بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
1
53 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِي سَفَرٍ ‏.‏ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِهَا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - أَوْ يَا مُحَمَّدُ - أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ‏.‏ قَالَ فَكَفَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لَقَدْ وُفِّقَ - أَوْ لَقَدْ هُدِيَ - قَالَ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَعَادَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَعْبُدُ اللَّهَ لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَعِ النَّاقَةَ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Ayyub Ansari that once during the journey of the Prophet (may peace of Allah be upon him) a bedouin appeared before him and caught hold of the nosestring of his she-camel and then said, Messenger of Allah (or Muhammad), inform me about that which takes me near to Paradise and draws me away from the Fire (of Hell). He (the narrator) said:The Prophet (ﷺ) stopped for a while and cast a glance upon his companions and then said: He was afforded a good opportunity (or he had been guided well). He (the Holy Prophet) addressing the bedouin said: (Repeat) whatever you have uttered. He (the bedouin) repeated that. Upon this the Apostle (ﷺ) remarked: The deed which can draw you near to Paradise and take you away from Hell is, that you worship Allah and associate none with Him, and you establish prayer and pay Zakat, and do good to your kin. After having uttered these words, the Prophet asked the bedouin to release the nosestring of his she-camel
عمر و بن عثمان نے کہا : ہمیں موسیٰ بن طلحہ نےحدیث سنائی ، انہوں نےکہا : مجھےحضرت ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث سنائی کہ رسول ا للہ ﷺ ایک سفر میں تھے جب ایک اعرابی ( دیہاتی ) آپ کے سامنے آ کھڑا ہوا ، اس نے آپ کی اونٹنی کی مہار یانکیل پکڑ لی ، پھر کہا : اے اللہ کے رسول ! ( یا اے محمد! ) مجھے وہ بات بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے ۔ ابو ایوب نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ رک گئے ، پھر اپنے ساتھیوں پر نظر دوڑائی ، پھر فرمایا ، ’’اس کو توفیق ملی ) ( یا ہدایت ملی ) ‘ ‘ پھر بدوی نے پوچھا : ’’تم نے کیا بات کی ؟ ‘ ‘ اس نے اپنی بات دہرائی تو نبی ا کرمﷺ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو ، زکاۃ ادا کرو اورصلہ رحمی کرو ۔ ( اب ) اونٹنی کو چھوڑ دو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ‏"‏ ‏.‏
Hammam b. Munabbih reported:That is what Abu Huraira reported to us from the Messenger of Allah (ﷺ) and he narrated (some) ahadith one of which is that the Messenger of Allah (ﷺ) said: I have been helped by terror (in the hearts of enemies) and I have been given words which are concise but comprehensive in meaning
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہﷺ سے ہمیں بیان کی ، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ ( بھی ) تھی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور مجھے جامع کلمات عنایت کیے گئے ہیں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ‏.‏
Anas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said four rak'ahs in the noon prayer while at Medina, but he offered two rak'ahs in the afternoon prayer at Dhu'l-Hulaifa
ابو قلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں پڑھیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Ibn Juraij with the came chain of transmitters
محمد بن بکر اور ضحاک بن مخلددونوں نے بن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ، سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاَةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لاَ يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ ‏ "‏ لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا ‏"‏ ‏.‏
Umm 'Atiyya reported:The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to bring out on'Id-ul-Fitr and 'Id-ul-Adha young women, menstruating women and screened away ladies, menstruating women kept back from prayer, but participated in goodness and supplication of the Muslims. I said: Messenger of Allah, one of us does not have an outer garment (to cover her face and body). He said: Let her sister cover her with her outer garment
۔ ہشام نے حفصہ بن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اورعید الاضحیٰ میں عورتوں کو باہر نکالیں ، دوشیزہ ، حائضہ اور پردہ نشیں عورتوں کو باہر نکالیں ، دوشیزہ اور حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو ، لیکن حائضہ نمازسےدور رہیں ۔ وہ خیروبرکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کی ( کوئی مسلمانک ) بہن اس کو اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، بِنَحْوِهِ وَزَادَ فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ السَّحَابِ وَمَكَثْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تُهِمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Anas but with this addition:" Allah gathered the clouds and as we (were obliged) to stay back I saw that even the strong man, impelled by a desire to go to his family, (could not do so)
سلمان بن مغیرۃ نے ثابت اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت کی اور یہ اضافہ کیا : اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جوڑ دیا اور ہم اسی ( حالت ) میں رہے حتیٰ کہ میں نے دیکھا ایک قوی اور مضبوط آدمی کو بھی اس کا دل ( بارش کی کثرت کی بناء پر ) اس فکر میں مبتلا کردیتاتھا کہ وہ ا پنے اہل وعیال کے پاس پہنچے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّاسُ إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ‏.‏ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ بَدَأَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ أَيْضًا ثَلاَثَ رَكَعَاتٍ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلاَّ الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا وَرُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ خَلْفَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ - ثُمَّ تَقَدَّمَ وَتَقَدَّمَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ فَانْصَرَفَ حِينَ انْصَرَفَ وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِمَوْتِ بَشَرٍ - فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ مَا مِنْ شَىْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلاَتِي هَذِهِ لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ فَإِنْ فُطِنَ لَهُ قَالَ إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي ‏.‏ وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَفْعَلَ فَمَا مِنْ شَىْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلاَتِي هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported that the sun eclipsed during the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) on that very day when Ibrahim (the Prophet's son) died. The Apostle of Allah (ﷺ) stood up and led people in (two rak'ahs of) prayer with six ruku's and four prostrations. He commenced (the prayer) with takbir (Allah-o-Akbar) and then recited and prolonged his recital. He then bowed nearly the (length of time) that he stood up. He then raised his head from the ruku' and recited but less than the first recital. He then bowed (to the length of time) that he stood up. He then raised his head from the ruku' and again recited but less than the second recital. He then bowed (to the length of time) that he stood up. He then lifted his head from the ruku'. He then fell in prostration and observed two prostrations. He stood up and then bowed, observing six ruku's like it, without (completing) the rak'ah in them, except (this difference) that the first (qiyam of ruku') was longer than the later one, and the ruku' was nearly (of the same length) as prostration. He then moved backward and the rows behind him also moved backward till we reached the extreme (Abu Bakr said:till he reached near the women) He then moved forward and the people also moved forward along with him till he stood at his (original) place (of worship). He then completed the prayer as it was required to complete and the sun brightened and he said: O people! verily the sun and the moon are among the signs of Allah and they do not eclipse at the death of anyone among people (Abu Bakr said: On the death of any human being). So when you see anything like it (of the nature of eclipse), pray till it is bright. There is nothing which you have been promised (in the next world) but I have seen it in this prayer of mine. Hell was brought to me as you saw me moving back on account of fear lest its heat might affect me; and I saw the owner of the curved staff who dragged his intestines in the fire, and he used to steal (the belongings) of the pilgrims with his curved staff. If he (the owner of the staff) became aware, he would say: It got (accidentally) entangled in my curved staff, but if he was unaware of that, he would take that away. I also saw in it (in Hell) the owner of a cat whom she had tied and did not feed her nor set her free so that she could eat the creatures of the earth, till the cat died of starvation. Paradise was brought to me, and it was on that occasion that you saw me moving forward till I stood at my place (of worship). I stretched my hand as I wanted to catch hold of its fruits so that you may see them. Then I thought of not doing it. Nothing which you have been promised was there that I did not see in this prayer of mine
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہم سے عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، نیز محمد بن عبداللہ نمیر نے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ دونوں کے لفظ ملتے جلتے ہیں ۔ کہا : ہمیں میرے والد ( عبداللہ بن نمیر ) نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالملک نے عطاء سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیتے ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، سورج گرہن ہوگیا ، ( بعض ) لوگوں نے کہا : سورج کو گرہن حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت کی بنا پر لگا ہے ۔ ( پھر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوعوں ، چار سجدوں کے ساتھ ( دو رکعت ) نماز پڑھائی ۔ آغاز کیاتو اللہ اکبر کہا ، پھرقراءت کی اور طویل قراءت کی ، پھر جتنا قیام کیا تھا تقریباً رکوع کیا ، پھر رکوع سے ا پنا سر اٹھایا اور پہلی قراءت سےکچھ کم قراءت کی ، پھر ( اس ) قیام جتنا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور دوسری قراءت سے کچھ کم قراءت کی ، پھر ( اس ) قیام جتنا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، پھر سجدے کے لئے جھکے اور دو سجدے فرمائے ، پھر کھڑے ہوئے اور ( اس دوسری ر کعت میں بھی ) تین رکوع کیے ، ان میں سے ہر پہلا رکوع بعد والے رکوع سے زیادہ لمباتھا اور آپ کا رکوع تقریباً سجدے کے برابر تھا ، پھرآپ پیچھے ہٹے تو آپ کے پیچھے والی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں حتیٰ کہ ہم لوگ آخر ( آخری کنارے ) تک پہنچ گئے ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : حتیٰ کہ آپ عور توں کی صفوں کے قر یب پہنچ گئے ۔ پھر آپ آگے بڑھے اور آپ کے ساتھ لوگ بھی ( صفوں میں ) آگے بڑھ آئے حتیٰ کہ آپ ( واپس ) اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے پھر جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا ، اس وقت سورج اپنی اصلی حالت پر آچکا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " لوگو!سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہی ہیں اور بلا شبہ ان دونوں کو ، لوگوں میں سے کسی کی موت پر گرہن نہیں لگتا ۔ ابو بکر ( بن ابی شیبہ ) نے " کسی بشر کی موت پر " کہا ۔ پس جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو اس وقت تک نماز پڑھو جب تک کہ یہ زائل ہوجائے ، کوئی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیاگیا ہے مگر میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھ لیاہے ۔ آگ ( میرے سامنے ) لائی گئی اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں اس ڈر سے پیچھے ہٹا ہوں کہ اس کی لپٹیں مجھ تک نہ پہنچیں ۔ یہاں تک کہ میں نے اس آگ میں مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے مالک کو دیکھ لیا ، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا ہے ۔ وہ اپنی اس مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے زریعے سے حاجیوں کی ( چیزیں ) چوری کرتا تھا ۔ اگر اس ( کی چوری ) کا پتہ چل جاتا تو کہہ دیتا : یہ چیز میری لاٹھی کے ساتھ اٹک گئی تھی ، اور اگر پتہ نہ چلتا تووہ اسے لے جاتا ۔ یہاں تک کہ میں نے اس ( آگ ) میں بلی والی اس عورت کو بھی دیکھا جس نے اس ( بلی ) کو باندھ رکھا ، نہ خود اسے کچھ کھلایااور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے اس چھوٹے موٹے جاندار اور پرندے کھا لیتی ، حتیٰ کہ وہ ( بلی ) بھوک سے مر گئی ، پھر جنت کو ( میرے سامنے ) لایاگیا اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتیٰ کہ میں واپس اپنی جگہ پر آکھڑا ہوا ، میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میں چاہتا تھا کہ میں اس کے پھل میں سے کچھ لے لوں تاکہ تم اسے دیکھ سکو ، پھر مجھ پر بات کھلی کہ میں ایسا نہ کروں ، کوئی ایسی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے مگر میں نے وہ اپنی اس نماز میں دیکھ لی ہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ، عُيَيْنَةَ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ لأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ ‏.‏ فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏ "‏ أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ مَرَّتَيْنِ فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ فَلَمْ أَبْكِ ‏.‏
Umm Salama reported:When Abu Salama died I said: I am a stranger in a strange land; I shall weep for him in a manner that would be talked of. I made preparation for weeping for him when a woman from the upper side of the city came there who intended to help me (in weeping). She happened to come across the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: Do you intend to bring the devil into a house from which Allah has twice driven him out? I (Umm Salama), therefore, refrained from weeping and I did not weep
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، میں نے ( دل میں ) کہا : پردیسی ، پردیس میں ( فوت ہوگیا ) میں اس پر ایسا روؤں گی کہ اس کا خوب چرچا ہوگا ، چنانچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کرلی کہ اچانک بالائی علاقے سے ایک عورت آئی ، وہ ( رونے میں ) میرا ساتھ دینا چاہتی تھی کہ اسے سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " کیا تم شیطان کو اس گھر میں ( دوبارہ ) داخل کرنا چاہتی ہو ۔ جہاں سے اللہ نے اس کو نکال دیا ہے؟ " دوبار ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے ) تو میں ر ونے سے رک گئی اور نہ روئی ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، بْنُ مُوسَى عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - قَالَ عَمْرٌو - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ زُهَيْرٌ يَبْلُغُ بِهِ ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فَرَسِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:No Sadaqa is due from a Muslim on his slave or horse
عمرو الناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی انھوں نے کہا : ہمیں ایوب بن موسیٰ نے مکحول سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سلیمان بن یسار سے انھوں نے عراک بن مالک سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ ۔ عمرو نے کہا : ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور زہیر نے کہا : انھوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا یا یعنی آپ سے بیان کیا ۔ ۔ ۔ " مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں صدقہ نہیں ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ ‏.‏
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The month is thus and thus and thus (i. e. pointing with his fingers thrice), and he held back his thumb at the third time (in order to show that it can also consist of twenty-nine days)
عمرو بن دینار نے ہمیں حدیث سنائی کہ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، " مہینہ اس طرح ، اس طرح ، اور اس طرح ہوتاہے " اور تیسری دفعہ اپنا انگوٹھا بند کرلیا ۔ ( اشارے سے انتیس 29 کی گنتی بتائی ۔)
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، قَالَ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَفْعَلُ فَسَكَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ يُظِلُّهُ فَقُلْتُ لِعُمَرَ - رضى الله عنه - إِنِّي أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ ‏.‏ فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ - رضى الله عنه - بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ ‏"‏ انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِكَ وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ فَاعِلاً فِي حَجِّكَ ‏"‏ ‏.‏
Ya'la reported:We were with the Messenger of Allah (ﷺ) that a person came to him with a cloak on him having the traces of scent. He said, Messenger of Allah, I put on Ihram for 'Umra: what should I do? He (the Holy Prophet) kept quiet and did not make him any reply. And 'Umar screened him and it was (usual) with 'Umar that when the revelation descended upon him, he provided him shade (with the help of a piece of cloth). I (the person who came to the Holy Prophet) said: I said to 'Umar I wish to project my head into the cloth (to see how the Prophet receives revelation). So when the revelation began to descend upon him 'Umar wrapped him (the Holy Prophet) with cloth I came to him and projected my head with him into the cloth, and saw him (the Holy Prophet) (receiving the revelation). When he (the Holy Prophet) was relieved (of its burden), he said: Where is the inquirer who was just inquiring about 'Umra? That man came to him. Thereupon he (the Messenger of Allah) said: Take off the cloak from (your body) and wash the traces of perfume which were upon you, and do in 'Umra what you did in Hajj
رباح بن ابی معروف نے ہم سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، انھوں نے کہا : مجھے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا ، اس نے جبہ پہن رکھاتھا جس پر زعفران ملی خوشبو کے نشانات تھے ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے تو میں کس طر ح کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہےاور اسے کوئی جواب نہ دیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے آگے اوٹ کرتے ، آپ پر سایہ کرتے ۔ میں نے حضرت عمر سے کہا : میر ی خواہش ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو ، میں بھی کپڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ اپنا سر داخل کروں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو کپڑے سے چھپا دیا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کردیا اور آپ کو ( وحی کے نزول کی حالت میں ) دیکھا ۔ جب آپ کی وہ کیفیت زائل کردی گئی تو فرمایا : " ابھی عمرے کے متعلق سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ " ( اتنے میں ) وہ شخص آپ کے پاس آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنا جبہ اتار دو ، اپنے جسم سے زعفران ملی خوشبو کا نشان دھوڈالو اور عمرے میں وہی کرو جو تم نے حج میں کرنا تھا ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ فَوَقَعَتْ فِي قَلْبِهِ فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir heard Allah's Apostle (ﷺ) say:When a woman fascinates any one of you and she captivates his heart, he should go to his wife and have an intercourse with her, for it would repel what he feels
معقل نے ابوزبیر سے روایت کی ، کہا : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب تم میں سے کسی کو ، کوئی عورت اچھی لگے ، اور اس کے دل میں جاگزیں ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کا رخ کرے اور اس سے صحبت کرے ، بلاشبہ یہ ( عمل ) اس کیفیت کو دور کر دے گا جو اس کے دل میں ( پیدا ہوئی ) ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَمَّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ - يُسَمَّى أَفْلَحَ - اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَحَجَبَتْهُ فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا ‏ "‏ لاَ تَحْتَجِبِي مِنْهُ فَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha (Allah be pleased with her) reported that her foster-uncle whose name was Aflah sought permission from her (to enter the house) but she observed seclusion from him, and informed Allah's Messenger (ﷺ) who said to her:Don't observe veil from him for he is Mahram (one with whom marriage cannot be contracted) on account of fosterage as one is Mahram on account of consanguinity
یزید بن ابی حبیب نے عراک ( بن مالک غفاری ) سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے اسے خبر دی کہ ان کے رضاعی چچا نے ، جن کا نام افلح تھا ، ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے ان کے آگے پردہ کیا ( انہیں روک دیا ) اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا : " تم ان سے پردہ نہ کرو کیونکہ رضاعت سے بھی وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ وَقَالَ ‏ "‏ يُطَلِّقُهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا ‏"‏ ‏.‏
Ayyub reported a hadith like this with the same chain of narrators and he said:Umar (Allah be pleased with him) asked Allah's Apostle (ﷺ) about it and he commanded him that he should take her back until she is divorced in the state of purity without having a sexual intercourse with her, and said: Divorce her in the beginning of her 'Idda or her 'Idda commences
عبدالوارث بن عبدالصمد کے دادا عبدالوارث بن سعید نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) اس سے رجوع کرے حتی کہ اسے حالت طہر میں مجامعت کیے بغیر طلاق دے ، اور کہا : " وہ اسے عدت کے آغاز میں طلاق دے ۔ " ( یعنی اس طہر کے آغاز میں جس سے عدت شمار ہونی ہے)
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidulah with the same chain of transmitters
وہی جو اوپر گزرا ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلاَءَهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَعَتَقَتْ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا ‏.‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏
Abd al-Rahman b. al. Qasim reported on the authority of his father:'A'isha (Allah be pleased with her) said: There were three issues which were clarified in case of Barira: her owners had decided to sell her on the condition that the right of her inheritance would vest with them. She ('A'isha) said: I made a mention of that to Allah's Apostle (ﷺ) and he said: Buy her and emancipate her, for verily the right of inheritance vests with one who emancipates. She said that she emancipated (her) and Allah's Messenger (ﷺ) gave her the option (either to retain her matrimonial alliance or break it after emancipation). She (taking advantage of the option) opted for herself (the severing of matrimonial alliance). 'A'isha said: The people used to give her charity and she gave us that as gift. I made a mention of it to Allah's Apostle (ﷺ), whereupon he said: That is charity for her but gift for you, so take that
ہشام بن عروہ نے ہمیں عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین فیصلے ہوئے : اس کے مالکوں نے چاہا کہ اسے بیچ دیں اور اس کے حقِ ولاء کو ( اپنے لیے ) مشروط کر دیں ، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا : " اسے خریدو اور آزاد کر دو ، کیونکہ ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا ۔ " ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : وہ آزاد ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا ، اس نے اپنی ذات ( کو آزاد رکھنے ) کا انتخاب کیا ۔ ( حضرت عائشہ نے ) کہا : لوگ اس پر صدقہ کرتے تھے اور وہ ( اس میں سے کچھ ) ہمیں ہدیہ کرتی تھی ، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا : " وہ اس پر صدقہ ہے اور تم لوگوں کے لیے ہدیہ ہے ، لہذا اسے کھا لیا کرو
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلاَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:A person should not enter into a transaction when his brother is already making a transaction and he should not make a proposal of marriage when his brother has already made a proposal except when he gives permission
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے ( مسلمان ) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے ( مسلمان ) بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے ، الا یہ کہ وہ اسے اجازت دے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Anas reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying Never does a Muslim plant trees or cultivate land and birds or a man or a beast eat out of them but that is a charity on his behalf
ابوعوانہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مسلمان نہیں جو درخت لگائے یا کاشت کاری کرے ، پھر اس سے کوئی پرندہ ، انسان یا چوپایہ کھائے مگر اس کے بدلے میں اس کے لیے صدقہ ہو گا
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ، رَافِعٍ عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ شُعْبَةَ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters
سعید بن ابی عروبہ اور شعبہ دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:One who gets back the gift is like one who eats vomit
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ سعید بن مسیب سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اپنی قے کی طرف لوٹنے والے کی طرح ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو، بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ ثَلاَثَةٍ، مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى سَعْدٍ يَعُودُهُ بِمَكَّةَ فَبَكَى قَالَ ‏"‏ مَا يُبْكِيكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ قَدْ خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ بِالأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا كَمَا مَاتَ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثَ مِرَارٍ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالاً كَثِيرًا وَإِنَّمَا يَرِثُنِي ابْنَتِي أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبِالثُّلُثَيْنِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَالنِّصْفُ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَالثُّلُثُ قَالَ ‏"‏ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّ صَدَقَتَكَ مِنْ مَالِكَ صَدَقَةٌ وَإِنَّ نَفَقَتَكَ عَلَى عِيَالِكَ صَدَقَةٌ وَإِنَّ مَا تَأْكُلُ امْرَأَتُكَ مِنْ مَالِكَ صَدَقَةٌ وَإِنَّكَ أَنْ تَدَعَ أَهْلَكَ بِخَيْرٍ - أَوْ قَالَ بِعَيْشٍ - خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ بِيَدِهِ ‏.‏
Humaid b. 'Abd al-Rahman al-Himyari reported from three of the sons of Sa'd all of whom reported from their father that Allah's Apostle (ﷺ) visited Sa'd as he was ill in Mecca. He (Sa'd) wept. He (the Holy Prophet) said:What makes you weep? He said: I am afraid I may die in the land from where I migrated as Sa'd b. Khaula had died. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: O Allah, grant health to Sa'd. O Allah, grant health to Sad. He repeated it three times. He (Sa'd) said: Allah's Messenger, I own a large property and I have only one daughter as my inheritor. Should I not will away the whole of my property? He (the Holy Prophet) said: No. He said: (Should I not will away, ) two-thirds of the property? he (the Holy Prophet) said: No. He (Sa'd) (again) said: (Should I not will away) half (of my property)? He said: No. He (Sa'd) said: Then one-third? Thereupon he (the Holy Prophet) said: (Yes), one-third, and one-third is quite substanial. And what you spend as charity from your property is Sadaqa and flour spending on your family is also Sadaqa, and what your wife eats from your property is also Sadaqa, and that you leave your heirs well off (or he said: prospreous) is better than to leave them (poor and) begging from people. He (the Holy Prophet) pointed this with his hands
(عبدالوہاب ) ثقفی نے ہمیں ایوب سختیانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمرو بن سعید سے ، انہوں نے حُمید بن عبدالرحمان حمیری سے اور انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ( دس سے زائد میں سے ) تین بیٹوں ( عامر ، مصعب اور محمد ) سے روایت کی ، وہ سب اپنے والد سے حدیث بیان کرتے تھے کہ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کرنے کے لیے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے تو وہ رونے لگے ، آپ نے پوچھا : " تمہیں کیا بات رلا رہی ہے؟ " انہوں نے کہا : مجھے ڈر ہے کہ میں اس سرزمین میں فوت ہو جاؤں گا جہاں سے ہجرت کی تھی ، جیسے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! سعد کو شفا دے ۔ اے اللہ! سعد کو شفا دے ۔ " تین بار فرمایا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف میری بیٹی بنے گی ، کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " انہوں نے کہا : دو تہائی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ۔ " انہوں نے کہا : نصف کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ۔ " انہوں نے کہا : ایک تہائی کی؟ آپ نے فرمایا : " ( ہاں ) ایک تہائی کی ( وصیت کر دو ) اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے ۔ اپنے مال میں سے تمہارا صدقہ کرنا صدقہ ہے ، اپنے عیال پر تمہارا خرچ کرنا صدقہ ہے اور جو تمہارے مال سے تمہاری بیوی کھاتی ہے صدقہ ہے اور تم اپنے اہل و عیال کو ( کافی مال دے کر ) خیر کے عالم میں چھوڑ جاؤ ۔ ۔ یا فرمایا : ( اچھی ) گزران کے ساتھ چھوڑ جاؤ ۔ ۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑو کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔ " اور آپ نے اپنے ہاتھ سےاشارہ کر کے دکھایا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ كَانَتِ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَأَتَتْ عَلَى نَاقِةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ وَهِيَ نَاقَةٌ مُدَرَّبَةٌ ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters and a slight variation of words
حماد بن زید اور عبدالوہاب ثفقی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی حدیث بیان کی ، حماد کی حدیث میں ہے : انہوں نے کہا : عضباء اونٹنی بنو عقیل کے ایک آدمی کی تھی اور وہ حاجیوں کی سواریوں میں سب سے آگے رہنے والی اونٹنیوں میں سے تھی ( تیز رفتار تھی ۔ ) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے : اور وہ ( قیدی عورت ) سدھائی ہوئی مَشاق اونٹنی پر ( بیٹھ کر ) آئی ، اور ثقفی کی حدیث میں ہے : وہ سدھائی ہوئی اونٹنی تھی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي، قِلاَبَةَ وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، - قَالَ أَيُّوبُ وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ، أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلاَبَةَ - قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي فَقَالَ لَهُ هَلُمَّ ‏.‏ فَتَلَكَّأَ فَقَالَ هَلُمَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ مِنْهُ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لاَ أَطْعَمَهُ فَقَالَ هَلُمَّ أُحَدِّثْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ ‏"‏ وَاللَّهِ لاَ أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَهْبِ إِبِلٍ فَدَعَا بِنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى قَالَ فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَغْفَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمِينَهُ لاَ يُبَارَكُ لَنَا ‏.‏ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ وَإِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لاَ تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا أَفَنَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏
Ayyub said:We were sitting in the company of Abu Musa that he called for food and it consisted of flesh of fowl. It was then that a person from Banu Tamim visited him. His complexion was red having the resemblance of a slave. He said to him: Come and (join me in food). He showed reluctance. He (Abu Masa) said: Come on, for I saw Allah's Messenger (ﷺ) eating it (fowl's meat), whereupon that person said: I saw it eating something (of filth and rubbish) and I found it repugnant and took an oath that I would never eat that. He (Abu Muds) said: Come, so that I would narrate to you about that (the incident pertaining to vow). (And he narrated thus): I came to Allah's Messenger (ﷺ) along with a group of people belonging to the tribe of Ash'ari, asking him to provide us with riding camels. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with riding animals. And there is nothing with me with which I can provide you a mount. We stayed (for some time) there as Allah willed, and there was brought to Allah's Messenger (ﷺ) booty of camels. He called us and commanded that we should be given five white humped camels. As we were about to go back, some of us said to the other: As we made Allah's Messenger (ﷺ) forget oath, there would be no blessing for us (in his gift). We went back to him and said: Allah's Messenger, we came to you to provide us with riding animals and you took an oath that you would never equip us with mounts and then you have provided us with the riding beasts Allah's Messenger, have you forgotten? Thereupon he said: I swear by Allah that if Allah so wills, I shall not swear an oath, and then consider something else to be better than it without making atonement for my oath and doing the thing that is better. So you go; Allah, the Exalted and Glorious, has given you riding animals
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم سے اور انہوں نے زَہدم جرمی سے روایت کی ۔ ۔ ایوب نے کہا : ابوقلابہ کی حدیث کی نسبت مجھے قاسم کی حدیث زیادہ یاد ہے ۔ ۔ انہوں ( زہدم ) نے کہا : ہم حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، انہوں نے اپنا دسترخوان منگوایا جس پر مرغی کا گوشت تھا ، اتنے میں بنو تیمِ اللہ میں سے ایک آدمی اندر داخل ہوا ، وہ سرخ رنگ کا موالی جیسا شخص تھا ، تو انہوں نے اس سے کہا : آؤ ۔ وہ ہچکچایا تو انہوں نے کہا : آؤ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ( مرغی کے گوشت ) میں سے کھاتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اس آدمی نے کہا : میں نے اسے کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے دیکھا تھا جس سے مجھے اس سے گھن آئی تو میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس ( کے گوشت ) کو کبھی نہیں کھاؤں گا ۔ اس پر انہوں نے کہا : آؤ ، میں تمہیں اس کے بارے میں حدیث سناتا ہوں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں اشعریوں کے ایک گروہ کے ساتھ تھا ، ہم آپ سے سواریوں کے طلبگار تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں ۔ " جتنا اللہ نے چاہا ہم رکے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( کافروں سے ) چھینے ہوئے اونٹ ( جو آپ نے سعد رضی اللہ عنہ سے خرید لیے تھے ) لائے گئے تو آپ نے ہمیں بلوایا ، آپ نے ہمیں سفید کوہان والے پانچ ( یا چھ ، حدیث : 4264 ) اونٹ دینے کا حکم دیا ۔ کہا : جب ہم چلے ، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا : ( غالبا ) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قسم سے غافل کر دیا ، ہمیں برکت نہ دی جائے گی ، چنانچہ ہم واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے تھے اور آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی ، پھر آپ نے ہمیں سواریاں دے دی ہیں تو اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! اللہ کی مشیت سے میں جب بھی کسی چیز پر قسم کھاتا ہوں ، پھر اس کے علاوہ کسی اور کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے اور ( قسم کا کفارہ ادا کر کے ) اس کا بندھن کھول دیتا ہوں ۔ تم جاؤ ، تمہیں اللہ عزوجل نے سوار کیا ہے
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلاَهُمَا عَنْ هُشَيْمٍ، - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَتَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلُوا فَصَحُّوا ثُمَّ مَالُوا عَلَى الرِّعَاءِ فَقَتَلُوهُمْ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ فِي أَثْرِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا
Anas b. Malik reported that some people belonging (to the tribe) of 'Uraina came to Allah's Messenger (ﷺ) at Medina, but they found its climate uncogenial. So Allah's Messenger (ﷺ) said to them:If you so like, you may go to the camels of Sadaqa and drink their milk and urine. They did so and were all right. They then fell upon the shepherds and killed them and turned apostates from Islam and drove off the camels of the Prophet (ﷺ). This news reached Allah's Apostle (ﷺ) and he sent (people) on their track and they were (brought) and handed over to him. He (the Holy Prophet) got their hands cut off, and their feet, and put out their eyes, and threw them on the stony ground until they died
عبدالعزیز بن صہیب اور حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے ، انہیں یہاں کی آب و ہوا نا موافق لگی ( اور انہیں استسقاء ہو گیا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( کے مطالبے پر ان سے ) فرمایا : " اگر تم چاہتے ہو تو صدقے کے اونٹوں کے پاس چلے جاؤ اور ان کے دودھ اور پیشاب ( جسے وہ لوگ ، اس طرح کی کیفیت میں اپنی صحت کا ) ضامن سمجھتے تھے ) پیو ۔ انہوں نے ایسے ہی کیا اور صحت یاب ہو گئے ، پھر انہوں نے چرواہوں پر حملہ کر دیا ، ان کو قتل کر دیا ، اسلام سے مرتد ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( بیت المال کے ) اونٹ ہانک کر لے گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ( کچھ لوگوں کو ) ان کے تعاقب میں روانہ کیا ، انہیں ( پکڑ کر ) لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے ، ان کی آنکھیں پھوڑ دینے کا حکم دیا اور انہیں سیاہ پتھروں والی زمین میں چھوڑ دیا حتی کہ ( وہیں ) مر گئے
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عِيسَى، بْنِ يُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ ‏ "‏ إِنْ سَرَقَ حَبْلاً وَإِنْ سَرَقَ بَيْضَةً ‏"‏ ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters with a slight variation of words
عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ وہ کہتے ہیں : " وہ خواہ رسی چرائے ، خواہ انڈہ چرائے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلاَثًا وَيَكْرَهُ لَكُمْ ثَلاَثًا فَيَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُوا وَيَكْرَهُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Verily Allah likes three things for you and He disapproves three things for you. He is pleased with you that you worship Him and associate nor anything with Him, that you hold fast the rope of Allah, and be not scattered; and He disapproves for you irrelevant talk, persistent questioning ane the wasting of wealth
جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ تمہارے لیے تین چیزیں پسند کرتا ہے اور تین ناپسند کرتا ہے ، وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں نہ بٹو ۔ اور وہ تمہارے لیے قیل و قال ( فضول باتوں ) ، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کرتا ہے
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا ‏"‏ ‏.‏
Zaid b. Khalid al-Juhani reported Allah's Messenger (ﷺ) as sayin.:He who found a stray article is himself led astray if he does not advertise it
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس نے ( کسی کے ) بھٹکتے ہوئے جانور ( اونٹنی ) کو اپنے پاس رکھ لیا ہے تو وہ ( خود ) بھٹکا ہوا ہے جب تک اس کی تشہیر نہیں کرتا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ، حُجْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ، اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الْغَادِرَ يَنْصِبُ اللَّهُ لَهُ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ أَلاَ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلاَنٍ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated by another chain of transmitters on the authority of the same narrator, with the wording:Allah will set up a flag for every person guilty of breach of faith on the Day of Judgment, and it will be announced: Look, this is the perfidy of so and so
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن اللہ ایک جھنڈا نصب کرے گا اور کہا جائے گا : سنو! یہ فلاں کی عہد شکنی ( کا نشان ) ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُهَاجِرِ، بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ سَمُرَةَ الْعَدَوِيِّ حَدِّثْنَا مَا، سَمِعْتَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَاتِمٍ ‏.‏
Ibn Samura al-'Adawi reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) say, and he then narrated (the above-mentioned hadith)
ابن ابی ذئب نے مہاجر بن مسمار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عامر بن سعد سے روایت کی کہ انہوں نے ابن سمرہ عدوی رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ، وہ ہمیں بیان کیجیے ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ۔ ۔ پھر حاتم کی حدیث کی طرح بیان کیا
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، عَائِذُ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِيَ الْمُعَلَّمِ أَوْ بِكَلْبِيَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ قَالَ ‏ "‏ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلاَ تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Tha'laba al-Khushani reported:I came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger, we are in the land of the People of the Book, (so) we eat in their utensils, and (live) in a hunting region. where I hunt with, the help of my bow, and hunt with my trained dog, or with my dog which is not trained. So inform me what is lawful (Halal) for us out of that. He (the Holy Prophet) said: Regarding what you have mentioned of the fact that you live in the land belonging to the People of the Book and so you eat in their utensils, but if you can get utensils other than theirs, then don't eat in them; but if you do not find any, then wash them and eat in them. And regarding what you have mentioned about (your living) in a hunting region, what you hunt, (strike) with the help of your bow, recite the name of Allah (while shooting an arrow) and then eat; and what you catch with the help of your trained dog, recite the name of Allah (while letting oil) the dog and then eat it, and what you get with the help of your untrained dog, (if you find it alive) and slaughter it (according to the law of the Shari'ah), eat it
ابن مبارک نے حیوہ بن شریح سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ربیعہ بن یزید دمشقی کو کہتے ہوئے سنا : مجھے ابو ادریس عائذ اللہ نے خبر دی ، کہا : میں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب ( یعنی یہود یا نصاریٰ ) کے ملک میں رہتے ہیں ، ان کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں اور ہمارا ملک شکار کا ملک ہے ، تو میں اپنی کمان سے ، سکھائے ہوئے کتے اور اس کتے سے شکار کرتا ہوں جو سکھایا نہیں گیا ، تو مجھ سے وہ طریقہ بیان کیجئے جو کہ حلال ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے جو کہا کہ اہل کتاب کے ملک میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں تو اگر تم کو اور برتن مل سکیں ، تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ اور اگر اور برتن نہ ملیں تو ان کو دھو لو اور پھر ان میں کھاؤ ۔ اور جو تو نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو پس جس کو تیر پہنچے اور تو اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے ، تو اسے کھا لے اور اگر تو اپنے شکاری کتے سے شکار کرے اور اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو کھا لے اور اگر ایسے کتے کا شکار ہو جو شکاری نہ ہو اور تو اسے زندہ پالے تو ذبح کر کے کھا لے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي يَوْمِ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
al-Bara' b. 'Azib reported:Allah's Messenger (ﷺ) addressed us on the day of Nahr after the ('Id) prayer. The rest of the hadith is the same
منصور نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن کے بعد ہمیں خطبہ دیا ، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ فَأَتَاهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أَنَسُ قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجَرَّةِ فَاكْسِرْهَا ‏.‏ فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ ‏.‏
Anas b. Malik reported:I was serving drink to Abu 'Ubaida b. jarrah, Abu Talha and Ubayy b. Ka'b prepared from unripe dates and fresh dates when a visitor came and he said: Verily liquor has been prohibited. Thereupon, Abu Talha said: Anas, stand up and break this pitcher. I stool up and (took hold) of a pointed stone and struck the pitcher with its lower part until it broke into pieces
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح ، حضرت ابو طلحہ اورحضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب پلارہاتھا ، اس وقت ان کے پاس آنے والا ایک شخص آیا اور کہا : شراب حرام کردی گئی ہے ۔ حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : انس!جاکر اس گھڑے کو توڑدو ، میں نے اپنا پیسنے والا پتھر ( ہاون دستہ ) اٹھایا اور اس کے نچلے حصے کو اس گھڑے پر مارا حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا ۔
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَى - قَالَ شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى بِالْمَدَائِنِ فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ ‏.‏ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُكَيْمٍ عَنْ حُذَيْفَةَ ‏.‏
Shu'ba reported from al-Hakam that he heard 'Abd al-Rahmin (i. e. Ibn Abu Laila) as saying:I personally saw Hudhaifa asking for water in Mada'in and a man giving it to him in a silver vessel. The rest of the hadith is the same
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے دیکھا کہ مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پا نی مانگا تو ایک شخص ان کے پاس چاندی کا برتن لے کر آیا پھر انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روا یت کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ وَأَبِي بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ عُثْمَانَ، تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ فَقَالَ أَلاَ أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ‏.‏ وَزَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي أَنَسٍ قَالَ وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Anas reported that Uthman performed ablution at Maqi'aid and said:Should I not show you the ablution performed by Allah's Messenger (ﷺ)? And he then washed (the different parts of the body) three times. 4" Qutaiba has added in his narration the words:" There were with him (with Uthman) Companions of Allah's Messenger (ﷺ)
قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ( اس حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابوبکر کےہیں ) ہمیں وکیع نے سفیان کے حوالے سے ابو نضر سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو انس سے روایت کی کہ حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے المقاعد کے پاس وضو کیا ، کیا کہنے لگے : کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا وضو ( کر کے ) نہ دکھاؤں ؟ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا ۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : سفیان نے کہا : ابو نضر نے ابوانس سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا : ان ( عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کے پاس رسول ا للہ ﷺ کے صحابہ میں سے کئی لوگ موجود تھے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمَ يَقُلْ سَمِعْتُ ‏.‏
Abu Huraira reported that Abu'l-Qasim (ﷺ) said:Give name (to your children) after my name but do not give the kunya (of Abu'l- Qasim) after my kunya. 'Amr reported from Abu Huraira that he did not say that he had heard it directly from Allah's Apostle (ﷺ)
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد ، زہیر بن حرب ، اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔ " عمرو نےکہا " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے " کہا اور " میں نے سنا " نہیں کہا ۔
حَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرُوا الْوَاوَ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri that Allah's Messenger (ﷺ) said:I said 'Alaikum, and the transmitter did not make mention of the word "and
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، دونوں کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے علیکم کہہ دیا تھا ۔ " اور انھوں نے اس کے ساتھ واؤ ( اور ) نہیں لگا یا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَقُولُوا الْكَرْمُ ‏.‏ وَلَكِنْ قُولُوا الْعِنَبُ وَالْحَبَلَةُ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been reported by Alqama b. Wa'il on the authority of his father with a different chain of transmitters and with a slight variation of wording
عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے علمقہ بن وائل سے سنا ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " کرم نہ کہو عنب اور حبلہ ( انگور کی بیل ) کہہ لو ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ ‏.‏ إِلَى تَمَامِ الْكَلاَمِ وَلَمْ يَذْكُرِ ‏ "‏ الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ‏"‏ ‏.‏
Muhammad b. Sirin reported from Abu Huraira a hadith from Allah's Apostle (ﷺ) and he mentioned in his hadith his words:"I dislike shackles," up to the end of his statement, but he made no mention of this: "A vision is a forty-sixth part of Prophecy
قتادہ نے محمد بن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، انھوں نے ( قتادہ ) نے ان ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے اس قول کو حدیث کے ساتھ ملا دیا : " مجھے طوق ناپسند ہے " حدیث کے آخر تک اور انھوں نے یہ نہیں کہا : " ( اچھا ) کواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ ‏ "‏ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَحْرِهِمْ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Amr b. Yahya with the same chain of transmitters up to the words:There is good in all the houses of the Ansar, and there is no mention of the subsequent event pertaining to Sa'd b. 'Ubada
عفان اور مغیرہ بن سلمہ مخزومی دونوں نے کہا : ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عمر وبن یحییٰ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان تک : " اور انصار کے تمام گھروں میں خیروبرکت ہے ۔ " انھوں نے سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قصہ ، جو اس کے بعد ہے ، ذکر نہیں کیا ۔ اور وہیب کی حدیث میں مزید یہ بیان کیا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا سارا علاقہ ( بطورحاکم ) اس کولکھ دیا ، نیز وہیب کی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف خط لکھا ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ ‏ "‏ ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ أَنَا أَوْلَى ‏.‏ وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلاَّ أَبَا بَكْرٍ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) in his (last) illness asked me to call Abu Bakr, her father, and her brother too, so that he might write a document, for he feared that someone else might be desirous (of succeeding him) and that some claimant may say:I have better claim to it, whereas Allah and the Faithful do not substantiate the claim of anyone but that of Abu Bakr
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے ( آخری ) مرض کے دوران میں مجھ سے فرمایا؛ " اپنے والد ابو بکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں ، مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا : میں زیادہ حقدار ہوں جبکہ اللہ بھی ابو بکر کے سوا ( کسی اور کی جانشینی ) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَغِمَ أَنْفُهُ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Let him be humbled thrice, and the rest of the hadith is the same
سلیمان بن بلال نے کہا : مجھے سہیل نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : " اس شخص کی ناک خاک آلود ہو گئی ۔ " پھر ( آگے ) اُسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Ali through another chain of transmitters
ہمیں شعبہ نے منصور اور اعمش سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا ، وہ ابوعبدالرحمٰن سلمی سے ، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کر رہے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ ‏ "‏ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ وَتَبْقَى النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ ‏"‏ ‏.‏
Qatida reported that Anas b. Malik said:May I not narrate to you a hadith which I heard from Allah's Messenger (ﷺ) which no one would narrate to you after me who would have personally heard it from him (the Holy Prophet) (as I have the good fortune to do so)? -" It is from the signs of the Last Hour that knowledge would be taken away, ignorance would prevail upon (the world), adultery would become common, wine would be drunk, the number of men will fall short and the women would survive (and thus such a disparity would arise in the number of men and women) that there would be one man to look after fifty women
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان نہ کروں؟ یہ حدیث میرے بعد تم کو کوئی ایسا شخص نہیں بیان کرے گا جس نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( براہ راست ) سنی ہو : " قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھ جائے گا ، جہالت نمایاں ہو جائے گی ، زنا پھیل جائے گا ، شراب پی جانے لگی گی ، مرد رخصت ہو جائیں گے اور عورتیں باقی رہ جائیں گی یہاں تک کہ پچاس عورتوں کے معاملات کا نگران ایک رہ جائے گا ۔
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَأَنَسٌ، يَوْمَئِذٍ حَىٌّ قَالَ أَنَسٌ لَوْلاَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ‏"‏ ‏.‏ لَتَمَنَّيْتُهُ ‏.‏
Nadr b. Anas reported, as when Anas was alive, that he said:Had Allah's Messenger (ﷺ) not stated this.." None should make a request for death," I would have definitely done that
عاصم نے ہمیں نضر بن انس سے حدیث بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ان دنوں زندہ تھے ۔ ( نضر نے ) کہا : انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ ہوتا : " تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے " تو میں موت کی تمنا کرتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أُنَاوِلَهُ الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي حَائِضٌ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ تَنَاوَلِيهَا فَإِنَّ الْحَيْضَةَ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) ordered me that I should get him the mat from the mosque. I said: I am menstruating. He (the Holy Prophet) said: Do get me that, for menstruation is not in your hand
حجاج اور ابن ابی غنیہ نے ثابت سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجدسے آپ کو جائے نماز پکڑا دوں ، میں نےعرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’حیض تمہارےہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بَشَّارٍ ‏"‏ لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id Khudri reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:The world is sweet and green (alluring) and verily Allah is going to install you as vicegerent in it in order to see how you act. So avoid the allurement of women: verily, the first trial for the people of Isra'il was caused by women. And in the hadith transmitted on the authority of Ibn Bashshar the words are:" So that He should see how you act
محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابوسلمہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابونضرہ سے سنا ، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ دنیا بہت میٹھی اور ہری بھری ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں ( تم سے پہلے والوں کا ) جانشیں بنانے والا ہے ، پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، لہذا تم دنیا ( میں کھو جانے سے ) بچتے رہنا اور عورتوں ( کے فتنے میں مبتلا ہونے سے ) بچ کر رہنا ، اس لیے کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں ( کے معاملے ) میں تھا ۔ "" اور بشار کی حدیث میں ہے : "" تاکہ وہ دیکھے کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيُّ - حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ لَوْ أَنَّكُمْ لَمْ تَكُنْ لَكُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا اللَّهُ لَكُمْ لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ لَهُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abu Ayyub Ansari reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:If you were not to commit sins, Allah would have swept you out of existence and would have replaced you by another people who have committed sin, and then asked forgiveness from Allah, and He would have granted them pardon
محمد بن کعب قرظی نے ابوصرمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم ایسے ہوتے کہ تمہارے ( نامہ اعمال میں کچھ بھی ) گناہ نہ ہوتے جن کی اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بخشش فرماتا تو وہ ایسی قوم کو ( اس دنیا میں ) لے آتا جن کے گناہ ہوتے اور وہ ان کے لیے ان ( گناہوں ) کی مغفرت فرماتا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِي أَمْرِ عَلِيٍّ أَرَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَوْ شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَلَكِنْ حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لاَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ ‏"‏ ‏.‏ لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ ‏.‏
Qais reported:I said to 'Ammar: What is your opinion about that which you have done in case (of your siding with Hadrat 'Ali)? Is it your personal opinion or something you got from Allah's Messenger (ﷺ)? 'Ammar said: We have got nothing from Allah's Messenger (ﷺ) which people at large did not get, but Hudhaifa told me that Allah's Apostle (ﷺ) had especially told him amongst his Companion, that there would be twelve hypocrites out of whom eight would not get into Paradise, until a camel would be able to pass through the needle hole. The ulcer would be itself sufficient (to kill) eight. So far as four are concerned, I do not remember what Shu'ba said about them
اسود بن عامر نے کہا : ہمیں شعبہ بن حجاج نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے قیس ( بن عباد ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ نے اپنے اس کام پر غور کیا جو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے معاملے میں کیا ہے ( ان کا بھرپور ساتھ دیا ہےاور ان کے مخالفین سے جنگ تک کی ہے ) یہ آپ کے اپنے غوروفکر سے اختیار کی ہوئی آپ کی رائے تھی یا ایسی چیز تھی جس کی ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کے سپرد کی تھی؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی ذمہ داری ہمارے سپرد نہیں کی جو انہوں نے تمام لوگوں کے سپرد نہ کی ہو لیکن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی ، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے ساتھیوں میں سے بارہ افراد منافق ہیں ، ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے ( کبھی داخل نہیں ہوں گے ) ، ان میں آٹھ ایسے ہیں ( کہ ان کے شر سے نجات کے لیے ان کے کندھوں کے درمیان ظاہر ہونے والا سرخ ) پھوڑا تمہاری نجات کے لیے تمہیں کفایت کرے گا ۔ اور چار ۔ " ( آگے کا حصہ ) مجھے ( اسود بن عامر کو ) یاد نہیں کہ شعبہ نے ان ( چار ) کے بارے میں کیا کہا تھا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ‏}‏ فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ‏"‏ عَلَى الصِّرَاطِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:I asked Allah's Messenger (ﷺ) about the words of Allah, the Exalted and Glorious:" The day when the earth would be changed for another earth and Heaven would be changed for another Heaven (XiV. 48), (and inquired: ) (Allah's Messenger), where would the people be on that day? He said: They would be on the Sirat
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس قول کے متعلق سوال کیا : " جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جا ئے گی اور آسمان ( بھی بدل دیا جائےگا ) تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( پل صراط پر ۔)
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When one of you looks at one who stands at a higher level than you in regard to wealth and physical structure he should also see one who stands at a lower level than you in regard to these things (in which he stands) at a higher level (as compared to him)
ابو زناد نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اس کی طرف دیکھے جسے مال اور جمال میں فضیلت حاصل ہے تو اس کو بھی دیکھے جو اس سے کمتر ہے ، جس پر ( خود ) اسے فضیلت حاصل ہے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ‏}‏ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي وَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يُصِيبَ مِنْ مَالِهِ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا بِقَدْرِ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ ‏.‏
A'isha reported in connection with the words of Allah, the Exalted:" He who is rich should abstain, and he who is poor may reasonably eat (out of it)" that this was revealed in relation to the guardian of an orphan who is poor; he may get out of that what is reasonable keeping in view his own status of solvency
ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس عزوجل کے فرمان : " اور جو شخص غنی ہو وہ اجتناب کرے اور جو شخص ضرورت مند ہو ۔ وہ عرف اور رواج کے مطابق کھالے " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : یہ ( آیت ) یتیم کے سر پرست کے متعلق نازل ہوئی کہ جب وہ محتاج ہو تو اس کے امل میں سے معروف طریقے سے اتنا لے سکتا ہے جتنا اپنا مال ( استعمال کرتا تھا ۔)
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported:When you hear the call (to prayer), repeat what the Mu'adhdhin pronounces
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہتا ہے اسی کی طرح کہو ۔ ‘ ‘