حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ " .
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters and said:" He should aim at correctness and that is right
شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : ’’ اس میں جو صحیح کے قریب تر ہے اس کی جستجو کرے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَكُنْ عَلَى شَىْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ .
A'isha reported that the Apostle (ﷺ) was not so much particular about observing supererogatory rak'ahs as in case of the two rak'ahs of the dawn prayer
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عطاء بن عبید بن عمیر سے حدیث سنائی اور ا نھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی اور ( نماز ) کی اتنی زیادہ پاسداری نہیں کرتے تھے جتنی آپ صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کی کرتے تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ " . غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ " وَإِنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ " .
It is narrated on the authority of Abdullah b. 'Amr that the Prophet observed:"There are four characteristics, whoever has them all is a pure hypocrite, and whoever has one of its characteristics, he has one of the characteristics of hypocrisy, until he gives it up: When he speaks he lies, when he makes a covenant he betrays it, when he makes a promise he breaks it, and when he disputes he resorts to obscene speech." In the narration of Sufyan (one of the narrators) it is: "And if he has one of them, he has one of the characteristics of hypocrisy
عبد اللہ بن نمیر اور سفیان نے اعمش سے ، انہوں نے نے عبد اللہ بن مرہ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ چار عادتیں ہیں جس میں وہ ( چاروں ) ہوں گی ، وہ خالص منافق ہو گا اور جس کسی میں ان میں سے ایک عادت ہو گی تو اس میں نفاق کی ایک عادت ہو گی یہاں تک کہ اس سے باز آ جائے ۔ ( وہ چار یہ ہیں : ) جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب معاہدہ کرے تو توڑ ڈالے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی دے ۔ ‘ ‘ البتہ سفیان کی روایت میں خلقة کے بجائے خصلةکا لفظ ہے ( معنی وہی ہیں ۔)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ ثُمَّ أُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْىٍ فَعَقَلَهُ رَجُلٌ فَرَكِبَهُ فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ - قَالَ - فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ - أَوْ مُدَلًّى - فِي الْجَنَّةِ لاِبْنِ الدَّحْدَاحِ " . أَوْ قَالَ شُعْبَةُ " لأَبِي الدَّحْدَاحِ " .
Jabir ibn Samura reported that the Prophet (ﷺ) said (funeral) prayer on Ibn Dahdah:then an unsaddled horse was brought to him and a person hobbled it, and he (the Messenger of Allah) rode upon it and it bounded and we followed it and ran after it. One of the people said that the Prophet (ﷺ) remarked: How many among hanging bunches in the Paradise are meant for Ibn Dahdah?
شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انھوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن دحداح کی نماز جنازہ پڑھائی ، پھر ننگی پشت والا ( بغیرزین کے ) ایک گھوڑا لایا گیا ، ایک آدمی نے اسے ( پکڑ کر ) روکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوگئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا کردلکی چال چلنے لگا ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےپیچھے تیز قدموں کے ساتھ چل رہے تھے ، کہا : لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابن دحداح کے لئے جنت میں کتنے لٹکے ہوئے ۔ ۔ ۔ یا جھکے ہوئے ۔ ۔ ۔ خوشے ہیں! " یا شعبہ نے ( ابن دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بجائے ) " ابو دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے کہا :
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ - حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ فَقَالَ " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ " .
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with both of them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) went out to Mecca in Ramadan in the year of Victory, and he and the people fasted till he came to Kura' al-Ghamim and the people also fasted. He then called for a cup of water which he raised till the people saw it, and then he drank. He was told afterwards that some people had continued to fast, and he said:These people are the disobedient ones; these are the disobedient ones
محمد بن مثنی ، عبدالوہاب ، ابن عبدالمجید ، جعفر ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھاجب آپ کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایاپھر اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا پھر آپ نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ نافرمان ہیں یہ لوگ نافرمان ہیں ۔ فائدہ : ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی اجازت دے رکھی تھی لیکن اس موقع پر روزے لوگوں کے لئے تکلیف اور مشقت کا باعث بن رہے تھے ، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی شدید مشقت کی بنا پر اس انداز میں افطار کیا کہ سب دیکھ لیں اورافطار کرلیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کے باوجود نہ افطار کرنے والے سخت زجر وتوبیخ کے مستحق تھے ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، - وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو - حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ - عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِضُبَاعَةَ رضى الله عنها " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي " . وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ .
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas with a slight variation of words
ہمیں اسحاق بن ابرا ہیم ابو ایوب غیلا نی اور احمد بن خراش نے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ اسھاق نے کہا : ہم کو خبر دی اور دوسروں نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ ابو عامر نے جو عبد الملک بن عمر و ہیں انھوں نے کہا ہمیں رباح نے جو ابن ابی معروف ہیں عطا ء سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضبا عہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر نما یا حج ( کی نیت ) کرو اور ( احرا م بند ھتے ہو ئے ) شرط کرلو کہ ( اے اللہ ! ) تو نے جہاں مجھے روک دیا وہیں میرا احرا م ختم ہو جا ئے گا ۔ اور اسحاق کی روایت کے الفا ظ ہیں ( آپ نے ضبا عہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حکم دیا ۔)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:When any one of you invites his brother, he (the latter) should accept his wedding feast, or any other like it
معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حدیث بیان کرتے ہوئے ) کہا کرتے تھے : " جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو دعوت دے تو وہ قبول کرے شادی ہو یا اس جیسی ( کوئی اور ) تقریب
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، - لَقَبُهُ عَارِمٌ وَهُوَ أَبُو النُّعْمَانِ السَّدُوسِيُّ - حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ " .
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:He who has land should cultivate it himself, but if he does not cultivate it himself, then he should let his brother cultivate it
مہدی بن میمون نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مطروراق نے عطاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کی زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے خود کاشت کرے ۔ اگر وہ خود کاشت نہ کرے تو اپنے بھائی کو کاشت کاری کے لیے دے دے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، يَزِيدَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
A hadith like this is narrated on the authority of Sa'id b. Yazid with the same chain of transmitters
ابن مبارک نے سعید بن یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ بِصِفِّينَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَرَدَدْتُهُ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ قَطُّ إِلاَّ أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلاَّ أَمْرَكُمْ هَذَا . لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَى أَمْرٍ قَطُّ .
It has been narrated on the authority of Shaqiq who said:I heard Sahl b. Hunaif say at Siffin: O ye people, find fault with your (own) discretion. By Allah, on the Day of Abu Jandal (i. e. the day of Hudaibiya), I thought to myself that, if I could, I would reverse the order of the Messenger of Allah (ﷺ) (the terms of the truce being unpalatable). By Allah, we have never hung our swords on our shoulders in any situation whatsoever except when they made easy for us to realise the goal envisaged by us, but this battle of yours (seems to be an exception). Ibn Numair (in his version) did not mention the words:" In any situation whatsoever
ابوکریب محمد بن علاء اور محمد بن عبداللہ بن نمیر دونوں نے کہا : ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق ( بن سلمہ ابو وائل ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے صفین میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : لوگو! اپنی رائے پر ( غلط ہونے کا ) الزام لگاؤ ۔ اللہ کی قسم! میں نے ابوجندل ( کے واقعے ) کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( صلح کے ) معاملے کو رد کر سکتا تو رد کر دیتا ۔ اللہ کی قسم! ہم نے کبھی کسی کام کے لیے اپنے کندھوں پر تلواریں نہیں رکھیں تھیں مگر ان تلواروں نے ہمارے لیے ایسے معاملے تک پہنچنے میں آسانی کر دی جس کو ہم جانتے تھے ، سوائے تمہارے موجودہ معاملے کے ۔ ابن نمیر نے " کبھی کسی معاملے کے لیے " کے الفاظ بیان نہیں کیے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ، بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنَ النَّقِيعِ لَيْسَ مُخَمَّرًا فَقَالَ " أَلاَّ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا " . قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ إِنَّمَا أُمِرَ بِالأَسْقِيَةِ أَنْ تُوكَأَ لَيْلاً وَبِالأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلاً .
Abu Humaid Sa'idi reported:I came to Allah's Messenger (ﷺ) with a cup of milk from Naqi' which had no cover over it, whereupon he said: Why did you not cover it? - even if you had covered it only with a stick. Abu Humaid said that he had been ordered that waterskins be tied during the night, and the doors be closed during the night
ابو عاصم ضحاک نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھ سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ دودھ کا ( مقام ) نقیع سے لایا ، جو ڈھانپا ہوا نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اس کو ڈھانپا کیوں نہیں؟ ( اگر ڈھانپنے کو کچھ نہ تھا تو ) ایک آڑی لکڑی ہی اس پر رکھ لیتا ۔ ابوحمید ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ ہمیں رات کے وقت مشکیزوں کو باندھنے اور دروازے بند کرنے کا حکم فرمایا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ .
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the wrapping of oneself completely leaving no room for the arm and supporting oneself when sitting with a single garment wrapped round one's knees and a person raising one of his feet and placing it on the other while lying on his back
لیث نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پاؤں وغیرہ کو بندکردینے والا لباس پہننے ، ایک کپڑے سےکمر اور گھٹنوں کو باندھنے اور چت لیٹ کر ایک پاؤں کو دوسرے کے اوپر ( رکھتے ہوئے اس کو ) اٹھانے سے منع فرمایا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ . قَالَتْ وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ " عَلاَمَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَكُنَّ بِهَذَا الْعِلاَقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ " .
Umm Qais, daughter of Mihsan, the sister of 'Ukasha b. Mihsan said:I visited Allah's Messenger (ﷺ) along with my son who had not, by that time, been weaned and he urinated over his (clothes). He ordered water to be brought and sprinkled (it) over them. She (further) said: I visited him (Allah's Apostle) along with my son and I had squeezed the swelling in the uvula, whereupon he said: Why do you afflict your children by compressing like this? Use this Indian aloeswood, for it contains seven types of remedies, one among them being a remedy for pleurisy. It is applied through the nose for a swelling of the uvula and poured into the side of the mouth for pleurisy
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انھوں نے عکا شہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن ام قیس بنت محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہا : میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئی جس نے ( ابھی تک ) کھا نا شروع نہیں کیا تھا ، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پاٖنی منگا کر اس پر بہا دیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنْ كَانَ لَيُنْزَلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ ثُمَّ تَفِيضُ جَبْهَتُهُ عَرَقًا .
A'isha reported:When revelation descended upon Allah's Messenger (ﷺ) even during the cold days, his forehead perspired
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : سخت سردی کی صبح وحی نازل ہوتی تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ لاَ وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ . وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
This hadith has been reported on the authority of Hishim b. 'Urwa with the same chain of transmitters up to the words:" No, by the Lord of Ibrahim," and he did not make mention of what follows subsequently
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان؛ " نہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! " تک روایت کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When a dog drinks out of a vessel belonging to any one of you, he must wash it seven times
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں پی لے تو وہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ . مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي، حَدِيثِ عِيسَى جَعَلَ " وَأَجْرًا " . فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَعَلَ " وَرَحْمَةً " . فِي حَدِيثِ جَابِرٍ .
This hadith has been transmitted on the authority of A'mash and in the hadith transmitted on the authority of 'Isa the words are:Make it a source of reward, and in the hadith transmitted on the authority of Abu Huraira (the words are):" Make it a source of mercy
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے عبداللہ بن نمیر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر عیسیٰ کی روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں " بنا دے " اور " اجر " کے لفظ ہیں اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اور " بنا دے " اور " رحمت " کے لفظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ . فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ وَزَادَ مَعَهُنَّ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " .
Ibn 'Abbas reported this hadith through another chain of transmitters with a sliglit variation of wording
(حماد بن سلمہ نے کہا : مجھے یوسف بن عبداللہ بن حارث نے ابوعالیہ سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی سخت مشکل اور تکلیف دہ معاملہ درپیش ہوتا تو آپ فرماتے ، پھر اسی طرح بیان کیا جس طرح معاذ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ہے اور ان کلمات کے ساتھ " لا اله الا لله العظيم الحليم " کے بعد ) " لا اله الا لله رب العرش الكريم " مزید بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ " دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ " .
Abu Sa'id reported that Ibn Sayyad asked Allah's Messenger (ﷺ) about the earth of Paradise. Whereupon he said:It is like white shining pure musk
جریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی مٹی کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " باریک سفید ، خالص کستوری ( کی طرح ) ہے ۔
قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
Ibn 'Abbas reported it on the authority of Maimuana, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), that the Messenger of Allah (ﷺ) took (a piece of goat's) shoulder at her place, and then offered prayer but did not perform ablution
بکیر بن اشج نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مولیٰ کریب سے ، انہوں نے نبیﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے ان کے ہاں شانے کا گوشت کھایا ، پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " . زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالاً مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: Glorification of Allah is for men and clapping of hands is meant for women (if something happens in prayer). Harmala added in his narration that Ibn Shihab told him: I saw some of the scholars glorifying Allah and making a gesture
ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو سلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی ، نیز ہارون بن معروف اور حرملہ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے بتایا ، انہوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ ( امام و متنبہ کرنے کا طریقہ ) مردوں کے لیے تسبیح ( سبحان اللہ کہنا ) ہے اور عورتوں کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا ہے ۔ ‘ ‘ حرملہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : میں نے علم والے لوگوں کو دیکھا ، وہ تسبیح کہتے تھے او ر اشارہ کرتے تھے