏}‏ وَ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) recited in the two (supererogatory) rak'ahs of the dawn (prayer):" Say: O unbelievers," (Qur'an, cix.) and" Say: Allah is one" (cxii)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو رکعتوں میں ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُ‌ونَ ) اور ( قُلْ هُوَ اللہ أَحَدٌ ) تلاوت کیں ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلاَءِ ذَكَرَ فِيهِ ‏ "‏ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings of Allah be upon him) made observations like them embodied in the hadith narrated by Yahya b. Muhammad on the authority of 'Ala', and added to it:even if he observed fast and prayed and asserted that he was a Muslim
حماد بن سلمہ نے داؤد بن ابی ہندہ سے ، انہوں نے سعید بن مسیب کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی جو یحییٰ بن محمد کی علاء سے بیان کردہ روایت کے مطابق ہے اور اس میں بھی یہ الفاظ ہیں : ’’خواہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي، الْهَيَّاجِ الأَسَدِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَلاَّ أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلاَّ طَمَسْتَهُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ ‏.‏ وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ وَلاَ صُورَةً إِلاَّ طَمَسْتَهَا ‏.‏
Abu'l-Hayyaj al-Asadi told that 'Ali (b. Abu Talib) said to him:Should I not send you on the same mission as Allah's Messenger (ﷺ) sent me? Do not leave an image without obliterating it, or a high grave without levelling It. This hadith has been reported by Habib with the same chain of transmitters and he said: (Do not leave) a picture without obliterating it
وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے حبیب بن ابی ثابت سے ، انھوں نے ابو وائل سے اور انھوں نے ابو الہیاج اسدی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمھیں اس ( مہم ) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ ( وہ یہ ہے ) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے ( زمین کے ) برابر کردینا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا فَقَالَ ‏ "‏ أَمَا وَأَبِيكَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلاَنٍ كَذَا وَلِفُلاَنٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:Messenger of Allah, which charity is the greatest in reward? (The Prophet said): By your father, beware, you should give charity (in a state when you are) healthy and close-fisted, haunted by the fear of poverty, and still hoping to live (as rich). And you must not defer charity (to the time) when you are about to die, and would then say:" This is for so and so, and this for so and so." It has already become the possession of so and so
ابن فضیل نے عمارہ سے انھوں نے ابو زرعہ سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ اجر میں برا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " ہاں تمھا رے باپ کا بھلا ہو تمھیں اس بات سے آگا ہ کیا جا ئے گا وہ یہ کہ تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور مال کی خواہش رکھتے ہو فقر سے ڈرتے ہو اور لمبی زندگی کی امید رکھتے ہو اور ( خود کو ) اس قدر مہلت نہ دو کہ جب تمھا ری جان حلق تک پہنچ جا ئے تو پھر ( وصیت کرتے ہوئے ) کہو فلا ں کا اتنا ہے اور فلا ں کا اتنا ہے وہ تو فلا ں کا ہو ہی چکا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَهُ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ وَكَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّهُ كَانَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَفِي هَذَا الإِسْنَادِ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّذِي رَخَّصَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا سَأَلْتُهُ لَمْ يَحْفَظْهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with this addition that he (the Holy Prophet) said:" Take advantage of the concession of Allah Who Wanted it to you." When he (one of the narrators) asked him (the other one, Yabya b. Abi Kathar) he did not retain it in his mind
احمد بن عثمان نوفلی ، ابو داود ، شعبہ ، یحییٰ ابن ابی کثیر اس طرح ایک اور سند کےساتھ بھی یہ روایت نقل کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو رخصت عطاء فرمائی ہے اس پرعمل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے راوی نے کہا کہ جب میں نے ان سے سوال کیا تو ان کو یاد نہیں تھا ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ، خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلاَ يَحِلُّ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلاَّ بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ - قَالَتْ - فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَضَيْتُ حَجَّتِي بَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَدْرَكَنِي الْحَجُّ وَلَمْ أَحْلِلْ مِنْهَا ‏.‏
A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), said:We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) during the year of the Farewell Pilgrimage. There were some amongst us who had put on IHram for Umra and there were some who had put on Ihram for Hajj. (We proceeded on till) we came to Mecca. The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who put on Ihram for 'Umra but did not bring the sacrificial animal with him should put it off. and he who put on Ihram for Umra and he who had brought the sacrificial animal with him should not put it off until he had slaughtered the animal; and he who put on lhram for Hajj should complete it. A'isha (Allah be pleased with her) said: I was in the monthlyperiod, and I remained In this state till the day of 'Arafa, and I had entered into the state of Ihram for 'Umra. The Messenger of Allah (ﷺ) thus commanded me to undo my hair and comb them (again) and enter into the state of Ihram for Hajj, and abandon (the rites of 'Umra). She ('A'isha) said: I did so, and when I had completed my Pilgrimage, the Messenger of Allah (ﷺ) sent with me 'Abd al-Rabman b. Abu Bakr and commanded me to (resume the rites of) 'Umra at Tan'im. the place where (I abandoned) 'Umra and put on Ihram for Hajj (before completing Umra)
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حجۃالوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا اور بعض نے ( صرف ) حج کے لیے حتیٰ کہ ہم مکہ پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جس نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا وہ قربانی نہیں لا یا ۔ وہ احرا م کھو ل دے ۔ اور جس نے عمرے کا احرا م باندھا تھا اور ساتھ قربانی بھی لا یا ہے وہ جب تک قربانی ذبح نہ کر لے احرا م ختم نہ کرے ۔ اور جس نے صرف حج کے لیے تلبیہ کہا تھا وہ اپنا حج مکمل کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا مجھے ( راستے میں ) ایام شروع ہو گئے ۔ میں عرفہ کے دن تک ایام ہی میں رہی اور میں نے صرف عمرے کے لیے تلبیہ پکا را تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سر کے بال کھولوں لنگھی کروں اور حج کے لیے تلبیہ پکاروں اور عمرے ( کے اعمال ) چھوڑدوں تو میں نے یہی کیا ۔ جب میں نے اپنا حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس عمرے کی جگہ عمرہ کرلوں جسے حج کا دن آجا نے کی بنا پر مکمل کر کے میں اس کاا حرا م نہ کھول پا ئی تھی ۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ فَأَجِيبُوا ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) having said:When you are invited to a feast (even though it is) the leg of the sheep, you should accept it
عمر بن محمد نے مجھے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہیں ( بکری کے ) پائے کی بھی دعوت دی جائے تو قبول کرو
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَطَاءً فَقَالَ أَحَدَّثَكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلاَ يُكْرِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
Sulaiman b. Musa asked Ata':Did Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:" He who has land should cultivate it himself, or let his brother cultivate it, and should not give on rent"? He said: Yes
ہمام نے حدیث بیان کی ، کہا : سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے سوال کیا اور کہا : کیا آپ کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو ( تو بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے کرائے پر نہ دے؟ " انہوں نے جواب دیا : ہاں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الأَنْصَارِيَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلاً بِمِثْلٍ أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira and Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) deputed a person from Banu 'Adi al-Ansari to collect revenue from Khaibar. He came with a fine quality of dates, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to him:Are all the dates of Khaibar like this? He said: Allah's Messenger, it is not so. We buy one sa' of (fine quality of dates) for two sa's out of total output (including even the inferior quality of dates), whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Don't do that, but like for like, or sell this (the inferior quality and receive the price) and then buy with the price of that, and that would make up the measure
سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمان سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عدی سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری کو بھیجا اور اسے خیبر کا عامل مقرر کیا ، وہ جنیب ( عمدہ قسم کی ) کھجور لے کر آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہے؟ اس نے عرض کی : اللہ کے رسول! واللہ! نہیں ۔ ہم ملی جلی کھجور کے دو صاع کے عوض ( عمدہ کھجور کا ) ایک صاع خریدتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسا نہ کرو بلکہ مثل بمثل ( یکساں خریدو بیچو ) یا پھر اسے بیچ دو اور اس کی قیمت سے دوسری قسم خرید لو ، اسی طرح وزن ( کے ذریعے سے لین دین کرنا ہو تو بھی برابر ہونا ضروری ) ہے ۔
وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ‏.‏
This tradition has been narrated through a different chain of transmitters
معتمر کے والد ( سلیمان ) ، ہمام اور شیبان سب نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کی طرح روایت کی
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ، يَحْيَى عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ هَذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ فَقَالَ عَلَى مَاذَا قَالَ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لاَ أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Zaid who said:A person came to him and said: Here is Ibn Hanzala who is making people swear allegiance to him. He (, Abdullah) asked: To what effect? He replied: To the effect that they will die for him. 'Abdullah said: I will never swear allegiance to this effect after the Messenger of Allah (ﷺ)
عباد بن تمیم نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ان کے پاس کوئی شخص آیا اور کہنے لگا : ابن حنظلہ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں؟ پوچھا : کس چیز پر؟ کہا : موت پر ۔ کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے ساتھ اس بات پر بیعت نہیں کروں گا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ غَطُّوا الإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَحُلُّ سِقَاءً وَلاَ يَفْتَحُ بَابًا وَلاَ يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلاَّ أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Cover vessels, waterskins, close the doors and extinguish the lamps, for the Satan does not loosen the waterskin, does not open the door and does not uncover the vessels. And if one amongst you fails to find (something) to cover it well, he should cover it by placing (a piece of) wood across it. Qutaiba did not mention the closing of the doors in the hadith transmitted by him
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو زبیرسے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : برتنوں کو ڈھانک دو ، مشکوں کا منہ بند کردو ، دروازہ بند کردو ، اورچراغ بجھادو ، کیونکہ شیطان مشکیزے کامنہ نہیں کھولتا ، وہ دروازہ ( بھی ) نہیں کھولتا ، کسی برتن کو بھی نہیں کھولتاہے ۔ اگر تم میں سے کسی کو اسکے سوا اور چیز نہ ملے کہ وہ اپنے برتن پر چوڑائی کے بل لکڑی ہی رکھ دے ، یا اس پر اللہ کا نام ( بسم اللہ ) پڑ ھ دے تو ( یہی ) کرلے کیونکہ چوہیا گھروالوں کے اوپر ( یعنی جب وہ اس کی چھت تلے سوئے ہوتے ہیں ) ان کا گھر جلادیتی ہے ۔ " قتیبہ نے اپنی حدیث میں : " اور دروازہ بند کردو " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitter
ابن عینیہ ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ، حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ دَاءٍ إِلاَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ إِلاَّ السَّامَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no disease for which Nigella seed does not provide remedy
اعلاء ( بن الرحمٰن ) کے والد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " موت کے سوا کو ئی بیماری نہیں جس کی شونیز کے زریعےسے شفا نہ ہو تی ہو ۔
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا وَقَالَ، ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، - يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعْدٍ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ، اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدُلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ ‏.‏
Ibn Abbas reported that the People of the Book used to let their hair fall (on their foreheads) and the polytheists used to part them on their heads, and Allah's Messenger (ﷺ) liked to conform his behaviour to the People of the Book in matters in which he received no command (from God) ; so Allah's Messenger (ﷺ) let fall his hair upon his forehead, and then he began to part it after this
ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے ( یعنی مانگ نہیں نکالتے تھے ) اور مشرک مانگ نکالتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کے طریق پر چلنا دوست رکھتے تھے جس مسئلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حکم نہ ہوتا ( یعنی بہ نسبت مشرکین کے اہل کتاب بہتر ہیں تو جس باب میں کوئی حکم نہ آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت اس مسئلے میں اختیار کرتے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیشانی پر بال لٹکانے لگے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مانگ نکالنے لگے ۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ، شِهَابٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَنَا سَاكِتَةٌ - قَالَتْ - فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَىْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَحِبِّي هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ وَبِالَّذِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَ لَهَا مَا نُرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَىْءٍ فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولِي لَهُ إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ‏.‏ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ وَأَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَعْظَمَ صَدَقَةً وَأَشَدَّ ابْتِذَالاً لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حَدٍّ كَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ قَالَتْ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَهُوَ بِهَا فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ وَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ عَلَىَّ وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا - قَالَتْ - فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ - قَالَتْ - فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا حِينَ أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَبَسَّمَ ‏"‏ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ ‏"‏ ‏.‏
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), said:The wives of Allah's Apostle (ﷺ) sent Fatima, the daughter of Allah's Messenger (ﷺ), to Allah's Apostle (ﷺ). She sought permission to get in as he had been lying with me in my mantle. He gave her permission and she said: Allah's Messenger, verily, your wives have sent me to you in order to ask you to observe equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She (`A'isha) said: I kept quiet. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to her (Fatima): O daughter, don't you love whom I love? She said: Yes, (I do). Thereupon he said: I love this one. Fatima then stood up as she heard this from Allah's Messenger (ﷺ) and went to the wives of Allah's Apostle (ﷺ) and informed them of what she had said to him and what Allah's messenger (ﷺ) had said to her. Thereupon they said to her: We think that you have been of no avail to us. You may again go to Allah's Messenger (ﷺ) and tell him that his wives seek equity in case of the daughter of Abu Quhafa. Fatima said: By Allah, I will never talk to him about this matter. `A'isha (further) reported: The wives of Allah's Apostle (ﷺ) then sent Zainab b. Jahsh, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), and she was one who was somewhat equal in rank with me in the eyes of Allah's Messenger (ﷺ) and I have never seen a woman more advanced in religious piety than Zainab, more God-conscious, more truthful, more alive to the ties of blood, more generous and having more sense of self-sacrifice in practical life and having more charitable disposition and thus more close to God, the Exalted, than her. She, however, lost temper very soon but was soon calm. Allah's Messenger (ﷺ) permitted her to enter as she (`A'isha) was along with Allah's Messenger (ﷺ) in her mantle, in the same very state when Fatima had entered. She said: Allah's Messenger, your wives have sent me to you seeking equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She then came to me and showed harshness to me and I was seeing the eyes of Allah's Messenger (ﷺ) whether he would permit me. Zainab went on until I came to know that Allah's Messenger (ﷺ) would not disapprove if I retorted. Then I exchanged hot words until I made her quiet. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) smiled and said: She is the daughter of Abu Bakr
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے محمد بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ۔ انہوں نے اجازت مانگی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میری چادر میں لیٹے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے ، وہ چاہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ابوقحافہ کی بیٹی میں انصاف کریں ( یعنی جتنی محبت ان سے رکھتے ہیں اتنی ہی اوروں سے رکھیں ۔ اور یہ امر اختیاری نہ تھا اور سب باتوں میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصاف کرتے تھے ) اور میں خاموش تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بیٹی! کیا تو وہ نہیں چاہتی جو میں چاہوں؟ وہ بولیں کہ یا رسول اللہ! میں تو وہی چاہتی ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو عائشہ سے محبت رکھ ۔ یہ سنتے ہی فاطمہ اٹھیں اور ازواج مطہرات کے پاس گئیں اور ان سے جا کر اپنا کہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا بیان کیا ۔ وہ کہنے لگیں کہ ہم سمجھتیں ہیں کہ تم ہمارے کچھ کام نہ آئیں ، اس لئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں ( ابوقحافہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد تھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے دادا ہوئے اور دادا کی طرف نسبت دے سکتے ہیں ) ۔ سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تو اب عائشہ رضی اللہ عنہا کے مقدمہ میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو نہ کروں گی ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور میرے برابر کے مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہی تھیں اور میں نے کوئی عورت ان سے زیادہ دیندار ، اللہ سے ڈرنے والی ، سچی بات کہنے والی ، ناطہٰ جوڑنے والی اور خیرات کرنے والی نہیں دیکھی اور نہ ان سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ تعالیٰ کے کام میں اور صدقہ میں اپنے نفس پر زور ڈالتی تھی ، فقط ان میں ایک تیزی تھی ( یعنی غصہ تھا ) اس سے بھی وہ جلدی پھر جاتیں اور مل جاتیں اور نادم ہو جاتی تھیں ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حال میں اجازت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری چادر میں تھے ، جس حال میں سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا آئی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج ابوقحافہ کی بیٹی کے مقدمہ میں انصاف چاہتی ہیں ۔ پھر یہ کہہ کر مجھ پر آئیں اور زبان درازی کی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کو دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں ، یہاں تک کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دینے سے برا نہیں مانیں گے ، تب تو میں بھی ان پر آئی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کو لاجواب کر دیا یا ان پر غالب آ گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے ۔
وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مِنَ الزِّيَادَةِ وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الْغَنَمِ وَالصَّيْدِ وَالزَّرْعِ وَلَيْسَ ذَكَرَ الزَّرْعَ فِي الرِّوَايَةِ غَيْرُ يَحْيَى ‏.‏
A hadith like this has been narrated from Shu'ba with the same chain of transmitters except for the fact that in the hadith transmitted by Yahya those words are:" He (the Holy Prophet) gave concession in the case of the dog for looking after the herd, for hunting and for watching the cultivated land," and there is no mention of this addition (i. e. concession in case of watching the cultivated lands) except in the hadith transmitted by Yahya
(خالد ) بن حارث ، یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر ، سب نے شعبہ سے اسی سند سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے بکریوں کی حفاظت ، شکار اور کھیتی کی رکھوالی کے لیے کتا رکھنے کی ا جازت دی ۔ یحییٰ کے سوا زرع ( کھیتی ) کا ذکر کسی روایت میں نہیں ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ سَالِمٍ، مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ وَإِنِّي قَدِ اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Salim, the freed slave of Nasriyyin, said:I heard Abu Huraira as saying that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: O Allah, Muhammad is a human being. I lose my temper just as human beings lose temper, and I have held a covenant with Thee which Thou wouldst not break: For a believer whom I give any trouble or invoke curse or beat, make that an expiation (of his sins and a source of) his nearness to Thee on the Day of Resurrection
نصریوں کے آزاد کردہ غلام سالم نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ ( دعا کرتے ہوئے ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! محمد ایک بشر ہی ہے ، جس طرح ایک بشر کو غصہ آتا ہے ، اسے بھی غصہ آتا ہے اور میں تیرے حضور ایک وعدہ لیتا ہوں جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ جس مومن کو بھی میں نے تکلیف پہنچائی ، اسے برا بھلا کہا یا کوڑے سے مارا تو اس سب کچھ کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دینا اور ایسی قربت میں بدل دینا جس کے ذریعے سے قیامت کے دن تو اسے اپنا قرب عطا فرمائے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَرْوَانَ، الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ حَدَّثَنِي سَيِّدِي، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ دَعَا لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏
Umm Darda' reported:My husband reported that he heard Allah's Mes- senger (ﷺ) as saying: He who supplicates for his brother behind his back (in his absence), the Angel commissioned (for carrying supplication to his Lord) says: Amen, and it is for you also
موسیٰ بن سروان معلم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے طلحہ بن عبیداللہ بن کریز نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی ، کہا : میرے آقا ( خاوند ) نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جس شخص نے اپنے بھائی کے لیے اس کی پیٹھ پیچھے دعا کی تو جو فرشتہ اس کے ساتھ مقرر ہے وہ کہتا ہے : آمین اور تمہیں بھی اسی کے مانند عطا ہو ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلاَمٌ ‏.‏ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي انْطِلاَقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَعَ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ ‏.‏
Ibn 'Umar reported that Allah's Messenger (ﷺ) happened to pass by Ibn Sayyad along with his Companions including 'Umar b. Khattab as he was playing with children near the battlement of Bani Maghala and he was also a child by that time. The rest of the hadith is the same as narrated by Ibn Umar (in which there is a mention of) setting out of Allah's Apostle (ﷺ) along with Ubayy b. Ka'b towards the date-palm trees
عبد بن حمید اور سلمہ بن ثویب دونوں نے ہمیں عبدالرزاق سے حدیث بیان کی ، ( انھوں نے کہا : ) ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ا ، انھوں نے سالم سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے چند لوگوں کے ساتھ ، جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ، ابن صیاد کے قریب سے گزرے ، وہ اس وقت لڑکاتھا اور بنومقالہ کے مکانوں کے قریب لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ ( آگے ) جس طرح یونس اور صالح کی حدیث ہے مگر عبد حمید نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھجوروں کے باغ میں جانے کا ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated by another chain of transmitters
عمرو ، اوزاعی اور یونس سب نے عقیل والی سندکے ساتھ زہری سے اسی طرح روایت بیان کی ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَىَّ رُكُوعُكُمْ وَلاَ سُجُودُكُمْ إِنِّي لأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you find me seeing towards the Qibla only? By Allah, your bowing and your prostrating are not hidden from my view. Verily I see them behind my back
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا رخ ادھر ( سامنے ) ہی ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور نہ تمہارا سجدہ ، یقینا میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘