بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
23 hadith
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِإِسْنَادِ هَؤُلاَءِ وَقَالَ ‏ "‏ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated by Mansur and he said:" He should aim at correctness
عبدالعزیز بن عبد الصمد نے منصور سے ان سب راویوں کی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : ’’وہ صحیح کی جستجو کرے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported Allah's Messenger as saying:The two rak'ahs at dawn are better than this world and what it contains
ابو عوانہ نے قتادہ سے ، انھوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے ، انھوں نے سعد بن ہشام سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور ا نھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ، اس سے بہتر ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مِنْ عَلاَمَاتِ الْمُنَافِقِ ثَلاَثَةٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed:There are three characteristics of a hypocrite: when he spoke he told a lie, when he made promise he acted treacherously, and when he was trusted he betrayed
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں حرقہ کے آزاد کردہ غلام علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب نے اپنے والد سے خبر دی اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور امین بنایا جائے تو خیانت کرے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، وَوَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ ‏.‏ قَالَ مُسْلِمٌ أَبُو جَمْرَةَ اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ وَأَبُو التَّيَّاحِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ مَاتَا بِسَرَخْسَ ‏.‏
Ibn 'Abbas said that a piece of red stuff was put in the grave of Allah's Messenger (ﷺ)
ابو جمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ موٹی چادر رکھی ( بچھائی ) گئی تھی ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : ابو جمرہ کا نام نصر بن عمران اور ابو تیاح کا نام یزید بن حمید ہے ۔ ( ان کا نام سند میں نہیں ) یہ ایک زائد فائدہ ہے جس کا اضافہ امام مسلم ؒ نے غالباً کسی شاگرد کے سوال پر کیا ) ان دونوں نے سرخس میں وفات پائی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، - أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَقَالَ ‏ "‏ وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated, on the authority, of Abu Huraira (with this change of words)." A person whose heart is attached to the mosque when he goes out of it till he returns to it
عبید اللہ سے روایت ہے کہا : مجھے خبیب بن عبد الرحمٰن نے حفص بن عاصم سے خبردی انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سات قسم کے لو گو ں کو اللہ تعا لیٰ اس دن اپنے سائے میں سایہ مہیا کرے گا جس دن کے سائے کے سوا کو ئی سایہ نہیں ہو گا عدل کرنے والا حکمران اور وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت کے ساتھ پروان چڑھا اور وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہواہے اور ایسے دو آدمی جنھوں نے اللہ کی خا طر ایک دوسرے سے محبت کی اسی پر اکٹھے ہو ئے اور اسی پر جدا ہو ئے اور ایسا آدمی جسے مرتبے اور حسن والی عورت نے ( گناہ کی ) دعوت دی تو اس ( آدمی ) نے کہا : میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ اس کا با یا ں ہا تھ جو کچھ خرچ کر رہا ہے اسے دایاں نہیں جا نتا اور وہ آدمی جس نے تنہا ئی میں اللہ کو یا د کیا تو اس کی آنکھیں بہنے لگیں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ، بْنِ جَعْفَرٍ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلاً قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ مَا لَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا رَجُلٌ صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) reported that in the course of a journey Allah's Messenger (ﷺ) saw a man, people crowding around him and providing him a shade. Upon this he (the Holy Prophet) said:What is the matter with him? They said: He is a person observing fast. Whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) said: It is no righteousness that you fast on journey
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ ، ابن بشار ، محمد بن جعفر ، غندر ، شعبہ ، محمد بن عبدالرحمان ، ابن سعد ، محمد بن عمرو بن حسن ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی کو کیا ہواہے؟لوگوں نے عرض کیا یہ ایک آدمی ہے جس نے روزہ رکھا ہوا ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ ر کھو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ، سَعِيدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ - رضى الله عنه - فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ ‏.‏
Jabir b. `Abdullah (Allah be pleased with them) reported that when Asma' bint `Umais gave birth (to a child) in Dhu'l-Hulaifa. Allah's Messenger (ﷺ) commanded Abu Bakr (to convey to her) that she should take a bath and enter into the state of Ihram
جعفر ( صادق ) نے اپنے والد محمد ( باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے انھوں نے حضرت جا بر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ( کے بارے ) میں روایت کی کہ جب انھیں ذوالحلیفہ میں نفا س آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے ان ( اسماءبنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے کہا کہ وہ غسل کر لیں اور احرا م باندھ لیں ۔
حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ، أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messen- ger (ﷺ) as saying:Come to the feast, when you are invited
اسماعیل بن اُمیہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہیں بلایا جائے تو دعوت میں آؤ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُؤْخَذَ لِلأَرْضِ أَجْرٌ أَوْ حَظٌّ ‏.‏
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) having forbidden taking of rent or share of land
بکیر بن اخنس نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ زمین کی اجرت ( کرایہ ) یا ( اس کی ہونے والی پیداوار کا ) متعین ( مقدار میں ) حصہ لیا جائے
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ، وَعَمْرِو، بْنِ الْحَارِثِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى الْمَعَافِرِيَّ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ حَنَشٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوَةٍ فَطَارَتْ لِي وَلأَصْحَابِي قِلاَدَةٌ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ فَقَالَ انْزِعْ ذَهَبَهَا فَاجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَكَ فِي كِفَّةٍ ثُمَّ لاَ تَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَأْخُذَنَّ إِلاَّ مِثْلاً بِمِثْلٍ ‏"‏ ‏.‏
Hanash reported:We were along with Fadala b. Ubaid (Allah be pleased with him) in an expedition. There fell to my and my friend's lot a necklace made of gold, silver and jewels. I decided to buy that. I asked Fadala b. 'Ubaid, whereupon he said: Separate its gold and place it in one pan (of the balance) and place your gold in the other pan, and do not receive but equal for equal, for I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He who believes in Allah and the Hereafter should not take but equal for equal
عامر بن یحییٰ معافری نے حنش سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : ہم ایک غزوے میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، میرے اور میرے ساتھیوں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں سونا ، چاندی اور جواہر تھے ۔ میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ، چنانچہ میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا : اس کا سونا اتار لو اور اسے ایک پلڑے میں رکھو اور اپنا سونا دوسرے پلڑے میں رکھو ، پھر برابر برابر کے سوا نہ لو ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے : " جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ( اس طرح کی بیع میں ) مثل بمثل ( یکساں ) کے سوا ہرگز نہ لے ۔
وَحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، بِصِفِّينَ يَقُولُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ إِلاَّ انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ ‏.‏
It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Abu Wa'il who said:I heard Sahl b. Hunaif say at Siffin: Blame (the hollowness) of your views about your religion. I thought to myself on the day of Abu Jandal that if I could turn down the order of the Messenger of Allah (ﷺ), I would. The situation was so difficult that if we mended it at one place, it was rent at another
ابوحصین نے ابووائل سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے صفین میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : اپنے دین کے مقابلے میں اپنی رائے پر الزام دھرو ۔ ابوجندل ( کے واقعے ) کے دن میں نے خود کو اس حالت میں دیکھا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو رد کر سکتا ( تو حاشا و کلا رد کر دیتا ۔ ) لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ ہم اس کے ایک کونے کو مضبوط نہیں کر پاتے کہ ہمارے سامنے اس کا دوسرا کونا کھل جاتا ہے ۔ ( کیونکہ یہ مسلمانوں کا آپس میں اختلاف ہے)
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي، عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Yazid b. Abu Ubaid (the freed slave of Salama b. al-Akwa') who said:1 asked Salama as to what effect he had sworn fealty to the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Hudaibiya. He said: To the effect that we will die fighting
حاتم بن اسماعیل نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے مولیٰ یزید بن عبید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حدیبیہ کے دن تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا : موت پر
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَسْقَى فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ نَسْقِيكَ نَبِيذًا فَقَالَ ‏"‏ بَلَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَّ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَشَرِبَ ‏.‏
Jabir b 'Abdullah reported:We were with Allah's Messenger (ﷺ) and he asked for water. A person said: Allah's Messenger, may we not give you Nabidh to drink? He (the Holy Prophet) said: Yes (you may). He (the narrator) said: Then that person went out speedily and brought a cup containing Nabidh, whereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Why did you not cover it? - even if it is with a wood. He said that then he drank it
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے پانی مانگا ، ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیذ نہ پلائیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیوں نہیں! " پھر وہ شخص دوڑتا ہوا گیا اور ایک پیالے میں نبیذ لے کر آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تم نے اسے ڈھانک کر کیوں نہیں دیا؟چاہے تم اس کے اوپر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی ( ہی ) رکھ دیتے ۔ " ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا ۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ الأَخْنَسِ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَسْتَلْقِيَنَّ أَحَدُكُمْ ثُمَّ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى ‏"‏ ‏.‏
Jalbir b. Abdullah reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:None of you should lie on his back and place one of his feet upon the other
عبیداللہ بن اخنس نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص چٹ لیٹ کر اپنی ٹانگ کودوسری ٹانگ ( کھڑی کرکے اس ) پر نہ رکھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُمَا أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ السَّامَ ‏"‏ ‏.‏ وَالسَّامُ الْمَوْتُ ‏.‏ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ ‏.‏
Abu Huraira reported that he heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Nigella seed is a remedy for every disease except death
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن اور سعید بن مسیب نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کو خبرد ی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا ، " شونیز سام ( موت ) کے علاوہ ہر بیماری سے شفا ہے ۔ " " سام : موت ہے اور حبہ سودا ( سے مراد ) شونیز ( زیرسیاہ ) ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ كُرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ ‏.‏
Ubida b. Samit reported that when wahi (inspiration) descended upon Allah's Messenger (ﷺ), he felt a burden on that account and the colour of his face underwent a change
سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے حطان بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بناء پر کرب کی سی کیفیت سے دو چار ہوجاتے اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا ۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فِي بَيْتِهِ وَهُنَّ اللُّعَبُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters with a slight variation of wording
ابو اسامہ ، جریر اور محمد بن بشر سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور جریر کی حدیث میں کہا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی اور وہ ( ہمارے ) کھلونے ہوتی تھیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ‏"‏ ‏.‏
Hammam b. Munabbih reported:Of the a hadith narrated by Abu Huraira from Muhammad, the Messenger of Allah (ﷺ), one is this: The Messenger of Allah (ﷺ) said: The purification of the utensil belonging to one amongst you, after it is licked by a dog, lies in washing it seven times
ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں محمد رسو ل اللہ ﷺ سےسنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَوْ جَلَدُّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هِيَ ‏"‏ جَلَدْتُهُ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zinad with a slight variation of wording
ابوزناد نے ہمیں اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی ، البتہ انہوں نے "" او جلدة "" کہا ۔ ابوزناد نے کہا : یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبان ہے ۔ ( قریش کی زبان میں ) یہ لفظ "" جلدته "" ہی ہے ۔ ( معنی ایک ہی ہے ، یعنی جسے میں کوڑے ماروں ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ، مِنْ عَنَزَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكَ بِأَحَبِّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِأَحَبِّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَحَبَّ الْكَلاَمِ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:Should I not inform you about the words liked most by Allah? I said: Allah's Mes- senger, do inform me about the words liked most by Allah. He said: Verily, the words liked most by Allah are:" hallowed be Allah and praise is due to Him
شعبہ نے جریر سے ، انہوں نے ابوعبداللہ جسری سے جو عنزہ قبیلے سے تھے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ " میں نے کہا : اللہ کے رسول! مجھے وہ کلمہ بتائیے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کو سب سےزیادہ محبوب کلمہ سبحان الله وبحمده ہے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ، وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَيَّادٍ ‏"‏ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَاذَا تَرَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ ‏"‏ هُوَ الدُّخُّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّخْلَ طَفِقَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشٍ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ - وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ - هَذَا مُحَمَّدٌ ‏.‏ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي لأُنْذِرُكُمُوهُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَكِنْ أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَوْمَ حَذَّرَ النَّاسَ الدَّجَّالَ ‏"‏ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ مَنْ كَرِهَ عَمَلَهُ أَوْ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ تَعَلَّمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمُوتَ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah b. Umar reported:'Umar b. Khattab went along with Allah's Messenger (ﷺ) in the company of some persons to Ibn Sayyad that he found him playing with children near the battlement of Bani Maghala and Ibn Sayyad was at that time just at the threshold of adolescence and he did not perceive (the presence of Holy Prophet) until Allah's Messenger (ﷺ) struck his back with his hands. Allah's Messenger (ﷺ) said: Ibn Sayyad, don't you bear witness that I am the messenger of Allah? Ibn Sayyad looked toward him and he said: I bear witness to the fact that you the messenger of the unlettered. Ibn Sayyad said to the Allah's Messenger (ﷺ): Do you bear witness to the fact that I am the messenger of Allah? Allah's Messenger (ﷺ) rejected this and said: I affirm my faith in Allah and in His messengers. Then Allah's Messenger (ﷺ) said to him: What do you see? Ibn Sayyad said: It is a Dukh. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: May you be disgraced and dishonoured, you would not not be able to go beyond your rank. 'Umar b. Khattab said: Allah's Messenger, permit me that I should strike his neck. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: If he is the same (Dajjal) who would appear near the Last Hour, you would not be able to overpower him, and if he is not that there is no good for you to kill him. 'Abdullah b. 'Umar further narrated that after some time Allah's Messenger (ﷺ) and Ubayy b. Ka'b went towards the palm trees where Ibn Sayyad was. When Allah's Messenger (ﷺ) went near the tree he hid himself behind a tree with the intention of hearing something from Ibn sayyad before Ibn Sayyad could see him, but Allah's Messenger (ﷺ) saw him on a bed with a blanket around him from which a murmuring sound was being heard and Ibn Sayyad's mother saw Allah's Messenger (ﷺ) behind the trunk of the palm tree. She said to Ibn Sayyad: Saf (that being his name), here is Muhammad. Thereupon Ibn Sayyad jumped up murmuring and Allah's Messenger (ﷺ) said: If she had left him alone he would have made things clear. Abdullah b. Umar told that Allah's Messenger (ﷺ) stood up amongst the people and lauded Allah as He deserved, then he made a mention of the Dajjal and said: I warn you of him and there is no Prophet who has not warned his people against the Dajjal. Even Noah warned (against him) but I am going to tell you a thing which no Prophet told his people. You must know that he (the Dajjal) is one-eyed and Allah, the Exalted and Glorious, is not one-eyed. Ibn Shihab said: 'Umar b. Thabit al-Ansari informed me that some of the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) informed him that the day when Allah's Messenger (ﷺ) warned people against the Dajjal, he also said: There would be written between his two eyes (the word) Kafir (infidel) and everyone who would resent his deeds would be able to read or every Muslim would be about to read, and he also said: Bear this thing in mind that none amongst you would be able to see Allah, the Exalted and Glorious, until he dies
یونس نے ابن شہاب سے ر وایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انھیں بتایا ، انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگوں میں ابن صیاد کے پاس گئے حتیٰ کہ اسے بنی مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا ۔ اس کو خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم امییّن کے رسول ہو ( امی کہتے ہیں ان پڑھ اور بے تعلیم کو ) ۔ پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کچھ جواب نہ دیا؟ ( اور اس سے مسلمان ہونے کی درخواست نہ کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مسلمان ہونے سے مایوس ہو گئے اور ایک روایت میں صاد مہملہ سے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لات سے مارا ) اور فرمایا کہ میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ وہ بولا کہ میرے پاس کبھی سچا آتا ہے اور کبھی جھوٹا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کام گڑبڑ ہو گیا ( یعنی مخلوط حق و باطل دونوں سے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے پوچھنے کے لئے ایک بات دل میں چھپائی ہے ۔ ابن صیاد نے کہا کہ وہ دخ ( دھواں ) ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذلیل ہو ، تو اپنی قدر سے کہاں بڑھ سکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے چھوڑئیے میں اس کی گردن مارتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ( یعنی دجال ) ہے تو تو اس کو مار نہ سکے گا اور اگر یہ وہ ( دجال ) نہیں ہے تو تجھے اس کا مارنا بہتر نہیں ہے ۔
قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ أَشْهَدُ لَكُنْتُ أَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَطْنَ الشَّاةِ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
Abu Rafi' reported:I testify that I used to roast the liver of the goat for the Messenger of Allah (may peace be tipcn him) and then he offered praver but did not perform ablution
حضرت ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہﷺ کے لیے بکری کے پیٹ ( کا گوشت ، جگر ، گردے وغیرہ ) بھونتا تھا ( آپ اسے کھاتے ) ، اس کے بعد آپﷺ نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ وَزَادَ ‏ "‏ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith is transmitted by Muhammad b. Rafi', Abu'I-Razzaq. Ma'mar, Hammam on the authority of Abu Huraira with the addition of (the word)" prayer
ہمام نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند روایت بیان کی اور اس میں اضافہ کیا : ’’نماز میں ( متنبہ کرنے کے لیے ۔ ) ‘ ‘